بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین) Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen

4.5/5 - (25 votes)

بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین)
    Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen

قسط نمبر : 11                                                                        مرتب: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری

الف لام میم:

کسی نے سورۃ البقرۃکی ابتدائی آیات کا ذکر کیا تو سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے فرمایا:
’’الم‘‘تنزلاتِ ستہ ہیں۔ ان معنوں کو اولیا اللہ نے کھول کر بیان نہیں کیا ورنہ مولوی حضرات فتویٰ لگا دیں۔ یہ راز اُن پر افشاں ہوتے ہیں جن کا نور مکمل ہو جاتا ہے۔ عام لوگ ان الفاظ سے ویسے ہی گزر جاتے ہیں جبکہ یہ اللہ کے راز ہیں۔ انسان کو تو اسی سے عاجزی میں آجانا چاہیے کہ اسے ان الفاظ کے معانی ہی پتہ نہیں۔ 

علامہ سیوطی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ سورۃ البقرۃ کو’’ الم‘‘ سے شروع  کیا تاکہ اس کا مرتبہ عقلاً اور حکماً اس کے معنی کے مقابلے سے عاجز ہو کر عبرت پکڑ یں۔

تفسیر روح البیان میں ہے کہ اللہ نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل فرمائی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی کہ اس کتاب کو کون پڑھ سکے گا اور کون اسے زبانی یاد کر سکے گا؟ خدا تعالیٰ نے جواب دیا: اے موسیٰ! میں اس سے بھی زیادہ ضخیم کتاب نازل فرماؤں گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: کس پر؟ فرمایا: خاتم النبییٖن (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) پر۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: الٰہی! ان کی امت اسے کیسے پڑھ سکے گی جبکہ ان کی عمریں بہت تھوڑی ہوں گی؟
خدا تعالیٰ نے فرمایا: میں ان پر وہ کتاب ایسی آسان کردوں گا کہ ان کے چھوٹے بچے بھی اسے پڑھ سکیں گے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: الٰہی! اور تو یہ کیسے فرمائے گا؟

اللہ ربّ العزت نے فرمایا: میں ساری کتابوں کے معانی کو محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم) کی کتاب میں ذکر کروں گا اور ان سب حقائق کو میں قرآن کی ایک سو چودہ سورتوں میں جمع کر دوں گا اور ان سورتوں کو میں تیس پاروں میں اور ان سب کے مطالب کو سورۃ فاتحہ کی سات آیتوں میں اور پھر ان کے معانی کو سات حرفوں میں اور وہ سات حرف بسم اللہ کے ہیں پھر ان سب حقائق کو الم کے الف میں میں جمع کر دوں گا پھر سورۃ البقرۃشروع فرماؤں گا۔

کفار اور منافقین:

آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا: سورۃ البقرۃ کی شروع کی آیات میں اللہ نے کفار سے زیادہ منافقین پر جلال فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ منافقین نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کفار سے زیادہ تنگ کیا۔ سورۃ البقرۃمیں شروع کے رکوع میں جہاں کفار کے متعلق صرف دو آیات ہیں وہیں منافقین کے متعلق تیرہ آیات ہیں۔ کافر سے بدتر منافق ہوتا ہے۔ 

قرآن سے کس کو ہدایت ملتی ہے؟

اللہ پاک فرماتا ہے:
ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَارَیْبَ ج صلے فِیْہِ ج ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ (سورۃ البقرۃ۔2)
ترجمہ: اس کتاب میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ متقیوں کے لیے ہدایت ہے۔ 

اللہ پاک فرماتا ہے اس میں ہدایت متقین کے لیے ہے۔ متقی اسم ہے اور تقویٰ فعل ہے۔ جو تقویٰ اختیار کرے گا وہ متقی بن جائے گا۔ کچھ لوگ ’’للمتقین‘‘کا ترجمہ’’پرہیزگار‘‘کرتے ہیں جبکہ صوفیا کے نزدیک اللہ پاک کے قریب ہونے کا نام ’’تقویٰ‘‘ ہے۔ علما اور صوفیا  کے معنی میں فرق اس لیے ہے کہ علما لفظی اعتبار سے اس کے معنی کرتے ہیں جبکہ صوفیا اصطلاح کے اعتبار سے اس کے معنی لیتے ہیں۔ اس لیے جو جتنا متقی ہوتا جائے گا وہ اتناہی اللہ کے قریب ہوتا جائے گا۔ متقی ہی مومن ہوتا ہے اور مومن کو ہی قرآن سے ہدایت ملتی ہے۔ اللہ پاک ارشادفرماتا ہے:
وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ہُوَ شِفَآئٌ وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ لا وَلَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا    (سورۃ بنی اسرائیل۔ 82)
ترجمہ:اور ہم قرآن میں وہ چیز اتارتے ہیں جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور اس سے ظالموں کے لیے خسارہ ہی بڑھتا ہے۔

پھر اللہ فرماتا ہے:
یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَائَتْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَائٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ     (سورۃیونس۔ 57)
ترجمہ:تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی نصیحت اور سینے کی بیماریوں کی شفا آچکی جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے

بہترین زادِ راہ:

فرمایا: انسان جب کسی راستے پر چلتا ہے یا سفر پر نکلتا ہے تو اس سفر کی اپنی زادِراہ ہوتی ہے۔ اب جو اللہ کے راستے پر چلتا ہے اس کے لیے بھی زادِراہ ہوتی ہے۔ اللہ نے قرآن میں بتا دیا ہے کہ سب سے بہتر زادِ راہ کیا ہے؟ اللہ پاک فرماتا ہے:
فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی  (سورۃالبقرۃ ۔197)
ترجمہ: سب سے بہترزادِ راہ تقویٰ ہے۔
زادِراہ کے بغیر تو کوئی سفر طے نہیں ہوتا۔ جس کے پاس تقویٰ نہیں وہ اللہ کی راہ نہیں چل سکتا۔ وہ رجعت کھا کر ہمیشہ کے لیے گرجاتا ہے۔

غیب کیا ہے؟

فرمایا کہ قرآن میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ  (سورۃ البقرۃ ۔ 3)
ترجمہ: وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔

غیب سے مراد باطن ہے۔ اسطرح ترجمہ یہ ہوا کہ وہ جو باطن پر ایمان لائے۔ اور جو باطن کو مان لیتے ہیں وہ اللہ کو دیکھ کر ایمان لاتے ہیں، ان کا ایمان تقلیدی نہیں تحقیقی ہوتا ہے۔ علما اور صوفیا میں یہ فرق ہے۔ علما پڑھ کر ایمان لاتے ہیں جبکہ صوفیا دیکھ کر ایمان لاتے ہیں۔ علما زبان سے کلمہ پڑھتے ہیں جبکہ صوفیا دل سے کلمہ پڑھتے ہیں۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان:

فرمایا کہ قرآن میں ارشاد ہے:
وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ (سورۃ البقرۃ ۔ 4)
ترجمہ: اور وہ ایمان لاتے ہیں اس پر جوآپؐ کی طرف نازل کیا اور جو آپؐ سے پہلے نازل کیا گیا۔
اس آیت میں اللہ فرما رہا ہے کہ جو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر اتارا ہے اس کو مان لو۔ اصل میں تو اللہ کہہ رہا ہے کہ میرے رسول کو مان لو۔

قیامت:

فرمایا کہ قرآن میں ارشادہے:
وَ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ (سورۃ البقرۃ ۔ 4)
ترجمہ: اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
ایک طرح سے قیامت تو انسان کے مرنے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے کیونکہ انسان فوراً ہی وہ پا لیتا ہے جو اس نے کیا ہو۔ 

مومن کی کامیابی:

فرمایا کہ قرآن میں ہے:
اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنْ رَّبِّہِمْ ژ   وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ  (سورۃ البقرۃ ۔ 5)
ترجمہ: یہی لوگ اپنے ربّ کی طرف سے ہدایت پر ہیں اوریہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔

فلاح ایک وسیع لفظ ہے۔ فلاح ایسے کہ اللہ پاک نے جو کچھ مومنین سے کہا وہ اس پر پورے اترے۔ مومن نے دونوں زندگیاں کامیاب گزارنی ہیں۔ دین میں بھی کامیاب ہونا ہے اور دنیا میں بھی۔ تب ہی فلاح ہے۔
رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً   (سورۃ البقرۃ۔ 201)
ترجمہ:اے اللہ!ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطا فرما۔

طالبِ مولیٰ و طالبِ دنیا:

اللہ کو یہ گوارہ نہیں کہ اس کا طالب، دنیا و آخرت کے طالب کے چکر میں آ جائے۔ طالبِ مولیٰ ہوشیار ہو تا ہے۔  

دلوں پر مہر:

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآئٌ عَلَیْہِمْ ئَ اَنْذَرْتَہُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْہُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ ۔ خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمْ ط وَ عَلٰٓی اَبْصَارِہِمْ غِشَاوَۃٌ چ وَّ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ۔ 
ترجمہ: بیشک وہ لوگ جن کی قسمت میں کفر ہے ان کے لئے برابر ہے کہ آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں،یہ ایمان نہیں لائیں گے۔اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہرلگادی ہے اور ان کی آنکھوں پرپردہ پڑا ہواہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔
اللہ نے لفظ استعمال کیا ہے ’’ختم‘‘۔ اس سے مراد سِیل(مہر) ہے۔ جب کسی چیز کو مہر لگی ہو تو پھر کوئی نہیں کھول سکتا۔ جب مہر لگ جاتی ہے تو انسان آنکھ رکھتے ہوئے بھی دیکھ نہیں سکتا، کان رکھتے ہوئے بھی سن نہیں سکتا، دل رکھتے ہوئے بھی سمجھ نہیں سکتا۔ اللہ پاک مزید فرماتا ہے:
لَہُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ بِہَاچ وَ لَہُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِہَاچ وَ لَہُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِہَا ط اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ ط اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ ۔  (سورۃالاعراف۔179)
ترجمہ: ا ن کے ایسے دل ہیں جن کے ذریعے وہ سمجھتے نہیں اور ان کی ایسی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے ایسے کان ہیں جن کے ذریعے وہ سنتے نہیں، یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے،یہی لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
یہاں اللہ نے باطن کی آنکھوں اور کانوں کا ذکر کیا ہے۔ کیونکہ جسم کی آنکھوں اور کانوں سے تو ہر صحت مند آدمی دیکھ اور سن سکتا ہے۔ 

کامل اتباع کیا ہے؟

فرمایا: اتباع سے مراد ظاہر اور باطن دونوں کی اتباع ہوتی ہے۔ صرف ظاہر کی اتباع مکمل اتباع نہیں۔اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مکمل اتباع کرنی ہے تو ظاہر اور باطن دونوں کی کرنی پڑے گی۔ صرف ظاہر کی اتباع کو اتباع نہیں کہا جا سکتا۔

مومن کون ہے؟

قرآنِ مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا ہُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ ۔  (سورۃالبقرۃ۔ 8)
ترجمہ:اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے اور مگر وہ مومن نہیں۔
مومن وہ ہے جو دیکھ کر تصدیق کرتا ہے۔ جو صرف زبان سے کہتا اور دل سے تصدیق نہیں کرتا وہ سمجھتا ہے کہ اللہ کو دھوکہ دے رہا ہے۔ اللہ فرماتا ہے:
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ج  وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ ۔  (سورۃالبقرۃ۔9)
ترجمہ:یہ لوگ اللہ کو اور ایمان والوں کو فریب دینا چاہتے ہیں حالانکہ یہ صرف اپنے آپ کو فریب دے رہے ہیں اور انہیں شعور نہیں۔
یاد رکھیں شعور اور عقل میں فرق ہوتا ہے۔ 

جو باطن کی اصلاح نہیں کرتے:

انسان کی باطن میں چھپی ہوئی بیماریاں ہوتی ہیں اگر انسان ان کی اصلاح نہ کرے تو اللہ وہ بیماریاں بڑھا دیتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے:
فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ فَزَادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًا (سورۃالبقرۃ۔10)
ترجمہ: ان کے قلوب میں بیماری ہے تو اللہ نے اس بیماری کو اور بڑھا دیا ہے۔
جو لوگ اپنی اصلاح کی کوشش نہیں کرتے، اللہ ان کو ڈھیل دیتا رہتا ہے، اس طرح وہ مزید بگڑ جاتے ہیں۔

نبی اکرمؐ کا قرب پانے کا طریقہ:

 فرمایا قرآن میں ہے:
فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْہُمْ اَوْلِیَآئَ حَتّٰی یُہَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط     (سورۃالنسا ۔89)
ترجمہ:آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ان میں سے کسی کو اپنا ولی نہ بنائیں جب تک اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار نہ چھوڑیں۔ 

کسی کو ولی بنانے کا مطلب ہے کہ اسے قریب کرنا۔ اس آیت میں اللہ حضور علیہ الصلوٰۃ ولسلام کو حکم دے رہا ہے کہ اسکو اپنے قریب نہ کریں جو اللہ کے لیے گھر بار قربان نہ کر دے۔ گھر بار تو انسان آخر میں قربان کرتا ہے۔ پہلے مال قربان کرتا ہے، پھر جب سب ختم ہو جائے تو گھر بار قربان کیا جاتا ہے۔ اس لیے گھر بار قربان کر کے ہی انسان اللہ کو پا سکتا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ اپنے پنجابی بیت میں فرماتے ہیں:

ثابت عشق تنہاں نوں لدھا، جنہاں ترٹی چوڑ چا کیتی ھوُ

منافق کو ڈھیل:

اللہ منافق کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ آخری حد تک پہنچیں۔ منافق کبھی مومن نہیں بن سکتا کیونکہ اللہ اس سے توبہ کی توفیق لے لیتا ہے۔ ہاں کافر مسلمان ہو سکتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے:
صُمٌّم بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ  (سورۃالبقرۃ۔ 18)
ترجمہ:یہ بہرے، گونگے، اندھے ہیں پس یہ لوٹ کر نہیں آئیں گے۔

باپ دادا کی راہ چھوڑنی پڑتی ہے:

انسان جب اللہ کی راہ میں چلتا ہے تو اسے باپ دادا کا راستہ چھوڑنا پڑتا ہے تب ہی انسان فلاح پا سکتا ہے۔ 
قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَآ اَلْفَیْنَا عَلَیْہِ اٰبَآئَ نَا (سورۃالبقرۃ۔ 170)
ترجمہ: کہتے ہیں کہ ہم تواس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایاہے۔
اللہ پاک کی ذات نے ہر بندے کا علیحدہ علیحدہ حساب رکھا ہوا ہے۔ اس روز نفسا نفسی کا عالم ہو گا۔ ہر کوئی اپنا جوابدہ ہو گا۔ 

خارجی:

منافق، حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دور میں ہی پیدا ہو گئے تھے۔ اس کی فطری تشکیل حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کے دور میں ہوئی۔ ان منافقوں نے ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ کو شہید کیا۔ یہ خارجی ہیں، ان کا نعرہ تھا ’’اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں‘‘۔ یہی خارجی حضرت  حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دور میں مسلح ہو کر سامنے آئے۔  خلفائے راشدین کو کافر کہتے تھے (معاذاللہ)۔ منافق صحابی نہیں ہوتا، صحابی وہ ہے جو دل و جان سے مان لے۔ خارجیوں اور منافقوں کا آخری گروہ دجال کے ساتھ ہو گا۔ ان کے سر منڈھے ہوئے ہوں گے، ان کے تہبند اونچے ہوں گے اور مونچھیں مونڈھی ہوئی ہوں گی۔ 

حضور نبی اکرمؐ کی ذات سے جڑے رہنا ضروری ہے:

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کا مرکز جلا دیا تھا اور وہ مسجد ضرار تھی۔ کیا وہاں کوئی موسیقی کی محفلیں ہوتی تھیں؟ گرایا نہیں جلایا تھا۔  انہوں نے مسجدِ نبویؐ کو چھوڑ کر اپنی نئی مسجد تیار کر لی تھی، اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات سے علیحدہ کر لیا تھا۔ اصل چیز یہ ہے کہ اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ جوڑ کر رکھنا چاہیے۔ جڑنے کا یہ مطلب نہیں کہ ہر وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔ سارے صحابیؓ ہر وقت تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس نہیں ہوتے تھے، لیکن صحابہ کرامؓ کو پتہ ہوتا تھا کہ ہم نے مسجد ِنبویؐ میں ہی جاناہے اور وہاں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مل لیتے تھے۔ 

والدین بچوں کو خدا بنا لیتے ہیں:

والدین اپنے اولاد کی بندگی کرنے لگ جاتے ہیں۔ والدین پالتے ہی اس لیے ہیں کہ بڈھے وارے (یعنی بڑھاپے میں) ہمیں سنبھال لیں گے۔ یہ تو اللہ کو چھوڑ کو انہوں نے اولاد کو خدا بنا لیا۔ پالنے والا تو اللہ ہے۔ 

طالبِ مولیٰ مائیں:

وہ مائیں گئیں جو بچوں کو کہتی تھیں کہ جاؤ! جا کر مرشد تلاش کرو۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ اکلوتے بیٹے تھے، ماں نے گھر سے نکال دیا کہ جا کر مرشد تلاش کرو۔ حضور غوث پاکؓ کی والدہ نے حضور غوث پاک رضی اللہ عنہٗ کو خود بغداد بھیجا حالانکہ آپ رضی اللہ عنہٗ کے والد  اور نانابھی انتقال فرما چکے تھے۔ اور آپؒ جانتی تھیں کہ آپؒ کا وصال بیٹے کی غیر موجودگی میں ہو گا اس لیے رخصت کرتے ہوئے فرمایا کہ شاید اب ہماری ملاقات نہ ہو سکے۔ 

جنتِ قرب:

ایک وہ جنت بھی ہے جس میں نہ حوریں ہیں نہ نہریں۔ وہ جنتِ قرب ہے۔ وہاں پیغمبر اور اولیا ہوں گے اور اللہ کا دیدار ہو گا۔ اللہ کہے گا مجھے دیکھتے جاؤ۔ 

ربّ العالمین:

اللہ تما م جہانوں کا ربّ ہے۔ عالمین ’’عالم‘‘کی جمع ہے۔ یہ دنیا ایک عالم ہے۔ باقی بھی عالم ہیں۔ علامہ ابنِ عربیؒ اپنی کتاب الفتوحات المکیہ میں بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ طوافِ کعبہ کر رہے تھے تو انہوں نے دیکھا کہ کچھ عجیب و غریب مخلوق بھی طواف کر رہی ہے۔ جب ابنِ عربیؒ نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا: ہم بھی حضرت آدمؑ کی اولاد ہیں، لیکن کسی اور آدم کی۔

حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب’’عین الفقر‘‘میں حدیثِ قدسی لکھتے ہیں کہ اللہ فرماتا ہے: اے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)! میں نے آپ کے باپ آدم ؑسے پہلے ایک آدم کو پیدا کیا اور اسے ایک ہزار سال کی عمر عطا کی۔ جب اس کا انتقال ہو گیا تو میں مزید 15000 آدم پیدا کیے اور ہر ایک کو دس ہزار سال کی عمر عطا کی۔ پھر اس آدم کو پیدا کیا جس کی تم اولادہو۔ 

موت کے وقت حقیقت کا کھلنا:

جب انسان مرنے لگتا ہے تو اللہ اس کی زبان بند کر دیتا ہے اور اس پر سب حقیقت کھول دیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ 

قیامت کن پر قائم ہو گی؟

قیامت مومن پر قائم نہیں ہو گی۔ قیامت سے پہلے ہوا چلے گی اور جو مومن بھی سانس لے گا اس کا وصال ہو جائے گا۔ اس طرح قیامت بدترین بندوں پر قائم ہو گی۔ (مستدرک 8519)  

حضرت عیسیٰؑ:

حضرت عیسیٰؑ بطور پیغمبر بھی اٹھیں گے اور بطور امتی بھی۔ حضرت عیسیٰؑ  کی عمر سب انبیا سے لمبی ہے کیونکہ جب سے آپؑ آسمانوں پر اٹھائے گئے تو آپؑ کی روح آپ کے جسم کے اندر ہی ہے۔ 

انسان کی حقیقت:

انسان کی روح اللہ کی روح سے ہے۔اللہ نے جب فرشتوں کو سجدے کا حکم دیا تو فرمایا:
فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِیْنَ۔  (سورۃص۔72)
ترجمہ: پھر جب میں اسے تیار کر لوں اور اس میں اپنی روح پھونکوں تو تم اس کے لیے سجدے میں گرجانا۔

(جاری ہے)

 
 
 

17 تبصرے “بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین) Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen

  1. بہت شکریہ۔ بزم سلطان العاشقین کو شائع کرنے کا۔ بے حد فائدہ حاصل ہوتا ہے

  2. زادِراہ کے بغیر تو کوئی سفر طے نہیں ہوتا۔ جس کے پاس تقویٰ نہیں وہ اللہ کی راہ نہیں چل سکتا۔ وہ رجعت کھا کر ہمیشہ کے لیے گرجاتا ہے۔

  3. سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے فرمایا
    اتباع سے مراد ظاہر اور باطن دونوں کی اتباع ہوتی ہے۔ صرف ظاہر کی اتباع مکمل اتباع نہیں۔اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مکمل اتباع کرنی ہے تو ظاہر اور باطن دونوں کی کرنی پڑے گی۔ صرف ظاہر کی اتباع کو اتباع نہیں کہا جا سکتا۔

  4. ثابت عشق تنہاں نوں لدھا، جنہاں ترٹی چوڑ چا کیتی ھوُ

  5. اللہ پاک کی ذات نے ہر بندے کا علیحدہ علیحدہ حساب رکھا ہوا ہے۔ اس روز نفسا نفسی کا عالم ہو گا۔ ہر کوئی اپنا جوابدہ ہو گا۔

  6. اللہ منافق کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ آخری حد تک پہنچیں۔ منافق کبھی مومن نہیں بن سکتا کیونکہ اللہ اس سے توبہ کی توفیق لے لیتا ہے۔

  7. کفار اور منافقین:
    آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا: سورۃ البقرۃ کی شروع کی آیات میں اللہ نے کفار سے زیادہ منافقین پر جلال فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ منافقین نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کفار سے زیادہ تنگ کیا۔ سورۃ البقرۃمیں شروع کے رکوع میں جہاں کفار کے متعلق صرف دو آیات ہیں وہیں منافقین کے متعلق تیرہ آیات ہیں۔ کافر سے بدتر منافق ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں