فرامین سلطان باھوؒ (اقتباس : عین الفقر )
(Farameen Sultan-ul-Arifeen (Ain-ul-Faqr
قسط نمبر 4
اسمِ اللہ ذات
٭ جو شخص اپنی جان بیچ کر (یعنی اپنا سب کچھ نثار کر کے) اسمِ اللہ ذات خر ید لیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا مشاہدہ کھلی آنکھوں سے کرتا ہے۔
٭ جان لے!جب اللہ تعالیٰ نے (خود کو ظاہر کرنا) چاہا تو اپنے آپ سے اسمِ اللہ ذات کو جدا کیا جس سے نورِ محمدی ظاہرہوا اور جب آئینہ قدرت میں اپنی ہی توحید کو نورِ محمدی کی صورت میں دیکھا تو اپنی ہی صورت پر مائل، مشتاق، عاشق اور فریفتہ ہو گیا اور اپنی ہی بارگاہ سے ربّ الارباب حبیب اللہ کا خطاب پایا۔اور پھر اس نورِ محمد سے اٹھارہ ہزار عالم کی تمام مخلو قات کو پیدا فرمایا۔
٭ جس نے اسمِ اللہ کو اپنا جسم اور جان بنا لیا وہ دونوں جہانوں کے غم سے آزاد ہو گیا۔
٭ جب روزِ محشر لوگوں کی نیکی اور بدی کا حساب ہو گا تو جس کے دل پر اسمِ اللہ نقش ہو گا یا جس نے ایک مرتبہ بھی سچے دل سے اسم ِ اللہ کا ذکر کیا ہو گا، اگراس کے گناہ آسمانوں اور زمینوں کے چودہ طبقات کے برابر بھی ہوئے تو اسمِ اللہ کی برکت سے ترازو کا نیکیوں والا پلڑہ وزنی ہو جائے گا۔
٭ اسمِ اللہ کی شان یہ ہے کہ اگر کوئی تمام عمر روزہ، نماز، حج، زکوٰۃ، تلاوتِ قرآنِ پاک اور دیگر عبادات میں مصروف رہے یا عالم و معلم بن کر اہل ِ فضیلت میں سے ہو جائے مگر اسمِ اللہ اور اسمِ محمدؐ سے بے خبر رہے اور ان اسما ء مبارک کا ذکر نہ کرے تو اس کی زندگی بھر کی عبادت ضائع اور برباد ہو گئی اور اسے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
٭ اے باھُوؒ! جو بھی اسمِ اللہ ذات کو اپنا رفیق بنا لیتا ہے وہ فنا فی اللہ ہو کر اللہ کی ذات میں غرق ہو جاتاہے۔
٭ طالبِ مولیٰ برزخِ اسمِ اللہ یا برزخِ اسمِ محمدؐ سے جو کچھ دیکھے گا (اگر اس پر یقین کرے تو) بے شک صراطِ مستقیم پائے گا۔
٭ جو طالب ایسے مرشد سے روگردانی کرتا ہے وہ یقینا اسمِ اللہ اور اسمِ محمدؐ سے روگردانی کرتا ہے۔
٭ جس نے اسمِ اللہ اور اسمِ محمدؐ سے روگردانی کی اس نے کلمہ طیب سے روگردانی کی اور جس نے کلمہ طیب سے روگردانی کی وہ مرتد ہوگیا اور مرتد کی نماز، روزہ اور کوئی بھی عبادت قبول نہیں ہوتی۔
٭ ہر شخص استاد (مرشد کامل اکمل) سے جو پہلا حرف پڑھتا ہے وہ اسمِ اللہ ہی ہے کیونکہ استاد جب پڑھانا شروع کرتا ہے تو سب سے پہلے جو سبق دیتا ہے وہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ہے اور بِسمِ اللّٰہ حقیقت میں اسمِ اللہ ہی ہے۔
٭ جب مرشد ِ کامل کسی طالب ِمولیٰ کو اسمِ اللہ ذات عطاکرتا ہے تواسے پلک جھپکنے میں عین توحید ِ ذات تک پہنچا دیتا ہے۔
٭ سن! جو فقیر اسمِ اللہ کے ذکرو تصور میں ہر وقت مصروف رہتا ہے وہ اللہ کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ دانا ہو خواہ مجذوب اور دیوانہ۔
٭ اسمِ اللہ کا ورد ہر خاص وعام اور ہر زندہ و جاندار کی زبان پر رہتا ہے۔
٭ اسمِ اللہ ذات اور اس کے ذکر سے منع کرنے والا دو حکمت سے خالی نہیں ہوتا، وہ منافق و کافر ہوتا ہے یا حاسد و متکبر۔
٭ دونوں جہانوں میں راہ دکھانے والا اسمِ اللہ ذات ہے۔
٭ جب طالبِ مولیٰ کے وجود میں ذکر اسمِ اللہ ذات آتا ہے تو تمام خطرات اور وہمات اس کے وجود سے نکل جاتے ہیں۔
٭ تمام علوم ایک ہی لفظ (اسم اللہ) کے باطنی علم میں شامل ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ز اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ( العلق ۔1)
ترجمہ: پڑھ اپنے ربّ کے اسم(اللہ) سے، جس نے تمام مخلوق کو تخلیق کیا۔
قرآنِ مجیدکے نزول کاآغاز اسمِ اللہ ذات سے ہوا جو اللہ کا ذکر ہے۔
٭ قبر میں فرشتے بھی اسمِ اللہ کے بارے میں پوچھیں گے۔
٭ جس شخص کے اعمالنامہ کے اوپر اسمِ اللہ لکھا ہو گا اس کا اعمالنامہ اس کے دائیں ہاتھ میں پکڑایا جائے گا اور جب اعمالنامہ کا ترازو میں وزن کیا جائے گا تو جس پلڑے میں اسم ِاللہ ذات ہوگا وہ پلڑا سب سے بھاری ہو جائے گا۔
٭ جو شخص پل صراط سے گزرتے ہوئے اسمِ اللہ ذات کا ذکر کرے گا، دوزخ اس سے ڈرے گی اور وہ شخص سلامتی سے پل صراط سے گزر جائیگا۔
٭ جب کوئی جنت کے دروازے پر اسمِ اللہ ذات کا ذکر کرے گا تو جنت اس کے لیے اپنا دروازہ کھول دے گی۔
٭ اگرکوئی شخص اسمِ اللہ ذات سے دشمنی رکھتاہے، اس کا مذاق اڑاتاہے یا غصہ کرتاہے وہ لعنتی ہے۔
٭ اسم اللہ ذات سے دشمنی رکھنے والا تین حکمت سے خالی نہیں ہوتا، یا کافر ہوگا یا منافق ہوگا یا فاسق ہوگا۔
٭ اہلِ ذکر کا وجود کم حوصلہ نہیں ہونا بلکہ پاک ہونا چاہیے کہ اسم ِاللہ پاک ہے اور پاک جگہ میں ہی قرار پکڑ تاہے۔
٭ کوئی شخص اپنے مرشد کے حکم سے ذکر کرتا ہے مگر اس کا وجود دنیا کی محبت سے ناپاک ہے تو کچھ دن اسمِ اللہ اس کے اندر تاثیر نہ کر ے گا کیونکہ دنیا کی محبت کی ناپاکی، آلائشوں اور کدورتوں سے اس کے دل کو زنگار لگ چکا ہے اور وہ سیاہ ہو چکا ہے، اسی لیے اس کے دل میں تاریکی ہے۔
٭ سن! اہلِ علم کو قرآنِ پاک میں سے اسمِ اعظم اس لیے نہیں ملتا کہ اسمِ اعظم وجودِ اعظم میں ہی قرار پکڑتا ہے۔ اگر کسی کو اسم ِ اعظم مل بھی جائے اور وہ اس کا ذکر بھی کرتا رہے تو بھی اسمِ اعظم اس پر تاثیر نہیں کرے گا کیونکہ جو وجود ہی بے اعظم ہے اس پر اسمِ اعظم کیا تاثیر کرے؟
٭ اسمِ اعظم صرف فقیرِکامل مکمل اور علمائے عامل کے وجود میں قرار پکڑتا ہے۔
٭ اسمِ اللہ بے بہا قیمتی اور عظیم ہے۔ اس کی حقیقت کو صرف حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جانتے ہیں۔
٭ الف اللہ (اسم اللہ ذات) ہی تیرے لیے کافی ہے تو ’’ب‘‘(دیگر علوم، وظائف اور ذکر اذکار) کی طلب نہ کر۔ اللہ کے سوا تو نے جو بھی پڑھا ہے اسے دل سے نکال دے۔
٭ جس شخص کے وجود میں ذکرِ اسمِ اللہ کے شوق کی تاثیر پیدا ہوتی ہے وہ غیر ماسویٰ اللہ سے خوش نہیں ہوتا۔
٭ اسمِ اللہ ایک طرف اور دونوں جہان ایک طرف بلکہ دونوں جہان اس پر قربان۔
٭ زیر وزبر، عرش و کرسی، لوحِ محفوظ اور کائنات کی ہر چیز اللہ کے ذکر میں مشغول ہے۔
مرشد کامل اکمل
٭ مرشد کامل مکمل وہ ہے جو اسم ِاللہ اور اسم ِمحمد ؐ کی راہ جانتا ہو اور اس کے علاوہ (اللہ کے قرب و دیدار تک پہنچنے کی) دوسری کوئی راہ نہ جانتا ہو۔
٭ مرشدِ کامل کے بغیر اگر کوئی ساری عمر ریاضت کے پتھر سے سر پھوڑتا رہے پھر بھی اسے کوئی فائدہ نہ ہو گا۔
٭ بغیر پیر و مرشد کوئی اللہ تک نہیں پہنچ سکتا کیونکہ باطن کی راہ کے تمام مقامات و منازل سے آگاہ ہوتا ہے اور ہر مشکل کا مشکل کشا ہوتا ہے۔
٭ مرشد جہاز کے تجربہ کار اور باخبر جہازران کی مانند ہوتا ہے جسے راستے میں آنے والی تمام آفات اور مشکلات (اور ان کے حل) کا علم ہوتا ہے۔
٭ سن! مرشد کامل مکمل وہ ہے جو برزخِ اسمِ اللہ یا برزخِ اسمِ محمدؐ لکھ کر طالبِ مولیٰ کو دے اوراسے (ان اسما کی راہ) دکھا دے۔
٭ مرشد کی نظر سورج کی طرح (فیض بخش) ہے جو بدخصائل کو (نیک عادات سے) تبدیل کر دیتی ہے۔
٭ مرشد تنبولی کی طرح باخبر ہوتا ہے جو پان کے پتوں (کی خصوصیات) سے آگاہ ہوتا ہے (اسی طرح مرشد بھی اپنے مریدوں کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ ہوتا ہے)۔
٭ مرشد حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرح صاحبِ خلق ہوتا ہے۔
٭ مرشد ماں باپ سے بھی زیادہ مہربان، اللہ کی راہ میں ہدایت دینے والا بہترین راہنما ہے۔
٭ مرشد (معرفتِ الٰہی کا) خزانہ عطاکرنے والا جیسے کہ بیش قیمت لعل اور ہیروں کی کان، کرم کی موج جیسے موتیوں کا دریا، ہر منزل کا ایسا منزل کشا جیسے کہ ہر تالے کو کھولنے والی چابی، دنیا اور اس کے مال ودولت سے بے نیاز اور بے طمع، طالبانِ مولیٰ کو اپنی جان کی طرح عزیز رکھنے والا، درویشوں کی طرح (مال و متاعِ دنیا سے) بالکل مفلس۔
٭ مرشد مردے کو غسل دینے والے کی طرح ہوتا ہے اور ایسے مردہ طالبِ مولیٰ کی تلاش میں رہتا ہے جو (نفس کی موت کے بعد) مرنے سے پہلے مر جاؤ کے مقام پر پہنچ چکاہو، اس کا جسم مردہ اور دل زندہ ہوچکا ہو۔
٭ مرشد کمہار کی طرح ہے، کمہار مٹی کے ساتھ جو چاہے کرتا ہے لیکن مٹی اس کے سامنے دم نہیں مارتی۔
٭ مرشد اللہ کا دیدار بین اور طالب صادق الیقین ہونا چاہیے۔
٭ مرشد درخت کی طرح ہوتا ہے جو موسم کی سردی اور گرمی خود برداشت کرتا ہے مگر اپنے زیر ِ سایہ بیٹھنے والے کو سکون اور آرام مہیا کرتا ہے۔
٭ مرشد کودین کادوست اور دنیا کا دشمن ہونا چاہیے جبکہ طالب ِ مولیٰ کو صاحب ِ یقین ہونا چاہیے جو مرشد پر مال اور جان قربان کرنے سے ہرگز دریغ نہ کرے۔
٭ مرشد کو نبی اللہ کی مثل ہونا چاہیے اور طالبِ مولیٰ کو ولی اللہ کی مثل ہونا چاہیے۔اگر ایسا نہیں ہے تو ان پر اللہ کی لعنت ہے۔
٭ مرشد اُسے کہتے ہیں جو اپنی ایک ہی نگاہ سے سارا علم بھلا کر دونوں جہانوں کی پہچان عطا کر دے اور اگر جاہل پر ایک نظر ڈالے تو اُسے علمِ کُلی عطا کر دے، حتیٰ کہ جو کچھ وہ پہلے نہیں جانتا تھا جان جائے۔
٭ مرشد عارف کو کہتے ہیں۔
٭ پہلے مرشد تحقیق کرتا ہے کہ آیا طالب حق کا طالب ہے یا غیر اللہ کا۔ پس مرشد حق (کی طلب رکھنے والے) کو حق تک پہنچا دیتا ہے۔
٭ جس طرح سنار سونے کو آگ کی بھٹی میں ڈال کر پرکھتا ہے اسی طرح مرشد طالب کو پرکھتا ہے۔
٭ مرشد درویش فقیر، اہل ِ اللہ فقیر، فنا فی اللہ بقاباللہ فقیر ہوتا ہے۔
٭ مرشد وہ ہے جو فقر کی انتہا تک پہنچا ہو اور جس نے خود پر غیر ماسویٰ اللہ کو حرام کر رکھا ہو، ازل سے ابد تک احرام باندھے اللہ تعالیٰ کا بے حجاب دیدار کرنے والا حاجی ہو۔
٭ مرشد طبیب کی طرح ہے اور طالب مریض کی مثل ہے۔ طبیب جب کسی مریض کا علاج کرتا ہے تو اُسے کڑوی اور میٹھی دوائیاں دیتا ہے۔ مریض کو چاہیے کہ وہ انہیں کھائے تاکہ صحت یاب ہو جائے۔
٭ مرشدی وراثت نہیں ہے۔
٭ مرشدی روپے پیسے اور اشیا کے لین دین سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ یہ خاص الخاص اور نہایت افضل (مرتبہ) ہے۔
٭ مرشد کامل مکمل حاکم اللہ تعالیٰ کے حکم سے صاحب ِحکم ہوتا ہے، جب کوئی چور اس (کے طالب کے وجود) کی ولایت میں گھس آتا ہے تو وہ ایک ہی وار میں قتل کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح مرشد کی ملکیت میں (طالب کے) وجود کی ولایت دارالسلام بن جاتی ہے۔
٭ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان وسیلہ کون ہے؟ مرشد۔ مرشد سے کیا چیز حاصل ہوتی ہے؟ محبت۔
٭ مرشد کامل مکمل اسے کہتے ہیں جو اپنی ایک ہی نظر سے طالبِ مولیٰ کو اس طرح پہچان لے کہ جس طرح کسوٹی سونے کو، صراف زر کو،شہسوار گھوڑے کو، سورج سنگِ لعل کو یا عالم علمِ صَرف و نحو کو۔
٭ مرشد کامل مکمل کعبہ کی طرح ہے، صرف اس کے حرم میں داخل ہو جانے سے نیک، نیک ظاہر ہو جاتا ہے اور بد، بد۔
٭ مرشد کی ایک نظرسے (فطرتاً) صالح شخص حقیقتاً صالح ہو کر مقبول ہو جاتا ہے اور (فطرتاً) بد شخص بد ظاہر ہو کر مردود ہو جاتا ہے۔
٭ مرشد صاحبِ تحقیق ہوتا ہے جو اہلِ صفات اور اہل ِذات کو پہچان لیتا ہے۔
٭ فقیر (مرشد) طالبِ مولیٰ کے دل سے تمام غیر ماسویٰ اللہ کو نکال کر اس میں ذکر ِاللہ جاری کر دیتا ہے حتیٰ کہ وہ صاحبِ تسبیح ہو جاتا ہے۔
٭ جو شخص چاہتا ہے کہ اللہ کا طالب بن کر اپنے مقصود (اللہ) تک پہنچ جائے اس کے لیے کسی مرشد کامل اکمل کو پیشوا بنانے سے بہتر کوئی عمل نہیں۔
٭ شیخ مرشد کسے کہتے ہیں؟ جو طالب کے قلب کو زندہ کر دے اور نفس کو مار دے۔
٭ مرشد صفاتِ مولیٰ کا حامل ہوتاہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے :
ز مَنْ تَعَلَّمَنِیْ حَرْفًا فَھُوَ مَوْلَائِی
ترجمہ: جس نے مجھے ایک حرف کی تعلیم دی وہ میرا مولا ہے۔
٭ مرشد مہر و محبت بخشنے والے شفیق اور محرمِ اسرار کو کہتے ہیں۔
٭ مرشد تلوارکی مثل ہے اس کے پاس صرف وہی طالب جائے جو اپنا سر تن سے جدا کروا سکتا ہو۔
٭ مرشد چھری کی طرح ہے اس کے پاس صرف وہی طالب جائے جو خود کو ذبح کروانے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
٭ مرشد ملک الموت کی طرح ہے جیسا کہ عزرائیل‘ جس طالب کو اپنی جان کی طمع نہ ہو وہی طالب مرشد کے پاس جائے۔
٭ مرشد فاقہ اور فقر کے گھر کی مثل ہے۔ جو طالب فاقہ کشی کر سکتا ہو صرف وہی مرشد کے پاس جائے۔
٭ مرشد سولی کی مثل ہے‘ جو طالب سولی چڑھ سکتا ہو صرف وہی مرشد کے پاس جائے۔
٭ مرشد آگ کی طرح ہے، صرف وہ طالب اس کے پاس جائے جو اپنے کافر نفس کو آگ میں جلا سکتا ہو۔
٭ جب طالب مرشد کی بارگاہ میں جائے تو اسے چاہیے کہ مرشد کے لیے دل میں خلوص و محبت رکھے نہ کہ نیکی و بدی پر نظر رکھے۔
٭ مرشد آنکھ کی طرح ہے اور طالب نظر کی طرح ہے ۔ نہ نظر آنکھ سے جدا ہوتی ہے اور نہ ہی آنکھ نظر سے جدا ہوتی ہے۔
٭ مرشد اگر اپنے لطف سے عطاکرنا چاہے تو نمازِ فجرسے طلوعِ آفتاب تک طالب کو اس کے مقصود اور مطلوب کی انتہا تک پہنچا دے۔
٭ مرشد کو چاہیے کہ وہ طالب کو حکم دے کہ اپنے وجود کو اللہ کے خوف کے پانی اورذکر کے صابن سے دن رات دھویا کرے۔
توفیقِ الٰہی
٭ مرشد کامل توفیقِ الٰہی کا دوسرا نام ہے۔
٭ توفیقِ الٰہی (مرشد کامل) کے بغیر کوئی بھی کام سرانجام نہیں دیا جا سکتا۔
٭ توفیقِ الٰہی اور مرشد کامل اکمل کی بیعت کا وسیلہ نفس کو گناہ سے روک سکتا ہے۔
٭ یہ راہ (فقر) اسے نصیب ہوتی ہے جس کی رفیق توفیقِ الٰہی ہو۔
٭ یااللہ! مجھے تیری توفیق کی رفاقت چاہیے۔
وسیلہ مرشد
٭ وسیلت فضیلت سے بہتر ہے کیونکہ گناہ کرتے وقت علم ِ فضیلت (گناہ کرنے والے کو) روک نہیں سکتاجبکہ وسیلت بندے کو گناہ کرنے سے پہلے روک دیتی ہے۔ جس طرح حضرت یوسفؑ کو ان کے والد اور مرشد حضرت یعقوبؑ (کی وسیلت) نے ہی زلیخا سے بچایا تھا۔
٭ اگرتیرے پاس علم اور حلم ہے یا تو بہت ہی عقلمند ہے مگر تو بے وسیلت ہے تو جان لے کہ تو شیطان کی راہ پر چل رہا ہے۔
٭ علم سونے چاندی کی مثل ہے اس لیے باعثِ فضیلت ہے جبکہ وسیلت (مرشد کامل اکمل) فولاد کی مثل ہے جیسے کہ تیز دھار تلوار۔
٭ جس وقت بھی طالب گناہ کرنے لگتا ہے بے شک مرشد کو آگاہی ہو جاتی ہے، وہ گناہ اورطالب کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے اور طالب کو الہام یا پیغام رسانی کے ذریعے یا (باطنی طور پر) ہاتھ پکڑ کر گناہ سے بچا لیتا ہے۔
٭ اگر تنہائی اور گوشہ نشینی اختیار کر کے ریاضت کرنے سے حق حاصل ہوتا تو مرغیوں کو ہوتا۔ جسے بھی حق حاصل ہوا اہلِ اللہ کی صحبت اختیار کرنے سے ہوا جو توحید میں غرق رہتے ہیں۔
٭ جو بھی اللہ تعالیٰ کی ذات سے واصل ہوا انسان (انسانِ کامل، مرشد کامل اکمل) کے وسیلے سے ہی ہوا۔
(جاری ہے)