پرندوں کی ہجرت Parindon ki Hijrat

5/5 - (26 votes)

پرندوں کی ہجرت  Parindon ki Hijrat

 دوسرا اور آخری حصہ                                                       تحریر: محترمہ امامہ سروری قادری

گزشتہ مہینے شائع ہونے والے مضمون کے حصہ اوّل میں بلبل، طوطا، مور ، بطخ اور باز کی مثالوں سے تلاشِ حق سے انکار کرنے والے لوگوں کی مختلف اخلاقی، نفسیاتی اور روحانی کیفیات کو بیان کیا گیا تھا۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کچھ مزید پرندوں کی مثالیں اور ان میں چھپی حکمت کو بیان کیا جا رہا ہے۔

6-  بگلا

بگلا ایک ایسا پرندہ ہے جو زیادہ تر جھیل یا تالاب کے کنارے خاموش کھڑا رہتا ہے۔ بظاہروہ سکون اور صبر کی تصویر لگتا ہے، جیسے دنیا کی ہلچل سے بے نیاز ہو لیکن اس کی یہ خاموشی اصل میں ایک چال ہے۔ وہ پانی کے نیچے تیرتی مچھلیوں پر نظریں جمائے کھڑا رہتا ہے اور جیسے ہی موقع ملتا ہے، انہیں پکڑ لیتا ہے۔ وہ اپنی جگہ سے ہلتا بھی نہیں، بس صبر اور موقع شناسی سے شکار کرتا ہے۔جب ہُدہد نے اسے راہِ حق میں شامل ہونے کی دعوت دی تواس نے کہا:
’’میں یہاں اپنی روزی کے انتظار میں کھڑا رہتا ہوں، یہ پانی میرے رزق کا میدان ہے، میں کیسے اس سے دور جا سکتا ہوں؟ اگر میں اس جھیل کو چھوڑ دوں تو بھوکا مر جاؤں گا۔‘‘

اس پر ہدہد نے جواب دیا:
اے بگلے! تیرا یہ رزق بھی عارضی ہے، آج ہے تو کل ختم ہو سکتا ہے۔ یہ پانی کبھی بھی خشک ہو سکتا ہے اور یہ مچھلیاں بھی فنا کے سفر پر ہیں۔ توُنے اپنی زندگی کا مقصد صرف پیٹ بھرنے تک محدود کر دیا ہے۔ تیرا اصل رزق وہ ہے جو تیرے ربّ کے پاس ہے، جو نہ ختم ہونے والا ہے اور نہ کم ہونے والا۔ تو اپنی نگاہ کو صرف پانی کی سطح تک محدود نہ رکھ بلکہ اسے اُس حقیقت تک بلند کر جو ہر سطح کے پار ہے۔

نتیجہ:

ہم انسان بھی اکثر بگلے کی طرح اپنی زندگی کے ’’تالاب‘‘ کے کنارے کھڑے رہتے ہیں۔ہماری نظریں دنیاوی روزی، وقتی آسائش اور ظاہری اطمینان پر جمی رہتی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر یہ کھو گیا تو سب ختم ہو جائے گا حالانکہ اصل رزق اور اصل سکون اس ذات کے پاس ہے جو سب کچھ عطا کرتی ہے۔ ہم رزق کے پیچھے بھاگتے ہیں لیکن رازق کو بھول جاتے ہیں۔

بگلا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر انسان اپنی تمام توجہ صرف دنیاوی ضرورتوں تک محدود رکھے تو وہ اپنے اصل مقصد سے محروم ہو جاتا ہے۔ رزق کی تلاش ضروری ہے مگر اصل تلاش اس ہستی کی ہونی چاہیے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ جب انسان اس تلاش میں مشغول ہوتاہے تو دنیا بھی اس کے پیچھے آتی ہے اور آخرت بھی سنورجاتی ہے۔

7-  اُلوّ

اُلوّایک ایسا پرندہ ہے جو دن کی روشنی سے دور، رات کی تنہائی میں زندہ رہتا ہے۔ وہ سنسان وادیوں، کھنڈرات اور ویران درختوں پر بیٹھ کر دنیا کو خاموشی سے تکتا ہے۔اس کی آنکھیں بڑی اور روشن ہیں لیکن وہ روشنی کی تلاش نہیں کرتابلکہ اندھیرے میں اپنے شکار کا منتظر رہتا ہے۔جب اسے راہِ حق میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تو اس نے کہا:

’’میں دن کی چمک سے اجتناب کرتا ہوں، وہ روشنی مجھے ناگوار ہے۔ میرا دل رات کے سکوت میں لگتا ہے، جہاں میں تنہا ہوں اور کسی کی مداخلت نہیں۔ میں اپنی دنیا میں خوش ہوں اور اندھیروں میں ہی میرا اطمینان ہے۔‘‘

اس پر ہدہد نے کہا:
اے اُلوّ! تیرا یہ سکوت محض خوف اور غفلت کا پردہ ہے۔ تیری آنکھیں اندھیرے میں دیکھ سکتی ہیں مگر روشنی کو برداشت نہیں کر پاتیں۔ توُ ویران جگہوں کو اپنا گھر بنائے بیٹھا ہے حالانکہ زندگی کا اصل حسن اور حقیقت اس نور میں ہے جو دلوں کو منور کرتا ہے۔ رات کا سکوت لمحاتی ہے مگر حق کا نور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اگر توُ اپنے پرَ نوُر کی سمت میں کھول دے توتیری بصارت بینائی میں بدل جائے گی اور تواس حقیقت کو دیکھ سکے گا جو اندھیرے میں کبھی ظاہر نہیں ہوتی۔

نتیجہ:

ہم انسان بھی اکثر اُلّو کی طرح ــ’’اندھیرے‘‘ کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ہم اپنی عادتوں، کمزوریوں اور غفلت کو اپنا اطمینان سمجھ لیتے ہیں اور روشنی یعنی حق کی دعوت سے کتراتے ہیںکیونکہ وہ ہمیں ہماری حقیقت دکھا دیتی ہے۔ اصل اطمینان اندھیرے میں چھپنے سے نہیں بلکہ روشنی کا سامنا کرنے سے ہے۔

اُلوّ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جو آنکھیں اندھیرے میں دیکھ سکتی ہیں، وہ روشنی میں اور بھی زیادہ دیکھنے کے قابل ہیں۔۔۔بس شرط یہ ہے کہ ہم روشنی سے منہ نہ موڑیں بلکہ اس کی طرف پرواز کریں۔

8- تیتر

تیتر ایک خوبصورت پرندہ ہے، رنگ برنگے پروں اور متکبر چال کا مالک۔ وہ ہمیشہ اپنے شکار کے علاقے میں زمین پر اَکڑ کر چلتاہے جیسے ساری وادی اس کی ملکیت ہو۔ اس کی سب سے بڑی دلچسپی اپنی حدود کی حفاظت اور دوسروں کو ان میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔ اس کے پروں کا غرور اور اپنی جگہ پر قبضہ جمائے رکھنے کی ضد اس کی پہچان ہے۔ جب اسے راہِ حق میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تو تیتر نے کہا:

’’میرا گھر، میرا علاقہ، میرا غرور۔۔۔ میں اپنی سلطنت چھوڑ کر کہاں جاؤں؟میں نے یہ جگہ محنت سے حاصل کی ہے، اسے کیسے چھوڑ دوں؟ میرا وقار اور پہچان اسی میں ہے کہ میں اپنی زمین کا مالک ہوں۔‘‘

اس پر ہدہد نے کہا:
اے تیتر! تیرا یہ فخر ایک مٹھی خاک پر ہے جسے وقت کی ہوا ایک دن اُڑا لے جائے گی۔ تُو سمجھتا ہے کہ یہ زمین تیری ہے حالانکہ توُ خود زمین کا مسافر ہے۔ تیرا اصل وطن نہ یہ وادی ہے نہ یہ شکارگاہ۔ تیرا اصل وطن اُس حقیقت میں ہے جو کبھی فنا نہیں ہوتی۔ اگر توُ راہِ حق پر نکلے گا تو تجھے ایسی سلطنت ملے گی جسے کوئی چھین نہیں سکتا اور ایسا وقار جو ابد تک رہے گا۔

نتیجہ:

ہم بھی اکثر تیتر کی طرح اپنی زمین، عہدے، عزّ وجاہ ،مال و دولت اور دنیاوی مرتبے پر فخر کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہی ہماری اصل پہچان ہے حالانکہ یہ سب لمحاتی ہے۔ آج ہمارے پاس ہے، کل کسی اور کا ہوگا۔ ہم اپنی اَنا کی قید میں اتنے محو ہو جاتے ہیں کہ اصل آزادی اور اصل رشتہ بھول جاتے ہیں۔

تیتر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ غرور اور ملکیت کا نشہ انسان کو اپنی محدود دنیا میں قید کر دیتا ہے۔ اصل عزت اس میں ہے کہ انسان اپنی پہچان کو فانی چیزوں سے نہ جوڑے بلکہ اُس حقیقت سے منسلک کرے جو ہر زمانے میں اور ہر جگہ قائم ہے۔

9- ممولہ

ممولہ ایک نہایت ننھا سا پرندہ ہے، نرم پروںاور نازک جسم کے ساتھ۔ وہ آسمان کے کنارے دیکھ کر بھی گھبرا جاتا ہے اور ذرا سا طوفان آ جائے تو پناہ ڈھونڈنے لگتا ہے۔ اس کا دل چاہتا تو ہے کہ اُونچی پرواز کرے مگر اپنی کمزوری کا سوچ کر رُک جاتا ہے۔جب اسے راہِ حق میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تو اس نے کہا:
’’میں بہت چھوٹا ہوں، میرا جسم کمزور ہے۔ یہ لمبا سفر، پہاڑ، صحرا اور طوفان۔۔۔ یہ سب میرے بَس کا نہیں۔ میں تو ابھی معمولی فاصلہ طے کرنے سے ہی تھک جاتا ہوں، سیمرغ کی تلاش تو بڑے پرندوں کا کام ہے۔‘‘

اس پر ہدہد نے جواب دیا:
اے ممولہ! یہ سفر پروں سے نہیں، دل سے طے ہوتا ہے۔ اگر تیرا دل بلند ہو توتیرا جسم چاہے کتنا ہی نازک ہو، تُوآسمانوں تک پہنچ سکتا ہے۔ کمزوری اس میں نہیں کہ تیرا جسم چھوٹا ہے، کمزوری اس میں ہے کہ تیرا اِرادہ چھوٹا ہے۔ توُ خود کو کم تر سمجھ کر منزل سے محروم رہنا چاہتا ہے حالانکہ تیرا ربّ تجھے وہ طاقت دے سکتا ہے جو پہاڑوں کو بھی پھلانگ لے۔

نتیجہ:

ہم انسان بھی اکثر ممولہ کی طرح اپنی کمزوریوں کا بہانہ بنا کر حق کے سفر سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم تو عام لوگ ہیں، یہ راستہ علما، اولیا اور بڑے لوگوں کا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ہر دل کو اس راہ کا اہل بنایا ہے، شرط صرف یہ ہے کہ ہم پہلا قدم اٹھائیں اور اپنی ہمت کو پروں سے زیادہ اہم جانیں۔

ممولہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اصل پرواز نیت اور ارادے کی ہے۔ اگر نیت سچی ہو تو سب سے چھوٹا پرندہ بھی سیمرغ تک پہنچ سکتا ہے اور اگر نیت کمزور ہو تو بڑے بڑے باز بھی زمین پر ہی رہ جاتے ہیں۔

10-  ہما

ہما ایک ایسا پرندہ ہے جو ہمیشہ آسمان کی بلندیوں میں پرواز کرتا ہے۔ وہ زمین پر نہیں اُترتا اور لوگ صدیوں سے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جس کے سر پر ہما کا سایہ پڑ جائے، وہ بادشاہ بن جاتاہے۔ یہی شہرت ہما کا غرور اور پہچان بن چکی ہے۔ دنیا اسے خوش بختی اور سلطنت کا نشان سمجھتی ہے۔جب ہدہد نے اسے سیمرغ کی تلاش کے سفر پر بلایا تو ہما نے نرمی مگر فخر سے کہا:

’’میں پہلے ہی دوسروں کے لیے خوش بختی کا ذریعہ ہوں۔ میری پرواز کی عظمت زمین والوں کی دعا ہے اور میرے وجود کی پہچان بادشاہی ہے۔ میں خود کسی کے دَر پر نہیں جاتا، سب میری دعا اور نظر کے محتاج ہیں۔ پھر میں اپنی یہ عزت چھوڑ کر کیوں کسی اور کی تلاش میں نکلوں؟

ہدہد مسکرا کر بولا:
اے ہما! تیری یہ عظمت محض لوگوں کے گمان میںہے۔ لوگ تیرے سائے کو بادشاہی کا سبب سمجھتے ہیں لیکن کیا بادشاہی ہمیشہ رہتی ہے؟ آج کا بادشاہ کل کا خاک نشین ہوتا ہے۔ توُ جس خوش بختی پر فخر کرتا ہے وہ بھی فانی ہے کیونکہ توُ صرف زمین کی بادشاہت بانٹ سکتا ہے، آسمان کی نہیں۔

سیمرغ کا دَربار وہ ہے جہاں دنیا کی سلطنتیں بھی محتاج ہیں۔ وہاں نہ تخت ہے نہ تاج، مگر ایک ایسا وقار ہے جو فنا سے پاک ہے۔ توُاپنے آپ کو اس بادشاہی کا رازدار سمجھتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ توُ خود بھی محتاج ہے۔۔۔ محتاج اس نظر کا جو اپنے ربّ سے ملا دے اور اس قرب کا جو اَبدی ہے۔

نتیجہ:

دنیا میں عزت ملنا برا نہیں مگرصرف اسی دنیاوی عزت پر مطمئن ہو جانا سب سے بڑی محرومی ہے۔ اگر توُ اپنی موجودہ شہرت کو چھوڑ دے اور راہِ حق پر قدم رکھے تو تجھے ایک ایسی بادشاہی ملے گی جو وقت، موت اور زوال کے دائرے سے باہر ہے۔ وہاں تیرا سایہ نہیں بلکہ تیرا وجود دوسروں کے لیے روشنی کا مینار بنے گا۔

ہم انسان بھی اکثر ہما کی طرح اپنی دنیاوی عزت، شہرت یا مقام پر فخر کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہی ہماری اصل پہچان ہے حالانکہ یہ سب عارضی ہے۔ اصل پہچان اس میں ہے کہ انسان اپنی عزت کو اس ذات سے جوڑ دے جو عزت دینے والی ہے تاکہ یہ وقار کبھی ختم نہ ہو۔

حاصلِ تحریر:

پرندوں کی یہ تمام صفات انسانوں کے اندر موجود ہیں اور انسان کو راہِ حق سے روکتی ہیں اور دل کو اللہ کے عشق کے لیے خالص ہونے نہیں دیتیں۔ ایسے میں مرشد کامل ہی وہ واحد ذریعہ اور راستہ ہوتا ہے جو ایک انسان کے دل کا آئینہ صاف کرے۔

 میرے مرشد پاک سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی بلند و بالا شان ایک عام سے انسان کو راہِ حق کا سچا اور صادق طالبِ مولیٰ بنا دیتی ہے۔ جس کے کچھ پہلو یہ ہیں:

1۔صحبتِ مرشد: 

مرشد کامل اکمل کی صحبت دل کو روشنی دیتی ہے، باطن میں چھپے عیب اور فانی محبتیں نمایاں ہو جاتی ہیں تاکہ انسان خود کو پہچان سکے۔

2۔ ذکروتصور اسمِ اللہ ذات: 

مرشد کامل اکمل کا عطاکیا ہوا ذکر و تصور اسمِ  اللہ ذات دل سے دنیاوی زنگ کو صاف کرکے اسے اللہ کی یاد میں مستغرق کرتا ہے یہاں تک کہ فانی محبتیں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔

3۔روحانی تربیت:

 مرشد کامل اکمل طالب کو صبر، یقین، عاجزی اور توکل سکھاتا ہے تاکہ وہ اپنی کمزوریوں کے بہانے نہ بنائے بلکہ اللہ کی طرف بڑھتا رہے۔ مرشد کامل نہ صرف طالبانِ مولیٰ کے باطن سے یہ برائیاں نکالتا ہے بلکہ ان کی جگہ محبت ِالٰہی، معرفت، اخلاص اور روحانی جرأت پیدا کرتے ہیں۔ اس سفر میں طالب کا کام یہ ہے کہ:
 سچائی اور اخلاص کے ساتھ مرشد کے ہاتھ میں ہاتھ دے۔
 ذکر و مراقبہ میں پابندی کرے۔
 دنیاوی محبتوں اور بہانوں کو چھوڑنے کا عزم رکھے۔
ہر حال میں مرشد کامل اکمل پر بھروسہ کرے کیونکہ وہی منزل تک پہنچانے والا ہے۔

یوں طالب آہستہ آہستہ اپنے اندر کے بلبل، بگلہ، اُلو، تیتر، ممولہ، کبوتر اور ہما کو مار کر ایک ایسا پرندہ بن جاتا ہے جو سیمرغ یعنی حق تعالیٰ کے قرب اور معرفت تک پہنچنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ 

استفادہ کتب:
منطق الطیر(پرندوں کی ہجرت) : تصنیفِ لطیف حضرت شیخ فریدالدین عطّارؒ 

 

13 تبصرے “پرندوں کی ہجرت Parindon ki Hijrat

  1. مرشد کامل اکمل کی صحبت دل کو روشنی دیتی ہے، باطن میں چھپے عیب اور فانی محبتیں نمایاں ہو جاتی ہیں تاکہ انسان خود کو پہچان سکے۔

    1. مرشد کامل نہ صرف طالبانِ مولیٰ کے باطن سے یہ برائیاں نکالتا ہے بلکہ ان کی جگہ محبت ِالٰہی، معرفت، اخلاص اور روحانی جرأت پیدا کرتے ہیں

  2. پرندوں کی یہ تمام صفات انسانوں کے اندر موجود ہیں اور انسان کو راہِ حق سے روکتی ہیں اور دل کو اللہ کے عشق کے لیے خالص ہونے نہیں دیتیں۔ ایسے میں مرشد کامل ہی وہ واحد ذریعہ اور راستہ ہوتا ہے جو ایک انسان کے دل کا آئینہ صاف کرے۔

  3. انسان کی صفات کو پرندوں کی صفات سے تقابل کرتی سبق آموز تحریر ۔
    اللہ پاک غور و تفکر کرنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

  4. ہم رزق کے پیچھے بھاگتے ہیں لیکن رازق کو بھول جاتے ہیں۔

  5. میرے مرشد پاک سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی بلند و بالا شان ایک عام سے انسان کو راہِ حق کا سچا اور صادق طالبِ مولیٰ بنا دیتی ہے۔

  6. سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی بلند و بالا شان ایک عام سے انسان کو راہِ حق کا سچا اور صادق طالبِ مولیٰ بنا دیتی ہے۔

  7. مرشد کامل اکمل طالب کو صبر، یقین، عاجزی اور توکل سکھاتا ہے تاکہ وہ اپنی کمزوریوں کے بہانے نہ بنائے بلکہ اللہ کی طرف بڑھتا رہے۔ مرشد کامل نہ صرف طالبانِ مولیٰ کے باطن سے یہ برائیاں نکالتا ہے بلکہ ان کی جگہ محبت ِالٰہی، معرفت، اخلاص اور روحانی جرأت پیدا کرتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں