Warning: Undefined array key "geoplugin_countryName" in /home/u158198210/domains/mahnama-sultan-ul-faqr-lahore.com/public_html/wp-content/themes/upress/functions.php on line 284

کلید التوحید (کلاں) | Kaleed ul Tauheed Kalan – Urdu Translation

Rate this post

کلید التوحید (کلاں)  | Kaleed ul Tauheed Kalan 

قسط نمبر45                                        مترجم: سلطان محمد احسن علی سروری قادری

گنج چہارم شرح دعوت

منتہی کامل (فقیر کامل اکمل) شہسوارِ قبور ہوتا ہے جو ذوالفقار کی مثل تیغِ برہنہ کو ہاتھ میں لیتا ہے اور اللہ کے حکم سے کفار کو قتل کر کے غازی بن جاتا ہے۔ جان لو کہ دعوت پانچ طرح سے پڑھی جا سکتی ہے اوّل دعوت ازل کی طرف وسیلہ ہے جو مقامِ ازل پر پہنچاتی ہے۔ دوم دعوت ابد کی طرف وسیلہ ہے جو مقامِ ابد تک پہنچاتی ہے۔ سوم دعوت دنیا کی طرف وسیلہ ہے جو مشرق سے مغرب تک تمام زمین کی بادشاہی عطا کر کے دنیا میں کاملیت تک پہنچاتی ہے۔ چہارم دعوت عقبیٰ کی طرف وسیلہ ہے جو مقامِ عقبیٰ تک پہنچاتی ہے۔ پنجم دعوت معرفتِ الٰہی کی طرف وسیلہ ہے جو مجلسِ محمدیؐ کی حضوری تک پہنچاتی ہے اور مقامِ معرفت پر پہنچا کر نور و توحیدِ الٰہی کا مشاہدہ عطا کرتی ہے۔

جان لو کہ دعوت پڑھنے کے لائق وہی کامل، مکمل اور اکمل عارف باللہ ہوتا ہے جو عالم و عامل ہو اور اسے رجعت اور زوال سے پاک قرب و وِصال حاصل ہو۔ تو جان لے کہ دعوت پڑھنا اور رجعت سے محفوظ رہنا غالب الاولیا کا کام ہے نہ کہ نفس پر مغرور صاحبِ ہوائے نفسانی کا۔ جو ایک شب میں ایک ہی وضو سے دعوت میں ترتیب وار مکمل قرآن پڑھتا ہو وہ اگر اسی طریقے سے دعوت میں تین روز تک مسلسل مکمل قرآن پڑھتا رہے تو اس (کی دعوت) کے اس عمل کا اثر قیامت تک جاری رہے گا۔ ایسا ہی ولی دونوں جہان پر غالب ہوتا ہے ورنہ عامل کامل کی اجازت کے بغیر دعوت رواں نہیں ہوتی۔ جو مسلسل ایک ہفتہ دعوت میں سورۃ مزمل کی تلاوت کرتا رہے وہ کامل و مکمل ہو جائے گا۔ دعوت اگرچہ ابتدائی مرتبہ کی ہو یا انتہائی مرتبہ کی‘ قرآنِ مجید سے پڑھی جاتی ہے کیونکہ قرآن اللہ کا کلام اور دونوں جہان میں معتبر راہنما، پیشوا اور وسیلہ ہے۔ اللہ کے ظاہر و باطن، خشکی و تری اور بحر و بر کے تمام خزانے اور چھ سمتوں میں موجود کل مخلوقات کی حقیقت اور توحیدِ ذات و صفات سب قرآن میں ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ۔ (سورۃ الانعام۔59)
ترجمہ: نہ کوئی ترشے ہے نہ خشک مگر ہر تفصیل اس کتابِ مبین میں (درج) ہے۔

لیکن ہر آیت کی تحقیق کرنی چاہیے کیونکہ ہر دینی و دنیوی امر کے لیے علیحدہ علیحدہ آیات ہیں جن کی اپنی الگ خاصیت ہے اور جو مختلف اعداد میں مختلف طریقے سے پڑھی جاتی ہیں جیسا کہ آیاتِ امر معروف، آیاتِ نہی و منکر، آیاتِ قصص الانبیا، آیاتِ وعدہ، آیاتِ وعید، آیاتِ منسوخ، آیاتِ ناسخ۔ بعض دعوت پڑھنے میں عامل و کامل ہیں اور بعض حکم و اجازت میں عامل کامل ہیں۔ بہتر وہی ہے جو دعوت پڑھنے اور اجازت دونوں میں عامل کامل ہو۔ رجعت اور زوال سے پاک دعوت پڑھنا کاملوں کا ہی کام ہے کہ جب وہ کسی دینی و دنیوی کام کے لیے دعوت شروع کرتے ہیں تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے اس کام کو کرنے کا حکم ہو جاتا ہے۔ ایسی دعوت دو طریقِ تحقیق سے پڑھی جاتی ہے۔ اوّل جو اسمِ اللہ ذات کی حضوری سے پڑھی جاتی ہے۔ دوم وہ جو اولیا اللہ کی قبور پر پڑھی جاتی ہے۔ جو ان دونوں طریقوں سے دعوت پڑھنا نہیں جانتا وہ دعوت پڑھنے کے لائق ہی نہیں کیونکہ علمِ تکثیر اور اس کا عالم ہر دوسرے علم اور عالم پر غالب ہوتا ہے۔ جان لو کہ علمِ تکثیر سے مراد دعوت ہے اور دعوت کے چار حروف ہیں۔ اگر دعوت مکمل شرائط اور طاعت (مرشد کی اجازت) سے پڑھی جائے تو اس کا ہر حرف بزرگی، عزت اور شرف عطا کرتا ہے۔ دعوت کے چار حروف یہ ہیں د، ع، و، ت۔ حرف ’د‘ سے دائرہ دل ذکر ِ دوام سے پاک ہو جاتا ہے اور ذکرِ دوام حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے حاصل ہوتا ہے۔ حرف ’ع‘ سے علمِ غیبی اور فتوحاتِ لاریبی مراد ہیں جو کہ مؤکلات عالمِ غیب سے لا کر دعوت پڑھنے والے کو عطا کرتے ہیں۔ حرف ’و‘ سے ورد و وظائف مراد ہیں یعنی کلامِ الٰہی کو ترتیب، ادب و عزت اور اعتقاد سے پڑھا جائے اور حرف ’ت‘ سے مراد ترک ہے یعنی جن چیزوں کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کے اصحاب نے ترک کیا ان کو ترک کر دیا جائے۔ یہ دعوتِ کامل کی ابتدا ہے۔

یہ درست ہے کہ جس طرح کامل کے بغیر پارے کا کشتہ نہیں بنایا جا سکتا اسی طرح صاحبِ دعوتِ قبور عامل کامل کے حکم کے بغیر دعوت نہیں پڑھی جا سکتی۔ ناقصوں کو دعوت پڑھنے سے دائمی رجعت اور تکلیف پہنچتی ہے جبکہ کامل کو دعوت پڑھنے سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس کی دائمی حضوری اور جمعیت کے خزانے عطا ہوتے ہیں۔ صاحبِ دعوتِ کامل کو صاحبِ نصاب ہو کر زکوٰۃ دینے، قفل کھولنے، وظائف کرنے، بخشش دینے، وقت اور مقام پہچاننے، نیک و بد اعداد کا حساب کرنے اور جمالی و جلالی جانوروں کو کھانا ترک کرنے کی کیا ضرورت؟ یہ سب وسوسے اور خطرات ناقصوں کو درپیش ہوتے ہیں کیونکہ وہ ابتدائی و انتہائی دعوت پڑھنے کی ترتیب ہی نہیں جانتے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے نام کو وسیلہ بناتے ہیں۔  بیت:

با مؤکل دائرہ عدد و حساب
از بروجش و کوکب شد اکتساب

ترجمہ: مؤکلات کے ذریعے اعداد کا حساب لگانا اور دائرے بنانا اور برجوں، ستاروں سے اکتساب کرنا ناقصوں کا کام ہے۔

یہ سب کچھ انسان کے تابع ہے اور انسان وہی ہے جو رحمن کی حضوری سے الہام پاتا ہے۔ اسے نہ رجعت ہوتی ہے اور نہ پریشانی۔ جان لو کہ دعوتِ کل و جز، دعوتِ ذکر، دعوتِ فکر، دعوتِ تجلیاتِ نورِ الٰہی اور دعوتِ منتہی ان سب کا تعلق ان دو آیات سے ہے جو اسمِ اعظم کے ساتھ ملا کر پڑھی جاتی ہیں۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
فَفِرُّوْٓا اِلَی اللّٰہِ (سورۃ الذاریات۔50)
ترجمہ: پس دوڑو اللہ کی طرف۔

جو اس جانب آتا ہے اس کا ہر کام اللہ تعالیٰ کے حکم سے جاری و ساری ہو جاتا ہے کیونکہ اس کی توجہ، وھم، خیال سب وصالِ حق سے ہوتا ہے جو کہ اس آیتِ کریمہ کی برکت کی بدولت ہے:
اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لا یُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ (سورۃ البقرہ۔257)
ترجمہ: اللہ مومنین کا ولی ہے جو انہیں ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے۔

پس مقامِ ازل، مقامِ ابد، مقامِ دنیا اور مقامِ عقبیٰ یہ چاروں مقامات ظلمات ہیں اگرچہ اس ظلمات میں آبِ حیات ہے لیکن اس کا انجام آخرکار موت ہے سوائے معرفتِاِلَّا اللّٰہ  کے۔ عارف وہی ہوتا ہے جو ان ظلمات کی لذات سے نجات حاصل کر لے۔ اس کے بعد ہی اس کو ذاتِ وحدانیت میں غرق کی لذت حاصل ہوتی ہے۔ یہ خاص لوگوں کے معرفتِ الٰہی کے روشن نور اور حضوری تک پہنچنے کے مراتب ہیں۔ بندے کے لیے اس سے بہتر چیز کوئی نہیں کہ اپنا رُخ اللہ کی جانب کر لے اور اپنے دینی و دنیوی سب امور اللہ کے سپرد کر دے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْٓ اِلَی اللّٰہ ِط اِنَّ اللّٰہَ بَصِیْرٌم بِالْعِبَادِ۔ (سورۃ المومن۔44)
ترجمہ: اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ بے شک اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔ 

عارف باللہ کو معرفتِ الٰہی سات مراتب میں حاصل ہوتی ہے اوّل مرتبہ نفی یعنیلَآ اِلٰہَ، دوم مرتبہ اثبات یعنیاِلَّا اللّٰہ، سوم مرتبہ تصدیق سےمُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھنا، چہارم آیاتِ قرآن کی تلاوت، پنجم دعائے سیفی کا ورد، ششم اسمائے باری تعالیٰ میں سے اسمِ اعظم حاصل کرنا، ہفتم مرتبہ اسمِ اللہ  ذات سے وحدانیت میں غرق ہونا۔ یہ سات خزانے ہیں اور ان میں سے ہر ایک خزانے سے ستر ہزار خزانے مزید حاصل ہوتے ہیں۔ ہم ایمان لائے اور تصدیق کی۔ غیر ماسویٰ اللہ کسی دوسرے پر یقین رکھنا کافر بنا دیتا ہے۔ جو دعوت کے ان انتہائی مراتب پر پہنچ جاتا ہے وہ عامل کامل عارف باللہ ہو جاتا ہے اور اس کی نظر اور توجہ بھی کامل ہو جاتی ہے۔ اس کی زبان اللہ کی تلوار کی مثل کامل ہو جاتی ہے۔ اور وہ جس کام کے لیے بھی اپنے دونوں لب ہلاتا ہے تو جو کچھ چاہتا ہے اپنا ہر مطلب اللہ سے حاصل کر لیتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
لِسَانُ الْفُقَرَآئِ سَیْفُ الرَّحْمٰنِ 
ترجمہ: فقرا کی زبان رحمن کی تلوار ہے۔

عارف کی زبان تب تک ہرگز تلوار نہیں بنتی جب تک صاحبِ دعوت اولیا اللہ کی قبور پر ترتیب سے دعائے سیفی کے ذریعے دعوت پڑھنا نہ جانتا ہو۔ اس ترتیب سے دعوت پڑھنے کی قدرت صرف کامل کو ہی حاصل ہوتی ہے جو غوث و قطب کی قبر پر جا کر دعوت پڑھتا ہے اور جب وہ عامل کامل قبر پر سوار ہو کر تمام تر جذب و غصہ اور غضب سے دعوت پڑھتا ہے تو اس کا ہر دینی و دنیوی مشکل کام اللہ کے کرم سے بغیر کسی تعطل کے مکمل ہو جاتا ہے اور وہ صاحبِ وصال عارف باللہ بن جاتا ہے۔ جان لو کہ مؤکلات اور جنوں کو عالمِ غیب سے اپنی قید میں لے آنے والی دعوت اور ہے جسے عام، ناقص اور خام سبھی پڑھتے ہیں جبکہ انبیا، غوث و قطب اولیا اللہ، شہدا، عارف باللہ فقرا اور درویشوں کی ارواح کو مسخر کرنے والی دعوت اور ہے۔ ایسی دعوت کے لیے صاحبِ دعوت جب قبر پر جاتا ہے تو باترتیب پڑھتا ہے:
اُحْضُرُوْا لِلْمُسَخَّرَاتِ بِحَقِّ مَلِکِ الْاَرْوَاحِ الْمُقَدَّسِ  
اے ارواحِ مقدس! اللہ کی خاطر میرے مقاصد کے حصول کے لیے حاضر ہوں۔

تب اہلِ قبور ارواح اس کے گرد جمع ہو جاتی ہیں اور جو دعوت بھی پڑھی جاتی ہے وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حضوری میں آپ کے حکم سے حاصل ہوتی ہے اور اجازت و حکم دینے کا یہ اختیار مرشد در مرشد ابد الآباد تک جاری رہے گا اور کبھی نہ رکے گا۔  بیت:

ہر کرا مرشد نہ شد شیطان مرید
ہر کہ با مرشد بود گو بایزیدؒ

ترجمہ: جس کا مرشد نہیں وہ شیطان کا مرید ہے اور جو مرشد کے ساتھ وابستہ ہو وہ گویا بایزیدؒ ہے۔

دعوتِ قبور اور دعوتِ حضور سے کوئی بھی دعوت سخت تر اور بہتر نہیں۔ اگرچہ بزرگوں کی قبور کے آداب کا خیال رکھنا بھی عظیم کام ہے۔ جان لو کہ اگر ایک طرف آگ ہو اور دوسری طرف قبر ہو تو آگ پر قدم رکھ دو لیکن قبر پر قدم نہ رکھو کیونکہ اگر کوئی نفسانی انسان کسی روحانی کی قبر پر پاؤں رکھ دے گا تو اس روحانی سے ایسی رجعت اور آسیب لاحق ہوگا کہ وہ دیوانہ ہو کر مر جائے گا اور اگر قدم آگ پر رکھے گا تو پاؤں جل جائیں گے لیکن چند روز بعد ٹھیک بھی ہو جائیں گے۔ چونکہ روحانی نفسانی پر غالب ہوتا ہے اس لیے روحانی کی قبر پر دعوت پڑھنے کے لائق وہی ہوتا ہے جو غالب الاولیا ہو اور مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا کے مراتب کا حامل ہو۔ بلکہ روحانی کی قوت اس قدر ہوتی ہے کہ وہ نو آسمانوں اور زمین کے سات طبقات میں ہر جگہ حاضر ہوتا ہے۔ فاتحہ کا ثواب حاصل ہوتے ہی روحانی کو ایسی طاقت اور قوت حاصل ہوتی ہے جو ہر شے پر غالب آ جاتی ہے وہ اس لیے کہ روحانی کے نزدیک جو کچھ دنیا میں ہے وہ سب فانی ہے جبکہ اہل ِ دنیا کے نزدیک روحانی زیر ِ زمین فانی ہوتا ہے تاہم اصل حیات وہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں زندہ قلب عارفین طلبِ مولیٰ میں گزارتے ہیں جن کے متعلق فرمایا گیا:
اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا یَمُوْتُوْنَ  
ترجمہ: خبردار! بے شک اولیا اللہ ہرگز نہیں مرتے۔

جو شخص اپنی حیات میں ہی روحانی مراتب پا لے تو اس کے لیے لازم ہے کہ صاحبِ زندہ قلب روحانی کی قبر پر جا کر دعوت پڑھے۔   ابیات:

شہسوار قبر کامل شد فقیر
شہسوار قبر عالم ملک گیر

ترجمہ: کامل فقیر ہی قبروں پر سواری کرتا ہے وہ نہ صرف قبور کا شہسوار ہوتا ہے بلکہ تمام دنیا پر غالب ہوتا ہے۔

ہر کرا قوت بود اہل القبور
صاحب دعوت چنیں باشد حضور

ترجمہ: جو صاحب ِ دعوت اہلِ قبور پر غالب ہو اسے ہی حضوری حاصل ہوتی ہے۔

ہر کہ واقف میشود دعوت قبر
ہر حقیقت یافتہ زیر و زبر

ترجمہ: جو قبور پر دعوت پڑھنے کے علم سے واقف ہو جائے وہ زیر و زبر کی ہر حقیقت جان لیتا ہے۔

دعوت تیغ برہنہ دستگیر
قتل موذی را کند فی اللہ فقیر

ترجمہ: دعوت تیغِ برہنہ کی مثل ہے جسے فنا فی اللہ فقیر ہاتھ میں لے کر موذیات کو قتل کرتے ہیں۔

جو شخص قبر پر سوار ہو کر قرآن پڑھے تو کلامِ الٰہی کی برکت سے صاحبِ قبر روحانی کا مرتبہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ اس میں حیران نہ ہو کیونکہ روحانی کی قبر کو قرآن سے عزت حاصل ہوتی ہے اور قرآن روحانی اور اس کی قبر سے افضل ترین ہے۔ قرآن غیر مخلوق ہے جبکہ روحانی اور اس کی قبر مخلوق ہے۔ جو شخص بزرگ اور عظیم اولیا اللہ کی قبر پر سوار ہو کر قرآنِ مجید پڑھے تو اس کی دعوت رواں دریا کی مثل جاری ہو جاتی ہے اور قیامت تک نہیں رکتی۔ لیکن صرف تین کاموں کے لیے قبر پر سوار ہونا چاہیے اور قرآن میں سے جو کچھ یاد ہو وہ پڑھنا چاہیے اوّل بادشاہِ اسلام کی مدد کے لیے جو دشمنوں کے ساتھ جنگ کر رہا ہو۔ دوم خاص و عام مسلمانوں کو نفع پہنچانے کے لیے۔ سوم بدعتی و ملحد بے دینوں سے نجات کے لیے۔ ان تینوں اسلامی کاموں کے لیے دعوت پڑھنے والا جو دعوت میں عامل و کامل اور قبور کا شہسوار ہو‘ اسے چاہیے کہ رات کے وقت تنہا کسی غوث، قطب یا شہید کی باعظمت و پرُہیبت قبر پر جائے اور اپنے گرد حصار بنا لے۔ سب سے پہلے قبر کے گرد اللہ اکبر اللہ اکبر سے محمد رسول اللہ تک مکمل اذان دے کیونکہ قبر کے گرد صرف اذان دینے سے روحانی قید میں آ کر حاضر ہو جاتا ہے اور دل میں وھم و خیال ڈالتا ہے اور اگر صاحبِ دعوت غالب ہو تو قبر پر پاؤں مار کر کہتا ہےقُمْ بِاِذْنِ اللّٰہ (اٹھ اللہ کے حکم سے)۔ اس کے بعد وہ ذکر کرتے کرتے خود سے بیگانہ ہو کر بے ہوش ہو جاتا ہے اور روحانی اسے جواب باصواب دیتا ہے اور اس کا کام اسی وقت جاری ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر قبر کے گرد اذان دینے سے اور قُمْ بِاِذْنِ اللّٰہ کہنے سے روحانی حاضر نہ ہو اور جواب باصواب نہ دے اور نہ ہی قید میں آئے تو معلوم ہوا کہ وہ روحانی صاحبِ دعوت پر غالب ہے یا پھر روحانی اس لیے حاضر نہیں ہوا کہ صاحبِ دعوت کے قرآن پڑھنے کی بدولت اسے نعمت و لذت حاصل ہو رہی ہوتی ہے اور اسی وجہ سے روحانی اس کام میں تاخیر کر تا ہے۔ اس لیے صاحبِ دعوت کو چاہیے کہ روحانی کو قید میں لا کر عاجز کر لے اور کبھی قبر کے پائوں کی جانب اور کبھی قبر پر سوار ہو کر قرآن پڑھے۔ ان دو سخت اعمال سے روحانی اسی وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور فریاد کرتا ہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جانب سے روحانی کو حکم ہوتا ہے کہ جاؤ اور دعوت پڑھنے والے کے باتوفیق رفیق بن جاؤ اور اس کے کام مکمل کرو۔ اسی وقت اس کا جو بھی مقصود ہو ‘اس کو حاصل ہو جاتا ہے جیسا کہ اس حدیثِ مبارکہ میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اِذَا تَحَیَّرْتُمْ فِی الْاُمُوْرِ فَاسْتَعِیْنُوْا مِنْ اَہْلِ الْقُبُوْرِ
ترجمہ: جب تم اپنے امور میں پریشان ہو جاؤ تو اہلِ قبور سے مدد مانگ لیا کرو۔

اس طرح کی دعوت پڑھنا کسی شہسوار کا ہی کام ہے اور اسے صرف وہی پڑھتا ہے جسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جانب سے اس دعوت کو پڑھنے کی اجازت حاصل ہو۔ 

ابیات:

ہر کرا رخصت نباشد از رسولؐ
ایں مراتب را نیابد جز وصول

ترجمہ: جسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جانب سے دعوت پڑھنے کی اجازت حاصل نہ ہو اسے اس دعوت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

ہر کرا رخصت نباشد از حضور
ایں مراتب کے بیابد از قبور

ترجمہ: اور جسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جانب سے دعوت پڑھنے کی اجازت حاصل نہ ہو وہ قبور سے یہ مراتب کیسے پا سکتا ہے؟

جان لو کہ دعوت پڑھنے کی دوسری ترتیب یہ ہے کہ عرش سے تحت الثریٰ تک اٹھارہ ہزار عالم ایسی دعوت پڑھنے والے کی قید میں آ جاتے ہیں۔ دعوتِ معظم و مکرم یہ ہے کہ قرآنِ مجید پر اعتبار کیا جائے اور قرآن کو اپنا پیشوا اور شفیع بنایا جائے۔ اس طریقے سے قرآن پڑھنے والا جیسے ہی قرآن کے علوم کے سمندر میں غوطہ لگاتا ہے تو چاروں حاملینِ عرش فرشتے اور چاروں مقرب فرشتے جبرائیل ، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل علیہم السلام چاہتے ہیں کہ زمین کو الٹ دیں اور تمام مقدس ارواح حیرت میں آ جاتی ہیں اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر کہتی ہیں اے خداوند! اس صاحبِ دعوت کی دعوت کو قبول فرما اور اس کے کام کو جلد مکمل کر دے تاکہ ہم اس کی قید سے خلاصی پائیں اس دعوت سے سخت تر دعوت اور کوئی نہیں۔ بیت:

باھوؒ بہر از خدا بہر از رسولؐ
اطلاعی کس مکن اہل الوصول

ترجمہ: اے باھوؒ! اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے واسطے صاحبِ وصال کا راز کسی کو مت بتانا۔

پس ایسی دعوت اُس شخص کے علاوہ نہ کوئی جانتا اور نہ پڑھتا ہے جو ہر رات اور ہر گھڑی و ہر لمحہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس میں حاضر رہتا ہو۔ یہ مراتب منتہی اہلِ دعوت کے ہیں جو عامل کامل اور صاحبِ دیدار ہو جیسا کہ حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نظر گناہ پر تھی جبکہ خضر علیہ السلام کی نظر راہِ صواب پر تھی۔ حضرت موسیٰؑ اور حضرت خضر ؑ کا یہ واقعہ سورۃ الکہف میں درج ہوا ہے:
قَالَ ھٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِکَ    (سورۃ الکہف۔78)
ترجمہ: (حضرت خضرؑ نے) فرمایا یہ میرے اور آپ کے درمیان جدائی (کا وقت) ہے۔

(جاری ہے)

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں