698

سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ  بحیثیت مجددِ دین–Ghous-ul-Azam Bahaseyat Mojaddid Deen

سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ 
بحیثیت مجددِ دین

تحریر: فائزہ گلزار سروری قادری۔ لاہور

حدیثِ مبارکہ ہے :
ترجمہ: ’’بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کے لیے ہر صدی کے آخر پر ایسے بندے (مجدد) بھیجتا رہے گا جو اس کے لیے دین کی تجدید کریں گے۔‘‘
مجدد کون ہوتا ہے؟ ہم کس ہستی کو مجدد کے لقب سے پکارسکتے ہیں؟ کئی نامور ہستیوں نے اس حدیث مبارکہ کی شرح کرتے ہوئے مجدد کی صفات بیان کی ہیں۔ ملاعلی قاری ؒ نے اس حدیث مبارکہ کی شرح کرتے ہوئے لکھاہے کہ

اَیْ یُبَیَّنُ السُّنَّۃِ مِنَ الْبِدْعَۃِ وَیُکَثِّرُ الْعِلْمَ وَیُعِزُّ اَھْلِہِ وَیَقْمَعَ الْبِدْعَۃِ وَ یَکْسِرُ اَھْلِھَا۔

ترجمہ: ’’یعنی مجدد سنت کو بدعت سے ممتاز کرے گا،علم کو کثرت سے شائع کرے گا اور اہلِ علم کی عزت بڑھائے گا۔ بدعت کا قلع قمع کرے گا اور اہلِ بدعت کا زور توڑ دے گا۔‘‘
مولانا عبدالحئی رحمتہ اللہ علیہ نے مجموعتہ الفتاویٰ میں فرمایا:
ترجمہ: ’’مجدد کی علامات و شرائط یہ ہیں کہ وہ ظاہری و باطنی علوم کا عالم ہوگا۔ اس کی تدریس و تالیف اور وعظ و نصیحت سے عام نفع ہوگا۔ وہ سنتوں کو زندہ کرنے اور بدعتوں کو مٹانے میں سرگرم ہوگا۔‘‘
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا فرمانِ عالی شان ہے:
’’مجدد وہ ہوتا ہے جسے اللہ علمِ لدنیّ عطا کرے اور وہ اسی علم کے مطابق دین کی تجدید کرتا ہے ۔اللہ اس کی بات خود لوگوں سے منوا لیتا ہے۔ وہ جدید دور کے مطابق اسلام کو زندہ کرتا ہے اور ایسا نظام متعارف کراتا ہے جو تمام دنیا کے انسانوں کے لیے کشش رکھتا ہو ۔‘‘
مجدد کی تمام تعریفوں کی رو سے مجدد ایک صدی کے آخر میں اور دوسری صدی کی ابتدا میں ظاہر ہوکر اپنے علمی و فکری کارناموں سے دینِ اسلام کو نئی تازگی عطا کرتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جو بدعات دین میں رواج پا چکی ہوتی ہیں علمِ لدنیّ کی روشنی میں اُن کا کمال جرأت اور بہادری سے قلع قمع کرتا ہے۔سب سے بڑی بات مجدد کو ’کرامت‘ کی تائید حاصل ہوتی ہے۔
اصطلاحِ شریعت میں خلافِ عادت واقعہ کے ظہور کو ’کرامت‘ کہتے ہیں۔ جب خلافِ عادت واقعہ کا ظہورجب انبیا کرام علیہ السلام سے ہوتا ہے تو اُسے’ معجزہ ‘کہتے ہیں۔
کرامت دراصل ایک روحانی قوت ہے جو عطائے الٰہی ہوتی ہے اور اللہ پاک صرف اپنے پاک اور خاص طور پر چنے ہوئے بندوں کو یہ قوت عطا فرماتا ہے۔ کرامت دو قسم کی ہوتی ہے:
۱۔ مادی یا ظاہری کرامت
۲۔ روحانی یا باطنی کرامت۔ اسے اصطلاحِ فقر میں روحانی مشاہدہ بھی کہتے ہیں۔
مادی یا ظاہری کرامت عوام الناس کے لیے ہوتی ہے کیونکہ ظاہر بین ظاہری کرامت کو مانتے ہیں۔روحانی‘ باطنی کرامت یا باطنی مشاہدہ خواص کے لیے ہوتا ہے اور اس کرامت کو خواص ہی جانتے ہیں۔
چونکہ ظاہری کرامت تو کافر جوگیوں اور مشرکوں سے بھی ظاہر ہوجاتی ہیں لہٰذا مجدد کے لیے باطنی کرامت کا حامل ہونا بہت ضروری ہے۔ حقیقت الحق، نورِ مطلق، مشہودعلی الحق، غوث الاعظم، سلطان الفقر، سیّد الکونین حضرت سیّد محی الدین عبدالقادر جیلانی محبوبِ سبحانی ؓ کی ذاتِ بابرکات و اعلیٰ صفات کو جب ہم بحیثیت مجددِ دین کے پرکھتے ہیں تو آپؓ میں مجددِ دین کے ظاہری وباطنی اوصاف بدرجہ اُتم موجود ہیں، نہ صرف موجود ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ان اوصاف کو کمال آپؓ ہی نے عطا فرمایا تو بے جا نہ ہو گا۔
488ھ میں جب سیّدنا غوث الاعظمرضی اللہ عنہٗ جیلان سے بغداد تشریف لائے تو دنیا ئے اسلام طرح طرح کے فتنوں کی آماجگاہ بنی ہوئی تھی ۔ ایک طرف فتنہ خلقِ قرآن ،اعتزال اور باطنیت کی تحریکیں مسلمانو ں کیلئے خطرۂ ایمان بنی ہوئی تھیں اور دوسری طرف علما اور نام نہاد صوفی لوگوں کے دین وایمان پر ڈاکے ڈال رہے تھے۔ مرکزِ اسلام بغداد میں بدکاری ‘ فسق‘ ریاکاری اور منافقت کا بازار گرم تھا۔ خلافتِ بغداد دن بدن زوال پذیر تھی۔ سلجوقی آپس میں لڑ رہے تھے ۔ جس سلطان کی طاقت بڑھ جاتی بغداد میں اسی کے نام کا خطبہ پڑھا جاتا ۔ عباسی خلیفہ دم نہ مار سکتا تھا ۔ باطنیہ تحریک کے پیروؤں نے ملک میں اودھم مچا رکھا تھا ۔ کسی اہلِ حق کی جان وعزت محفوظ نہیں تھی ۔
جب حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ نے496ھ میں علوم کی تکمیل کی تو باطینوں کا فتنہ عروج پر تھا یہاں تک کہ حجاج کے قافلے بھی ان کی ستم رانیوں سے محفوظ نہیں تھے۔ دوسری طرف پہلی صلیبی جنگ کا آغاز ہوچکا تھا اور تمام مسیحی دنیا کی متحدہ قوت نے عالمِ اسلام پر یلغار کر دی تھی۔ تکمیلِ علوم کے بعد آپ رضی اللہ عنہٗ نے علائقِ دنیوی سے قطع تعلق کرلیا اور521ھ تک مجاہدات وریاضات میں مشغول رہے۔ عام لوگوں کا اخلاقی انحطاط انتہا کو پہنچ چکا تھا اور جو فتنے 488ھ میں چنگاری تھے وہ اب شعلہ بن چکے تھے ۔ یہی وقت تھا جب سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ صلاح وتقویٰ سے آراستہ ‘ مزاجِ شریعت سے آشنا اور کتاب وسنت کے علوم سے مسلح ہو کر میدانِ جہاد میں اترے اور مجالسِ تلقین و ارشاد اور اجتماعاتِ صلاح وہدایت کے ذریعے باطل کیخلاف جنگ کا آغاز کردیا۔
مسندِ تلقین و ارشاد پر جلوہ افروز ہونے سے پہلے16 شوال 521ھ ہفتہ کے دن دوپہر کے وقت آپ نے خواب میں دیکھا کہ سرورِکونین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں :
’’ اے عبدالقادرؓ! تم لوگوں کو گمراہی سے بچانے کیلئے وعظ ونصیحت کیوں نہیں کرتے ؟‘‘
آپ رضی اللہ عنہٗ نے عرض کیا ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! میں ایک عجمی ہوں۔ عرب کے فصحا کے سامنے کیسے بولوں ۔ ‘‘
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا! ’’اپنا منہ کھولو ۔‘‘
آپ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کی تعمیل کی۔ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنا لعابِ دہن سات بار آپ رضی اللہ عنہٗ کے منہ میں ڈالا اورپھر حکم فرمایا:
’’جاؤ قوم کو وعظ ونصیحت کرو اور ان کو اللہ کے راستے کی طرف بلاؤ۔ ‘‘
خواب سے بیدار ہو کر آپ رضی اللہ عنہٗنے ظہر کی نماز پڑھی اور وعظ کیلئے بیٹھ گئے ۔ اس وقت بہت سے لوگ آپ رضی اللہ عنہٗ کے گرد جمع ہو گئے۔ آپ کچھ جھجکے، یکایک کشفی حالت طاری ہوئی ۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے دیکھا کہ بابِ فقر سیّدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ آپ رضی اللہ عنہٗ کے سامنے کھڑے ہیں اور فرما رہے ہیں ’’وعظ شروع کیوں نہیں کرتے ؟‘‘
آپ نے عرض کیا ’’ ابا جان میں گھبرا گیا ہوں ۔‘‘
شیرِ خدا رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا ’’ اپنا منہ کھولو۔ ‘‘
آپ رضی اللہ عنہٗنے اپنا منہ کھولا تو حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے اپنا لعابِ دہن چھ بار آپ کے منہ میں ڈالا ۔
آپ رضی اللہ عنہٗنے عرض کیا ’’یا حضرت! آپ نے سات مرتبہ اپنے لعابِ دہن سے مجھے کیوں نہیں مشرف فرمایا ؟‘‘
شیرِ خدا رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا ’’یہ ہادی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا پاسِ ادب ہے۔ ‘‘
یہ فر ما کر حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ تشریف لے گئے اور آپ رضی اللہ عنہٗ نے وعظ کا آغاز کردیا ۔ لوگ آپ رضی اللہ عنہٗ کی فصاحت وبلاغت دیکھ کر دنگ رہ گئے اور بڑے بڑے فصحا کی زبانیں گنگ ہوگئیں۔
آپ رضی اللہ عنہٗ تیرہ مختلف علوم میں درس پڑھایا کرتے تھے۔ دن کے ایک حصے میں تفسیر القرآن ، حدیث، اصول و نحو وغیرہ کی تعلیم دیتے تھے اور ظہر کے بعد تجوید کی تعلیم ہوتی، اسی دوران فتویٰ نویسی بھی جاری رہتی تھی۔چھٹی صدی ہجری کے آغاز میں تلقین و ارشاد اور احوال کی اصلاح میں جو انقلاب آپؓ نے پیدا فرمایا اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔آپؓ کی مجالسِ وعظ کے متعلق شیخ عبدالحق محدّث دہلویؒ فرماتے ہیں:
’’حضرت کی مجلس کبھی یہود و نصاریٰ اور دوسرے غیر مسلموں سے جو مشرف بہ اسلام ہوتے اور ڈاکوؤں‘ بد کرداروں‘ بدعتیوں اور دوسرے بد مذہبوں سے جو دستِ مبارک پر توبہ قبول کرتے‘ خالی نہ ہوتی۔‘‘
حاضرین کی تعداد بعض اوقات ستر ستر ہزار تک پہنچ جاتی تھی۔ اتنے بڑے اجتماع میں بھی انتہائی سکون اور وقار ہوتا۔سارے لوگ ہمہ تن متوجہ اور دم بخود ہوتے۔ اکثر روتے روتے بیہوش ہو جاتے۔جاہ و جلال کا یہ عالم تھا کہ نہ کوئی آد می کسی سے سرگوشی کرتا، نہ کوئی تھوکنے کے لیے اٹھتا،نہ کوئی کھانستا۔ آپؓ وعظ قدرے سرعت سے فرماتے تھے کیونکہ الہاماتِ ربانی کی بے پناہ آمد ہوتی تھی ۔ اس دور کے اکثر نامور مشائخ آپ رضی اللہ عنہٗ کی مجالسِ وعظ میں شریک ہوتے تھے۔ مجالسِ وعظ میں بکثرت کرامات آپ رضی اللہ عنہٗ سے ظاہر ہوئیں۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کا وعظ دلوں پر بجلی کا اثر کرتا تھا۔ ان میں بیک وقت شوکت وعظمت بھی تھی اور دلآویزی اور حلاوت بھی ۔ آپؓ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نائبِ خاص، عارفِ کامل مکمل جامع نور الہدیٰ تھے اس لئے ہر وعظ سامعین کے حالات وضروریات کے مطابق ہوتا تھا ۔ لوگ جب بغیر پوچھے اپنے شبہات اور قلبی امراض کا جواب پاتے تھے تو ان کو روحانی سکون حاصل ہوجاتا تھا ۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کے مواعظِ حسنہ کے الفاظ آج بھی دلوں میں حرارت پیدا کردیتے ہیں اور ان میں بے مثال تازگی اور زندگی محسوس ہوتی ہے۔ اپنے وعظ میں مطلق کسی کی رو رعایت نہیں رکھتے تھے اور جو بات حق ہوتی برملا کہہ دیتے خواہ اس کی زد کسی بڑے سے بڑے آدمی پر پڑ رہی ہوتی۔ آپ کی اسی بے باکی اور اعلائے کلمتہ الحق میں بے مثال جرأت کی وجہ سے آپ کے مواعظ ایسی شمشیر براں بن گئے تھے جو معصیت و طغیان کے جھاڑ جھنکار کو ایک ہی وار میں قطع کردے۔آپؓ فرماتے تھے کہ لوگوں کے دلوں پر میل جم گیا ہے۔جب تک اسے زور سے رگڑا نہیں جائے گا‘ دور نہ ہوگا‘ میری سخت کلامی انشاء اللہ ان کے لئے آبِ حیات ثابت ہوگی۔
آپؓ کی ظاہری و باطنی کرامات کو احاطۂ تحریر میں لانا ممکن نہیں کیونکہ اس کے لیے دفاتر در دفاتر درکار ہیں اور ان پر اب تک بے شمار کتب شائع ہو چکی ہیں۔قارئین کے لیے صرف چند کا تذکرہ کیا جا رہا ہے:
سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗکی باطنی کرامات کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* ’’عارف باللہ مظہرِ متبرکاتِ قدرتِ سبحانی، محبوبِ ربانی پیر دستگیر حضرت شاہ عبدالقادر جیلانی قدس سرہُ العزیز دورانِ حیات ہر روز پانچ ہزار مریدوں اور طالبوں کو اس شان سے بامراد فرماتے رہے کہ تین ہزار کو مشاہدہ نورِ واحدانیت اور معرفت ’’ اِلَّا اللّٰہ‘‘ میں غرق کرکے ’’اِذَاتَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَاللّٰہُ‘‘ (جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے وہیں اللہ ہوتا ہے۔ مقام فنا فی اللہ بقاباللہ) کے مرتبے پر پہنچاتے رہے اور دو ہزار کو مجلسِ محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی حضوری سے مشرف فرماتے رہے۔ (شمس العارفین)

* سیّدنا غوث ا لاعظم رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں:اِنَّ یَدِیْ عَلٰی مُرِیدِیْ کَالسَّمآءِ عَلَی الْاَرْضِ بیشک میرا ہاتھ میرے مرید کے اوپر اس طرح سایہ فگن ہے جیسے کہ آسمان زمین کے اوپر۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں اِنَّ یَدِیْ عَلٰی مُرِیدِیْ کَالسَّمآئِ عَلَی الْاَرْضِ یعنی اگر میرا مریدطاقتور نہیں تو کوئی بات نہیں میں تو اس کا آقا طاقت والا ہوں۔

دوسری جگہ آپ رضی اللہ عنہٗ ارشاد فرماتے ہیں اگر میرا مرید میرا نام لیوا مشرق میں ہو اور میں مغرب میں ہوں اور اس کا ستر کھل جائے تو میں اس کی سترپوشی اپنے ہی مقام سے بیٹھے بیٹھے کردوں گا اور تاقیامت میرے سلسلہ والے اگر ٹھوکر کھا کر گرنے لگیں تو میں انہیں سنبھالتا رہوں گا اور سہارا دیتا رہوں گا۔
* حضرت عبداللہ زیال ؒ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رات کے وقت سیّدنا غوث ا لاعظم رضی اللہ عنہٗ کے مدرسہ میں کھڑا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہٗ اندر سے دستِ مبارک میں ایک عصا لئے ہوئے باہر تشریف لائے معاً میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ کاش آپ رضی اللہ عنہٗ اس عصا کے ذریعہ کوئی کرامت دکھاتے۔ یہ خیال میرے دل میں آتے ہی آپ رضی اللہ عنہٗ نے عصا کو زمین میں نصب فرما دیا۔ بس وہ مشعل کی طرح روشن ہوگیا اور کافی دیر تک روشن رہا جب آپ رضی اللہ عنہٗ نے اسے زمین سے اکھیڑا تو پھر اپنی اصلی حالت میں آگیا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے ارشاد فرمایا’’ اے عبداللہ تم یہی چاہتے تھے‘‘؟
* سیّدنا غوث ا لاعظم رضی اللہ عنہٗ ارشاد فرمایا کرتے کہ تمہارا ظاہر و باطن میرے سامنے آئینہ ہے اگر میری زبان پر شریعت کی روک نہ ہوتی تو میں بتلاتا کہ تم کیا کھاتے ہو کیا پیتے ہو اور کیا جمع کرتے ہو۔
* حضرت عمر بزازؒ فرماتے ہیں کہ میں پندرہ جمادی الآخر 556ھ کو جمعہ کے دن سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے ساتھ جامع مسجد جا رہا تھاراستہ میں کسی شخص نے آپ رضی اللہ عنہٗ کو سلام نہ کیا میں نے حیرت و استعجاب میں ڈوب کر اپنے دل میں کہا کہ ہر جمعہ کو تو خلائق کا اتنا زبردست اژدھام ہوتا تھا کہ بدِ قت تمام ہم مسجد تک پہنچتے تھے نہیں معلوم آج کیا ماجرا ہے کہ کوئی آپ کو سلام تک نہیں کرتا۔ پورے طور پر ابھی یہ بات میرے دل میں آنے بھی نہ پائی تھی کہ آپ رضی اللہ عنہٗ نے تبسم فرماتے ہوئے میری جانب دیکھا اس کے ساتھ ہی اس کثرت سے لوگ آپ رضی اللہ عنہٗ کی دست بوسی کو ٹوٹ پڑے کہ میرے اور آپ رضی اللہ عنہٗ کے درمیان حائل ہوگئے اور اسی ہنگامہ میں‘ میں آپ رضی اللہ عنہٗ سے دور ہو گیا۔ میں اپنے دل میں سوچنے لگا کہ اپنے لئے تو اس وقت سے پہلا ہی حال اچھا تھا کہ دولتِ قرب حاصل تھی۔
یہ خیال میرے دل میں آتے ہی آپ رضی اللہ عنہٗ نے پھر تبسم فرماتے ہوئے میری جانب دیکھا اور ارشاد فرمایا اے عمر! تم ہی نے تو اس کی خواہش کی تھی اَوْمَاعَلِمْتَ اَنَّ قُلُوْبَ النَّاسِ بَیدِیْ اِنْ شِئْتُ صَرَّفْتَھَا عَنِّیْ وَ اِنْ شِئْتُ اَقْبَلْتُ بِھَا اِلَّی۔کیا تم کو معلوم نہیں ہے کہ لوگوں کے دل میرے ہاتھ میں ہیں اگر میں چاہوں تو اسے اپنی طرف سے پھیردوں چاہوں تواپنی طرف پھیر لوں۔

مندرجہ بالا تحریر سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سیّدنا غوث الاعظمؓ مجددِ وقت تھے جنہوں نے تاریکیوں میں ڈوبے زمانے میں آکر دین کی روح کو تازہ کیا اور اپنی ظاہری و باطنی کرامات سے لوگوں کے دلوں کو حکم الٰہی سے منور کیا۔
جب ظلم، نا انصافی، بے راہ روی اور اخلاقی برائیاں حد سے بڑھنے لگتی ہیں، دین پر عمل کرنا مذاق بن جاتا ہے، دنیا کی محبت اللہ کی محبت پر غالب آجاتی ہے توبہت مہربان اور شفیق ربّ اپنے بندوں کے درمیان ان ہی میں سے ایک ہستی کو تمام صفات سے آراستہ کرکے ان کی اصلاح کے لیے بھیجتا رہتا ہے تاکہ بندوں کے دلوں میں جو تھوڑی سی ایمان کی رمق باقی ہے اسے وہ پاکیزہ و نورانی ہستی اپنی نگاہِ کامل سے جِلا بخشے اور دلوں کو نورِ ایمانی سے منور کردے۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ اللہ ربّ العزت نے ہمیں ایک ایسی ہستی کی غلامی عطا فرمائی جنہیں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے شبیہِ غوث الاعظم کا لقب عطا ہوا ہے اور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس جو موجودہ دور میں سلسلہ سروری قادری کے شیخِ کامل ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی باطنی تربیت سیّدنا غوث الاعظمؓ نے فرمائی۔ آپ مدظلہ الاقدس کی حیاتِ طیبہ کا ایک ایک لمحہ، جسے اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھنے کے انتظامات خود فرمائے، اس بات کی دلیل ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی کامل شبیہ کہلوانے کے حق دار ہیں۔ دینِ اسلام کو اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ کرنے کے لیے کی گئی آپ مدظلہ الاقدس کی کاوشوں کا جو کوئی بھی تعصب کی عینک اتار کر تجزیہ کرتا ہے وہ بے اختیار پکار اُٹھتا ہے کہ بلا شبہ آپ مجددِ دورِ حاضر اور امامِ مبین ہیں۔
استفادہ کتب:
سلطان العاشقین
حیات و تعلیمات سیدنا غوث الاعظمؓ
خلاصتہ المفاخر

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں