سیّدہ زینبؓ کی جرأت وشجاعت | Seyda Zainab ki Jurat Shujaat

سیّدہ زینبؓ کی جر أت و شجاعت

تحریر: نورین عبدالغفور سروری قادری ۔ سیالکوٹ

سیّدہ زینب بنت ِ علی ؓ 5 جمادی الاوّل 5ہجری میں مدینہ میں پیدا ہوئیں۔ آپؓ حضرت علی ؓ اور حضرت بی بی فاطمہ ؓ کی بیٹی اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نواسی تھیں ۔ زینب بنت ِعلی ؓ تاریخ ِاسلام کی اہم اورمحترم شخصیت ہیں۔ آپؓ کانام رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے رکھا تھا۔ آپؓ کا نام دو الفاظ کامجموعہ ہے زین کا مطلب زینت اور اب کا مطلب باپ یعنی زینب کے معنی باپ کی زینت۔ آپؓ شکل و صورت میں حضرت علیؓ سے مشابہ تھیں۔ آپؓ اسلام اور انسانیت کی تاریخ کا ایک روشن ستارہ ہیں ۔

القاب

تاریخی کتابوں میں آپؓ کے ذکر شدہ القابات کی تعداد 61ہے ۔ ان میں سے کچھ مشہور القابات درج ذیل ہیں :
ثانی زہراؓ
صدیقہ صغریٰ
عقیلہ بنی ہاشم
محدثہ
نائبۃ الزہراؓ
فاضلہ
شریکتہ الحسینؓ
نائبۃ الحسینؓ
عالمہ غیر معلمہ

مختصر حالات :

سیّدہ زینبؓ کا بچپن فضیلتوں کے ایسے پاکیزہ ماحول میں گزرا جو اپنی تمام جہتوں سے کمالات میں گھرا ہوا تھا جس کی طفولیت پر نبوت و امامت کا سایہ ہر وقت موجود تھا اور اس پر ہر سمت نورانی اقدار محیط تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں اپنی روحانی عنایتوں سے نوازا اور اپنے اخلاق کریمہ سے فکری تربیت کی بنیادیں مضبوط و مستحکم کیں۔
نبوت کے بعد امامت کے وارث مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے انہیں علم و حکمت سے سیر کیا۔ عصمت کبریٰ سیّدۃ فاطمہ زہرا نے انہیں ایسی فضیلتوں اور کمالات کے ساتھ پرورش فرمائی کہ سیّدہ زینب تطہیر و تزکیہ نفس کی تصویر بن گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حسنین کریمین نے انہیں بچپن سے ہی اپنی شفقت آمیز ہم عصری کا شرف بخشا جو سیّدہ زینبؓ کی پاکیزہ تربیت کی وہ بنیادیں بنیں جن سے ان کا عہد ِ طفولیت ایک روشن مثال بن گیا۔
حضرت علیؓ کے بڑے بھائی اور رسول اللہؐ کے چچا زاد حضرت جعفر طیار ؓ کے فرزند حضرت عبداللہؓ سے آپؓ کی شادی ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن جعفرطیارؓ عرب کے مشہور جواد و کریم اورحضرت علی ؓ کے جان نثار تھے۔ حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ سے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی جو اولاد ہوئی ان کے نام یہ ہیں علی، عون، اکبر، عباس،اُمِ کلثوم، جعفر اکبر اور محمد۔ جن میں سے عون اور محمد کربلا میں امام حسین ؓ کے ہمرا ہ شہید ہو گئے۔
واقعہ کربلا کے بعدحضرت زینب رضی اللہ عنہا دمشق میںاہل ِ بیتؓ کے ساتھ رہیں۔ استقامت، جرأت،ایثار،جہاد اور حمایت ِ دین کا جو مظاہرہ آپؓ نے فرمایا اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ان کا حضرت امام حسینؓ کے ساتھ مدینہ سے مکہ اور وہاں سے کربلا تک کا سفر غیرمعمولی کارنامہ ہے۔ دس (10) محرم الحرام کو امام حسینؓ کے شہید ہو جانے پر یتیموں، بیوائوں اور بچوں کی نگہبانی کی۔ جوانانِ اہل ِ بیتؓ کی دردناک شہادت پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ لٹے ہوئے قافلے کے اسیر ہو کر کوفہ جانے کے دوران سب کی حفاظت کرنا اور ہمت بندھانا، کوفہ میں ان کی لاجواب تقاریر، ابن ِ زیاد کی گستاخیوں کا جواب دینا، اس کے بعد شام کا سفر، شام کے بازار اور یزید ملعون کے دربار میں اپنی حقانیت کا اعلان کرنا، فصیح و بلیغ خطبے اور برجستہ جوابات، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضرت علیؓ خطبہ دے رہے ہیں، امام زین العابدین کو ابن ِ زیاد کے بے رحم ہاتھوں سے زندہ بچالانا آپ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے اہم کارنامے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے حضرت حسینؓ ابن علیؓ کے مقصد میں بھر پور ساتھ دیا اور شریکتہ الحسینؓ کہلائیں۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا ایک بلند مقام سے جنگ دیکھ رہی تھیں جو آج بھی ’’ٹیلہ زینبیہ‘‘کے نام سے مشہور ہے۔ جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کو شہید کیا گیا تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے حضرت زین العابدینؓ کو اور باقی تمام عورتوں اور بچوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا۔ فوجِ یزید قتل ِ عام کے بعد آگے بڑھی اور اہل ِ بیتؓ کے تمام خیموں کو آگ لگا دی۔ نواسی ِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تپتے ہوئے صحرا میں لٹے ہوئے قافلے کے ساتھ اکیلی رہ گئیں۔ تمام عورتوں اور بچوں کی ڈھارس بندھائی جبکہ اپنا سینہ دکھوں اور غموں سے نڈھال تھا۔
علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں:

حدیثِ عشق دو باب است کربلا و دمشق
یکے حسینؓ رقم کرد دیگرے زینبؓ

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ نے شہادت پا کر کربلا میں تاریخ رقم کی اور پھر حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے کربلاسے دمشق تک کے سفر میں جابجا تقاریر کر کے اور تمام یتیموں اور بیواؤں کا خیال رکھ کر تاریخ رقم کی۔
آپ رضی اللہ عنہا کے دلیرانہ خطبات نے یزید کی ناپاک حکومت کے ستون ہلا کر رکھ دیئے اور اس کو دین اور دنیا میں قیامت تک کے لیے ذلیل کر دیا۔ یزید کی محفل میں جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی نظر اپنے بھائی امام عالی مقامؓ کے سر مبارک پر پڑی تو آپ رضی اللہ عنہا نے غمناک آواز میں فریاد کی جس سے تمام در باریوں کے دل دہل گئے۔ آپ ؓ نے فرمایا:
اے حسین، اے محبوبِ خدا، اے مکہ ومنیٰ کے بیٹے، اے فاطمہ زہرا سیّدۃ النساؓء کے بیٹے ، اے محمد مصطفی ؐ کی بیٹی کے بیٹے!
راوی اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے کہتا ہے کہ خدا کی قسم! بی بی زینب رضی اللہ عنہا کی آواز سے تمام لوگ رونے لگے جو یزید ملعون کے دربار میں موجود تھے اور یزید اس طرح خاموش بیٹھا تھا گویا اسے سانپ سونگھ گیا ہو۔
یزید ملعون نے لکڑی لانے کا حکم دیا پھر یزید ملعون نے اس لکڑ ی کو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کے لبوں اور دندان مبارک پر لگایا۔ ابو بردہ اسلمی(جو صحابی ٔ رسولؐ تھے) نے یزید ملعون کو مخاطب کر کے کہا۔ اے یزید! کیا تو اس چھڑی کو فرزند ِفاطمہ رضی اللہ عنہا کے دندانِ مبارک پر مار رہا ہے، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حسین رضی اللہ عنہٗ اور ان کے بھائی حسن رضی اللہ عنہٗ کے لبوں اور دندان مبارک کو بوسہ دیتے تھے اور فرماتے تھے تم دونوں جوانانِ جنت کے سردار ہو، جو تمہیں قتل کرے اسے خدا غارت کرے اور اس پر لعنت کرے اور اس کے لیے جہنم کو تیار کرے۔ اور وہ بہت بُری جگہ ہے۔
یزید ملعون غصے میں چیخنے لگا اور حکم دیا کہ ابو بردہ اسلمیؓ کو باہر نکال دو۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا بنت ِ علیؓ سے رہا نہ گیا اور انہوں نے کھڑے ہو کر طویل خطبہ دیا اور فرمایا سب تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں جو کائنات کا پروردگار ہے اور خدا کی رحمتیں نازل ہوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر اور ان کی پاکیزہ اہل ِ بیتؓ پر۔ امابعد بلآخر ان لوگوں کا انجام بُرا ہے جنہوں نے اپنے دامن ِ حیات کو بُرائیوں سے داغدار کر کے اپنے خدا کی آیات کی تخریب کی اور آیاتِ پروردگار کا مذاق اڑایا۔
اے یزید کیا تو سمجھتا ہے کہ تو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے تنگ کر دیئے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آل کو رسیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر دربدر پھرانے سے تو خدا کی بارگاہ میں سرخرو ہوا اور ہم رسوا ہوئے ہیں؟ کیا ہم تیرے خیال میں مظلوم ہو کر ذلیل ہوگئے اور تو ظالم بن کر سر بلند ہوا ہے ؟ کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کر کے خدا کی بارگاہ میں تجھے شان و مقام حاصل ہو گیا ہے ؟ آج اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں سر مست ہے ۔ مسرت و شاد مانی سے سر شار ہو کر اپنے غالب ہونے پر اترا رہاہے اور خلافت کے ہمارے مسلمہ حقوق کوغصب کر کے خوشی و سرور کا جشن منانے میں مشغول ہے اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو اور ہوش کی سانس لے، کیا تو نے خدا کا یہ فرمان بھلا دیا ہے ’’حق کا انکار کرنے والے یہ نہ سمجھیں کہ ہم جو انہیں مہلت دیتے ہیں یہ ان کے حق میں بھلائی ہے۔ ہم انہیں مہلت اس لیے دیتے ہیں کہ وہ گناہ میں زیادتی کریں اوران کے لیے خوار کرنے والا عذاب ہے۔‘‘
آپ رضی اللہ عنہا نے مزید فرمایا:
اے طلقا کے بیٹے ! کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تونے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو چار دیواری کا تحفظ فراہم کر کے پردے میں بٹھا رکھا ہے جبکہ رسولؐ زاد یوں کو سر برہنہ دربدر پھرا رہا ہے۔ تو نے عصمت کی چادریں لوٹ لیں اور ان کی بے حرمتی کا مرتکب ہو اتیرے حکم پر رسولؐ زادیوں کو بے نقاب کر کے شہر بہ شہر پھرایا گیا۔
اے یزید یاد رکھ کہ خدا آلِ رسول کا تجھ سے انتقام لے کر ان مظلوموں کا حق انہیں دلائے گا اور انہیں امن و سکون کی نعمت سے مالامال کر دے گا اور خدا کافر مان ہے ’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اور انہیں ربّ کے ہاں سے رزق ملتا ہے۔‘‘
افسوس تو اس بات پر ہے کہ شیطان کے ہمنوا اور بدنام لوگوں نے رحمان کے سپاہیوں اور پاکباز لوگوں کو تہ تیغ کر ڈالا اور ابھی تک اس شیطانی ٹولے کے ہاتھوں سے ہمارے پاک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں اور صحرا کے بھیڑیے پاکبازشہیدوں کی مظلوم لاشوں کے ارد گرد گھوم رہے ہیں اور جنگل کے نجس درندے ان پاکیزہ جسموں کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔
تو ( یزید ) جتنا چاہے مکروفریب کر لے اور بھر پور کوشش کر کے دیکھ مگر تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ تُونہ تو ہماری یاد لوگوں کے دلوں سے مٹا سکتا ہے اور نہ ہی وحی الٰہی کے پاکیزہ آثار محو کر سکتا ہے۔ تو یہ خیال اپنے دل سے نکال دے کہ ظاہرسازی کے ذریعے ہماری شان و منزلت کو پالے گا۔ تو نے جس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اس کا بدنما داغ اپنے دامن سے نہیں دھو پائے گا۔ تیرا نظریہ نہایت کمزوراور گھٹیا ہے تیری حکومت کے گنتی کے چند دن باقی ہیں۔ تیرے سب ساتھی تیرا ساتھ چھوڑ جائیں گے اور تیرے پاس اس دن حسرت و پریشانی کے سوا کچھ نہیں بچے گا جب منادی ندا کرے گا کہ ظلم و ستم گر لوگوں کے لیے خدا کی لعنت ہے۔
سیّدہ زینب ؓ کا خطبہ سن کر یزید سکتے میں آگیا اور اسکو خطرہ ہوا کہ کہیں لوگ خاندانِ رسالت کی حمایت میں میرے خلاف نہ اُٹھ کھڑے ہوں۔ اس نے قافلے کو فوراً واپس مدینہ بھیجنا مناسب سمجھااور حضرت نعمان بن بشیر انصاری ؓ کی زیر ِ حفاظت قافلہ اہل ِ بیتؓ کو مدینہ روانہ کیا۔ واپس آ کر سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قبرمبارک پر تشریف لائیں تو یہ الفاظ زبان مبارک پر جاری ہو گئے:
’’اے میرے مقد س نانا جان صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! میں آپ کے فرزند اور اپنے بھائی حسین ؓ کی شہادت کی خبر لائی ہوں۔آپ کی اولاد کو رسیوں سے باندھ کر بے پردہ کوفہ اور دمشق کی گلیوں میں پھرایا گیا۔‘‘ پھر آپ اپنی والدہ محترمہ حضرت بی بی فاطمہؓ کی قبرپرتشریف لائیں اور کربلا کا تمام حال ایسے درد ناک الفاظ میں بیان کیا اوراتنی گریہ و زاری کی کہ پتھروں کا کلیجہ بھی چھلنی ہوجائے ۔
بے پناہ مصائب نے شہزادی زینبؓ کے دل و جگرکے ٹکڑ ے کر دیئے تھے۔ مدینہ منورہ میں دل نہ لگا تو دمشق تشریف لے گئیں اور وہاں پہنچنے کے تھوڑے عرصے بعد ہی 62ھ میں انہوں نے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردی اور یوں یتیمانِ اہل ِ بیتؓ کی سرپرست، شہدائے کربلا کی یادگار اور دشمنوںکو عذابِ خدا سے ڈرانے والی بے مثال خطیبہ اپنے محبوب اور مظلوم بھائی سے جنت الفردوس میں جا ملیں۔
اللہ سے دعا ہے کہ سیّدہ زینبؓ جیسی جرأت، حوصلہ اور عزم عطا فرمائے اور وہ تمام لوگ خاص کر خواتین جو مشکلات میں گھبرا کر گلہ گوئی شروع کر دیتی ہیں اور پریشانی کے عالم میں ناامید ہو کر توکل کا دامن چھوڑ دیتی ہیں، ان سب کے لیے سیّدہ زینب کی شخصیت و کردار اور حیاتِ طیبہ میں رہنمائی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں