عشقِ حقیقی میں ہجر و فراق کی اہمیت Ishq-e-Haqeeqi main Hijr-o-Firaq ki Ahmiyat

4.9/5 - (28 votes)

عشقِ حقیقی میں ہجر و فراق کی اہمیت
 Ishq-e-Haqeeqi main Hijr-o-Firaq ki Ahmiyat

تحریر: فاطمہ برہان سروری قادری

عشق کائنات کی وہ بے پناہ قوت ہے جو ذرّے ذرّے میں سمائی ہوئی ہے اور جب یہ اپنی معراج کو پہنچتا ہے تو اسے عشقِ حقیقی کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ محض بشری جذبوں کا فانی اظہار نہیں بلکہ روحِ کلیُ کی وہ تشنگی ہے جو اسے اپنے ازلی مبدا اپنے خالقِ حقیقی کی جانب بیتابانہ کھینچتی ہے۔ اس روحانی معراج کا ایک ایسا مرحلہ بھی ہے جو سراسر کرب اور تپش کا ہے۔ یہ مقام، مقامِ ہجر و فراق ہے۔ یہ مقام نہ صرف طلبِ جستجو کو بڑھاتاہے بلکہ خود آگاہی کی وہ بھٹی ہے جہاں سالک کا نفس پگھل کر کندن بنتا ہے۔ ہجر کی یہ آگ ہی اس کے دل سے دنیاوی آلائشوں اور نفسانی حجابات کو جلا کر راکھ کرتی ہے تاکہ وہ ذات ِالٰہی کی لازوال معرفت کے لیے تیار ہو سکے۔ یہی ہجر دراصل وصل کی تمہید، فنا کی سیڑھی اور بقاکا پیش خیمہ ہے۔

ہجر و فراق 

یہ صرف مرشد کامل سے دوری کا ایک بشری احساس نہیںبلکہ یہ روحِ ازل کی ایک پکار ہے ۔ایک ایسا کرب جو قلبِ عاشق کو تڑپا کر بیدار کرتا ہے۔ صوفیا اور عرفا کے نزدیک یہ دردِ ہجر محض ایک ذاتی کیفیت نہیں بلکہ روح کو اپنے اصل کی جانب لوٹنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں شعرا اور عرفا نے دردِ ہجر کو بیان کرنے کے لیے شاعری کا استعمال بھی کیا ہے۔ شاعری ایک روحانی آئینہ بن جاتی ہے جو اس کرب کو لفظوں میں ڈھالتی ہے اور وہ سوزو گداز جو دل کی اتھاہ گہرائیوں میں پنہاں ہوتا ہے، حرف و صدا بن کر فضا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ ان کا ہر مصرعہ ایک آہ اور ہر شعر ایک فریاد ہوتا ہے۔

مولانا جلال الدین رومیؒ، جو عشقِ الٰہی کے بڑے ترجمانوں میں سے ایک ہیں، نے اپنی لازوال تصنیف ’مثنوی معنوی‘ کا آغازہی ہجر و فراق کے درد سے کیا ہے۔ مثنوی کے آغاز میں وہ بانسری کی مثال دیتے ہیں جو اپنے جنگل (اصل) سے کاٹے جانے کے بعد اپنے وجود کے ہر سرُ میں جدائی کی فریاد کرتی ہے۔ یہ بانسری دراصل روحِ انسانی کی علامت ہے۔

بشنو از نے چون حکایت می کند
از جدائی ہا شکایت می کند
کز نیستان تا مرا ببریدہ اند
از نفیرم مرد و زن نالیدہ اند

ترجمہ:سنو بانسری سے کہ وہ کیا حکایت کر رہی ہے، جدائیوں کی شکایت کر رہی ہے! جب سے مجھے جنگل سے کاٹا گیا ہے، میری فریاد سے مرد اور عورت سب رو رہے ہیں۔

سینہ خواہم شرحہ شرحہ از فراق
تا بگویم شرحِ درد اشتیاق

ترجمہ: مجھے فراق سے ٹکڑوں میں بٹا ہوا سینہ چاہیے تاکہ میں اشتیاق کے درد کی شرح بیان کر سکوں۔

حضرت بلھے شاہؒ کے کلام میں بھی عشقِ حقیقی اور ہجر و فراق کا درد نمایاں ہے۔ بلھے شاہؒ کے نزدیک ہجر و فراق محض دوری نہیں بلکہ محبوب کی محبت میں ایسی کیفیت ہے جہاں عاشق دنیا و مافیہاسے بے خبر ہو کر محبوب کی یاد میں مست ہو جاتا ہے اور اس کی تڑپ میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتا ہے۔ ان کی مشہور کافی ’’تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا‘‘ ہجرکی اس شدت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی والہانہ جذباتی کیفیت کی عکاسی ہے،جہاں عشق کا درد انسان کو روگ پر مجبور کر دیتا ہے۔

تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا
تیرے عشق نے ڈیرا میرے اندر کیتا
بھر کے زہر پیالہ میں تاں آپے پیتا
جھب دے بوہڑیں وے طبیبا نئیں تاں میں مر گئی آں

ترجمہ: اے محبوب! میرے دل میں تیری محبت نے ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ یہ زہر کا پیالہ بھی میں نے خود ہی پیا ہے۔ اب میری حالت اس طرح کی ہے کہ اگر طبیب نے میری خبر نہ لی تو میں مر جاؤں گا ۔میں اپنے محبوب کی محبت میں دیوانوں کی طرح رقص کر رہا ہوں۔

علامہ اقبالؒ کے کلام میں جہاں فلسفۂ خودی، ملتِ اسلامیہ کا احیااور شاہین کی پرواز جیسے موضوعات نمایاں ہیں وہیں آپؒ نے عشقِ حقیقی میں ہجر و فراق کی کیفیت کو بھی بڑی گہرائی اور بصیرت سے بیان کیا ہے۔ اقبالؒ کے نزدیک ہجر محض محبوب سے دوری نہیں بلکہ اپنی حقیقت سے غفلت، روحانی جدائی اور اللہ تعالیٰ سے قربت کا استعارہ ہے۔ ان کے اشعار میں یہ ہجر نہ صرف دل کو بے چین کرتا ہے بلکہ سالک کو مزید قربِ الٰہی کی جستجو میں متحرک بھی کرتا ہے۔

گرمی آرزو فراق، شورش ہائے و ہوُ فراق
موج کی جستجو فراق، قطرے کی آبرو فراق

(بالِ جبریل)

ترجمہ: عشقِ حقیقی میں ہجر و فرا ق کی کیفیت ہی سب سے اہم ہے۔ آرزو اور خواہش اسی کیفیت میں برقرار رہتی ہیں اور تمام نالہ و فریاد بھی اسی کے دَم سے زندہ ہیں۔ پانی کی لہر ہو یا قطرہ سب کی آرزو فراق ہی ہے کیونکہ اسی جذبہ ٔفراق سے شوقِ وصل بڑھتا ہے اور قطرہ سمندر میں جا ملتا ہے۔

عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراق
وصل میں مرگِ آرزو، ہجر میں لذتِ طلب

 (بالِ جبریل)

اس شعر میں علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سوز و ساز کے عالم میں فراق وصل سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ وصل میں آرزو ختم ہو جاتی ہے جبکہ ہجر میں طلب اور جستجو کی لذت باقی رہتی ہے۔

علامہ اقبالؒ ایک اور جگہ شدتِ ہجر و وصل کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبینِ نیاز میں

امیر خسرو کی تحریروں میں ہجر وفراق کا وہ درد موجود ہے جو عاشق کو  سوز میں مبتلا کرتا ہے۔

از فراقت زندگانی چوں کنم
با چنیں غم شادمانی چوں کنم

ترجمہ:میں تیری جدائی میں کیسے زندگی گزاروں! میں غم میں خوشی کا اظہار کیسے کروں!

خبرم رسیدہ امشب کہ نگار خواہی آمد
سر من فدائے راہ کہ سوار خواہی آمد

ترجمہ: خبر ملی ہے کہ آج کی رات محبوب آئے گا۔ میرا سر اس کی راہ میںقربان جس راستہ سے وہ سوار ہو کر آئے گا۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کا کلام عشقِ حقیقی،فقر اور مرشد کی اہمیت پر مبنی ہے۔ ان کے کلام میں مرشد سے دوری اور اس کے ہجرکادرد بھی بڑی شدت سے بیان ہوا ہے کیونکہ مرشد کو اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا وسیلہ سمجھاجاتاہے۔ مرشد کے ہجر کا درد دراصل روحانی تشنگی اور قربِ الٰہی کی تڑپ کی عکاسی کرتا ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں:

اَکھیں سرخ موہیںتے زردی، ہر ولوں دل آہیں ھوُ
مہا مہاڑ خوشبوئی والا، پہونتا ونج کداہیں ھوُ

عشق مشک نہ چھپے رَہندے، ظاہر تھین اُتھاہیں ھوُ
نام فقیر تنہاندا باھوؒ، جنہاں لامکانی جائیں ھوُ

مفہوم: عشقِ الٰہی کی شدت نے شوقِ دیدار کو اور بڑھا دیا ہے۔ یارِ حقیقی کے ہجر و فراق کے غم میں جسم زرد ہے، آنکھوں میں غم کے آنسو ہیں اور ہر سانس کے ساتھ یارِ حقیقی کی جدائی میں دردِ ہجر اور فراق سے ایک ’آہ‘ نکلتی ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ عشق اور مشک کبھی بھی چھپے نہیں رہتے، پس ہمارا حال سب پر عیاں ہے۔ فقیر تو وہ ہے جس کا مقام لامکان ہے۔

ارواح کا ذاتِ حق تعالیٰ سے ہجر و فراق

ہجرو فراق کی اصل جڑیں قرآنِ کریم کے اس بنیادی تصور میں پیوست ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے عالمِ ارواح میں تمام انسانوں کی ارواح سے عہد لیا تھا۔ وہ عشق کا سماں تھا، وہ وقتِ وصل تھا جب روحیں اپنے ربّ کے قرب میں تھیں اور اس کی ذات کا بلاواسطہ مشاہدہ کر رہی تھیں۔ اس کی دلیل سورۃ الاعراف کی یہ آیت ہے:
ترجمہ :(یاد کیجئے!) جب آپ کے ربّ نے اولادِ آدم کے پشتوں سے  ان کی نسل نکالی اور اُن کو اُنہی کی جانوں پر گواہ بنایا (اور فرمایا) کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ وہ (سب) بول اُٹھے:کیوں نہیں! (تو ہی ہمارا ربّ ہے) ہم گواہی دیتے ہیں تاکہ قیامت کے دن یہ( نہ) کہو کہ ہم اس عہد سے بے خبر تھے ۔ (سورۃ الاعراف۔172)

مذکورہ بالا آیت میں’’یومِ اَلست‘‘ کا یہ عہد صوفیا کے نزدیک ہجر کی وہ ابتدا ہے جس کے بعد روحیں اس دنیا میں بھیجی گئیں اور وہ اپنے ازلی محبوب سے جدا ہو گئیں۔ دنیاکی زندگی اس ہجر کی ایک طویل داستان ہے اور انسان کی بے چینی، بے قراری اور روحانی تڑپ اس پرانے تعلق کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش ہے۔ محبوبِ حق تعالیٰ سے اس دوری کے باعث ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’مومن کے لیے یہ دنیا ایک قید خانہ ہے۔‘‘ جس طرح ایک قیدی قید میں تڑپتا ہے اسی طرح مومن وصلِ الٰہی کے لیے اس دنیا کے قید خانہ میں تڑپتا ہے۔

حضرت سخی سلطان باھوؒ کے کلام میں عہدِ الست کا ذکر ملتا ہے۔ ان کے ابیات میں اس عہد کا تصور اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی کیفیت یعنی حق تعالیٰ سے جدائی اور اس کی تڑپ بہت گہرائی سے موجود ہے۔ ان کا کلام ازلی محبوب سے وصال کی آرزو کی داستان ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ  سنیا دل میرے، جند قَالُوْا بَلٰی  کوکیندی ھوُ
حب وطن دی غالب ہوئی، ہک پل سون نہ دیندی ھوُ
قہر پوے تینوں راہزن دنیا، تو تاں حق دا راہ مریندی ھوُ
عاشقاں مول قبول نہ کیتی باھوؒ، توڑے کر کر زاریاں روندی ھوُ

مفہوم: روزِ ازل جب سےاَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ (کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں) سنا ہے اس وقت سے میری روح مسلسل قَالُوْا بَلٰی  (بیشک تو ہی ہمارا ربّ ہے) پکار رہی ہے۔ دنیا میں آنے کے بعد بھی مجھ پروطن (عالم ِلاھوت) کی محبت اِس قدر غالب ہے کہ ایک لمحہ بھی چین اور سکون نہیں ہے۔ اے راہزن دنیا! تجھ پر قہر نازل ہو کیونکہ تو حق تعالیٰ تک جانے کی راہ میں حائل ہے۔ یہ دنیا خوا ہ کتنی ہی رنگین اور دلکش کیوں نہ ہو جائے، عاشقینِ ذاتِ الٰہی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اوراپنی منزل وصالِ الٰہی تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔

تجلیاتِ قبض اور ہجر و فراق کی بے چینی

قبض و بسط کی کیفیات صاحبِ حال کے لیے ہیں جو اسمائے الٰہی ’القابض‘ اور ’الباسط ‘ کی تجلیات سے وارد ہوتی ہیں۔ہجر و فراق کی کیفیات کی بات کریں تو اکثر طالب اس حال سے تب گزرتے ہیں جب ان پر تجلیاتِ قبض وارد ہوتی ہیں۔ اس شدید بے چینی کی حالت میں طالب کا نفس مغلوب ہوتا ہے جس کے نتیجے میں اس کے اور اللہ کے درمیان سے ایک حجاب دور ہو جاتا ہے۔ جب طالب پر سے حجابِ نفس ہٹ جاتا ہے تو تجلیاتِ قبض تجلیاتِ  بسط میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور ہجر و فراق کا درد و سوز وصل و دیدار کی خوشی، مسرت اور راحت وسکون میں بدل جاتا ہے۔ راہِ فقرمیں طالبِ مولیٰ حالتِ  قبض و بسط سے گزر رہا ہوتا ہے اس لیے کبھی اس پر ہجر کی بے چینی اور کبھی وصل کی خوشی ظاہر ہوتی ہے۔

مقامِ تجریدو تفرید

ہجر و فراق کا درد جب شدت اختیار کرتا ہے توطالب پر تنہا ہو جانے کی کیفیت غالب رہتی ہے، کبھی وہ نفس سے دور اور کبھی اغیار سے دور ہو جاتا ہے۔ تصوف کی زبان میںیہ کیفیت مقامِ تجرید و تفرید کے دوران سالک پر وارد ہوتی ہے ۔سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی تصنیف مبارکہ’’ شمس الفقرا‘‘ میں اس کے متعلق لکھاہے:
 تجرید یہ ہے کہ طالب (سالک) ہر ایک مقام اور تعلق سے نکل کر تنہا ہو گیا۔ نفس، شیطان اور تمام ماسویٰ اللہ سے اس نے خلاصی پا لی اور بارگاہِ الٰہی میں منظور ہو کر نفسِ مطمئنہ حاصل کر لیا۔ مقامِ حضوری اس کے مدنظر رہتا ہے، اس مقام پر شیطان نہیں پہنچ سکتا۔ (شمس الفقرا)

 سیدّنا غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں :
تجرید سے مراد صفاتِ بشریت سے مکمل فنا ہے اور اس عالم میں صفاتِ الٰہی سے متصف ہو کر بقا حاصل کرنا ہے۔ (سرالاسرار فصل 15)

تفرید یہ ہے کہ طالب اغیار کے ساتھ ساتھ اپنے وجود سے بھی دوری یعنی نفی کر دے۔اپنے ذاتی ارادہ اور اختیار سے بھی فنا حاصل کر لے اور اپنے اندر بھی ذات ِالٰہی کو ہی مؤکل پائے۔ تجرید میں طالب کو دنیا و عقبیٰ کی تمام خواہشات و تعلقات کی نفی کر کے ان سے نجات حاصل کرنی ہوتی ہے جبکہ تفرید میں اسے اپنی ذات کی نفی کرنی ہوتی ہے۔ تجرید پہلے ہے تفرید بعد میں اور توحید (فنا فی اللہ بقا باللہ) تک پہنچنے کے لیے یہ دو مقامات طے کرنے لازم ہیں۔(شمس الفقرا)

ہجر و فراق دراصل ابدی وصال کا وسیلہ ہے

جب طالبِ مولیٰ مرشد کے ہجر میں تڑپتا ہے اور قرب و وصال کی آرزو میں خود کو فنا کر دیتا ہے تو اس کا یہ ہجر و فراق کا در ددَراصل ابدی وصال کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ سفرایک دریا کی مانند ہے جو سمندر میں مل کر اپنا آپ ختم کر دیتا ہے لیکن حقیقت میں وہ سمندر کا حصہ بن کر ابدی ہو جاتا ہے۔ صوفیا کرام فرماتے ہیں کہ اس مقام پر عاشق کا سونا، جاگنا، دیکھنا اور سننا سب کچھ محبوب کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ اس کی اپنی خواہشات اور ارادے ختم ہو جاتے ہیں اور وہ محبوب کی رضا میں اس طرح فنا ہو جاتا ہے کہ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے محبوب کی ہی مرضی ہوتی ہے۔ یہ ہجر ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو خواہشاتِ نفس و دنیا سے پرے لے جا کر ابدیت اور لا محدودیت یعنی بقاباللہ سے آشنا کراتا ہے۔ ہجر کی انتہا ہی وصال کی ابتدا ہے۔

امیر خسروؒ اس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
جب طالبِ مولیٰ وصل کی آگ میں اپنی ذات اور خود ی کو ختم کر دیتا ہے تو اس میں’ میںاورتو‘کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔

من تو شدم تو من شدی، من تن شدم تو جاں شدی
تاکس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری

ترجمہ: میں تو بن گیا اور تو میں بن گیا۔ میں تن بن گیا اور توجان بن گیا تاکہ اس کے بعد کوئی نہ کہے کہ میں اور ہوں اور تُواور۔

حاصلِ کلام

 عشقِ حقیقی کے سفر میں ہجر و فراق کی جڑیں عہدِاَلست میں پیوست ہیں۔ جب ارواح نے اپنے خالق سے ہجر کی قید میں ا ٓکر اس دنیا میں قدم رکھا۔ اپنے اصل سے وصل کے لئے طالبِ مولیٰ اسی دنیا میں عشق کا سفر طے کرتا ہے۔ یہ سفر کامل مرشد کی رہنمائی کے بغیر ممکن نہیں۔ اس سفرِعشق میں باطنی تربیت کے لئے مرشد سے ہجر، ظاہری قرب سے دوری درحقیقت باطنی و ازلی تربیت کا باعث بنتی ہے۔ یہ فراق وہ آگ بن جاتی ہے جو طالب کو کندن بناتی ہے اور دل کی تاریکیوں کو روشن کرتی ہے۔ اسی باطنی تربیت کے ذریعے طالب ہجر من یعنی فنا کے امتحان سے گزرتا ہے۔ دراصل ہجر کا جلال ہی وصل کی نقیب بنتاہے۔ وفا شعار طالبِ مولیٰ ان جلالی تجلیات کو سہتے سہتے فنا میں پوشیدہ بقا کے راز کو پا لیتا ہے۔ ہجر کی جلالی تجلیات طالب میں ایسی روحانی شدت پیدا کرتی ہیں جو روح کو پاک کر کے اسے اعلیٰ درجات پر فائز کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں لازوال عشقِ حقیقی عطا فرمائے۔ آمین

استفادہ کتب :
شمس الفقرا: تصنیفِ لطیف سلطان الفقر ہفتم، سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
مثنوی معنوی : تصنیف مولانارومؒ، مترجم مولانا قاضی سجاد حسین صاحب
 ابیاتِ باھوؒ کامل: تحقیق، ترتیب و شرح
کلیاتِ اقبالؒ
کلام بابابلھے شاہؒ:  مرتب سمیع اللہ برکت

 

12 تبصرے “عشقِ حقیقی میں ہجر و فراق کی اہمیت Ishq-e-Haqeeqi main Hijr-o-Firaq ki Ahmiyat

  1. مولانا جلال الدین رومیؒ، جو عشقِ الٰہی کے بڑے ترجمانوں میں سے ایک ہیں، نے اپنی لازوال تصنیف ’مثنوی معنوی‘ کا آغازہی ہجر و فراق کے درد سے کیا ہے۔ مثنوی کے آغاز میں وہ بانسری کی مثال دیتے ہیں جو اپنے جنگل (اصل) سے کاٹے جانے کے بعد اپنے وجود کے ہر سرُ میں جدائی کی فریاد کرتی ہے۔ یہ بانسری دراصل روحِ انسانی کی علامت ہے۔

  2. اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں لازوال عشقِ حقیقی عطا فرمائے۔ آمین

  3. عشق کائنات کی وہ بے پناہ قوت ہے جو ذرّے ذرّے میں سمائی ہوئی ہے اور جب یہ اپنی معراج کو پہنچتا ہے تو اسے عشقِ حقیقی کا نام دیا جاتا ہے۔

  4. تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا
    تیرے عشق نے ڈیرا میرے اندر کیتا

  5. امیر خسروؒ اس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    جب طالبِ مولیٰ وصل کی آگ میں اپنی ذات اور خود ی کو ختم کر دیتا ہے تو اس میں’ میںاورتو‘کا فرق ختم ہو جاتا ہے

  6. تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا
    تیرے عشق نے ڈیرا میرے اندر کیتا
    بھر کے زہر پیالہ میں تاں آپے پیتا
    جھب دے بوہڑیں وے طبیبا نئیں تاں میں مر گئی آں

  7. جب طالبِ مولیٰ وصل کی آگ میں اپنی ذات اور خود ی کو ختم کر دیتا ہے تو اس میں’ میں اورتو‘کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔

  8. اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں لازوال عشقِ حقیقی عطا فرمائے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں