یا رب دلِ مسلم کو زندہ تمنا دے ! Ya Rab Dil-e-Muslim ko Zinda Tamanna Dy

Rate this post

یا رب دلِ مسلم کو زندہ تمنا دے !

 Ya Rab Dil-e-Muslim ko Zinda Tamanna Dy

تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری

شاعر ِمشرق ، حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ صرف شاعر ہی نہیں بلکہ ایسے مردِ قلندر ہیں جن کا آفاقی کلام متلاشیانِ حق میں طلب ِمولیٰ کی تڑپ پیدا کرتا ہے۔ آپؒ وہ دیدہ ور ہیں جنہوں نے امت ِمسلمہ کے زوال کا سبب عشق ِالٰہی اور روحانیت سے دوری قرار دیا ہے۔ آپؒ کی شاعری کا مرکز ومحور ’قلب‘، ’من‘، ’دل‘، ’باطن، ’روح‘ اور ’خودی‘ ہے۔ آپؒ کے نزدیک جب تک قلب بیدار نہ ہوتب تک نہ سجدوں میں تڑپ پیدا ہوتی ہے اور نہ کوئی انقلاب پیدا ہوتا ہے ۔ 

علامہ اقبالؒ کی نظم ’’یا ربّ دلِ مسلم کو زندہ تمنا دے‘‘ محض چند اشعار کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک تڑپتے ہوئے دل کی پکار اور بارگاہِ ایزدی میں پیش کی گئی عاجزانہ عرضداشت ہے ۔ اس نظم میں اقبالؒ نے اس ’زندہ تمنا‘ کا سوال کیا ہے جو انسان کو مادہ پرستی کی قید سے نکال کر معرفتِ الٰہی کی وسعتوں میں لے جاتا ہے۔

زندہ تمنا کیا ہے؟  

یا ربّ دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے 

علامہ اقبالؒ نے بارگاہ ِالٰہی میں جس ’’زندہ تمنا‘‘ کی التجا کی ہے وہ محض ایک لفظی دعا نہیں بلکہ روح کی وہ تڑپ ہے جو انسان کو مادہ پرستی کے اندھیروں سے نکال کر نورِ حق سے روشناس کرواتی ہے ۔

زندہ تمنا کیا ہے ؟ کیا مال و دولت کی فراوانی کے لیے تگ و دو کرنایا اچھی تعلیم، اچھا رہن سہن یا محض پانچ وقت کی نماز یہ سب زندہ تمنا   ہیں؟ کیا ان سب کے حصول سے قلب بیدار ہو جاتا ہے؟ روح میں وہ قوت پیدا ہو جاتی ہے جس وہ اپنے حقیقی وطن عالم ِلاھوت کی طرف پرواز کرتی ہے۔ زندہ تمنا کیا ہے؟ زندہ تمنا سے مراد طلب ِمولیٰ ہے۔  یہی وہ طلب ہے جو قلب کو بیدار اور روح کو بے قرار کرتی ہے۔ قرآن میں بھی طلب ِمولیٰ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:
٭ وَّ کُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَۃً ٭  فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ لا مَآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ  ٭  وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ لا مَآ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ ٭ وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ  ٭ اُولٰٓئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ  ٭  فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْم٭ (سورۃ الواقعہ ۔7-12)
ترجمہ: اور تم لوگ تین قسموں میں بٹ جاؤ گے۔ سو (ایک) دائیں جانب والے، دائیں جانب والوں کا کیا کہنا۔ اور (دوسرے) بائیں جانب والے، کیا (ہی برُے حال میں ہوں گے) بائیں جانب والے۔ اور (تیسرے) سبقت لے جانے والے، (یہ) پیش قدمی کرنے والے ہیں۔ یہی لوگ (اللہ کے) مقرب ہوں گے۔ نعمت کے باغات میں (رہیں گے)۔

اس آیتِ کریمہ میں جس سبقت لے جانے والے گروہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ طالبانِ مولیٰ ہیں ۔
٭ حضرت ابو درداؓ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کے دائیں کندھے پر ہاتھ مار کر ایک روشن مخلوق چونٹیوں کی طرح باہر نکالی، پھر بائیں کندھے پر ہاتھ مار کر کوئلے کی طرح سیاہ ایک اور مخلوق نکالی اور دائیں ہاتھ والوں کے لیے فرمایا کہ یہ جنت کے لیے ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور بائیں ہاتھ والوں کے لیے فرمایا کہ یہ جہنم کے لیے ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔‘‘ (مسند احمد 28036)

اس حدیثِ مبارکہ سے پتا چلتا ہے کہ طالبانِ مولیٰ کی صفت یہ ہوتی ہے کہ نہ تو ان کی عبادت کا مقصد و محور جنت کی نعمتیں ہوتی ہیں اور نہ جہنم کے خوف سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ تو بس اللہ کے سچے عاشق اور طالب ہوتے ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :
٭ جو شخص کسی چیز کی طلب کرتا ہے وہ اس میں کبھی بھلائی نہیں پاتا اور جو شخص مولیٰ کی طلب کرتا ہے اس کے لیے سب کچھ ہے ۔
٭ بہترین طلب اللہ تعالیٰ کی طلب ہے اور بہترین ذکر ’اللہ‘ (یعنی اسم ِاللہ ذات ) کا ذکر ہے ۔ 

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے :
٭ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت جنت کی طلب یا دوزخ کے خوف سے نہیں کرتا بلکہ میں اللہ کی عبادت اس لیے کرتا ہوں کیونکہ وہی عبادت کے لائق ہے ۔  

پھر وادیِ فاراں کے ہر ذرّے کو چمکا دے
پھر شوقِ تماشا دے پھر ذوقِ تقاضا دے 

علامہ اقبالؒ کے اس روحانی کلام کا مقصد امتِ مسلمہ کو غفلت کی نیند سے جگانا ہے، ان میں وہ عشقِ الٰہی اور طلبِ مولیٰ کا جذبہ بیدار کرنا جس کی بدولت ماضی میں مسلم امت دنیا کی مضبوط ترین، ترقی یافتہ، ہدایت یافتہ اور پاکیزہ قوم بن کر اُبھری تھی۔ ان کا ماضی ایسی عظیم مثالوں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ اللہ کے حضور دعاگو ہیںکہ اے اللہ! جس طرح ابتدائے اسلام میں غارِ حرا سے ہدایت کا نور چمکا تھا اور عرب کے بدؤوںنے دنیاکی تقدیر بدل دی تھی۔۔۔ الٰہی! دوبارہ مسلمانوں میں وہ جذبہ بیدار کر دے۔ ’’وادیٔ فاراں ‘‘مکہ مکرمہ اور اسلام کے طلوع کی سر زمین ہے۔

علامہ اقبالؒ امتِ مسلمہ میں شوقِ تماشا یعنی دیدارِ حق تعالیٰ کے جذبہ اور اپنے ربّ سے مناجات و طلب کاذوق بیدار ہونے کی دعا کر رہے ہیں ۔ یہی وہ جذبہ ہے جو حضرت مو سیٰ علیہ السلام کے پاس کوہ ِ طور پر تھا۔ قرآنِ کریم میں بھی جا بجا مسلمانوں کو اس جذبہ کی طرف ترغیب دلائی گئی ہے ۔
٭ اَتَصْبِرُوْنَ ج  وَ کَانَ رَبُّکَ بَصِیْرًا ٭ (سورۃ الفرقان۔ 20)
ترجمہ: آیا تم صبر کیے بیٹھے ہو ؟(اور اللہ کی طرف بڑھنے کی کوشش نہیں کر رہے ہو ؟) حالانکہ تمہارا ربّ تمہاری طرف دیکھ رہا ہے۔ 

حدیثِ مبارکہ ہے :
٭ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ ہم لوگ رسولؐ اللہ کے پاس بیٹھے تھے ، آپ ؐ نے چودھویں تاریخ کے چاند کو دیکھ کر فرمایا ’’جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو اسی طرح تم اپنے پروردگار کو دیکھو گے اور اللہ تعالیٰ کودیکھنے میں تم کوئی اذیت اور تکلیف محسوس نہیں کرو گے۔‘‘ (صحیح بخاری۔ 4851)

دیدارِ الٰہی کے منکر کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں :
٭ جو دیدارِ الٰہی کا انکار کرتا ہے وہ امتِ محمدی میں سے نہیں بلکہ اہلِ خوار میں سے ہے ۔( نور الہدیٰ کلاں )  

محرومِ تماشا کو پھر دیدۂ بینا دے
دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے 

علامہ اقبالؒ کے نزدیک مسلمان روحانی و دینی تنزلی کا شکار ہیں اور اس کی بڑی وجہ طلبِ مولیٰ اور دیدارِ الٰہی کے جذبہ سے دوری ہے ۔ آپ اللہ کے حضور دعا گو ہیں کہ وہ قلب جو نفسانی خواہشات کا محور بن چکے ہیں اور دیدارِ الٰہی جیسی عظیم طلب سے محروم ہیں، اے اللہ! انہیں روحانی بصیرت عطا کر۔ انہیں وہ باطنی بصیرت عطا کر جو اللہ نے مجھے عطا کی ہے ، اُس داغِ عشق سے نوازے جس سے میرا دل ُپر درد رہتا ہے ۔

بھٹکے ہوئے آہوکو پھر سوئے حرم لے چل
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعت ِصحرا دے 

 صوفیانہ اور شعری روایت میں ’’آہو ‘‘ یا ہرن اس انسان کی علامت ہے جو مادی دنیا کی رنگینیوں میں الجھ کر اپنے مرکز سے دور ہو جاتی ہے۔ اور حرم سے مراد مرکزِ توحید، خدا کا گھر، مرکز ِفقر، روحانی پناہ گاہ  یامرشد کامل اکمل کا دَر ہے ۔ یعنی اے الٰہی! وہ دل جو دنیاوی اور نفسانی خواہشات میں الجھ کر حق کے راستہ سے بھٹک گئے ہیں ان کا رُخ جانب ِ حق کر دے۔ انہیں مرشد کامل کے در سے وابستہ کر دے جو ان کا دل توحید کا مرکز اور اللہ کا گھر بنا دے۔ وسعت ِصحرا سے مراد  یہاں بیدار ی ٔ قلب اور فہم و فراست ہے جو کہ مومنین کا خاصہ ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ نے جا بجا کامل مرشد کی تلاش کا حکم اور مرشد کامل کی صفات کا ذکر کیا ہے جو مردہ نفس کو زندہ کر کے توحید سے روشن و منور کر دیتا ہے اور فہم و فراست جیسی دولت عطا کر کے وسعتِ صحرا (فکری و روحانی وسعت) سے نوا ز دیتا ہے۔ آپؒ اپنے پنجابی بیت میں فرماتے ہیں :

مرشد مکہ تے طالب حاجی، کعبہ عشق بنایا ھوُ
وچ حضور سدا ہر ویلے، کرئیے حج سوایا ھوُ

وسعتِ صحرا نفس سے آزادی اور غیر اللہ سے بے خوف ہونے کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اوربندہ بے خوف تبھی بنتا ہے جب وہ تمام غیر اللہ کے بتوں کو توڑ دیتا ہے ۔

پیدا دلِ ویراں میں پھر شورشِ محشر کو
اس محل خالی کو پھر شاہدِ لیلا دے
اس دور کی ظلمت میں ہر قلبِ پریشان کو
وہ داغِ محبت دے جو چاند کو بھی شرما دے 

انسان کا دل ویران کب ہوتا ہے؟ انسان کا دل ویران اور قلب پریشان تب ہوتا ہے جب وہ ذکر ِاللہ سے غافل ہوتا ہے کیونکہ  قرآنِ کریم میں بھی ذکر ِاللہ کو دلوں کا سکون کہا گیا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
٭ اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ٭ (سورۃ الرعد ۔28)
ترجمہ: بیشک ذکر اللہ (ذکر اسم اللہ ذات ) سے ہی قلب (روح) کو اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے ۔ 

٭ وَ اذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن ٭  (سورۃ الجمعہ۔ 10)
ترجمہ: اور کثرت سے اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔ 

جو سانس اللہ کے ذکر کے بغیر نکلے اسے مردہ قرار دیا گیا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :
٭ سانس گنتی کے ہیں اور جو سانس ذکر اللہ کے بغیرنکلے وہ مردہ ہے۔

 حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں :

جو دم غافل سو دم کافر 

علامہ اقبالؒ اللہ کے حضور التجا کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے وہ قلب جو ذکر اللہ سے محروم ہیں ان کے دلوں میں ذکرِ اللہ جاری ہو جائے اور قلب بیدار ہو جائے۔ روزِ محشر انسان نے اپنے تمام اعمال کا حساب دینا ہے اسی طرح اس دنیا میں بھی اسے اس حقیقت کا خوف اور فکر نصیب ہو جائے۔ نفس کی اسی حالت کے متعلق قرآن کریم  میں بیان ہوا ہے :
٭ وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی٭ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاْوٰی٭  ( سورۃ النازعات ۔ 40-41)
ترجمہ:اور لیکن جو شخص اللہ کے روبرو حساب کے لیے کھڑا ہونے سے ڈرا اور اس نے اپنے نفس کو ہوا (خواہشاتِ نفسانی )سے باز رکھا۔ پس ایسے شخص کا ٹھکانہ بے شک بہشت ہے۔

 آپؒ دعا فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو عشقِ الٰہی کی لذت نصیب ہو جائے اور وہ دل جو محبوبِ الٰہی کے جلوؤں اور دیدار سے خالی ہے اس میں محبوبِ الٰہی سما جائے۔ اس نفسانفسی کے عالم میں جتنے پریشان قلب ہیں انہیں ایسا داغِ محبت دے کہ اس کی نورانیت کے سامنے چاند بھی شرما جائے۔ 

رفعت میں مقاصد کو ہمدوشِ ثریا دے 
خود داری ساحل دے آزادی دریا دے 

دنیا میں مسلمان اپنا وقار کھو بیٹھے ہیں، ان کا شاندار ماضی ‘ماضی کا ہی حصہ بن چکا ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ مسلمان پھر سے ایک عظیم قوم بن کر ابھریں۔ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بلندیوں کو چھو لیں۔ اے اللہ! ان کی فکر اور شان و شوکت کو اتنی بلندی عطا کر جوآسمان کو چھو لے۔ ان کے کردار میں ایک طرف تو ’’ساحل کی خودداری‘‘ ہو ۔ یعنی وہ اپنے اصولوں، خودی، شرعی اور اخلاقی حدود پر مضبوطی سے قائم رہیں اور کسی باطل کے آگے نہ جھکیںاور دوسری طرف ان میں دریا کی سی آزادی ہو یعنی وہ تمام مادی فکری، روایتی و نفسانی زنجیروں کو توڑ کر آگے بڑھنے کا سچا جذبہ رکھتے ہوں۔ 

بے لوث محبت ہو بے باک صداقت ہو 
سینوں میں اجالا کر دل صورت مینا دے 

اس شعر  میں تین ایسی صفات کا ذکر کیا جو مومنین کا خاصہ ہے اور علامہ اقبالؒ نے اللہ کے حضور دعا کی ہے کہ مسلمانوں کے قلوب کو ان صفات سے منور کر دے ۔

۱) بے لوث محبت :

یہ مومنین کا خاصہ ہے کہ وہ اللہ اور اس رسول خاتم النبیین حضر ت محمد مصطفی ؐسے سب سے زیادہ محبت فرما تے ہیں۔ قرآنِ کریم میں بھی مومنین کی اس صفت کا ذکر کیا گیا ہے:
٭ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ  (سورۃ البقرۃ۔165)
ترجمہ:اور جو ایمان لائے اللہ کے لیے ان کی محبت بہت شدید ہے۔ 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :
٭ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کے والد ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔
٭ کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے اہل و عیال ، مال اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ 

۲)بے باک صداقت :

بے باک صداقت سے مراد بے خوف و خطر باطل کے سامنے ڈٹ جانا اور حق پر استقامت اختیار کرنا ہے ۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے :
٭ وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَکْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ٭  ( سورۃالبقرۃ۔ 42)
ترجمہ: اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ حق کو چھپاو ٔ، تمہیں توخود اس کا علم ہے ۔
٭ اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ٭ (سورۃ الاحقاف۔ 13)
ترجمہ:بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا ربّ اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے تو ان پر نہ تو کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہونگے ۔

سیدنا غوث الاعظمؓ فرماتے ہیں:
٭ مومن غیر اللہ سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی غیر سے توقع اور امید رکھتا ہے کیونکہ اس کے دل اور باطن میں ایک خاص قوت عطا کی گئی ہے۔ مومن اور صادقین کے دل اللہ کے ساتھ کیسے قوی نہ ہو ں وہ تو اللہ کی طرف پہنچے ہوئے ہیں اور وہ ہمیشہ اس کے پاس رہتے ہیں، صرف ان کا بدن زمین پر ہوتا ہے۔(الفتح الربانی )

۳)روشن اور پاکیزہ قلب:

قلب ِسلیم مومن کی صفت ہے اس کا قلب ایمان اور معرفت کی روشنی سے منور ہوتاہے اور ہر قسم کی نفسانی برائی جیسے حسد، کینہ، تکبر، بغض  سے پاک ہوتا ہے ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
٭ اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ٭  (سورۃ الشعرا۔ 89)
ترجمہ: مگر وہی شخص (نفع مند ہو گا) جو اللہ کی بارگاہ میں سلامتی والے بے عیب دل کے ساتھ حاضر ہوا۔

حاصلِ کلام:

علامہؒ کی شاعری کی سب سے زیادہ خوبصورتی یہ ہے کہ ہر مصرعے میں قرآن کی آیت کا مفہوم موجود ہے۔ جتنا اس روحانی کلام کو پڑھا جائے اتنا ہی اس پر قرآن کے اسرارو رموز روشن ہوتے جاتے ہیں۔
آپؒ نے اس نظم میںربّ کے حضور دعا پیش کی ہے کہ اے اللہ! تو مسلمانوں کو قلب کی بیداری اور روح کی تڑپ، شوقِ تماشا، ذوقِ تقاضا، دیدۂ بینااورداغِ محبت عطا کر۔ اللہ نے علامہ اقبالؒ جیسے عارف کی دعا کو شرفِ قبولیت عطا کیا اور مسلمانوں کے قلب ِپریشان کو دور کی ظلمت سے باہر نکا لنے کے لیے موجودہ دور کے انسانِ کامل، مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کواصلاحِ امت کے لیے بھیجاہے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے درحقیقت عملی سطح پر آپؒ کے کلام کو سچ کر دکھایا ہے اور راہِ ہدایت دکھا کر مردہ دلوں کو زندہ کیا ہے۔ طلب ِمولیٰ اللہ کے ساتھ قلبی تعلق مضبوط کرنے کا نام ہے اور اس تعلق کو مضبوط کرنے کا وسیلہ اور ذریعہ مرشد کامل ہوتا ہے ۔ 

موجودہ دور کے مرشد کامل اکمل سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس اپنے طالبوں میں طلب ِمولیٰ کا جذبہ بیدار کرنے اور اس میں شدت پیدا کرنے کے لیے ذکر و تصوراسم ِاللہ ذات عطا کرتے ہیں اور نفسانی امراض جیسے حسد، کینہ تکبر وغیرہ ان سے پاک کر کے طالب ِمولیٰ کے قلب کو بیدار اور روح میں وصال حق تعالیٰ کی تڑپ پیدا کر رہے ہیں ۔

استفادہ کتب :
۱۔الفتح الربانی: تصنیفِ لطیف سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ
۲۔نور الہدیٰ کلاں: تصنیفِ لطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ   
۳۔شمس الفقرا: تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس
۴۔کلیاتِ اقبالؒ 

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں