وصالِ الٰہی کا راستہ Visaal-e-Elahi ka Raasta


4.3/5 - (27 votes)

وصالِ الٰہی کا راستہ Visaal-e-Elahi ka Raasta

تحریر: سلطان محمد احسن علی سروری قادری

سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ اپنی تصنیف مبارکہ الرسالۃ الغوثیہ میں تحریرفرماتے ہیں:
قَالَ لِیْ یَا غَوْثَ الْاَعْظَمْ جَعَلْتُ فِی النَّفْسِ طَرِیْقَ الزَّاھِدِیْنَ وَ جَعَلْتُ فِی الْقَلْبِ طَرِیْقَ الْعَارِفِیْنَ وَ جَعَلْتُ فِی الرُّوْحِ طَرِیْقِ الْوَاقِفِیْنَ وَ جَعَلْتُ النَّفْسِیْ مَحَلَّ الْاَحْرَارِ وَ قُلُوْبُ الْاَحْرَارِ قُبُوْرُ الْاَسْرَارِ 
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا ’’اے غوث الاعظمؓ! میں نے زاہدین کے لیے نفس میں راستہ بنایا، عارفین کے لیے قلب میں راستہ بنایا، واقفین کے لیے روح میں راستہ بنایا اور خود کو احرار کا محل بنایا اور احرار کے قلوب اسرار کے مدفن ہیں۔‘‘

شرح: اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہر انسان کو مختلف بنایا اسی طرح ہر انسان کی طلب بھی مختلف ہوتی ہے۔ کوئی دنیاوی شان و شوکت کا طلبگار ہوتا ہے تو کوئی عاقبت میں اچھے مقام و مرتبے کا خواہشمند اور کوئی دنیا اور آخرت دونوں میں اللہ تعالیٰ کے قرب کا خواہاں ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنی طلب اور چاہت کے مطابق عمل کرتا ہے چاہے وہ دنیا کے لیے ہو یا اللہ کے لیے۔تاہم اللہ تعالیٰ کے قرب کے لیے بھی ہر انسان کی طلب اور چاہت مختلف ہوتی ہے۔ کسی کے اندر جذبہ اور شوق زیادہ ہوتا ہے اور کسی کے اندر کم۔ کوئی ملکوت پر پہنچ کر ہی رک جاتا ہے اور کوئی جبروت پر پہنچ کر بھی بیقرار رہتا ہے اور ہر لمحہھَلْ مِنْ مَّزِیْدِ  یعنی کیا مزید کچھ ہے، پکارتا رہتا ہے اور وحدت تک پہنچ کر جب تک وصال حاصل نہیں کر لیتا تب تک اسے سکون نہیں ملتا۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اَلسَّکُوْتُ حَرَامٌ عَلٰی قُلُوْبِ الْاَوْلِیَائِ 
ترجمہ: اولیا کے قلوب پر سکوت حرام ہے۔

یعنی وہ کسی بھی مقام پر نہیں رکتے بلکہ وہ آگے ہی آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سفر ِمعراج پر تشریف لے گئے تو آپ کو تمام کائنات کا مشاہدہ کروایا گیا، جنت و دوزخ دکھائی گئی اور ملکوت و جبروت سے گزارا گیا، عرش کا دیدار کیا اور اس کی گفتگو سنی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کسی جانب دھیان نہیں دیا بلکہ اپنی منزل یعنی حضورِ حق کی طرف متوجہ رہے اور آگے بڑھتے رہے۔ اسی کیفیت کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے۔
مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَ مَا غَوٰی     (سورۃ النجم۔2)
ترجمہ: تمہارے صاحب نہ راہ بھولے نہ راہ سے بھٹکے۔ 

اس سے مراد یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہر شے کا مشاہدہ ضرور کیا لیکن کسی کے ساتھ مشغول نہیں ہوئے بلکہ اپنی توجہ اور دھیان اللہ کی جانب ہی مبذول رکھا کیونکہ اس رات محب اور محبوب ایک دوسرے سے ملنے کے مشتاق تھے۔ 

ایک طالبِ مولیٰ جب اللہ کی طرف سفر شروع کرتا ہے تو اپنی ہمت اور شوق کے مطابق ہی منزل پاتا ہے۔ کچھ محض ملکوت تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور وہاں مثالی اجسام کو دیکھنے میں اور لوحِ محفوظ کے مطالعہ میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ کچھ کی ہمت عالمِ جبروت تک پہنچنے میں ہی تمام ہو جاتی ہے اور بہت کم ہوتے ہیں جن کا جذبہ اور عشق پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہوتا ہے اور وہ کسی مقام و منزل پر رکے بغیر لاھوت لامکان میں پہنچ کر اللہ کی ذات سے مل جاتے ہیں۔ کچھ میں نفس کا غلبہ زیادہ ہوتا ہے اور کچھ کا آئینہ قلب مرشد کی صحبت کی بدولت صاف ہو چکا ہوتا ہے جبکہ بعض لوگ مزید روحانی ترقی پا کر اپنے حجابات دور کر چکے ہوتے ہیں۔ پس ہر شخص اپنی طلب اور شوق کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتا اور اس کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سیدّنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ سے فرمایا کہ زاہدوں کے لیے نفس میں راستہ ہے، عارفین کے لیے قلب میں اور واقفین کے لیے روح میں راستہ ہے۔ 

زاہد زہد کرنے والے کو کہتے ہیں اور زہد سے مراد ہے کسی شے سے الگ ہونا یا کسی شے سے بے رغبتی ہونا یا کسی شے کو ناپسند کرتے ہوئے اسے ترک کر دینا۔ اولیا کرام کے حالاتِ زندگی کا مطالعہ کریں تو ان کے زہد کے کثیر واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا طویل حصہ زہد و ریاضت میں گزارا۔ سالہا سال چلہ کشی کی، روزے رکھے، رات رات بھر جاگ کر عبادات کیں، فاقہ کشی کی، دنوں کیا بلکہ ہفتوں کھائے پئے بغیر گزارے، کہیں ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر رات بھر نماز ادا کرتے رہے تو کہیں کنوؤں میں الٹے لٹک کر وظائف پڑھتے رہے۔ ہر شے سے کنارہ کشی کرتے ہوئے خلوت اختیار کی اور مجردی کی زندگی گزاری۔

زہدجسم کے ساتھ کیا جاتا ہے اور زہد کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب نفس پر شہوات کا غلبہ ہو اور نفس سرکشی پر مائل ہو۔ پس نفس کے بے قابو گھوڑے کو قابو کرنے اور اسے اپنا مطیع و فرمانبردار بنانے کے لیے لوگ زہد و ریاضت کرتے تھے اور اس مقصد کی خاطر خلوت اختیار کرتے تھے اور ہر چیز سے منہ موڑ کر اور لاتعلقی اختیار کر کے جنگلوں اور بیابانوں کا رُخ کرتے تھے جہاں کثرتِ عبادت اور ورد وظائف اور چلہ کشی سے اور نفس کو اس کی خواہشات، شہوات اور لذات سے دور کر کے اپنا مطیع و فرمانبردار بناتے تھے۔ طویل ریاضت کے بعد نفس مطیع و فرمانبردار ہوتا تھا اور اس پر شہوات کا غلبہ کم یا بالکل ختم ہو جاتا تھا تب ان کو مکاشفات حاصل ہوتے تھے۔ زہد و ریاضت کرنے والے صرف ملکوت تک ہی پہنچ پاتے ہیں اس سے آگے ان کے لیے بڑھنا ناممکن ہے۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سیدّنا غوث الاعظمؓ سے فرمایا کہ نفس میں زاہدین کے لیے راستہ ہے۔ 

یحییٰ ابنِ معاذؒ فرماتے ہیں کہ نفس کے ساتھ ریاضت کی تلواروں سے لڑو اور ریاضت یہ ہے کہ آدمی کم کھائے، کم سوئے اور بقدرِ ضرورت بولے اور لوگوں کی ایذا پر صبر کرے۔ کم کھانے سے شہوت ختم ہو جاتی ہے، کم سونے سے ارادہ و نیت میں صفائی آتی ہے، کم بولنا آفتوں اور فتنوں سے بچنے کا سبب بنتا ہے اور لوگوں کی اذیتوں پر صبر کرنے سے منزلِ مقصود تک پہنچنے میں کامیابی ملتی ہے۔ آدمی کے لیے سب سے دشوار گزار امر اذیت کے وقت تحمل اور مصیبت کے وقت صبر ہے۔ بہرحال جب شہوتیں جنم لیں یا لغو گوئی کی لذت اور حلاوت جوش میں آئے تو اس وقت کم خوابی کی میان سے کم خوری کی تلوار نکالے اور خاموشی کے ہاتھوں سے وہ کاری ضرب لگائے کہ نفس اپنے مظالم سے باز آجائے اور اس کے فتنے سرد پڑ جائیں اور دل شہوت کی آلائشوں سے پاک وصاف ہو جائے۔ اگر نفس کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا تو وہ پاک و صاف، منور اور ہلکا پھلکا ہو جائے گا، خیر کے میدان اس کے راستے ہوں گے، طاعات کی وادیاں اس کی گزرگاہیں ہوں گی اور وہ ان میدانوں اور وادیوں میں اس طرح دوڑے گا جس طرح گھوڑا ہموار زمین پر سرپٹ دوڑتا ہے یا اس طرح محو خرام ہوگا جس طرح بادشاہ چمن کی سیر کرتا ہے۔ (احیاء العلوم جلد سوم)

یحییٰ بن معاذ رازیؒ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ انسان کے تین دشمن ہیں دنیا، شیطان اور نفس۔ دنیا سے زہد کے ذریعے بچو، شیطان پر اس کی مخالفت کے ذریعے غلبہ کرو اور نفس کو شہوتیں ترک کر کے مغلوب کرو۔  (احیاء العلوم جلد سوم)

عارف اسے کہتے ہیں جو عرفان رکھنے والا ہویعنی اللہ تعالیٰ کی پہچان اور معرفت رکھنے والا۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
وہ انسان یا طالب جو دیدارِ الٰہی میں غرق ہو اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری اسے حاصل ہو اور تمام عبادات اللہ تعالیٰ کو دیکھ کر کرتا ہو وہ عارف ہوتا ہے۔ (شمس الفقرا)

عارفین کے لیے اللہ تعالیٰ کی ذات تک پہنچنے کا راستہ قلب میں ہے۔ قلب کے متعلق وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے کہ قلب انسان کا باطنی وجود ہے یا اسے حقیقی انسان بھی کہا جا سکتا ہے۔ اسی قلب کے آئینہ میں انسان اللہ تعالیٰ کی ذات کے جلوے دیکھ سکتا ہے۔ لیکن قلب میں حق تعالیٰ کی ذات کے جلوے دیکھنے کے لیے اس کا باصفا اور پاکیزہ ہونا بہت ضروری ہے جو کہ مرشد کامل اکمل کی راہنمائی اور صحبت سے ہی ممکن ہے۔ یعنی جو مرشد کامل اکمل کی صحبت سے مستفید ہو کر اپنے نفس کے غلبہ کو توڑ چکا ہو اور تزکیہ نفس کے بعد قلب کے تصفیہ کے مرحلے میں ہو اور اللہ تعالیٰ کی ذات کا عرفان رکھتا ہو وہی عارف ہے۔ جنہیں مرشد کامل کی صحبت میسر آ جائے انہیں نفس کو قابو و مطیع کرنے کے لیے جنگلوں میں جانے، الٹے لٹک کر چلے یا ریاضتیں کرنے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ مرشد کی پرُخلوص خدمت ہی ان کا مجاہدہ ہے اور مرشد اپنی نگاہ سے ہی ان کے نفس کا تزکیہ کرتا ہے۔ اس کے لیے اگلا مرحلہ اپنے قلب کے آئینہ کو شیشے کی مثل صیقل کر کے اس میں حق تعالیٰ کے جمال کے جلوے دیکھنا ہے۔ یعنی پہلے دیدار اور پھر قرب و وِصال۔ اسی کے متعلق حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

دل کر صیقل شیشے وانگوں باھوؒ، دور تھیون کل پردے ھوُ

یعنی اپنے قلب (دل) کو شیشے کی مثل صاف کرنے پر ہی تمام پردے اور حجابات دور ہوں گے جو قلب کے اوپر پڑے ہوئے ہیں اور طالبِ مولیٰ اور اللہ کے درمیان حائل ہیں۔ ان حجابات کے دور ہوتے ہی اللہ کی ذات نظر آ جائے گی۔ 

عارف کی رسائی عالمِ لاھوت تک ہوتی ہے لیکن اللہ کا دیدار جبروت کے آخری کنارے جو کہ لاھوت کی ابتدا ہے‘ سے بھی ممکن ہے جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَ ھُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰی۔ (سورۃ النجم۔7)
ترجمہ: اور وہ (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم شبِ معراج عالمِ مکاں کے) سب سے اونچے کنارے پر تھے۔ 

جبروت کا مطلب ہے پل یا جوڑنے والا۔ جبروت عالمِ خلق اور عالمِ امر کو جوڑنے والا ہے یعنی ان کے درمیان واقع ہے۔ اسی مقام پر سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ اس کے متعلق سیدّعبدالکریم بن ابراہیم الجیلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
سدرۃ المنتہیٰ اس وجود کی حد ہے جہاں مخلوق کے لیے سیر الی اللہ (اللہ تک سیر) کا سفر ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے آگے سوائے اس مرتبہ کے جو صرف حق تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے اور کوئی مرتبہ نہیں ہے۔ مخلوق کو وہاں قدم رکھنے کی کوئی مجال نہیں اور نہ ہی اس مقام سے آگے جانا مخلوق کے لیے ممکن کیونکہ مخلوق یہاں پس جاتی ہے اور مٹ جاتی ہے اور نیست و نابود ہو جاتی ہے وہاں اس کا کوئی وجود نہیں رہتا۔ جبرائیل ؑ کے قول میں اسی کی طرف اشارہ ہے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے انہوں نے عرض کیا تھا کہ اگر میں ایک بالشت بھی آگے بڑھوں گا تو جل جاؤں گا۔ (انسانِ کامل)

جبرائیل علیہ السلام اسی مقام سے پیغامِ وحی وصول کرتے تھے اور انبیا تک پہنچاتے تھے اور اسی مقام کے سب سے اونچے کنارے پر یعنی وہ انتہا جہاں سے عالمِ لاھوت کی حد شروع ہوتی ہے، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی۔ عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی۔ عِنْدَھَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰی۔ (سورۃ النجم۔ 13-15)
ترجمہ: اور بے شک انہوں نے اس (جلوۂ حق) کو دوسری مرتبہ (پھر) دیکھا۔ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔ اسی کے پاس جنتِ ماویٰ ہے۔ 

اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی ارشاد فرمایا:
رَأَیْتُ رَبِّیْ فیِْ قَلْبِیْ 
ترجمہ: میں نے اپنے قلب میں اپنے ربّ کو دیکھا۔ 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نہ صرف ظاہری آنکھوں سے شبِ معراج حق تعالیٰ کا دیدار کیا بلکہ باطنی طور پر قلب میں بھی دیکھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کے مشاہدہ میں مشغول رہتے تھے۔پس اللہ کی معرفت حاصل کرنے والا عارف طالب مرشد کامل اکمل کی صحبت سے مستفید ہو کر اپنے قلب کا تصفیہ کرواتا ہے اور اس قلب میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے جلوے دیکھتا ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سیدّنا غوث الاعظمؓ سے فرمایا کہ میں نے عارفین کے لیے قلب میں راستہ بنایا۔

جب عارف جبروت کی انتہاپر اللہ تعالیٰ کا دیدار کر لیتا ہے اور اپنے شوق اور عشق کے باعث ترقی کرتا ہوا عالمِ لاھوت تک رسائی حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب پا لیتا ہے تو اللہ کی ذات میں فنا کا سفر کرتا ہے۔ اسے عارف اللہ بھی کہتے ہیں۔ جس کے متعلق میرے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
عارف اللہ وہ طالب ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات میں فنا ہو کر اپنی ہستی ختم کر چکا ہو۔ یہ مقامِ فنا فی اللہ ہے۔  (شمس الفقرا)

فنا کے بعد بقا کا مقام آتا ہے۔ جس میں انسان اللہ تعالیٰ کی صفات سے متصف ہوتا ہے اور کامل انسان بن کر مسندِ تلقین و ارشاد پر فائز ہوتا ہے۔ اسے ہم واقف کہتے ہیں۔ دیدار میں دوری اور دوئی ہوتی ہے جیسے کسی کو دیکھ لینے سے اس کی ذات سے واقفیت مراد نہیں لی جا سکتی اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ذات کو دیکھ لینا اس کی ذات سے واقفیت کا ثبوت نہیں ہے۔ جو اللہ کی ذات میں فنا ہو کر بقا کا سفر شروع کرتا ہے وہی اللہ تعالیٰ کی ذات سے واقفیت حاصل کرتا ہے یعنی جس قدر بقا کا سفر طے ہوتا جائے گا اسی قدر اللہ کے اسرار سے آگاہی حاصل ہوتی جائے گی۔ عارف تو محض دیدار کی حد تک محدود ہوتا ہے لیکن واقف کی رسائی اسرارِ الٰہی تک ہوتی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جب سفرِمعراج میں جبروت سے آگے بڑھ کر حضورِ حق میں پہنچے اور اللہ کا مشاہدہ کیا تو اس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی۔لا فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی۔ج فَاَوْحٰٓی اِلٰی عَبْدِہٖ مَآ اَوْحٰی۔ مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی۔ (سورۃ النجم۔8-11)
ترجمہ: پھر وہ (ربّ العزت اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے) قریب ہوا اور پھر اور زیادہ قریب ہو گیا۔ پھر (حق تعالیٰ اور حبیبِ خدا میں) دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم۔  پس (قرب کی اس انتہا پر) اس نے اپنے بندے پر وحی فرمائی جو بھی وحی فرمائی۔ (حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے) دل نے اس کے خلاف نہیں جانا جو انہوں نے (اپنی آنکھوں سے) دیکھا۔ 

مندرجہ بالا آیت میں ’’وحی فرمائی جو بھی فرمائی‘‘ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنے ایسے اسرار سے مطلع فرمایا جو نہ عوام کے لیے ہیں نہ خواص کے لیے بلکہ صرف ان کے لیے جو مقامِ قرب تک پہنچے اور اللہ خود انہیں ان اسرار سے واقف فرمائے۔ اس فرمان سے یہ بھی مراد ہے کہ قرب و وِصال کے اس انتہائی مقام پر محب و محبوب میں راز و نیاز ہوئے اور اسرار سے آشنائی حاصل ہوئی بلکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
شبِ معراج مجھے اللہ تعالیٰ نے (پورا) قرآن بھی تعلیم کر دیا اور جو (بعد میں) جبرائیل ؑ مجھ پر قرآن لے کر نازل ہوتے تھے تو وہ مجھے قرآنِ مجید یاد دلاتے تھے اور مجھے وہ علم بھی دیا جس کی تبلیغ میرے سپرد کی گئی۔ (المواہب اللدنیہ ج 2 صفحہ 29)  

تاہم عالمِ وحدت میں یا عالمِ لاھوت میں اللہ کے اسرار سے آگاہی صرف روحِ قدسی کا ہی اعجاز ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سیدّنا غوث الاعظمؓ سے فرمایا کہ واقفین کے لیے روح میں راستہ بنایا۔ یعنی اللہ کی ذات اور اس کے اسرار سے واقفیت روح کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ناسوتی لباس میں قید روحِ حیوانی جب مرشد کامل اکمل کی صحبت اور فیض کی بدولت روحانی پرواز کرتی ہے تو پہلے روحِ حیوانی کے لباس سے باہر آتی ہے اور پھر روحِ نورانی اور روحِ سلطانی کے لباس کو بھی اتار دیتی ہے جس سے اس کے اندر روحِ قدسی ظاہر ہوتی ہے۔ روحِ قدسی پر کوئی حجاب نہیں ہوتا اس لیے نہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کا دیدار کرتی ہے بلکہ اس کے قرب میں اسرارِ الٰہیہ سے بھی واقف ہوتی ہے۔  

جس طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جبروت سے نکل کر لاھوت میں پہنچے اور پھر وحدت کے اس سمندر میں حق تعالیٰ سے انتہائی قریب ہو گئے۔ کتنا قریب ہو گئے اس کی کوئی حد مقرر نہیں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان فرمائی۔ اگر کہا جائے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ تعالیٰ کی ذات سے واصل ہو گئے تو بے جا نہ ہوگا۔ 

امام احمد رضا خان بریلویؒ اسی مقام کے متعلق فرماتے ہیں:

وہی ہے اوّل وہی ہے آخر وہی ہے ظاہر وہی ہے باطن
 اسی کے جلوے اسی سے ملنے اسی سے اس کی طرف گئے تھے

اللہ تعالیٰ نے سیدّنا غوث الاعظمؓ سے فرمایا کہ میں نے اپنی ذات کو احرار کا محل بنایا۔ ’احرار‘ حر کی جمع ہے جس کے معنی ہیں وہ شے جو ہر آلائش اور کدورت سے پاک ہو۔ پس احرار سے مراد وہ لوگ ہیں جو ہر طرح کی مادی آلائشات، نفسانی کدورتوں اور قلبی کثافتوں سے پاک ہو چکے ہوں اور ان کی نورانیت ان کی بشریت پر غالب آ چکی ہو۔ بندہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں فنا ہوتا ہی اس وقت ہے جب وہ غیر اللہ کی ہر آلائش سے پاک ہو چکا ہوتا ہے اور ایسا صرف لاھوت لامکان میں پہنچنے پر ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ کا خود کو احرار کا محل بنانے سے مراد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ وحدت تک رسائی حاصل کرنے والی پاکیزہ اور کامل ہستیوں میں خود جلوہ گر ہو جاتا ہے۔

میرے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
مرتبہ لاھوت وہ ہے جہاں تمام عالم نورِ محمدی میں چھپا ہوا تھا اور اظہار کے لیے بیقرار تھا۔ یہ مرتبہ لاھوت لامکان کا ہے اور یہ مرتبہ ہر آلائش، حدث، شہادت اور کدورتِ کون و کثافتِ مکان سے پاک ہے۔ یہ محض بحرِ انوارِ غیب اور دنیائے اسرارِ لطیف ہے۔ (شمس الفقرا)

روحِ قدسی کے اس مقام پر وحدت کے سوا کچھ نہیں اور نہ ہی غیر اللہ کسی چیز کی اس مقام تک رسائی ہے۔ اس مقام پر احرار اللہ تعالیٰ کے اسرار پر مطلع ہوتے ہیں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ احرار کے قلوب اسرار کے مدفن ہیں۔   

احرار سے مراد انسانِ کامل یا فنا فی اللہ بقا باللہ ہستیاں ہیں جن کے قلوب میں تمام علمِ الٰہی یعنی اللہ کے اسرار موجود ہوتے ہیں جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ کُلَّ شَیْئٍ اَحْصَیْنٰہُ  فِیْٓ اِمَامٍ مِّبِیْنٍ (سورۃ یٰسین۔12)
ترجمہ:اور ہم نے ہر شے کو جمع کر رکھا ہے امامِ مبین میں۔

وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ (سورۃ الانعام۔59)
ترجمہ: اور نہ کوئی تر شے ہے نہ خشک مگر (سب کچھ لکھ دیا گیا ہے) کتابِ مبین میں۔

کتابِ مبین اور امامِ مبین سے مراد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ مبارکہ ہے جو کہ انسانِ کامل ہیں۔ 

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کی تصنیف مبارکہ مرآۃ العارفین کی شرح میں مسز عنبرین مغیث سروری قادری بیان کرتی ہیں:
انسانِ کامل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام عین علمِ الٰہی ہیں۔ تمام کائنات کا علم ان کی ذات میں جمع ہے جس کا اظہار قرآن، احادیث اور احادیثِ قدسی میں ہوا۔ جو بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے چودہ سو سال قبل فرما دی سائنس اُسے آج ثابت کر رہی ہے۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بتائی ہوئی بہت سی باتوں کی تہہ تک سائنس اب بھی نہیں پہنچ پائی البتہ کوشش اور تگ و دو میں مصروف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس علمِ کامل موجود ہے جو آہستہ آہستہ کائنات میں ظاہر ہو رہا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اے محبوبؐ! ہم نے آپ کے لیے یہ کائنات مسخر کر دی۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہر زمانے کے انسانِ کامل کی صورت میں موجود اور حاضر ہیں اس لیے آج بھی زمانہ جس علم سے فیضیاب ہو رہا ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یعنی انسانِ کامل کا ہی عطا کردہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا قلب مبارک علمِ الٰہی کا محل (گھر) ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات ’قلم‘ ہے جس کے ذریعے یہ علم منتقل ہو رہا ہے۔ (ترجمہ و شرح مرآۃ العارفین)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود کو علم کا شہر اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو علم کے شہر کا دروازہ قرار دیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے:
اگر میں سورۃ فاتحہ کی شرح لکھوں تو ستر کتابوں میں لکھی جائے۔
ستر کا عدد محض کثرت کی طرف اشارہ ہے ورنہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے صرف بسم اللہ کی تفسیر بیان کرنے میں رات سے صبح کر دی تھی لیکن بسم اللہ کی تفسیر مکمل بیان نہ ہو سکی تھی۔
عام لوگ ان اسرار کے متحمل نہیں ہو سکتے اس لیے فقرا ان کو اپنے سینے میں ہی دفن رکھتے ہیں۔ 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
لَا تُکَلِّمُ کَلَامَ الْحِکْمَۃِ عِنْدَ الْجُھَالِ 
ترجمہ: جاہلوں کے سامنے کلامِ حکمت بیان نہ کرو۔ 

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے علم کے دو تھیلے سیکھے یعنی دو قسم کا علم حاصل کیا۔ ایک کو میں نے لوگوں میں پھیلا دیا اگر میں دوسرے علم کو پھیلاؤں تو میرا یہ نرخرا کاٹ دیا جائے۔ (صحیح بخاری ۔120)

 امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے احیاء العلوم (جلد4) میں اور شیخِ محی الدین ابنِ عربی رحمتہ اللہ علیہ نے فتوحاتِ مکیہ جلد سوم میں حضرت علی بن حسین (امام زین العابدین) رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا ایک فرمان درج کیا ہے: 
یارب   جوھر  علم   لو   ابوح   بہ لقیل   لی   انت   ممن   یعبد   الوثنا ولا   ستحل   رجال   مسلمون   دمی یرون   اقبح   ما   یاتو نہ   حسنا
ترجمہ: علم کے بہت سے جواہر اور راز ایسے ہیں جن کو اگر میں ظاہر کر دوں تو اے میرے ربّ! لوگ کہیں گے تم بت پرست ہو اور مسلمان میرے خون کو حلال سمجھیں گے اور میرے خون بہانے کے قبیح امر کو نیک خیال کریں گے۔

حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

عارف دی گل عارف جانے، کیا جانے نفسانی ھوُ

میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

خاصاں دی گل عاماں اگے نئیں مناسب کرنی
مٹھی کھیر پکا محمد کتیاں اگے دھرنی

 

اپنا تبصرہ بھیجیں