اسلامی اخوت Islami Ukhuvvat


4.8/5 - (20 votes)

اسلامی اخوت  Islami Ukhuvvat

محترمہ نورین سروری قادری۔سیالکوٹ

اخوّت عربی زبان کا لفظ ہے جو اَخُ سے نکلا ہے جس کے معنی بھائی چارہ کے ہیں۔ اسلامی اخوت سے مراد تمام روئے زمین کے مسلمانوں کا وہ تعلق ہے جس کی بنیاد محبت اور خیرخواہی پر استوار ہے۔ اس کا مطلب ہے ’’ ایک ہونا‘‘۔ تمام مسلمان عقیدے اور نظریے کی بنیاد پر ایک قوم ہیں۔ ملتِ اسلامیہ ایک اُمت ہے اور اس کے تمام افراد آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
بے شک( سب)اہلِ ایمان (آپس میں) بھائی ہیں۔(سورۃ الحجرت۔ 10)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ملتِ اسلامیہ کے اتحاد کی بہت تاکید فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اخوتِ اسلامی کے حوالے سے ارشاد فرمایا :
تمام مسلمان باہمی رحم، محبت اور شفقت میں ایک جسم کی مانند ہیں ، اگر اس کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو جسم کے سارے اعضا بخار اور بے خوابی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ (مسلم6586)

اخوت کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان ایک دوسرے کے لئے حقیقی بھائیوں جیسے پاکیزہ جذبات ہوں، محبت اور بھائی چارہ ہو، ایک دوسرے کے غمگسار، مددگار اور دکھ درد بانٹنے والے۔ اسلامی تعلیمات کی رُو سے کلمہ طیب  لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ  اُخوت کی بنیاد اور تمام مسلمانوں کے درمیان مشترک اکائی ہے۔یہ کلمہ اُخوت کی روح اور تمام اسلامی تعلیمات کا محور ہے۔ جب کوئی شخص کلمہ طیب پڑھتا ہے تو وہ اسلامی اُخوت اور برادری کا ایک رُکن بن جاتاہے۔ مسلمانوں کی اس محبت کی بنیاد بڑی پاکیزہ ہے جس کا تعلق نہ نفسانی اغراض سے ہے نہ دنیاوی مفاد سے ، نہ حسب و نسب سے ہے اور نہ ہی جاہ و اقتدار سے بلکہ خالصتاً اللہ پاک کی ذات سے تعلق پر ہے۔ اخوت اللہ پاک کی عطا کی ہوئی ایسی نعمت ہے جس کو اللہ پاک اپنے متقی اور مخلص بندوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم(ایک دوسرے کے) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی اور تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہو گئے۔(سورۃآل عمران۔103)

اخوت کے وسائل:

عبداللہ ناصح علوان اپنی کتاب ’’ اسلامی اخوت‘‘ میں اخوت کے وسائل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
جب آدمی اپنے بھائی سے محبت کرے تو اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کر رہا ہے:
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس تھا پھر ایک دوسرا آدمی اس کے پاس سے گزرا اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا کہ اے اللہ کے رسول میں اس آدمی سے محبت کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اس کو اپنی محبت کے بارے میں خبر دی ہے؟ اس نے کہا’’ نہیں‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’اس کو بتا دو۔‘‘ چنانچہ وہ اس کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میں تم سے اللہ کی خاطر محبت کرتا ہوں۔ اس آدمی نے کہا کہ اللہ تجھ سے محبت کرے جس کی خاطر تو نے مجھ سے محبت کی ہے۔(ابوداؤد5125)

جب ایک بھائی دوسرے بھائی سے ملے تو خندہ پیشانی سے ملے:
حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: کسی بھی نیکی کو تم حقیر نہ سمجھو اگرچہ وہ اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ہی کیوں نہ ہو۔ (مسلم6690)

جب ایک بھائی دوسرے بھائی سے ملے تو مصافحہ کرے:
حضرت برأؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں توجدا ہونے سے پہلے ان دونوں کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ (ابوداؤد5212)

اپنے بھائی کی زیارت وقتاً فوقتاً کیا کرے:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایاـ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’میری محبت ان دوا شخاص کے لئے واجب ہو جاتی ہے جو میری خاطر آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور میری خاطر ایک ساتھ بیٹھتے ہیں اور میری خاطر ایک دوسرے کو عطا کرتے ہیں۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح5011)

مختلف مواقع پر تحائف دینا:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’تم ایک دوسرے کو ہدیہ دیتے رہا کرو، تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے اور دشمنی جاتی رہے گی۔‘‘ (موطا امام مالک1643)
جب ایک بھائی دوسرے بھائی سے جدا ہو تواس سے حالتِ جدائی میں دعا کرتے رہنے کی درخواست کرے۔
حضرت عمرؓ بن خطاب سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عمرہ کرنے کے لئے اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا ’’ اے میرے بھائی! تم اپنی دعاؤں میں مجھے یاد رکھنا۔‘‘

حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک ایسا کلمہ کہا(یعنی بھائی) کہ جس سے مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر دنیاکی ساری چیزیں مجھے مل جاتیں تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔(ابو داؤد1498، ترمذی3562)

خلاصہ یہ ہے کہ جب مسلم اپنے کسی بھائی کو خبر دے گا کہ وہ اس سے محبت کرتاہے اور وہ جب یہ جانے گا وہ اس کے لئے اس کی غیر موجودگی میں دعائیں کرتا ہے اور جب اس سے خندہ پیشانی سے ملے اور مصافحہ کرے گا اور اس کو مبارکباد دے گا، اس کو ہدیہ پیش کرے گا، اس کی زیارت کرے گا اور اس کی ضرورتوں کا خیال رکھے گا تواخوت کی بنیاد مضبوط اور گہری ہو گی اور دونوں کے درمیان خیر خواہی کا جذبہ روزبروزپروان چڑھے گا۔اخوت کے ان وسائل کا استعمال کرنا ہر مسلمان کے لیے مستحب ہے لیکن جو دو آدمی آپس میں بھائی بننا چاہتے ہیں ان کے لیے واجب ہے تاکہ وہ دوسروں کے لیے نمونہ بن سکیں۔ (اسلامی اخوت)

اُخوت کی اہمیت

بہت سی قومیں اور مذاہب اپنے درمیان اُخوت کے دعویدار ہیں مگر ان کی اُخوت کا معیار مادی وخونی رشتے اور مال و دولت ہیں۔ وہاں روحانی مضبوطی اور اخلاقی اقدار مفقود ہیں۔ تاہم اسلام نے اپنی تعلیمات اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی شکل میں مسلمانوں میں ایک ایسی اُخوت قائم کی ہے جو خونی اور مادی رشتوں سے بڑھ کر مضبوط ترین ہے، اس کی جڑیں روحانی و اخلاقی اقدار سے منسلک ہونے کی وجہ سے گہری اور مضبوط ہیں۔ اس اُخوت میں مادی و خونی رشتوں اور مال و دولت کو بنیاد نہیں بنایاگیا بلکہ اس کا معیار خدا خوفی، توحید اور اطاعتِ رسولؐ ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے عرب کی غیر مہذب بکھری ہوئی قوم کو رشتہ اُخوت میں منسلک کر کے اُخوت و ایثار کی عملی مثال قائم کی اور تعلیم کے بندھن سے مضبوط کر کے ایک عظیم متحدہ قوم بنایا کہ جس کی عظمت، باہمی اُخوت اور اتحاد کے چرچے عالمَ میں پھیل گئے جس کا نام سنتے ہی اہلِ روم و ایران لرز جاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کی ایسی تربیت فرمائی کہ آپس میں لڑنے جھگڑنے والی قوم معلمِ اُخوت و اتحاد بن گئی، باہمی اُخوت و محبت کی وجہ سے تھوڑے ہی عرصے میں اس وقت کی سب سے مہذب اور منظم سلطنت قائم ہوگئی۔

اسلامی اخوت جیسی عظیم نعمت تمام تر امتیازات کو مٹا کر اہلِ ایمان کو یک جان بنانے کا نام ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپؐ کے ساتھی جب مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو تاریخِ انسانی کی مثالی مواخات قائم کی گئی اور مہاجرین و انصار کے درمیان ایسا مثالی رشتہ قائم کیا گیا جو رہتی دنیا تک کے لیے ایک عظیم مثال ہے۔ جو کل تک ایک دوسرے کی جانوں کے دشمن تھے وہ ایک دوسرے کی جان، مال، عزت و آبرو کے محافظ اور اسلام کے سپاہی بن کر ایک دوسرے پر جانیں نچھاور کرنے لگے۔

اسلامی اخوت و بھائی چارہ کا یہ عظیم الشان مظاہرہ تاریخ نے نہ پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ آئندہ دیکھ سکے گی۔ یہ اس جذبۂ اخوت کا ہی کمال تھا کہ ایک جنگ میں پانی کا پیالا کئی زخمی صحابیوںؓ کے درمیان گھوم پھر کر جب پہلے زخمی کے پاس لایا گیا تو وہ شدتِ پیاس اور زخموں کی تاب نہ لا کر شہید ہو چکا تھا۔ پانی کا پیالا دوسرے زخمی کے پاس لایا گیا تو وہ بھی شہید ہو چکا تھا۔ سب زخمی صحابہ کرامؓ نے اس طرح جامِ شہادت نوش فرما لیا۔ موت سب کے سامنے تھی، مگر ہر ایک نے اپنے دوسرے بھائی کے لیے پانی خود نہ پیا اور جامِ شہادت نوش کر لیا۔

اخوت کی فضیلت

رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے متعدد ارشادات میں اُخوتِ اسلامی کی اہمیت، افادیت اور عظمت کو اُجاگر کیا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے ملتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑتا ہے تو ان دونوں کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے تیز ہوا کے دن میں سوکھے ہوئے درخت سے پتے جھڑتے ہیں اور ان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔(السلسلۃ الصحیحہ23)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا کہ میرے جلال کی بنا پر میری خاطر آپس میں محبت کرنے والے کہاں ہیں؟آج میں ان کو اپنا سایہ دوں گا جبکہ میرے سائے کے علاوہ کوئی دوسرا سایہ نہیں ہے۔ (مسلم6548)

چنانچہ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے بے یارومددگار چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے۔۔۔۔کسی آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے۔ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون (جان)، مال اور اس کی عزت و آبرو حرام ہیں۔ (مسلم6541)

سنن ابو داؤد میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ِگرامی ہے:
ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے اورایک مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے۔ اس کے ضرر کو اس سے دفع کرتا ہے اوراس کی غیر موجودگی میں اس کی (عزت کی) حفاظت کرتا ہے۔ (ابوداؤد4918)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
جو شخص کسی مریض کی عیادت کرتا ہے تو آسمان سے ایک پکارنے والا (فرشتہ) پکارتا ہے کہ تم بہتر رہے اور تمہارا بھی چلنا بہتر ہے اور تم نے جنت میں اپنا گھر بنا لیا۔(ابن ماجہ1443)

اخوت کا رشتہ ایمان و تقویٰ کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور یہ چیز اس وقت حاصل ہو سکتی ہے جب مسلمان اپنے لیے صرف مومن اور صالح دوستوں کا انتخاب کرے اور اس کی دلیل قرآنِ کریم کی یہ آیتیں ہیں:
بے شک( سب)اہلِ ایمان (آپس میں)بھائی ہیں۔(سورۃ الحجرت۔ 10)
سارے دوست و احباب اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے متقین کے (انہی کی دوستی اور ولایت کام آئے گی)۔ (سورۃ الزخرف۔ 67)

ہر مسلمان دوسرے مسلمان کیلئے ایسا رویہ رکھے جیسا اپنے نسبی اور حقیقی بھائی سے کیونکہ حقیقی بھائیوں میں ایک ماں باپ ہونے کی وجہ سے تعلق ہے لیکن ہر مسلمان چونکہ ایک خدا کو ماننے والا ہے،ایک آدمؑ کی اولاد ہے اس لئے سب اہل ِ ایمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ جسمانی رشتے تو کئی وجوہات کی بنا پر کمزور ہو سکتے ہیں مگر ایمان اور اخوت کا رشتہ اللہ پاک کے واسطے سے جڑا ہے اس لئے یہ رشتہ کمزور نہیں ہو سکتا۔

حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا:
اے لوگو! میری بات سنو اور اچھی طرح جان لو!ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔وہ اس سے خیانت نہیں کرتا،اس سے جھوٹ نہیں بولتا اور نہ تکلیف کے وقت اسے تنہا چھوڑتا ہے۔ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی آبرو ، مال اور خون حرام ہے۔ (ترمذی1927)

اُخوت،محبت اور بھائی چارے کے جذبے سے قرونِ اُولیٰ کے مسلمان سرشار ہوئے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوئے اور کامیابی و کامرانی ان کا مقدر بنی۔ اُخوت اور بھائی چارے کی بنیاد اس امر پر قائم ہوتی ہے کہ انسان ایسی اعلیٰ اقدار پر ایمان رکھتا ہو جو اسے دوسرے انسان کے ساتھ حسنِ سلوک پر آمادہ کریں۔ ایسی اعلیٰ اقدار صرف دینِ اسلام میں ہی ملتی ہیں۔اسلام میں اخوت و بھائی چارے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:
کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (مسلم171)

