Warning: Undefined array key "geoplugin_countryName" in /home/u158198210/domains/mahnama-sultan-ul-faqr-lahore.com/public_html/wp-content/themes/upress/functions.php on line 284

سبق آموز حکایات Sabaq Amoz Hikayat

Rate this post

سبق آموز حکایات  Sabaq Amoz Hikayat

مراسلہ : وقار احمد ارشاد سروری قادری

حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا  

روایت ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کی نافرمانی سے بہت عاجز تھے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی: یا الٰہی! اس نافرمان قوم پر اپنا عذاب نازل فرما۔  

اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی یہ دعا قبول کی اور ارشاد فرمایا کہ میں بہت جلد زمین پر ایک زبردست عذاب نازل کرنے والا ہوں، تو اپنے اور اہل و عیال کے لیے ایک کشتی بنا لے۔حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ کے حکم کے مطابق ایک کشتی تیار کر لی۔ مقررہ وقت پر جب طوفانی سیلاب آیا تو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے نافرمان بیٹے کو بھی کشتی میں بیٹھنے کو کہا: ’’اے بیٹا! اگر تو اپنی سلامتی چاہتا ہے تو ہمارے ساتھ کشتی میں آ جاؤ، ورنہ پانی میں ڈوب جاؤ گے۔‘‘

کنعان (حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا)تیراکی میں ماہر تھا اور وہ اپنی اس خوبی پر بہت مغرور تھا۔ اس نے بدتمیزی سے اپنے والد محترم کو جواب دیا:
’’اے نوح! تو ہمارا دشمن ہے۔ ہمیں تمہاری اس کشتی کی ضرورت نہیں۔ میں فنِ تیراکی میں ماہر ہوں، میری شمع اندھیرے میں روشنی کرنے کے لیے میرے پاس موجود ہے۔ پھر میں کیوں تیری شمع کی پرواہ کروں؟‘‘

حضرت نوح علیہ السلام نے کہا: ’’بیٹا!کلمۂ بد اپنی زبان سے مت نکال۔ یہ طوفان عذابِ الٰہی ہے، مہیب بلا ہے۔ تیری تیراکی دَھری کی دَھری رہ جائے گی۔ تم اتنا نہیں تیر پاؤ گے، آخر کہاں تک تیرو گے؟ ہاتھ پاؤں کام کرنا چھوڑ دیں گے۔ یہ عذابِ الٰہی ساری شمعیں بجھا دے گا اور صرف حق کی شمع جلتی رہے گی۔ بیٹا! میری بات مان لو اور کشتی میں آ جاؤ۔‘‘

کنعان نے ہنس کر کہا: اے نوحؑ! تو میری فکر نہ کر، میں سب سے اونچے پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا اور پہاڑی کی چوٹی تک پانی کبھی نہیں پہنچ سکتا۔

بیٹے کی یہ بات سن کر حضرت نوح علیہ السلام چیخ اُٹھے: اے بے خبر! ایسا مت کرنا۔ اس طوفان میں اونچے سے اونچا پہاڑ بھی مٹی کے ذرّے کی طرح حقیر ہے اور اللہ اپنے دوستوں کے علاوہ کسی کو بھی اس عظیم عذاب سے نہ بچائے گا۔ میری بات مانو، ضد اور غرور چھوڑو اور اس کشتی میں آکر بیٹھ جاؤ، سلامت رہو گے۔

کنعان نے جواب دیا: ’’اے نوح!میں نے پہلے کبھی تیری نصیحت مانی تھی جو اَب مانوں گا؟ تو مجھ سے اس بات کی امید کیوں کرتا ہے کہ میں تجھے سچا مانوں گا۔ یاد رکھ میں دونوں جہانوں میں تجھ سے الگ ہوں۔‘‘

غرض یہ کہ حضرت نوح علیہ السلام نے ہر طرح سے اپنے بیٹے کو عذابِ الٰہی سے ڈرانے اور سمجھانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ اس بدبخت نے بحث و تکرار جاری رکھی یہاں تک کہ ایک تیز و تند موج آئی اور کنعان کا سارا غرور اس میں بہہ گیا۔ بیٹے کا عبرت ناک منظر دیکھ کر آپ علیہ السلام کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور فرمایا’’اے رحیم و کریم اور تمام جہانوں کے مالک! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میرے اہل و عیال اس طوفان سے محفوظ رہیں گے، پھر یہ کیا۔۔۔ میرا بیٹا ہی۔۔۔؟؟؟

حق تعالیٰ نے جواب دیا:اے نوحؑ! جسے ہم نے غرق کیا، وہ ہرگز بھی تیرے اہل و عیال میں سے نہ تھا۔ دیکھو جب تیرے دانت میں کیڑا لگ جائے تب تو اس دانت کو اکھاڑ دے۔

یہ سننا تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو گئے اور کہنے لگے: اے میرے پروردگار! میں پناہ مانگتا ہوں اور تیری ذات کے علاوہ ہر غیر سے بیزار ہوں۔ پس تو مجھے معاف کر دے۔

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’اے نوحؑ! جو جو اس طوفان میں غرق ہوا ہے وہ سب نافرمان تھے مگر تو چاہے تو میں ان سب کو ایک ہی لمحہ میں دوبارہ پیدا کر دوں لیکن ایک کنعان کے لئے میں تجھے آزردہ نہ کروں گا لیکن پھر کہتا ہوں وہ تیری اہل میں سے نہ تھا۔‘‘

یہ ارشاد سنتے ہی حضرت نوح علیہ السلام نے عرض کیا ’’اے میرے پروردگار! میںایسا نہیں چاہتا۔ میں تو تیرے ہر کام میں راضی ہوں۔ اگر تجھے منظور ہو تو مجھے بھی اس عذاب میں غرق کر دے، میں راضی برضا ہوں، اگر تو مجھے ہلاک کر دے گا تو وہ موت بھی میرے لئے زندگی ہی کی طرح ہوگی۔ میں تیری ذات کے علاوہ کسی اور پر نظر نہ رکھوں گا۔‘‘

درسِ حیات: 

جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور پر نظر رکھتا ہے وہ ذلیل و خوار ہو کر کفر میں مبتلا ہوتا ہے۔

موت کا وقت  

حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں ایک آدمی لرزاں و ترساں حاضر ہوا۔مارے ہیبت کے اس کے منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ چہرہ دھلے ہوئے کپڑے کی طرح سفید ہو گیا تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کی یہ کیفیت ملاحظہ فرمائی تو پوچھا: اے خدا کے بندے! کیا بات ہے؟ تو اتنا گھبرایا ہوا اور مضطرب کیوں ہے؟ 

اس نے عرض کیا: ’’یا حضرت! مجھے عزرائیلؑ نظر آیا، اس نے مجھ پر ایسی غضب ناک نظر ڈالی کہ میرے ہوش و حواس گم ہو گئے۔ رُواں رُواں تھرا گیا۔ اب بار بار عزرائیلؑ کی وہ صورت آنکھوں کے سامنے آتی ہے۔ اس لئے مجھے کسی گھڑی بھی چین نہیں آرہا۔‘‘ اس نے التجا کی کہ آپؑ ہوا کو حکم دیں کہ وہ مجھے یہاں سے ہزاروں میل دور ملک ہندوستان میں چھوڑ آئے۔ ممکن ہے اس تدبیر سے میرا خوف کچھ دور ہو جائے۔

 حضرت سلیمان علیہ السلام نے اُسی وقت ہوا کو حکم دیا کہ اس شخص کو فوراً ہندوستان کی سرزمین میں پہنچا دے۔ جو نہی اس شخص نے ہندوستان کی زمین پر قدم رکھا، وہاں عزرائیل علیہ السلام کو منتظر پایا۔ آپ نے اللہ کے حکم سے اس کی روح قبض کرلی۔ 

دوسرے دن حضرت سلیمان علیہ السلام نے بوقتِ ملاقات حضرت عزرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا: آپ نے ایک آدمی کو اس طرح غور سے کیوں دیکھا تھا؟ کیا تمہارا ارادہ اس کی روح کو قبض کرنا تھا یا پھر اس بیچارے کو غریب الوطنی میں لاوارث کرنا تھا۔

عزرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں نے جب اس شخص کو یہاں دیکھا توحیران ہوا کیونکہ مجھے ہندوستان میں اس شخص کی روح قبض کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور یہ شخص ہزاروں میل دور یہاں موجود تھا۔ حکمِ الٰہی سے جب میں ہندوستان پہنچا تو میں نے اس کو وہاں موجود پایا۔

 

درسِ حیات:

انسان لاکھ تدبیر کرے، تقدیر اسے وہیں لے جاتی ہے جہاں اس کا نصیب ہواور وہ خود تقدیر کے عزائم پورا کرنے کے لیے اسباب فراہم کرتا ہے۔

 

اپنا تبصرہ بھیجیں