سبق آموز حکایات Sabaq Amoz Hikayat
مراسلہ : وقار احمد ارشاد سروری قادری
سونے کی سوئی
جب حق تعالیٰ کی رحمت و عنایت سلطان ابراہیم بن ادھمؒ کی طرف متوجہ ہوئی تو ان پر عشق ِحقیقی کا ایسا رنگ چڑھا کہ بلخ کی سلطنت چھوٹ گئی مگر باطنی سلطنت ایسی ملی جس کے سامنے ہفت اقلیم کی سلطنت بلکہ زمین و آسمان کے خزانے بھی بے حقیقت ہو گئے۔ شاہ کو خود بھی خود کی خبر نہ تھی کہ سلطنت کا سرسبز و شاداب باغ آتش ِحقیقی کی نظر ہونے والاہے۔ کوڑیاں چھن کر جواہرات عطا ہونے والے ہیں۔ خارستان سوختہ ہو کر چمنستانِ بے خزاں بننے والا ہے۔ جب کسی کے بھلے دن آتے ہیں تو اسی طرح ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم بن ادھمؒ رات کو بالا خانہ پر سورہے تھے کہ اچانک پاؤں کی آہٹ محسوس ہوئی۔ گھبرائے کہ رات کے وقت شاہی بالا خانہ پر کون لوگ ایسی جرات کر سکتے ہیں۔ دریافت فرمایا:
اے واردین کرام! آپ کون لوگ ہیں؟ یہ فرشتے تھے جو حق تعالیٰ کی طرف سے غفلت زدہ دل پر چوٹ لگانے آئے تھے۔ فرشتوں نے جواب دیا ’’ہم یہاں اپنا اونٹ تلاش کر رہے ہیں۔ ‘‘
بادشاہ نے کہا: ’’حیرت ہے کہ شاہی بالا خانہ پر اونٹ تلاش کیا جا رہا ہے۔‘‘
ان حضرات نے جواب دیا’’ ہمیں اس سے زیادہ حیرت آپ پر ہے کہ اس ناز پروری اور عیش میں خدا کو تلاش کیا جارہا ہے۔‘‘
پس بگفتندش کہ تو بر تخت شاہ
چون ہمی جوئی ملاقات از الٰہ
ترجمہ: انہوں نے بادشاہ سے کہا کہ تو شاہی تخت پر حق تعالیٰ کی ملاقات کو کیوں تلاش کر رہا ہے۔
یہ کہہ کر وہ رجال الغیب تو غائب ہو گئے لیکن بادشاہ کے دل پر ایسی چوٹ لگ گئی کہ ملک و سلطنت سے دل سرد ہو گیا۔ مولانا رومیؒ فرماتے ہیں:
’’اے لوگو! سلطنت کو مثل ابراہیم بن ادھمؒ کے جلد خیر باد کہہ دو تا کہ ان کی طرح تم بھی سلطنت ِباطنی سے مشرف ہو جاؤ۔ ‘‘
عشقِ حقیقی جب اغلب ہوا تو حضرت ابراہیم بن ادھمؒ سلطنت ترک کرنے پر مجبور ہو گئے۔ عشق، کائنات کی تمام لذتوں سے دل کو بے زار کر دیتا ہے۔ آدھی رات کا وقت ہوا بادشاہ اُٹھا، کمبل اوڑھا اور اپنی سلطنت سے نکل پڑا۔ سوز ِعشق کی ایک آہ نے زندانِ سلطنت کو پھونک دیا اور دست ِجنون کی ایک ضرب نے گریبانِ ہوش کے پرزے اڑا دیے۔ سلطنت ِبلخ ترک کر کے حضرت ابراہیم بن ادھمؒ نیشاپور کے صحرا میں ذکر ِحق میں مشغول ہو گئے۔
جز بہ ذکر خویش مشغولم مکن
از کرم از عشق معزولم مکن
ترجمہ:اے محبوب ِحقیقی! اپنے ذکر کے علاوہ مجھے کسی کام میں مشغول نہ کیجئے اور اپنے کرم کے صدقے میں اپنے عشق سے مجھے معزول نہ فرمائیے۔
حق تعالیٰ کا ذکر ہی اس روح کی غذا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت سے زخمی دل کے لئے ذکر ِحق ہی مرہم ہے۔ آپ دس برس تک صحرائے نیشا پور میں دیوانہ وار عبادت میں مصروف رہے۔ سلطان ابراہیم بن ادھمؒ نے جب اپنے باطن میں نسبت اور تعلق باللہ کا بدرِ کامل روشن دیکھ لیا تو تمام خواہشات ِنفسانیہ اور ظاہری آرائشوں سے مستغنی ہو گئے۔ کہاں تاج و تخت ِشاہی اور کہاں اب دریا کے کنارے بیٹھے ہوئے گدڑی سی رہے ہیں۔ سلطنت ِبلخ کا وزیر اس طرف سے گزر رہا تھا۔ اس نے بادشاہ کو اس حال میں دیکھا۔ اس کو ر باطن نے دل میں سوچا یہ کیا حماقت ہے کہ ہفت اقلیم کی سلطنت ترک کر کے مثل گداگروں کے گدڑی سی رہے ہیں۔ حضرت ابراہیم بن ادھمؒ کو معلوم ہو گیا کہ یہ کیا سوچ رہا ہے۔ آپ ؒنے فوراً اپنی سوئی دریا میں پھینک دی اور بآواز بلند دعا فرمائی کہ اے اللہ تعالیٰ میری سوئی مجھے واپس عطا فرمائی جائے۔ دریا سے فوراً ہزاروں مچھلیوں نے اپنے لبوں میں ایک ایک سونے کی سوئی لے کر پانی سے منہ باہر نکالا۔ جب اس امیر نے یہ کرامت دیکھی تو اپنے فاسد خیالات پر اور اپنی بے خبری پر سخت نادم ہوا۔ شرمندگی اور ندامت سے ایک آہ کھینچی اور کہنے لگا کہ افسوس مچھلیاں اس مردِ کامل کے مقام سے آگاہ ہیں اور میں انسان ہو کر ناواقف ہوں۔ میں بدبخت اس دولت سے محروم ہوں مگر مچھلیاں اس معرفت سے آگاہ ہیں۔
اس کے بعد سلطان ابراہیم بن ادھم ؒ نے ارشاد فرمایا’’ اے امیر! یہ سلطنت دل کی بہترہے یا وہ حقیر فانی سلطنت بلخ کی۔‘‘
آزمودم عقل دوراندیش را
بعد ازیں دیوانہ سازم خویش راؔ
عاشقم من بر فنِ دیوانگی
سیرم از فرہنگ و از فرزانگی
ترجمہ:عقل اور دور اندیشی کو بہت آزمایا لیکن جب اس سے کام نہ بن سکا تو اس وقت میں نے خود کو دیوانہ بنالیا اور کام اس سے بنا۔ جب دیوانگی ہی کام آئی اور اس سے محبوب حقیقی تک رسائی ہوئی تو میں اس فن ِدیوانگی پر عاشق ہو گیا، اور عقل و ہوش کو خیر باد کہہ دیا۔
درسِ حیات:جو خدا کو ہو جاتا ہے، خدا اُس کا ہو جاتا ہے۔
عبرت حاصل کرنا
شیر، بھیڑیا اور لومڑی اکٹھے مل کر شکار کو نکلے۔ ان کو شکار میں نیل گائے، جنگلی بکرا اور خرگوش ہاتھ آئے۔ شیر نے دیکھا کہ بھیڑیا اور لومٹری بھی اس شکار میں اپنے حصے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس نے ان کی نیتوں کو بھانپ کر پہلے بھیڑیئے کو بلایا کہ وہ انصاف سے تقسیم کرے۔ بھیڑیئے نے کہا بادشاہ سلامت! آپ بڑے ہیں۔ نیل گائے آپ کا حصہ۔ جنگلی بکرا درمیانہ ہے، وہ میرا حصہ ہے۔ جبکہ خرگوش لومڑی کا حصہ ہے۔ شیر نے کہا’’ میرے آگے تیری کیا ہستی ہے کہ میرے ہوتے ہوئے تو انصاف کرے۔‘‘ اس نے بھیڑیے کو قریب بلا کر اس زور سے پنجہ مارا کہ وہ فوراً ہلاک ہو گیا۔ اس کے بعد اس نے لومڑی کو بلایا اور تقسیم کے لئے کہا۔ لومڑی نے با ادب ہو کر کہا ’’جناب! تقسیم کیسی! یہ نیل گائے آپ کے صبح کا ناشتہ ہے۔ جنگلی بکرا دو پہر کو اور خرگوش رات کو تناول فرما لیجیے گا۔‘‘ شیر اس سے خوش ہوا اور اس کی انصاف پسندی کی داد دیتے ہوئے اس سے پوچھا کہ یہ انصاف کی تقسیم تم نے کہاں سے سیکھی؟ لومڑی نے کہا ’’جناب بھیڑیے کے انجام سے۔‘‘ چنانچہ شیر نے خوش ہو کر وہ تینوں شکار لومڑی کو بخش دیئے۔
درس ِحیات: دوسروں کے انجام سے عبرت حاصل کرنا عقلمندوں کا شیوہ ہے۔یہ ان کو انجام بد سے بچا لیتا ہے۔