ایمان کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آدمی جس بات کو اپنے لیے برا سمجھتا ہے دوسرے کے لیے بھی برا سمجھے۔ کیونکہ خود غرضی اہلِ ایمان کے شایانِ شان نہیں۔کامل مومن وہی ہے جو خودغرضی جیسی باطنی بیماری سے پاک ہو اور دوسرے مسلمان بھائیوں کا ہر طرح سے خیرخواہ ہو۔ چنانچہ ہر مسلمان کو دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کسی دوسرے مسلمان سے بحیثیت اس کے مسلمان ہونے کے کس قدر اخوت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ حضرت جریر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں:
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مجھ سے تین باتوں پر بیعت لی تھی: ایک یہ کہ نماز قائم کروں گا، دوسری یہ کہ زکوٰۃ دیتا رہوں گا اور تیسری یہ کہ ہر مسلمان کا خیرخواہ رہوں گا۔ (مسلم 199، ترمذی1925)

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا تم صرف مومن کو اپنا ساتھی بناؤ اور تمہارا کھانا متقی ہی کھائے۔ (ابو داؤد4832)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے لہٰذا تم دیکھو کہ تم کس کو اپنا دوست بنا رہے ہو۔ (ترمذی2378)

 اگر دوستی ایمان و تقویٰ کی بنیاد پر ہو تو اس کی جڑیں بے حد مضبوط اور پائیدار ہوتی ہیں۔اخوت اسلامی طریقے پر قائم ہونی چاہیے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اصحابؓ جب ایک دوسرے سے ملتے تو اس وقت تک جدا نہ ہوتے تھے جب تک ایک دوسرے کو سورۃ العصر پڑھ کر نہ سنا دیتے اور پھر ایک دوسرے کو سلام نہ کر لیتے یعنی وہ ایمان اور عملِ صالح اور حق و صبر کی تلقین کرنے پر عہد کرتے تھے کہ وہ اس دینِ حنیف پر قائم ہیں۔ لیکن آج ہم دین اسلام کی تعلیمات اور آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیارے ارشادات کے باوجود کیا کر رہے ہیں؟ کس طرف جارہے ہیں؟ آج نہ تو کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کی اذیت و تکلیف سے محفوظ ہے اور نہ ہی اس کا مال اور جان و آبرو محفوظ ہے۔ درحقیقت آج مسلمان، مسلمان ہی نہیں رہا۔ ہماری پہچان تو مسلمان ہے لیکن ہم مذہبی اور سیاسی بنیادوں پر تفرقہ بازی کا شکار ہوگئے ہیں۔ ہم گروہ در گروہ بٹتے چلے جا رہے ہیں۔ قومیت اور عصبیت کی آڑ میں تمام انسانی اورمعاشرتی قدروں کی دھجیاں اُڑا رہے ہیں، مسلمان ہونے پر فخر کرنے کے بجائے برادری کی حمایت اور نسل پرستی کو فخر و تفاخر کا باعث ٹھہرا رہے ہیں اور اس میں اتنا آگے بڑھ گئے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اس ارشاد کو بھی فراموش کردیاجسے سنن ابو داؤد میں حضرت جبیر بن مطعمؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو لوگوں کو عصبیت کی طرف بلائے اور وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں ہے جو عصبیت کی خاطر جنگ و جدال کرے اور وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں ہے جو عصبیت کی خاطر لڑتا ہوا مارا جائے۔‘‘ (ابوداؤد 5121)

ایک مسلمان کوچاہئے کہ وہ دوسرے مسلمان کو اپنا حقیقی بھائی سمجھے۔ ایک دوسرے کے لیے ہر طرح کی جانی و مالی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہئے اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہئے لیکن آج کے دور میں حقیقت اس کے برعکس ہے۔خاندان، قبیلے اور قوم کی تخصیص نے اولادِ آدم کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا ہے اور اختلافات کی بنا پر ایک خاندان دوسرے خاندان کا، ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ کا، ایک قوم دوسری قوم کی، ایک ملک دوسرے ملک کا دشمن بن گیا ہے۔حصولِ اقتدار کی دوڑ میں ایک دوسرے کو زیر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایک دوسرے کے دشمن بن کر اس بات کو فراموش کر چکے ہیں کہ سب ایک آدم کی اولاد ہیں۔ہر کوئی اپنی برتری ظاہر کرنے کے لیے دوسرے کے خون کا پیاسا ہے۔

دورِ حاضر میں بھی اگر اخوت کا وہ منظر پیدا ہو جائے جو عہدِ رسالتؐ میں صحابہ کرامؓ کے درمیان تھا تو کوئی وجہ نہیں کہ اہلِ اسلام اقوامِ عالم میں سربلند اور سرفراز نہ ہوں۔ ہم سب کو اللہ کی رسی کو مل کر مضبوطی سے تھامنا ہوگا، آپس کے بے جا اختلافات کو بھلانا ہوگا، بغض و عناد، کینہ وحسد اور نفرت وعداوت کے جذبات سے اپنے دل و دماغ کو پاک کرنا ہوگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ارشادات کو سینے سے لگانا ہوگا ورنہ دشمن کے ختم کرنے سے پہلے ہم خود لڑ مر کر ختم ہو جائیں گے۔ 

عہد حاضر کی علمی و صنعتی ترقی نے بنی نوع انسان کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج کا انسان کبھی دریاؤں کی بے پناہ گہرائیوں سے زندگی کے لئے دُرِّنایاب حاصل کر رہا ہے تو کبھی آسمانوں کی بلندی پر پہنچ کر چاند تاروں میں بسنے کی باتیں کرتا ہے لیکن ان تمام تر ترقیوں نے انسان کو ایمان و تقویٰ سے دور کر دیا ہے۔ ہر شخص اپنی ایک الگ دنیا بسائے ہوئے ہے۔ خود مسلمانوں کے پاس اتنی فرصت نہیں کہ وہ اپنی دنیا سے نکل کر اپنے اردگرد کے ہزاروں، لاکھوں تڑپتے سسکتے بے حال مسلمانوں کو ایک نظر دیکھ لیں، ان سے ہمدردی کا مظاہرہ کر سکیں، ان کے دکھ سکھ کومحسوس کریں اور حتی الامکان ان کی زندگیوں سے مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کریں۔

آج کا مسلمان جیسے جیسے مادی ترقی میں آگے بڑھ رہاہے اسکے اندر سے اخوت، بھائی چارہ، دوستی اور مہر ومحبت کے جذبات بھی آہستہ آہستہ ختم ہوتے جارہے ہیں۔ اسلامی اخوت تو دور کی بات ہے خود حقیقی بھائیوں میں اخوت مفقود ہے۔ آج دو حقیقی بھائیوں کے درمیان چند مادی چیزوں کے لئے اختلاف ہے۔ زمین، جائیداد، گھر اور دولت کی وجہ سے بڑھتے ہوئے یہ اختلافات کسی کی نظروں سے پوشیدہ نہیں۔ بعض اوقات یہ اختلافات اتنے شدید ہو جاتے ہیں کہ حقیقی بھائی بھی ایک دوسرے کو قتل کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ کہنے کو تو ہم مسلمان ہیں لیکن کہاں گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کاوہ درسِ اخوت جس نے کل کے ضدی عرب بدوؤں کو ایک اچھی زندگی کی نوید دی تھی ؟جس نے عربوں کے خون میں وہ حرارت پیدا کردی تھی کہ مٹھی بھر آدمیوں نے دیکھتے دیکھتے آدھی دنیا کو مسخر کر کے اپنے کملی والے تاج دار کے قدموں میں لاکر ڈال دیا تھا۔

آج اُمت کے اتحاد اور اخوت کے رشتہ کو مضبوط رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اللہ کی رَسی، یعنی اسم اللہ ذات، قرآنِ مجید اور اس کی تعلیمات کو مضبوطی سے پکڑیں۔ وہ تعلیمات جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے قول وعمل سے اُمت کے سامنے پیش فرمائی ہیں ان پر سچے دل سے ایمان لے آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ہدایت کی روشنی پر چلیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنت اور سلف صالحین کے راستے پر چلیں، یہی کامیابی کا راستہ ہے اور اسی سے امت میں اتحاد اور اخوت کا رشتہ مضبوط ہوگا۔

ہر مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے اندر صفتِ ایمان پیدا کرے جو اسمِ اللہ ذات اور مرشد کامل اکمل کی صحبت سے ہی ممکن ہے۔ صالحین کے راستے پر چلنے اور اسمِ اللہ ذات کے حصول کے لیے مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی بارگاہِ اقدس میں تشریف لائیں اور عشقِ حقیقی کی لازوال نعمت سے فیضیاب ہوں۔ جو آنا چاہے در کھلا ہے ورنہ اللہ بے نیاز ہے۔

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اخوت وبھائی چارہ کے ساتھ رہنے اور ملک و ملت میں امن وامان رکھنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین!

استفادہ کتب:
اسلامی اخوت : عبد اللہ ناصح علوان

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں