حضرت سخی سلطان باھوؒ کے افکار Hazrat Sultan Bahoo kay Afkaar

Rate this post

حضرت سخی سلطان باھوؒ کے افکار 

Hazrat Sultan Bahoo kay Afkaar

یکم جمادی الثانی۔ یومِ ولادت و یومِ وصال سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ 

تحریر: سلطان محمد احسن علی سروری قادری

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ برصغیر پاک و ہند کے مشہور شاعر و صوفی بزرگ ہیں۔ آپؒ نے اپنی نگاہِ کامل سے لاکھوں طالبانِ حق کو نہ صرف معرفت ِحق تعالیٰ عطا فرمائی بلکہ حضورِ حق میں پہنچا کر اللہ کے وصالِ لازوال سے بھی مشرف فرمایا۔ آپؒ نے راہِ فقر کے ان اسرار و رموز کو منکشف فرمایا جو آپؒ کے ظہور سے قبل عوام الناس میں معروف نہ تھے بلکہ صرف خواص تک ہی محدود تھے۔ آپؒ نے نہ صرف ان معارفِ الٰہیہ سے اس وقت کے لوگوں کو روشناس کرایا بلکہ اپنی ان تعلیمات کو آئندہ آنے والی قوموں اور نسلوں کے لیے کتابی صورت میں محفوظ بھی فرمایا۔

جس طرح ابتدا میں ہر نبی کو اپنے اُمتیوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا بالکل اسی طرح ہر ولی کو بھی اپنے زمانے میں بہت سی مخالفتوں کا سامنا رہا۔ بعض مخالفین تو ان اولیا کے وصال کے بعد بھی ان کی مخالفت سے باز نہیں آتے۔ اسی طرح بعض کمینہ صفت لوگ طالبانِ مولیٰ کی حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ سے عقیدت و محبت کے باعث حضرت سخی سلطان باھوؒ کی تعلیمات کو طالبانِ مولیٰ میں غلط ڈھنگ سے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ طالبانِ مولیٰ اولیا کرام کی تعلیمات سے باغی ہو کر ان کی صحبت اختیار کرنے سے ہی منکر ہو جائیں۔ بہت سے سالکین عقیدے کی غیر پختگی کے باعث ان کے اس جال میں پھنس بھی جاتے ہیں۔ ذیل میں کچھ ایسی تعلیمات کو پیش کیا جا رہا ہے جو حضرت سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے افکار و نظریات کا مجموعہ ہیں تاکہ عوام الناس میں ان تعلیمات کے مطالعہ سے حضرت سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے نظریات اور افکار کے متعلق ابہام کو دور کیا جا سکے۔ 

تصانیف

سب سے پہلے حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی کتب کے متعلق بیان کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی کتب کو قرآن و حدیث کے غیر منافی قرار دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ قرآن و حدیث سے الگ ہی کوئی تعلیمات ہیں۔ چونکہ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے ظاہری علم حاصل نہیں کیا تھا لہٰذا آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تمام کتب سراسر الہامی علوم پر مشتمل ہیں۔ آپؒ خود فرماتے ہیں:
٭ مجھے اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ظاہری علم حاصل نہیں تھا لیکن وارداتِ غیبی کے سبب علم ِباطن کی فتوحات اس قدر تھیں کہ کئی دفتر د رکار ہیں۔ 

گرچہ نیست ما را علمِ ظاہر
ز علمِ باطنی جاں گشتہ طاہر

ترجمہ: اگرچہ میں نے ظاہری علم حاصل نہیں کیا تاہم علم ِباطن حاصل کر کے میں پاک و طاہر ہو گیا ہوں اس لیے جملہ علوم میرے جسم میں سما گئے ہیں۔(عین الفقر)

اپنی کتب کے متعلق خود سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ہیچ تالیفی نہ در تصنیف ما
ہر سخن تصنیف ما را از خدا
علم از قرآن گرفتم و از حدیث
ہر کہ منکر میشود اہل از خبیث

ترجمہ: میری تصانیف میں کوئی تالیف نہیں ہے۔ میری تصنیف کا ہر ہر سخن اللہ کی طرف ہے۔ میرے تمام علم کی بنیاد قرآن و حدیث پر ہے۔جو قرآن و حدیث کا منکر ہے وہ خبیث ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)

فقر

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تعلیمات کو تصوف اور طریقت کا نام نہیں دیا بلکہ فقر کا نام دیا۔ دورِ حاضر میں عوام الناس فقر کو دین ِاسلام سے علیحدہ کوئی طریقہ سمجھتے ہیں، لیکن ایساکچھ نہیں ہے۔ فقر دین ِاسلام کی اصل بنیاد اور روح ہے۔ فقر ہی وہ راستہ یا طریقہ ہے جس پر چل کر اللہ تعالیٰ کا قرب پایا جا سکتا ہے۔ فقر کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :
٭ اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ وَ الْفَقْرُ مِنِّیْ
ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔
اور حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

فقر چیست؟ یعنی خود فنا
از علم خود می شود کبر و ریا

ترجمہ: فقر کیا ہے؟ فقر سے مراد خود کو (اللہ کی محبت میں) فنا کر دینا جبکہ علم سے نفس میں تکبر اور ریا پیدا ہوتے ہیں۔

فقر شاہی ہر دو عالم بی نیاز و باخدا
احتیاجش کس نباشد مدِنظرش مصطفیؐ

ترجمہ: فقر بادشاہ ہے جو قربِ حق تعالیٰ کی بدولت دو عالم سے بے نیاز ہے، اسے کسی کی حاجت نہیں کیونکہ یہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مدنظر رہتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)

فقر دانی چیست؟ دائم در لاھوُت
فقر را بہتر بود ہر دم سکوت

ترجمہ: کیا تو جانتا ہے کہ فقر کیا ہے؟ ہمیشہ لاھُوت میں رہنا۔ فقر میں ہر وقت سکوت کی حالت میں رہنا بہتر ہے۔(عین الفقر)

٭ فقر دیدارِ الٰہی کا علم ہے۔
٭ فقر عین ذات ہے۔
٭ فقر کیا چیز ہے؟ فقر کسے کہتے ہیں؟ اور فقر کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟ فقر نورِ الٰہی سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ تمام عالم کا ظہور نورِ فقر سے ہوا۔ فقر ہدایت ہے، فقر نورِ حق کی ایک صورت ہے جو اس درجہ خوبصورت ہے کہ دونوں عالم اس کے شیدا اور اس پر فریفتہ ہیں۔ (توفیق الہدایت)

طالبِ مولیٰ

ایک حدیث ِقدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
 طالبِ دنیا مخنث ہے، طالبِ عقبیٰ مؤنث ہے اور طالبِ مولیٰ مذکر ہے۔
٭ حدیثِ مبارکہ میں بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے کہ جو شخص کسی چیز کی طلب کرتا ہے وہ اس میں کبھی بھلائی نہیں پاتا اور جو شخص مولیٰ کی طلب کرتا ہے اس کے لیے سب کچھ ہے۔

حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ بھی طلبِ مولیٰ کو ہی بہترین طلب قرار دیتے ہیں اور اللہ کے سوا ہر دوسری چیز کی طلب کو ہوس قرار دیتے ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں:
٭ جان لے کہ طالبِ مولیٰ کے لیے فرضِ عین ہے کہ پہلے مرشد کامل تلاش کرے خواہ اسے مشرق سے مغرب اور قاف سے قاف تک ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ ناقص مرشد کی راہ ناقص تقلید پر مبنی ہوتی ہے اور اس راہ کی تاثیر کے آثار خود اس کے ناقص ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ مرشد کامل کی ابتدا اور انتہا ایک ہوتی ہے۔ وہ صراطِ مستقیم پر ہوتا ہے اور اسے حضوری، نورِ الٰہی کی تجلیات کا مشاہدہ، قربِ الٰہی، توحید کی معرفت اور سلک سلوکِ تصور کے تمام مراتب اور ان پر تصرف حاصل ہوتا ہے۔ ناقص مرشد کے مریدوں کی تعداد جتنی زیادہ ہوتی ہے اتنا ہی وہ قرب اور معرفت ِالٰہی سے دور اور دنیا و آخرت میں ذلیل و خوار ہوتا ہے۔ (قربِ دیدار)

طلب کنُ اللہ با مطلب شوی
بے طلب اللہ بے مطلب روی

ترجمہ: اپنے دِل میں طلب ِاللہ پیدا کر تاکہ تجھے اصل مقصد حاصل ہو جائے۔ طلب ِاللہ کے بغیر تُو بے مطلوب رہے گا۔ (محک الفقر کلاں)

طالب صادق بود برحق نگار
طالب کاذب بود خدمت شمار

ترجمہ: صادق طالب کی نظر ہمیشہ حق پر ہوتی ہے جبکہ کاذب طالب مرشد کی خدمت کے دن شمار کرتا ہے۔ (امیر الکونین)

دم بدم دیوانہ باہشیار باش
طالب مولیٰ طالب دیدار باش

ترجمہ: ہر لمحہ بظاہر دیوانے لیکن باطن میں ہوشیار رہو کیونکہ طالب ِمولیٰ ہمیشہ دیدار کی طلب میں رہتا ہے۔(محک الفقر کلاں)

عرفانِ نفس

دیگر صوفیا کی طرح حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ بھی عرفانِ نفس پر زور دیتے ہیں اور اپنی تعلیمات میں جا بجا اپنے اندر غور و فکر کرنے کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں۔ اپنی پہچان سے ہی اللہ کی پہچان نصیب ہوتی ہے مگر ہم اپنی کوتاہ نظری کے باعث اپنی شہ رگ سے بھی نزدیک ذاتِ حق تعالیٰ کو نہیں دیکھ پاتے۔ آپؒ فرماتے ہیں:

قربِ حق نزدیک من حبل الورید
تو جمالش را نہ بینی بے نظیر

ترجمہ: اللہ پاک کی ذات تیری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے مگر تو اندھا ہے جو اس ذات کے جمال کو نہیں دیکھ رہا۔ (دیوانِ باھوؒ)

دل کعبۂ اعظم است بہ کن خالی از بُتاں
بیت المقدس است مکن جائے بت گراں

ترجمہ: تیرا دل کعبۂ اعظم ہے اسے بتوں (غیر اللہ) سے پاک کر۔ تیرا دل بیت المقدس ہے اسے بت گروں کی دکان مت بنا۔ (عین الفقر)

حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ اپنے باطن کی پاکیزگی اور قلب کی حیاتِ نو پر بہت زور دیتے ہیں اور اپنی ہر تصنیف میں اپنے باطن پر غور و فکر اور قلب کے تصفیہ اور اس کے بعد قلب میں ذاتِ حق تعالیٰ کے مشاہدہ کی بات کرتے ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں:
٭ طالب ِمولیٰ کا قلب جب ایک بار بیدار ہو جاتا ہے تو پھر دائمی طور پر اللہ کی جانب متوجہ رہتا ہے۔ (قربِ دیدار)
پنجابی ابیات میں آپؒ فرماتے ہیں:

ایہہ تن ربّ سچے دا حجرا، وچ پا فقیرا جھاتی ھوُ
نہ کر منت خواج خضر دی، تیرے اندر آب حیاتی ھوُ

اسمِ اللہ ذات 

حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ اسم ِاللہ ذات کے ذکر و تصور اور اس سے مجلس ِمحمدیؐ اور دیدارِ الٰہی جیسے اعلیٰ روحانی مراتب کے قائل ہیں اور اپنی تعلیمات میں تسبیحات، ورد و وظائف اور جبہ و دستار سے بیزار نظر آتے ہیں۔ آپؒ اسمائے صفات کے ورد کی بجائے اسم ِاللہ  ذات کے ذکر و تصور سے معرفت ِذات و صفات کا درس دیتے ہیں۔ مزیدیہ کہ ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات سے ہی نفسانی بیماریوں سے نجات حاصل ہوتی ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں:
٭ اعمالِ ظاہر سے آدمی کا دل ہرگز پاک نہیں ہوتا، نہ ہی اس میں سے نفاق نکلتا ہے اور نہ ہی دل کی سیاہی اور زنگار دور ہوتا ہے جب تک دل کو آتش ِتصورِ اسم ِاللہ ذات کی مشق سے جلایا نہ جائے اورنہ ہی اس ذکر ِ خاص کے بغیر اخلاص پید اہوتاہے کیونکہ ذکر کے بغیر دل ہرگز زندہ نہیں ہوتا اور نفس ہرگز نہیں مرتا اگرچہ تمام عمر قرآنِ پاک کی تلاوت کی جائے یا فقہ کے مسائل پڑھے جائیں یا زہد و ریاضت کی کثرت سے کمر کبڑی ہو جائے یا سوکھ کر بال کی طرح باریک ہو جائے، دِل اسی طرح سیاہ رہتاہے۔ اسم ِاللہ ذات کے تصور کی مشق کے بغیر (زہد و ریاضت کا) کوئی فائدہ نہیں چاہے سر کو ریاضت کرتے کرتے پتھر سے پھوڑ لیا جائے۔ (شمس العارفین)

٭ تصور اسم ِاللہ ذات کی مشق کرنے والا بے مشقت معشوق اور بے محنت محبوب (بننے) کے طریق کا حامل ہوتا ہے۔ یہ مراتب بہت پسندیدہ ہیں جو اسم اللہ ذات کا تصور کرنے والے کو روشن ضمیر بنا دیتے ہیں اور وہ تمام قلوب کا محبوب ہو جاتا ہے۔ تصور اسم اللہ   ذات سے اُسے تصرف حاصل ہوتا ہے جسے وہ اللہ کے فضل اور رحمت کی بدولت مخلوق کو فیض بخشنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

٭ تصور اسم ِاللہ ذات کی مشق دِل کو اس طرح زندہ کردیتی ہے جس طرح بارانِ رحمت کے قطرے خشک گھاس اور خشک زمین کو زندہ کردیتے ہیں اور زمین سے سبزہ اُگ آتاہے۔ تصورِ اسم ِاللہ  ذات صاحب ِتصور کے لیے زندگی بھر شیطان اور اس کے چیلوں کے شر سے حصار بن جاتا ہے۔ (شمس العارفین) 

اسم اللہ راہبر است در ہر مقام
از اسم اللہ یافتند فقرش تمام

ترجمہ: اسم اللہ ذات ہر مقام کا رہبر ہے اور اسم اللہ ذات کی بدولت ہی طالب کامل فقر کے مرتبہ پر پہنچتے ہیں۔ (محک الفقر کلاں)

مجلسِ محمدیؐ

صحیح العقیدہ مسلمان و مومنین حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہمیشہ حیات اور حاضر و ناظر سمجھتے ہیں اور یہ ایمان و عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمارے حالات اور احوال سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ اپنی دعاؤں میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وسیلہ بھی دیتے ہیں اور درود پاک پڑھتے ہوئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ چونکہ عارفین کے سلطان ہیں چنانچہ آپؒ نے تو مجلسِ محمدیؐ میں حاضری کو مومنین کے لیے آسان بنا دیا ہے اور جابجا طالبانِ مولیٰ کو مجلسِ محمدیؐ کی حضوری کی ترغیب دلاتے نظر آئے ہیں۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ کی شاید ہی کوئی ایسی تصنیف ہو جس میں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر نہ کیا گیا ہو۔ چونکہ آپ رحمتہ اللہ علیہ حیات النبیؐ کے قائل ہیں اس لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات سے انکاری کو مردود قرار دیتے ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
٭ جسے حیات النبیؐ پر اعتبار نہیں وہ دونوں جہان میں خوار ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہر وہ شخص مردہ سمجھتا ہے جس کا دل مردہ ہو اور اس کا سرمایۂ ایمان و یقین شیطان نے لوٹ لیا ہو۔ (کلید التوحید کلاں)
٭ سن! اگر کوئی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیات کو مردہ سمجھتا ہے تو اس کا ایمان سلب ہو جاتا ہے۔ (عین الفقر)

حضرت سخی سلطان باھوؒ کی تعلیمات کے مطابق ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات اور مرشد کامل اکمل کی صحبت سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس کی دائمی حضوری نصیب ہوتی ہے۔ کیونکہ آپؒ فرماتے ہیں:

ہر کرا از دل کشاید چشم نور
شد حضوری مصطفیؐ رست از غرور

ترجمہ: جس کے دل کی نوری آنکھ کھل جاتی ہے وہ غرور سے نجات حاصل کر کے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں پہنچ جاتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

دیدارِ الٰہی

بہت ہی کم صوفیا ایسے ہیں جنہوں نے دیدارِ حق تعالیٰ پر بات کی ہے۔ زیادہ تر صوفیا اور ان کے مریدین کثرتِ عبادت اور ظاہر کی پاکیزگی پر زور دیتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ان کی رسائی عالمِ ملکوت تک ہو جاتی ہے جہاں وہ ملائکہ کے افعال اور امور کو دیکھتے ہیں اور اسی میں محو ہو کر یہ بھول جاتے ہیں کہ انسان کی تخلیق کا مقصد حق تعالیٰ کی پہچان و معرفت ہے اور پہچان کے لیے دیدار ضروری ہے۔ جس کو دیکھا نہ ہو اس کی پہچان کس طرح کی جا سکتی ہے۔ اسی لیے اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا:
٭ وَ فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط اَفَلَا تُبْصِرُوْن (سورۃ الذاریات۔21)
ترجمہ: اور میں تمہارے اندر ہوں، کیا تم دیکھتے نہیں۔

لیکن ہم نے اللہ پاک کی ذات کو دیکھنے کی طرف کبھی بھی توجہ نہیں دی۔ہماری توجہ اور دھیان زیادہ سے زیادہ کثرتِ عبادت و ریاضت کی طرف ہوتا ہے۔ اللہ کی رضا اور دیدار کے متعلق ہم سوچنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
٭ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِلِقَآئِ اللّٰہِ (سورۃ الانعام۔31)
ترجمہ: بے شک وہ لوگ خسارے میں ہیں جنہوں نے لقائے الٰہی کو جھٹلایا۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ بھی طالبانِ مولیٰ کو دیدارِ الٰہی کے حصول کی تلقین کرتے ہیں:
٭ دیدارِ حق تعالیٰ کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ مردار ہے اس لیے عاشق ہمیشہ طالب دیدار ہوتا ہے۔

طالبی دیدار با دیدار بر
جز خدا دیگر نہ بیند با نظر
ہر طرف بینم بیابم حق ز حق
با مطالعہ دائمی دل دم غرق

ترجمہ: طالب ِدیدارِ الٰہی صرف دیدار چاہتا ہے۔ بجز خدا وہ کسی کی طرف ایک نظر بھی نہیں ڈالتا۔ میں جس طرف بھی دیکھتا ہوں حق ہی حق پاتا ہوں اور دل کے دائمی مطالعہ میں ہر وقت غرق رہتا ہوں۔ (نور الہدیٰ کلاں)

بہ ز ہر لذت بود لذتِ لقا
لذتی دنیا چہ باشد بی بقا

ترجمہ:تمام لذات سے بہتر لذتِ دیدار ہے۔ اس کے مقابلہ میں لذتِ دنیا کی کیا وقعت کہ وہ بے بقا ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)

بجز دیدارِ حق مردار باشد
کہ عاشق طالبِ دیدار باشد

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے دیدار کے سوا ہر چیز مردہ ہے۔ عاشق صرف اور صرف دیدارِ الٰہی کی طلب کرتا ہے۔ (عین الفقر)

شریعت

بہت سے کم فہم اور احمق لوگ فقر کو شریعت سے بالاتر اور خارج سمجھتے ہیں اور ان کا نظریہ ہے کہ فقر شریعت سے الگ ہی کوئی نظام یا راستہ ہے۔ یا پھر یہ خیال کرتے ہیں کہ فقر کے امور شریعت کے مخالف ہیں۔ جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ فقر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اصل طریقہ ہے اور اسی طریقہ سے آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے صحابہ کرامؓ کی تربیت کی۔ جو فقر کا انکار کرتا ہے وہ درحقیقت شریعت کا انکار کرتا ہے اور شریعت کا منکر اسلام سے خارج ہے۔ کسی بھی قسم کا روحانی مرتبہ اور مقام ِشریعت سے ہٹ کر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

باھُوؒ این مراتب از شریعت یافتہ
پیشوائے خود شریعت ساختہ

ترجمہ: باھُوؒ نے تمام مراتب شریعت کی پیروی سے پائے اور اس نے شریعت کو ہی اپنا پیشوا بنایا۔(کلید التوحید کلاں)

برد بالا عرش و کرسی با شریعت شاہراہ
ہر مقامش خوش بدیدم سرّ وحدت از الٰہ

ترجمہ: شریعت کی راہ پر چلتے ہوئے میں عرش اور کرسی سے بھی بلند مقامات پر جا پہنچا اور تمام مقامات کا مشاہدہ کرتے ہوئے وحدت کے راز کو اپنے معبود سے بلاواسطہ پا لیا۔ (کلید التوحید کلاں)

مزید فرماتے ہیں:
٭ ہر وہ راہ جسے شریعت رد کردے، کفر، شیطان، نفسانی خواہشات اور کمینی راہزن دنیا کی را ہ ہے۔ (عین الفقر)
٭ جسے بھی فقر نصیب ہوا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہی نصیب ہوا اور شریعتِ محمدیؐ کی برکت سے نصیب ہوا۔(محک الفقر کلاں)
٭ مراتب ِدیدار اور علم ِدیدار شریعت (کی پیروی) سے حاصل ہوتے ہیں کیونکہ شریعت ہر علم کی روح، جان اور زندگی ہے جبکہ شریعت کی پیروی کے بغیر زندگی محض بے حیائی اور شرمندگی ہے۔ (امیر الکونین)
٭ عارف باللہ وہ ہے جو اپنے ظاہر کو لباسِ شریعت سے پوری طرح آراستہ رکھے اور صبح و شام شریعت کو مد ِنظر رکھے۔ قرآن اور شریعت سے کوئی چیزباہر نہیں ہے۔ (مفتاح العارفین)

ہر یک مراتب را از قرآن یافتم
قرآن پیشوای خود وسیلہ ساختم

ترجمہ: میں نے ہر ایک مرتبہ قرآن سے حاصل کیا اور قرآن کو ہی اپنا پیشوا اور وسیلہ بنایا۔ (دیدار بخش کلاں)

پس ثابت ہوا کہ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ جو خود اپنی کتب اور تعلیمات میں شریعت کی اہمیت کو بیان کر رہے ہیں پھر ان کا طریقہ کار کیسے شریعت سے باہر ہو سکتا ہے۔

وصالِ الٰہی

عوام الناس اور عام مسلمان اسمائے صفات کے ذکر کو ہی کافی سمجھتے ہیں اور ان اذکار کی کثرت کے باعث حاصل ہونے والے روحانی مراتب مثلا کشف، الہام اور وھم وغیرہ کو ہی کافی سمجھ کر اس پر مطمئن ہو جاتے ہیں لیکن حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ وصالِ الٰہی کے قائل ہیں۔ راہِ فقر میں مقامات و مراتب تو بہت زیادہ ہیں لیکن حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ مراتب، درجات اور مقامات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے بلکہ آپ کے نزدیک تو وصالِ الٰہی یعنی غرق فنا فی اللہ بقا باللہ سے بہتر کوئی مرتبہ ہے ہی نہیں جہاں اللہ اور بندے کے درمیان دوئی باقی نہیں رہتی۔ لقا سے پہلے تک طالب کبھی بھی گمراہ ہو سکتا ہے یا رجعت کھا سکتا ہے۔ پنجابی ابیات میں آپؒ فرماتے ہیں:

باجھ وصال اللہ دے باھوؒ، سب کہانیاں قصے ھوُ

یعنی اللہ تعالیٰ سے واصل ہوئے بغیر جو کوئی بھی کسی بھی طرح کا دعویٰ کرتا ہے وہ سب جھوٹی کہانیاں اور قصے ہیں۔

مزید فرماتے ہیں:
٭ جو شخص غرقِ توحید ہو کر یکتائی کے مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے وہ ریا سے پاک ہو کر شوقِ الٰہی میں مست و مسرور رہتا ہے اور یہی مرتبہ مردانِ خدا کاہے۔ (کلید التوحید کلاں)

میانِ ہجر وصلش فقر اعلیٰ
فنا فی اللہ شود باحق تعالیٰ

ترجمہ: ہجر و وصال کے درمیان فقر کا اعلیٰ مرتبہ ہے جس کی بدولت طالب فنا فی اللہ ہو کر اللہ تعالیٰ سے بقا پا لیتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)

سرّ وحدت چیست دانی فنا فی اللہ فنا
از خود توحیدش دور ماند سر ہوا

ترجمہ: سرِّ وحدت کیا چیز ہے؟ یہ فنا فی اللہ کا مقام ہے۔ جو آدمی توحید کے اس مقام سے دور ہو گیا وہ خواہشاتِ نفس کا غلام ہو گیا۔ (محک الفقر کلاں)
٭ استغراق فنا فی اللہ بقا باللہ کے علاوہ تمام مقامات بمنزلہ شیطان ہیں۔ (عین الفقر)
٭ جب تک طالب ِمولیٰ وحدت میں غرقِ حضور نہیں ہو جاتا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا مرنے سے پہلے مر نہیں جاتا اس وقت تک وہ ہر مقام پر غمزدہ رہتا ہے اور محض مشاہدۂ بہشت کا مزدور بنا رہتا ہے۔ (عین الفقر)
لہٰذا مقامات و مراتب اور درجات کی طرف متوجہ ہونے کی بجائے اپنی نظر صرف اور صرف ذاتِ حق تعالیٰ کی طرف ہونی چاہیے۔

ہمہ اوست دَر مغزو پوست

توحید ِحق تعالیٰ سے متعلق دو نظریات اہل ِتصوف میں بہت مقبول  ہیں جن میں سے ایک وحدت الوجود یعنی ہمہ اوست اور دوسرا وحدت الشہود یعنی ہمہ از اوست ہے۔
وحدت الوجود سے مراد یہ ہے کہ ہر چیز میں اللہ کا نور ہے اور ہر چیز کے ظاہر و باطن میں وہی ذاتِ حقیقی ہے اس لیے دوسرا کوئی وجود نہیں۔ کائنات میں کچھ موجود ہے تو صرف وجودِ حق تعالیٰ۔ یعنی ہمیں حق تعالیٰ کے سوا جو کچھ بھی نظر آتا ہے وہ دوئی ہے۔
دوسرا نظریہ وحدت الشہود ہے جس سے مراد یہ ہے کہ ہر چیز حق نہیں بلکہ حق تعالیٰ سے ہے۔ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کا مسلک بھی وحدت الوجود یعنی ہمہ اوست ہے۔بلکہ آپؒ تو ہمہ اوست سے بھی آگے فرماتے ہیں یعنی:

ہمہ اوست در مغز و پوست

ترجمہ: ہر چیز کے ظاہر و باطن میں وہی ایک ذات جلوہ گر ہے۔ (عین الفقر)
٭ اس لیے آپؒ فرماتے ہیں کہ اگر تو اپنے آپ سے پردہ ہٹا دے تو سب وہی ایک ذات ہے اور جو کثرت اور دوئی تجھے نظر آتی ہے وہ محض تیری آنکھ کے بھینگے پن کی وجہ سے ہے۔ (رسالہ روحی شریف)

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں