صبر | Sabar


Rate this post

صبر

نورین عبدالغفور سروری قادری۔سیالکوٹ

’’صبر‘‘ کے لغوی معنی ہیں روکنا، برداشت کرنا، ثابت قدم رہنا یا باندھ دینا۔
صبر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے بارے میں قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا گیا کہ
ترجمہ:’’ اور (رنج و تکلیف میں) صبر اور نماز سے مدد لیا کرو اور بیشک نماز گراں ہے مگر ان لوگوں پر گراں نہیں جو عجز کرنے والے ہیں۔‘‘ (البقرہ۔ 45 )
بلاشبہ صبر اور نماز ہر اللہ والے کیلئے دو بڑے ہتھیارہیں؛ نماز کے ذریعے سے ایک مومن کا رابطہ و تعلق اللہ تعالیٰ سے استوار ہوتا ہے جس سے اسے اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت حاصل ہوتی ہے اور صبر کے ذریعے کردار میں پختگی اور دین میں استقامت حاصل ہوتی ہے۔ مصیبت و پریشانی کی حالت میں صبر اور نماز کو اپنا شعار بنانے کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں جس قدر طبیعت مصروف ہو اسی قدر دوسری پریشانیاں خود بخود کم ہوجاتی ہیں۔
ارشاد ربانی ہے کہ
ترجمہ:’’ اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بیشک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ (البقرہ۔153 )
ایک اور مقام پر فرمایا کہ:
ترجمہ: ’’اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے خوف سے، بھوک و پیاس سے، مال و جان سے اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔ (البقرہ۔ 155 )
اس آیت مبارکہ کے حوالے سے امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ خوف سے اللہ کا ڈر، بھوک و پیاس سے رمضان کے روزے، مال کی کمی سے زکوٰۃ و صدقات، جانوں کی کمی امراض کے ذریعہ اموات ہونا، پھلوں کی کمی سے اولاد کی موت مراد ہے اس لئے کہ اولاد دل کا پھل ہوتی ہے۔
حدیث شریف میں سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
’’جب کسی بندے کا بچہ مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ملائکہ سے فرماتا ہے تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کی، وہ عرض کرتے ہیں کہ ’’ہاں یاربّ‘‘۔ اللہ فرماتا ہے کہ تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا۔ عرض کرتے ہیں ’’ہاں یاربّ‘‘۔ اللہ فرماتا ہے ’’اس پر میرے بندے نے کیا کہا؟‘‘ عرض کرتے ہیں اس نے تیری حمد کی اور پڑھا:

اَلَّذِیْنَ اِذَا اَصٰبَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔ سورۃالبقرہ۔156  
ترجمہ:’’جن پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو کہتے ہیں بیشک ہم بھی اللہ ہی کے ہیں اورہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔‘‘
اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے لیے جنت میں مکان بنائو اور اس کا نام بیت الحمدرکھو۔
ایک اور مقام پر ارشاد ربانی ہے کہ:
ترجمہ: ’’مگر جو لوگ صابر ہیں اور نیکیاں کرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔‘‘ ( سورۃ ھود۔11 )
سورۃ العصر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
ترجمہ:’’زمانے کی قسم انسان گھاٹے میں ہے، سوائے ان کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اعمالِ صالح کئے اور حق کی تلقین کی اور صبر کی تاکید کی۔‘‘
زمانے سے مراد شب و روز کی یہ گردش اور ان کا ادل بدل کر آنا ہے۔ رات آتی ہے تو اندھیرا چھا جاتا ہے اور دن طلوع ہوتا ہے تو ہر چیز روشن ہو جاتی ہے علاوہ ازیں کبھی رات لمبی‘ دن چھوٹا اور کبھی دن لمبا‘ رات چھوٹی ہو تی ہے۔ یہی گردشِ زمانہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کا ریگر ی پر دلالت کرتا ہے اسی لیے ربّ نے اس کی قسم کھائی ہے۔ انسان کا خسارہ اور ہلاکت واضح ہے کہ جب تک وہ زندہ رہتا ہے اس کے شب و روز سخت محنت کرتے ہوئے گزرتے ہیں پھر جب موت سے ہمکنار ہوتاہے تو موت کے بعد بھی آرام و راحت نصیب نہیں ہوتی بلکہ وہ جہنم کا ایندھن بنتا ہے۔ ہاں اس خسارے سے وہ لوگ محفوظ ہیں جو ایمان اور صالح اعمال کے حامل ہیں کیونکہ ان کی زندگی چاہے جیسی بھی گزری ہو‘ موت کے بعد وہ ہر حال میں ابدی نعمتوں اور جنت کی پُر آسائش زندگی سے بہرہ ور ہوں گے۔
صبر و تحمل کے بارے میں ایک حدیث ِ مبارکہ ہے ’’حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف فرما تھے۔ ایک شخص نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کو بر ابھلا کہنا شروع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس شخص کو مسلسل بُرا بھلا کہنے اور حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے صبر کرنے اور خاموش رہنے کو دیکھتے رہے۔ پھر جب حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس شخص کی کچھ باتوں کا جواب دے دیا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ناراض ہو کر وہاں سے روانہ ہوگئے، حضرت ابو بکر صدیقؓ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پیچھے پہنچے اور عرض کی ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب تک وہ شخص مجھے بر ابھلا کہتا رہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف فرما رہے اور جب میں نے جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ناراض ہو کر روانہ ہوگئے جس کے جواب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ’’جب تم خاموش اور حالت ِ صبر میں تھے تو تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا پھر جب تم نے اس کی کچھ باتوں کا جواب دیا تو وہ فرشتہ چلا گیا اور شیطان آگیا اور جس جگہ شیطان ہو وہاں میں نہیں رہتا۔‘‘ ( احمد بن حنبل ، مسند 2,436 رقم 9622 )
اس حدیث مبارکہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب کوئی شخص کسی کو برا بھلا کہے تو اس پر صبر کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرنی چاہیے تاکہ برا بھلا کہنے والے کو غلطی کا احساس ہو اورشیطان کو درمیان میں آنے کا موقع نہ ملے اور بات مزید نہ بڑھے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ صبر کرنے والے کو بے حد اجروثواب سے نوازے گا۔
صبر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اس کا ذکر 70 مرتبہ آیا ہے۔
٭ ایک روایت ہے کہ حضرت علی ؓ نے صبر کو ارکانِ ایمان میں سے ایک قرار دیا ہے اور اسے جہاد ،عدل اور یقین کے ساتھ ملاتے ہوئے فرمایا ‘ اسلام چار ستونوں پر مبنی ہے:
۱۔ یقین ۲۔ صبر ۳۔ جہاد ۴۔ عدل
٭ حضرت علی ؓ نے فرمایا ایمان میںصبر کی مثال ایسی ہے جیسے بدن میں سر ہو۔جس کا سر نہ ہو اس کا بدن نہیں ہوتا۔ (کیمیائے سعادت)
بلاشبہ صبر ایک ایسی عبادت ہے جس سے انسان روحانی طور پر اعلیٰ اور باوقارمقام حاصل کر سکتا ہے اس لئے ہم سب کوچاہیے کہ صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھیں کیونکہ نہ صرف دین میں اس کا واضح حکم ہے بلکہ یہی ایک راستہ ہے جس پر چل کر ہم اپنی اصل منزل یعنی اللہ کی معرفت اور قرب پاسکتے ہیں۔
٭ حضرت ابن ِ عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جس شخص کو چار چیزیں مل گئیں اسے دنیا اور دین کی بھلائی مل گئی۔ وہ چار چیزیں درج ذیل ہیں:
۱۔ شکر کرنے والا دل
۲۔ ذکر کرنے والی زبان
۳۔ ہر تکلیف پر صبر کرنے والا جسم
۴۔ ایسی شریک ِ حیات جو اپنی جان اور شوہر کے مال میں خیانت نہ کرتی ہو۔
ہر انسان پر کبھی نہ کبھی ایسا وقت آتا ہے جو ا س کی طبیعت کے خلاف ہوتا ہے ایسے وقت میں دل کو صبرو شکر کرنے کا حکم اور صبر کرنے والوں کو انعام سے نوازنے کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی ایسے شخص کو دیکھے جو مال و دولت اور جسمانی بناوٹ یعنی شکل و صورت میں اس سے بڑھا ہوا ہو (اور اس کی وجہ سے اس کے دل میں حرص و طمع و شکایت پیدا ہو) تو اس کو چاہیے کہ کسی ایسے بندے کو دیکھے جو ان چیزوں میں سے اس سے کم تر ہو تاکہ حر ص و طمع کی بجائے صبرو شکر اس کے دل میں پیدا ہو۔ ایمان والوں کی یہ خاص بات ہوتی ہے کہ وہ مصائب و آلام اور مشکلات میں صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں خود کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسی سے مدد کے طلب گار ہوتے ہیں وہ اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہیں اور اللہ سے گلے شکوے نہیں کرتے۔
صبر استقامت سے کام لینے والوں کیلئے اللہ پاک کا وعدہ ہے کہ ایسے لوگوں کیلئے بڑا اجر وثواب ہے اس لیے آزمائشوں سے کبھی نہیں گھبرانا چاہئے۔آزمائشوں میں تو اللہ پاک نے اپنے محبوب انبیا کرام کو بھی ڈالا تھا جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا، حضرت اسماعیل علیہ السلام سے جان کی قربانی مانگ کر آزمائش میں ڈالا گیا۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے صبرو استقامت کا عظیم مظاہرہ کیا ان کے اس عظیم صبر پر اللہ تعالیٰ نے انہیں ’’ نِعْمِ الْعَبْدُ‘‘ یعنی بہت اچھا بندہ قرار دیا۔

قرآنِ پاک کی سورہ احقاف آیت نمبر 35 میں صبر کو اللہ تعالیٰ نے بڑے حوصلے والے رسولوں کی سنت قرار دیا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)! پس آپ صبر کیے جائیں جس طرح (دوسرے) عالی ہمت پیغمبروں نے صبر کیا تھا۔
دنیا اور آخرت میں حقیقی کامیابی کی خوشخبری کے حقدار وہی افراد ہیں جو صبر اختیار کریں۔ چنانچہ فرمایا گیا :
ترجمہ:’’صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔‘‘(البقرہ۔155 )
خاتم الانبیا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تو پوری زندگی آزمائشوں سے عبارت ہے۔
یتیمی کی حالت میں پیدائش و پرورش، چھوٹی سی عمر میں تمام قریبی سہاروں کا چھن جانا، اعلانِ نبوت کے بعد قدم قدم پر مخالفت اور مظالم کا سامنا لیکن رحمتِ عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طبیعت اور مزاج پر ذرا بھی ملال نہیں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صبر و استقامت سے اپنے مشن کو جاری رکھا جس کے لیے اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو چنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دین کی سربلندی اور کفر کو مٹانے کیلئے ان تمام تکالیف اور مشکلات کو صبرو استقامت اور خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔
جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نبوت کا اعلان فرمایا تو کفار نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو طرح طرح کی اذیتیں دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مذاق اڑایا۔ کسی نے معاذ اللہ جادوگر کہا اور کسی نے کاہن، مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صبرو استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور تبلیغِ دین سے منہ نہ موڑا۔
٭ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خانہ کعبہ کے نزدیک نماز پڑھ رہے تھے حرم شریف میں اس وقت کفار کی ایک جماعت موجود تھی۔ عقبہ بن ابی معیط نے ابوجہل کے اکسانے پر اونٹ کی اوجھڑی سجدہ کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پشت مبارکہ پر ڈال دی اور مشرکین زور زور سے قہقہے لگانے لگے۔ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ کو واقعہ کی اطلاع دی۔ وہ فوراً دوڑی ہوئی آئیں اور غلاظت آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پشت سے دور کی۔ اس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’بیٹی صبر سے کام لو اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے، یہ نہیں جانتے کہ ان کی بہتری کس چیز میں ہے۔‘‘
ابو لہب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا چچا تھا جب سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دین کی تبلیغ شروع کی وہ اور اس کی بیوی اُمِ جمیل دونوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دشمن ہوگئے۔ ابو لہب کہتا تھا ’’لوگو (معاذاللہ) یہ دیوانہ ہے اس کی باتوں پر کان نہ دھرو‘‘ اس کی بیوی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے راستے میں کانٹے بچھاتی، کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تلوے مبارک لہولہان ہوگئے مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نہایت صبر کے ساتھ اس تکلیف کو برداشت کیا۔ کبھی بددعا کیلئے ہاتھ نہ اٹھائے۔ دشمنانِ حق نے جب یہ دیکھا کہ ان کی تمام تر تدابیر کے باوجود حق کا نور چاروں طرف پھیلتا جارہا ہے تو انہوں نے نبوت کے ساتویں برس محرم الحرام میں خاندان بنو ہاشم سے ہر طرح کا لین دین اور میل جول بند کر دیا اور ابولہب کے سوا پورا خاندانِ بنو ہاشم تین سال تک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ شعب ِابی طالب میں محصور رہا۔ اس دوران انہوں نے اتنی تکالیف اٹھائیں جن کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں مگر اس موقع پر رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کمال صبر، ضبط اور استقامت سے حالات کا مقابلہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ کے جانثار اس راہ میں آنے والی تمام تکلیفوں کو مثالی صبر و استقامت سے برداشت کرتے رہے۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیاتِ مبارکہ صبرو استقامت کا ایک عملی نمونہ ہے جو آج کے تاریک دور میں انسان کیلئے مشعلِ راہ ہے۔
دنیا اور آخرت کی حقیقتوں کو واضح کرتے ہوئے قرآن پاک میں صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ:
ترجمہ:’’ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجانا ہے جو خدا کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور ہم ان لوگوں کو جنہوں نے صبر کیا ضرور ان کا اجر عطا فرمائیں گے ان کے اچھے اعمال کے عوض جو وہ انجام دیتے رہے۔‘‘ (سورہ النحل۔96 )
یعنی جو لوگ خدا کے عہد پر ثابت قدم رہیں گے اور تمام مشکلات اور مصیبتوں کو صبر کے ساتھ برداشت کریں گے ‘ان کا اجر ضائع ہونے والا نہیں ایسے بہترین عمل کا بدلہ اللہ پاک کے ہاں سے ہمیں ضرور مل کر رہے گا۔
جیسا کہ فرمایا گیا:
ترجمہ:’’ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دگنا دیاجائے گا اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا اور وہ بھلائی کے ذریعے برائی کو دفع کرتے ہیں اور اس عطا میں سے جو ہم نے انہیں بخشی (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (سورہ القصص۔ 54 )
ایک اور مقام پر فرمایا گیا کہ:
ترجمہ: ’’(اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) فرما دیجیے کہ اے میرے بندو! جو ایمان لائے ہو اپنے ربّ کا تقویٰ اختیار کرو۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے جو اس دنیا میں صاحب ِ احسان ہوئے‘ بہترین صلہ ہے اور اللہ کی سرزمین کشادہ ہے بلاشبہ صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب انداز سے دیا جائے گا۔‘‘ (سورہ الزمر۔10 )
حضرت ابوہریرہؓ حدیث قدسی نقل کرتے ہیں ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اگر کسی بندہ کی بینائی زائل کر دی اور اس نے اس آزمائش میں صبر کیا اور مجھ سے اجر کی امید رکھی تو میں اس کے لیے جنت سے کم بدلہ دینے پر کبھی راضی نہیں ہوں گا۔‘‘
حضرت ابواسامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پاک فرماتا ہے کہ آدم کے بیٹے اگر صدمہ کے شروع میں صبر اور اجر کی امید رکھے تو میں (تیرے لیے) جنت کے علاوہ اورکسی بدلہ کو پسند نہ کروں گا۔
اسی طرح ایک حدیث ِ قدسی میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میں اپنے بندے کو اس کی دو محبوب چیزوں یعنی آنکھوں کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کرتا ہوں اور وہ صبر کرتا ہے تو اس کے عوض میں اس کو جنت عطا کرتا ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری، جلد سوم، حدیث 631)
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’ بندۂ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے اس کے ہر معاملہ اور ہر حال میں خیر ہی خیر ہے۔ لیکن اگر اسے کوئی رنج اور دکھ پہنچتا ہے تو وہ اس کو اپنے ربّ کریم کا فیصلہ سمجھتے ہوئے اس پر صبر کرتا ہے یہ خبر بھی اس کے لیے خیر اور موجب ِ برکت ہوتی ہے۔‘‘
سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہر مخلوق کو جمع فرمائے گا تو ایک اعلان کرنے والا یہ اعلان کرے گا کہ فضیلت والے کہاں ہیں؟ کچھ لوگ کھڑے ہوں گے اور جلدی جلدی جنت کی طرف چلنا شروع کر دیں گے۔ فرشتے ان سے ملاقات کر کے دریافت کریں گے ’’ ہم تمہیں جنت کی طرف تیزی سے جاتا ہوا دیکھ رہے ہیں تم کون ہو؟‘‘ وہ کہیں گے ’’ہم فضیلت والے ہیں‘‘ فرشتے کہیں گے کہ تمہاری کیا فضیلت ہے؟ وہ کہیں گے’’ ہم پر جب ظلم کیا جاتا تھا تو ہم صبر کرتے تھے، جب ہم سے بُرا سلوک کیا جاتا تو ہم درگزر کرتے تھے‘‘ فرشتے کہیں گے کہ جنت میں داخل ہو جائو کہ عمل کرنے والوں کا اجر بہت اچھا ہے۔ پھر اعلان کرنے والا یہ اعلان کرے گا کہ صبر والے کہاں ہیں؟ کچھ لوگ کھڑے ہوں گے اور جلدی جلدی جنت کی طرف چلنا شروع کر دیں گے۔فرشتے ان سے ملاقات کر کے دریافت کریں گے کہ ہم تمہیں جنت کی طرف تیزی سے جاتاہو ادیکھ رہے ہیں تم کون ہو؟ وہ کہیں گے ’’ ہم صبر کرنے والے ہیں۔‘‘ فرشتے پوچھیں گے تمہارا صبر کیا تھا؟ وہ کہیں گے ’’ہم اللہ کی اطاعت کرنے پر اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے سے صبر کیا کرتے تھے۔‘‘ فرشتے کہیں گے کہ جنت میں داخل ہو جائو کہ عمل کرنے والوں کا اجر بہت اچھا ہے۔
لہٰذا بزرگانِ دین نے بالکل صحیح فرمایا ہے کہ ’’صبر‘‘ ہزار عبادتوں کی ایک عبادت ہے جس سے انسان روحانی اعتبار سے ترقی کر کے کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے۔
حضرت علیؓ کا قول ہے ’’یہ زندگی دو دن کی ہے ایک دن تمہارے حق میں اور دوسر ادن تمہارے مخالف، جس دن تمہارے حق میں ہو اس دن غرور مت کرنا اور جس دن تمہارے مخالف ہو اس دن صبر کرنا۔‘‘ راہِ فقر طلب ِ مولیٰ کی راہ ہے اور مولیٰ کے طالب کو ہر گھڑی صبر سے گزرنا پڑتا ہے۔
طالب ِ مولیٰ اور صبر کے بارے میں میرے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
٭ بُرے وقت میں صبر اور اچھے وقت میں شکر کرنا چاہیے۔
٭ صبر کرنا سیکھ لیں! اللہ سب جانتا ہے وہ جانتا ہے آپ کب کن وقتوں سے گزرے ہیں۔ یقین کریں وقت بدل جائے گا کیونکہ تبدیلی کائنات کا اصول ہے۔
٭ اللہ کے طالب پر آنے والی مصیبتیں او ر بلائیں بھی رحمتوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ اللہ کی محبت میں ان پر صبر کرتا ہے۔
صبر اس بات کا نام نہیں ہے کہ انسان عضو ِ معطل ہو کر بے بسی کے ہاتھوں برداشت کے عمل سے گزر تا رہے بلکہ صبر کا مطلب یہ ہے کہ انسان اتنا دور اندیش اور وسیع نگاہ کا حامل ہو کہ معاملات کے انجام پر نظر رکھتے ہوئے ربّ پر بھروسہ رکھے۔ صبر کیا ہے؟ صبر یہ ہے کہ جب تم کانٹے کو دیکھو تو تمہیں پھول بھی دکھائی دے، جب رات کے گھپ اندھیرے پر نظر پڑے تو اس میں صبح صادق کا اجالا بھی دکھائی دے۔ عاشقانِ الٰہی صبر کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑتے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیںکہ پہلی کے باریک چاند کو ماہِ کامل میں تبدیل ہونے کیلئے کچھ وقت ضرور گزارنا پڑتا ہے۔
حاصل تحریر یہ کہ ہر حال میں انسان کو صبر کا دامن تھامے رکھنا چاہیے اور کسی بھی حال میں گلہ گوئی اور اللہ سے شکوہ نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’بیشک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘ پس ہر مشکل دور گزر جائے گا۔ طالب ِ مولیٰ کی نشانی ہی یہی ہے کہ وہ ہر لمحہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور اللہ پاک اس کی ثابت قدمی اور استقامت کو دیکھتے ہوئے جلد ہی اس مشکل دَور کو گزار دیتا ہے۔
انبیا اور فقرا کی یہ صفات صبر و شکر فقرا کی صحبت سے ہی نصیب ہوتی ہیں۔ سلسلہ سروری قادری کے امام مجددِ دین سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی بابرکت نورانی صحبت سے طالبانِ مولیٰ میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوئیں کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے کہ کوئی انسان اور اس کی فطرت اس قدر بھی بدل سکتی ہے۔ دنیا دار اور نفسانی خواہشات میں گھرے لوگ ایسے اوصافِ حمیدہ کے حامل بن گئے کہ وہ خود بھی حیران رہ گئے کہ وہ اتنا بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اور وہ اس بات پر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے شکرگزار بھی ہیں جنہوں نے انہیں طالب ِ دنیا سے طالب ِ مولیٰ بنایا اور فقر کی عظیم راہ پر گامزن فرمایا۔
راہِ حق کے متلاشی اور ایک باکردار و نیک سیرت انسان بننے کے خواہشمند افراد کے لیے دعوتِ عام ہے کہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی نورانی صحبت سے مستفید ہوں۔ ان سے ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کی عظیم دولت حاصل کریں اور اس کی بدولت اپنے باطن کو منور کریں اور اپنے نفس کی اصلاح کر کے اپنے ظاہر کو سنواریں تاکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رضا کے مطابق زندگی گزار سکیں اور فلاح یافتہ لوگوں میں شمار ہوں۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ایسا بااخلاص طالب ِ مولیٰ بنائے جو ہر مشکل اور مصیبت پر صبر کرنے والا اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنے والا ہو۔ اور انبیا و فقرا کے اوصافِ حمیدہ کا آئینہ دار ہو۔ آمین


اپنا تبصرہ بھیجیں