امیر الکونین | Ameer-ul-Konain

امیرالکونین 

ہر کوئی اپنے نا م کی شہرت کا طالب ہے اور ہر کوئی یہ مطلوب حاصل کرنے کے لیے دن رات مطالعہ ٔ کتب میں مصروف ہے۔ مردار اور بدبودار دنیا کی طلب کرنے والے طالب و مرید بے شمار ہیں جو اپنے مرشد سے خلافت چاہتے ہیں اور ایسے طالب جھوٹے اور حد سے بڑھنے والے ہیں۔ ابیات:

کس نہ بینم طالبے توفیق تر

کس نیابم مرد مرید از نظر

ترجمہ: میں کوئی بھی ایسا طالب نہیں دیکھتا جو توفیق ِ الٰہی کے لائق ہو اور نہ ہی کوئی ایسا مردِ کامل ہے جو نگاہ سے تزکیہ کرے۔

ہم مریدی طالبی از بہر خویش

درپیش بسیار است بدکیش بیش

ترجمہ: تمام طالب و مرید اپنی خواہشات کی فکر میں رہتے ہیں۔ ایسے بدخصلت مرید بہت سے ہیں جن سے مرشد کو واسطہ پڑتا ہے۔

وہ عارف جس کے پاس بے حجاب دیکھنے والی آنکھ ہو اور وہ دیدار سے مشرف ہو‘ اسے آج اور کل کے وعدے سے کیا سروکار؟

گر نہ بیند کور مادر عیب نیست

سرّ شد اظہار آن از غیب نیست

ترجمہ: اگر مادر زاد اندھا دیدار نہیں کر سکتا تو کیا برائی‘ کیونکہ ایسے اندھے پر غیب سے اسرار کا اظہار نہیں ہوتا۔

میدہد دیدار میگوید بہ بین

ہر کہ آواز او نہ بیند شد لعین

ترجمہ: اللہ ہی اپنا دیدار عطا کرتا ہے اور خود ہی دیکھنے کا کہتا ہے اور جو کوئی اس کے فرمان پر اسے نہیں دیکھتا وہ ملعون ہے۔

گر نہ بینم میشوم مشرک تمام

روئے من با روئے او باشد ہر مدام

ترجمہ: اگر میں اسے (یعنی اللہ کو) نہ دیکھوں تو میں مطلق مشرک ہو جائوں گا اس لیے میں ہمیشہ اپنا رُخ اس کے رُخ کے سامنے ہی کرتا ہوں۔

فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (الانعام۔79)

ترجمہ: بے شک میں اپنا رُخ اسی کی جانب کرتا ہوں جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔

نور دیدارش نہ جثہ داشتند

نفس قلب و روح را بگذاشتند

ترجمہ: اس کے نور کا دیدار کرنے والوں کے وجود نہیں ہوتے اس لیے طالب ِ دیدار نفس، قلب اور روح کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔

باھوؒ ابتدا نور است آخر گشت نور

نور از شد نور، نور از شد ظہور

ترجمہ: باھُوؒکی ابتدا بھی نور ہے اور اس کی انتہا بھی نور ہوگی۔ اس کے نور کی اصل اور اظہار اللہ کے نور سے ہے۔ 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:

اَلنِّھَایَتُ ھُوَ الرَّجُوْعُ اِلَی الْبِدَایَتِ  

ترجمہ: انتہا ابتدا کی طرف لوٹ جانے کا نام ہے۔

مرد (مرشد) وہ ہے جو ایک ساعت میں ابتدا و انتہا تک پہنچا دے۔ یہ اس مرشد کے مراتب ہیں جس کا ظاہر توفیق ِ الٰہی کا حامل اور اس کا باطن حق کا باتحقیق رفیق ہوتا ہے۔ بیت:

ہم چون ابلیس است مانع شد لقا

رحمت خدا بروے کسے را شد لقا

ترجمہ: جو لقائے الٰہی سے روکتا ہے وہ ابلیس کی مانند ہے۔ جسے لقا حاصل ہو اس پر خدا کی رحمت ہوتی ہے۔

جان لو کہ لقا اللہ کے فضل سے عالم فقرا کا نصیب ہوتا ہے۔ یہ وہ عالم ہوتے ہیں جن کے پاس مندرجہ ذیل علوم ہوتے ہیں: علم ِ تفسیر، علم ِ تاثیر، علم ِ روشن ضمیر، علم ِ ناظر نظیر، علم بر نفس امیر، علم فنا فی اللہ فقیر، علم کیمیا اکسیر، علم ِ دعوت تکسیر، علم تمام عالمگیر، علم ِ ذکر ِ زوال، علم ِ فکر جو نفس کو فنا کر دے اور اللہ کا وصال عطا کرے، لازوال معرفت کا علم، محبت کے احوال کا علم، یارِ حقیقی کو طلب کرنے کا علم، علم جو دیدار سے مشرف کر دے، علم ِ ورد وظائف، علم ِ مراقبہ، علم ِ مکاشفہ، علم ِ مجادلہ، علم ِ محاربہ، علم ِ محاسبہ، علم ِ الٰہی، علم ِ الہام، علم ِ نور، علم ِ حضور، علم ِ مجاہدہ، علم ِ مشاہدہ، علم ِ قرب، علم ِ قدس، علم ِ تمثیل، علم ِ وھم، علم ِ دلیل، علم ِ عیان، علم ِ تصور، علم ِ تصرف، علم ِ تفکر، علم توجہ، علم ِ استغراق، علم ِ کلید، علم ِ قفل، علم ِ جامع، علم ِ جمعیت، علم ِ فنا، علم ِ بقا، علم ِ خلافِ نفس، علم ِ صدیق القلب، علم ِتوفیق ِ روح، علم ِ تحقیق ِ سرّ علم ِ اعتقاد، علم ِ وحدت، علم یقین، علم ِ تعلیم، علم ِ تلقین، علم ِ ہدایت، علم ِ غنایت، علم ِ ولایت، علم ِ لانہایت، علم ِ تجرید، علم ِ تفرید، علم ِ فیض، علم ِ عطا، علم ِ تمام علوم، علم ِ حی ّ قیوم، علم ِ رسم رسوم۔ یہ تمام علوم حق و باطل کی تحقیق کے لیے ہیں۔ تو اپنے وجود پر شریعت کا لباس پہن اور شریعت میں کوشش کر اور شریعت کے احکامات اختیار کر اور شریعت کے مخالف، بدعت اور مناہی کو چھوڑ دے۔ اس کے بعد فقر کی راہ پر قدم رکھ اور اپنا چہرہ معرفت اور دیدارِ الٰہی کی طرف رکھ۔ ہر علم، ہر عبادت اور ہر ثواب بے حجاب ہونے اور اللہ کی معرفت اور دیدار کے لیے ہے۔ پس معلوم ہوا کہ مراتب دو قسم کے ہیں۔ ایک مراتب ِ مردار‘  جو کہ باطل ہیں اور دوسرے مراتب ِ دیدار جو اللہ کی طرف سے برحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی معرفت، عبادت اور دائمی دیدار سے مشرف ہونے کے لیے پیدا کیا ہے نہ کہ مردار دنیا کے لیے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

وَ مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذٰریت۔56) اَیْ لِیَعْرِفُوْنِ 

ترجمہ: اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے یعنی اپنی معرفت کے لیے۔

جاننا چاہیے کہ علم ِ ظاہر کے بہت سے عالم ہیں۔ ہزار عالموں میں سے کوئی ایک عالم ہی دیدار سے مشرف ہونے کا علم جانتا ہے جو علم ِ دیدار کے علاوہ دوسرا کوئی علم نہ جانتا ہے اور نہ پڑھتا ہے اور اپنے شاگرد، طالب اور مرید کو بھی علم ِ دیدار کا سبق دیتا ہے اور اس علم کے حصول سے دیدار تک پہنچاتا ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

حَسْبِیَ اللّٰہُ  (توبہ۔129)

ترجمہ: اور میرے لیے اللہ کافی ہے۔

وَکَفٰی بِاللّٰہِ (الاحزاب۔39)

ترجمہ: اور اللہ (سب کے لیے) کافی ہے۔

اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔ جواب دو کہ علم ِ دیدار کی راہ کونسے علم سے ہے؟ اور علم ِ دیدار کا گواہ کونسا علم ہے؟ اور علم ِ دیدار کا محرم کون ہے اور اس راہ پر رفیق کون ہوتا ہے۔ علم ِ دیدار کو اسم ِاللہ سے تحقیق کیا جاتا ہے کیونکہ اسم ِ اللہ ذات دیدارِ الٰہی تک پہنچاتا ہے اور علم ِ دیدار کا گواہ حضوری ہے جو کلمہ طیبہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ  سے حاصل کی جاتی ہے۔ جو کلمہ طیبہ کو اس کی کنہ سے پڑھتا ہے کلمہ طیبہ اسے دیدار سے مشرف کر دیتا ہے۔ علم ِ دیدار کا استاد عالم اور رفیق مرشد کامل ہوتا ہے جو توفیق ِ الٰہی کا حامل ہوتا ہے اور اپنی نگاہ اور توجہ سے طالب کو روشن ضمیر اور باعیان بنا دیتا ہے اور نگاہ اور تصور سے حضوری میں پہنچاتا ہے۔ جو پیر و مرشد علم ِ حضوری اور دیدار سے مشرف کرنے کا علم نہیں جانتا اور اپنے طالب و مرید کو مرتبہ ذکر فکر میں ہی الجھائے رکھتا ہے وہ احمق ہے جو خود کو پیر و مرشد کہلواتا ہے۔ دیدار حق تعالیٰ کا فضل ہے جو اللہ کی عطا اور بخشش ہے۔ یہ لقا سے مشرف عارفین کے مراتب ہیں۔ جو طالب ان کے مراتب کا یقین نہیں کرتا وہ مردہ دل، اندھااور بے حیا ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

وَمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖٓ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی   (بنی اسرائیل۔72)

ترجمہ: جو اس دنیا میں (دیدارِ الٰہی سے) اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا۔

اگر میں باطنی طور پر اندھے شخص کو حقیقت دکھائوں اور کہوں کہ دیکھ تو وہ اندھا اپنے اندھے پن کی بنا پر کیسے دیکھ سکتا ہے۔ وہ بے یقین اور شیطان لعین کا ساتھی ہے۔ ابیات:

در درس دیدار خوانند بے زبان

بے چشم عارف بہ بیند باعیان

ترجمہ: عارف دیدار کا درس بے زبان پڑھتے ہیں اور ظاہری آنکھوں کے بغیر بے حجاب عیاں دیدار کرتے ہیں۔

شد مطالعہ موت علم از معرفت

عالم دیدار باشند این صفت

ترجمہ: علم ِ معرفت سے موت کی حقیقت کا علم حاصل ہوتا ہے۔ عالم ِ دیدار ہی اس صفت کے حامل ہوتے ہیں۔

جسم انوارش بحاضر داشتند

نفس و قلب و روح بگذاشتند

ترجمہ: وہ نفس و قلب اور روح کو چھوڑ دیتے ہیں۔انکا جسم نور بن جاتا ہے جس کے بعد وہ نور کی صورت میں اللہ کی حضوری میں رہتے ہیں۔

اصل از نور است وصلش نور شد

ابتدائے انتہائے بحضور شد

ترجمہ: ان کی اصل نور ہے اور انہیں وصل بھی نور سے ہوتا ہے اور انہیں ازل سے ابد تک حضوری حاصل ہوتی ہے۔

مرشدے باشد چنین عالم لقا

طالبان را میکشد کبر و از ہوا

ترجمہ: مرشد کو ایسا عالم ِ لقا ہونا چاہیے جو اپنی روحانی قوت سے طالبوں کو تکبر اور خواہشاتِ نفس سے نجات دلا دے۔ 

عالم کئی اقسام کے ہیں۔ ایک جو علم ِ تفسیر کے عالم ہیں اور ایک وہ عالم جو علم میں مشہور ہیں اور ایک عالم وہ جو دن رات ورد وظائف، مطالعہ علم ِ دعوت اور ذکر فکر میں مشغول رہتے ہیں۔ ایک وہ جو علم ِ دنیا کے عالم ہوتے ہیں جن کا دماغ خواہشات سے پُر ہوتا ہے اور وہ تکبر و غرور کے باعث معرفت ِ الٰہی سے محروم ہوتے ہیں اور ایک وہ جو علم ِ فنا فی اللہ اور دیدارِ نور کے عالم ہوتے ہیں اور ایک وہ عالم جو مجلس ِ محمدیصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمکے علم ِ حضوری کے عالم ہوتے ہیں کیونکہ فقر کی اساس علم ِ فقہ ہے۔ فقیہہ عالم دو قسم کے ہیں اوّل قسم کے فقیہہ وہ ہیں جو مسائل ِ فقہ کی تاثیر سے نفس کو فنا کرتے ہیں۔ یہ عالم عارف باللہ صاحب ِ تقویٰ ہوتے ہیں جنہیں دیدار کی توفیق حاصل ہوتی ہے اور وہ مردار دنیا سے بیزار ہوتے ہیں۔ دوم فقیہہ وہ ہیں جن کا نفس انا، تکبر اور ہوس کے باعث طاقتور ہوتا ہے اور وہ خواہشاتِ نفس کے قیدی ہوتے ہیں۔ ابیات:

موسیٰؑ را معراج شد و ز معرفت
اگر باشد خضرؑ عیسیٰؑ صفت
مردہ را زندہ کند با دم نظر
ہمچو قصہ مجلس موسیٰؑ خضرؑ
ہر کہ بیند از گناہ در خود نگاہ
ہر کہ یابد راہ بنماید براہ

ترجمہ:موسیٰ علیہ السلام اگر خضر ؑ اور عیسیٰ ؑ کی مثل ہوتے تو انہیں معرفت کے سبب معراج ہوتی۔ اور مردہ کو سانس اور نظر سے زندہ کرتے جیسا کہ موسیٰ ؑ اور خضر ؑ کے قصہ سے واضح ہوتا ہے۔ جو کوئی دوسروں کے گناہ کی طرف متوجہ رہتا ہے اصل میں وہ خود پرست ہوتا ہے اور جو کوئی راہِ حق پا لیتا ہے وہ دوسروں کو بھی یہ راہ دکھاتا ہے۔

نیز شرح کل و جز

دیدارِ الٰہی کا کسی بھی مقام و مرتبہ سے کوئی تعلق نہیںنہ آج دنیا سے نہ کل قیامت اور بہشت سے‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کسی مقام سے تشبیہ دینا شرک کا باعث ہے۔ پس دیدار کس طریقے سے ممکن ہے؟ (اللہ کا) علم سر سے قدم تک تمام وجود کو نورمیں بدل دیتا ہے اور ان انوار میں طالب اللہ کا دیدار کرتا ہے اور اس وقت ِ دیدار جگہ اور مقام کا تعین نہیں ہوتا کیونکہ ان آثار کا نام لاھوت لامکان ہے۔ اے احمق اور پریشان سن! دیدار کے لائق صرف انسانِ کامل ہے۔ علم ِ مسخرات سے جنوں کو قید میں لے آنے کا طریق اور ہے اور علم ِ مسخرات سے مؤکلات اور فرشتوں کو قید میں لے آنے کا طریق اور ہے۔ علم ِ مسخرات سے انبیا، اولیا اللہ، مومن اور مسلمان کی ارواح سے مجلس و ملاقات کرنے کا طریق اور ہے جو اسم ِ اعظم پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے اور وجودِ معظم کے لیے توفیق ِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔ علم ِ ذکر فکر، ورد وظائف سے سیر ِ طبقات، ہفت طبقاتِ زمین اور نو افلاکِ آسمان، نظارئہ عرش و کرسی اور مطالعہ ٔ لوحِ محفوظ کا طریق اور ہے۔ ایسے تمام مراتب بے جمعیت ہیں جو طالب کے لیے پریشانیِ احوال ہیں اور اللہ کی معرفت، قرب، توحید اور وصال سے دور اور بے خبر ہیں۔ علم ِ انوار سے دیدارِ پروردگار سے مشرف ہونے کی باتحقیق توفیق کی راہ اور ہے اور علم ِفنا، علم ِ بقا، علم ِ صفا اور علم ِ مشرفِ لقا کی باتحقیق توفیق کی راہ اور ہے۔ علم ِ سرّاسرار، معرفت، محبت، مشاہدہ،  حی ّ و قیوم ذات کو طلب کرنے کا علم روشن ضمیری عطا کرتا ہے اور وحدت کی طرف راستے کھولتا ہے، روح کو فرحت عطا کرتا ہے اور قلب کو زندہ کرتا ہے اور نفس کو خوار و خراب کرتا ہے۔ اسم اللہ ذات کے تصور سے جان دن رات سوز میں مبتلا رہتی ہے اور بے حجاب دیدارِ الٰہی اور مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری حاصل ہوتی ہے اور یہ علم نور سے مشرف کر کے اللہ کی بارگاہ میں منظور کراتا ہے اور توفیق ِ الٰہی عطا کرتا ہے۔ یہ طریق ِ تحقیق مختلف ہے۔ حی ّ و قیوم ذات کے یہ جملہ علوم اور جملہ علم ِ رسم رسوم ایک قدم اور ایک دم میں رنج و ریاضت کے بغیر اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم و اجازت سے لمحہ بھر میں حاصل ہو جاتے ہیں جس سے اولیا اللہ واصل ہو جاتے ہیں۔ 

وہ کونسی راہ ہے جس سے آئینہ ٔدل ایسے روشن اور صاف ہو جاتا ہے کہ کل و جز مخلوقات کے احوال اور فنا و بقا سے آگاہی حاصل ہو جاتی ہے اور وہ کونسی راہ ہے جس میں اللہ کا قرب اور دیدار حاصل ہوتا ہے؟ یہ تصور اسم اللہ  ذات سے حاصل ہونے والی حضوری کی راہ ہے۔ اور کلمہ طیبہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ  کی روحانی قوت سے حاصل ہونے والی باتحقیق توفیق کی راہ ہے۔ یہ راہ وحدت کی کلید ہے۔ ہر وہ شخص اس راہ کا منکر ہے جو بے دین، لعنتی، شیطان کا دوست اور اہل ِ تقلید ہے۔اس راہ میں وہی طالب ِ مولیٰ جان قربان کرتا ہے جو دیدار اور توحید کا طالب ہو۔ ایسا طالب حضرت رابعہ بصریؒ اور سلطان بایزیدؒ کی مثل ہوتا ہے۔(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں