وحدت الوجود |Wahdat ul Wajood

وحدت الوجود

تحریر: مسز میمونہ اسد خان سروری قادری۔ لاہور

قُلْ ھُوْاللّٰہُ اَحَدٌ
اللہ پاک کے لیے ہی ہے تمام بڑائی،تمام تعریفیں، تمام حکمتیں، تمام بلندیاں، تمام حمدوثنا کیونکہ وہ ہی ہے تمام جہانوں کو بنانے اور پالنے والااور وہ احد ہے، واحد ہے۔

اللہ پاک ہی ہے تمام آسمانوں اور زمینوں کا نور،اللہ پاک ہی تمام جہانوں اور مخلوقات کے لیے روشنی ہے۔ اللہ پاک ہی کو زیبا ہیں تمام بڑائیاں۔اللہ پاک ہی عطا کرتاہے ظاہری و باطنی روشنی۔
اللہ پاک نے ھاھویت (عالم ِ احدیت) سے نکل کر عالم ِ کثرت میں ظہور کا ارادہ فرمایا تو نورِالٰہی نے مختلف مراتب پر نزول فرمایا۔ نزول اور ظہور کے ان مراتب کو سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ اور دیگر صوفیا کرامؒ نے تنزلاتِ ستہ کے نام سے موسوم کیا اور اور ان تنزلات کو درج ذیل حدیث ِ قدسی کے مطابق بیان کیا:
کُنْتُ کَنْزًا مَخْفِیًّا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ لِاُعْرَفَ۔
ترجمہ: میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھامیں نے چاہامیں پہچانا جائوں پس میںنے اپنی پہچان کے لیے مخلوق کو پیداکیا۔

حضرت سخی سلطان باھُوؒ اپنی تصنیفِ لطیف ’’رسالہ روحی شریف‘‘ میں مندرجہ بالا حدیث ِ قدسی کے ساتھ ان سنہری الفاظ کا اضافہ فرماتے ہیں ’’ذاتِ سَرچشمہ چشمانِ حقیقتِ ھاھویت۔‘‘
صوفیا کرام نے نزول اور ظہور کے ان مراتب کو یوں بیان کیا:
1۔ ھَاھُوِیَّتْ  (احدیت)
یہ مرتبہ یا مقام تمام مخلوقات کے لیے غیب در غیب ہے۔ اس مقام کو نہ تو علمی تعین حاصل ہے اور نہ خارجی۔ یہ مرتبہ ہر قسم کے اشارہ و کنایہ، اسما و صفات سے ماورا ہے۔ بلکہ آسان الفاظ میں اسے مرتبہ لاظہور کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہا ں اللہ پاک کی ذاتِ مبارکہ لَیسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ (یعنی وہ کسی شے کی مثل نہیں) کی شانِ عالی شان کے ساتھ موجود ہے۔ اللہ پاک نے اس مقام کے متعلق فرمایا! کَانَ اللّٰہ وَلَمْ یَکُنْ مَّعَہُ شَیْئٌ(یعنی اللہ پاک تھا اور اس کے ساتھ کوئی شے نہ تھی)۔ یہ مقام کسی علم سے معلوم اور کسی اسماء صفت سے موصوف نہیں ہوسکتا۔

آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اسی مقام و مرتبہ کے بارے میں فرمایا:
تَفَکَّرُوْٓا فِیاٰیَتِہٖ وَلَا تَفَکَّرُوْٓا فِیْ ذَاتِہٖ
ترجمہ:اللہ پاک کی آیات میں غورو فکر(تفکر) کرو لیکن اس کی ذات میں تفکر نہ کرو۔

حضرت سخی سلطان باھُوؒ رسالہ روحی شریف میں فرماتے ہیں’’اس ذات پاک کی ماہیت کو سمجھنے کے لیے عقل کے ہزاروں ہزار (بیشمار) قافلے سنگسار ہو گئے (یعنی فنا ہوگئے لیکن اسے نہ سمجھ سکے)۔
فقط سمجھانے کے لیے اس مقام پر ذاتِ حق تعالیٰ کو ’’ھُو‘‘ کہتے ہیں وگرنہ یہاں تک کسی علم و عقل اور غورو فکر کو رسائی حاصل نہیں۔
2۔ یَاھُوْتُ۔ (وحدت)
اللہ پاک نے جب مقامِ ھاھویت (احدیت) سے کثرت میں ظہور کا ارادہ فرمایا اور تعینات میں نزول فرمایا تو سب سے پہلے نورِ محمدی کی صورت میں اپنا اظہار فرمایا۔ اس مرتبہ یا مقام کو تعین ِ اوّل کہتے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جسے حقیقت ِ محمدیہؐ بھی کہتے ہیں۔ اسی مقام کے متعلق آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی متعدد احادیثِ مبارکہ ہیں:
اَوَّلَ مَا خَلَقَاللّٰہُ نُوْرِیْ۔
ترجمہ: اللہ پاک نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدافرمایا۔

 اَنَا مِنْ نُّوْرِاللّٰہِ تَعَالٰی وَ کُلُّ خَلَائِقِ مِن نُّوْرِیْ۔
ترجمہـ: میں اللہ پاک کے نور سے ہوں اور تمام مخلوق میرے نور سے ہے۔
اَوَّلَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ رُوْحِیْ۔
ترجمہ: سب سے پہلے اللہ پاک نے میری روح کو پیدا فرمایا۔

حضرت سخی سلطان باھُوؒ رسالہ روحی شریف میں فرماتے ہیں:
جان لے جب نورِ احدی (مقامِ احدیت) نے وحدت کے گوشہءِ تنہائی سے کثرت میں ظہور کا ارادہ فرمایا تو اپنے حسن کی تجلّی کی گرم بازاری سے (تمام عالموں کو) رونق بخشی۔ اس کے حسن ِ بے مثال اور شمع ٔ جمال پر دونوں جہان پروانہ وار جل اٹھے اور میم احمدیؐ کا نقاب اوڑھ کر صورتِ احمدیؐ اختیار کی۔‘‘
مزید وضاحت کے لیے حضرت سخی سلطان باھوؒ اسی مقام کے بارے میں اپنی تصنیف ’’عین الفقر‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’جب حق سبحانہٗ تعالیٰ نے چاہا (کہ اس کی پہچان ہو اور اسے کوئی پہچاننے والا ہو) تو خود سے اسم ِ ذات (اللہ) جدا کیا (یعنی اپنے آپ کو اسم ِ اللہ ذات کی صورت میں ظاہر فرمایا) اور اس سے نورِ محمدی کا ظہور ہوا اور قدرتِ توحید کے آئینہ میں نورِ محمدؐ کو دیکھا تو نورِ محمدؐ کو دیکھتے ہی اپنے آپ (یعنی نورِ محمدیؐ کی صورت میں اپنے تعین ) پر فریفتہ و مائل و مشتاق ہوا اور اپنی ہی بارگاہ سے ربّ الارباب حبیب اللہ کا خطاب پایا۔
یہ ظہور کا اوّل ترین مقام ہے جہاں ساجد و مسجود کا ظہور ہوا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پکارنے والا اور پکارے جانے والے کا ظہور ہوا۔ یہ وہ مرتبہ و مقام ہے کہ جس کے لیے اللہ پاک نے فرمایا: لَوْلَاکَ لَمَا اَظْھَرْتُ الرَّبُوْبِیَّۃ۔ اے میرے محبوبؐ! اگر آپؐ نہ ہوتے تو میں اپنا ربّ ہونا ظاہر ہی نہ کرتا۔

لَا ھُوْتُ۔ یہ مقام و مرتبہ سوم اور تعین دوم ہے۔ اور اس کو مقامِ لاھوت کہتے ہیں جہاں تمام عالم نورِ محمدی میں چھپے ہوئے تھے اور اپنے اظہار کے لیے بے قرار تھے۔ یہ مرتبہ عالمِ لاھوت لامکاں کا ہے اور یہ ہر کثافت ِ کون و مکان سے پاک ہے۔ اسی مرتبہ کو حقیقت ِ انسانی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں سے انسان کی تفصیل شروع ہوئی اور یہیں پہ نورِ محمد روحِ قدسی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یعنی نورِ محمدی دراصل روحِ قدسی ہے اور روحِ قدسی ہی اصل انسان ہے۔ اللہ پاک نے روحِ قدسی جو واحد ہے، سے تمام مخلوقات کو تخلیق کیا اور سب سے پہلے تمام انسانی ارواح کی تخلیق فرمائی۔
علامہ اقبالؒ بھی اسی طرف اشارہ فرماتے ہیں:
اے طائر ِ لاھوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
روحِ قدسی ہی وہ روح ہے جسے اللہ پاک نے بطورِ امانت انسان کو سونپا۔

جَبَرُوْت۔ یہ مقام و مرتبہ چہارم اور تعین سوم ہے۔ اس مرتبہ کو عالم ِ جبروت یا عالمِ ارواح کہتے ہیں۔ اس مقام پر غیر مخلوق روحِ قدسی کو جبروتی لباس یعنی روحِ سلطانی پہنا کر عالم ِ جبروت میں اتارا گیا۔ روحِ سلطانی روحِ قدسی کاپہلا لباس ہے۔ روحِ سلطانی ہر مادے سے مجرد اور منفرد ہے اور اجسام کی خامیوں، رنگوں اور قِسموں سے پاک ہے۔ یہ روح جس کی کوئی صورت نہیں مگر جس صورت میں چاہے نمودار ہو سکتی ہے۔ اسی لیے فرشتے جس صورت میں چاہیں اللہ کے حکم سے نمودار ہوتے ہیں۔اس مرتبہ میں ذات(اللہ پاک) روحِ سلطانی کے نام سے موسوم ہے۔
عربی میں جبروت جوڑنے اور ملانے کو بھی کہتے ہیں۔ یہ مراتب ِ الٰہیہ او ر مراتب ِ خلقی کے درمیان بمنزلہ پُل یا سیڑھی کے ہے اس لیے اسے جبروت یعنی جوڑنے والا کہتے ہیں۔ یہی مقامِ جبرائیل علیہ السلام ہے۔ جو اللہ اور انبیا کو ملانے یا ان کے درمیان وسیلہ ہیں۔
5۔ فَاَرَدْتُ مَلَکُوْت۔ مرتبہ پنجم تعین چہارم ہے۔ اس مرتبہ سے پہلے ذاتِ حق تعالیٰ پوشیدہ تھی اور اس کو پہچاننا ناممکن تھا۔ اور یہ مرتبہ اللہ پاک کی پہچان یا ظاہر ہونے کے لیے ابتدائی مرتبہ تھا۔ اس مرتبہ کو عالم ِ مثال بھی کہتے ہیں کیونکہ روح میں جو کچھ تھا وہ اس مرتبہ میں ظاہر ہوا مثالی صورتوں میں۔ اس عالم کو سمجھانے کے لیے یوں کہا جاسکتا ہے کہ یہاں صورت سایہ کی طرح ہوتی ہے جو نظر تو آتی ہے لیکن پکڑی نہیں جاتی۔ لہٰذا اس عالم میں صورت آگئی لیکن کثافت نہیں آئی۔ 

6۔ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ نَاسُوْتُ۔ یہ مرتبہ ششم اور تعین پنجم ہے اس تعین و مقام میں مثالی صورتوں نے اجسام حاصل کیے۔ اسی لیے اسے عالم ِ اجسام بھی کہا جاتا ہے۔ اسی مقام میں مخلوقات کو مختلف اجسام سے نوازا گیا اور ان کی پہچان انہی اجسام، لباسوں سے موسوم ہے۔ یوں ذاتِ حق تعالیٰ عالم ِ احدیت سے نزول فرما کر عالم ِ ناسوت میں جلوہ گر ہوئی۔

اجسام کا یہ عالم فرش تا عرش پھیلا ہوا ہے۔حق تعالیٰ مرتبہ احدیت سے نزول فرما کہ عالمِ اجسام میں آ   گیا لیکن وہ وہاں بھی ہے اور یہاں بھی ہے اور یہ سمجھناکہ یہاں آگیا تو وہاں نہیں سراسر غلط ہے۔
7۔ ذات سرچشمہء چشمانِ حقیقت ھاھویت۔مرتبہ ہفتم اور تعین ششم ’’انسان‘‘ ہے جو تمام مراتب کا جامع ہے۔ حضرت سخی سلطان باھُوؒ حق سبحان و تعالیٰ کے اس تعین کے متعلق فرماتے ہیں ’’سبحان اللہ! خاکی اجسام کے روپ میں اپنی قدرت کاملہ کے جمال و جلال کی نشانیوں کے اظہار کے لیے ہزاروں جلوؤں کو آئینہ باصفا بناکر اپنے حسن کا نظارہ فرما رہا ہے۔ خود اپنے ساتھ عشق کا کھیل فرما رہا ہے۔ خود نظر خود ناظر اور خود ہی منظور ہے، خود عشق خود عاشق اور خود ہی معشوق ہے۔ اگر تو اپنے آپ سے پردہ ہٹا دے تو سب وہی ایک ذات ہے اور جو کثرت اور دوئی تجھے نظر آتی ہے وہ محض تیری آنکھ کے بھینگے پن کی وجہ سے ہے۔ (رسالہ روحی شریف)
؎ یقین ہے یہ احد ہے تو لیکن نہیں کہیں بھی تو
مخلوق کے جہاں میں دیکھا جہاں وہیں ہے تو
حضرت علامہ ابنِعربی ؓ فرماتے ہیں:
’’اللہ پاک نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا جیسا کہ پھل بیج کی صورت پر ہوتا ہے۔ پس آدم یعنی انسانِ کامل حق تعالیٰ کی صورت پر ہے پس حق تعالیٰ کی ذات و صفات کا جامع ہے۔ چونکہ حق تعالیٰ انسانِ کامل کی صورت میں جلوہ نما ہے لہٰذا ہر شے اس کے تابع ہے جیسا کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے۔
وَ سَخَّرَلَکُمْ مَّافیِ السَّمٰوٰتِ وَمَافِیْ الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہٗ
ترجمہ:اور (اے میرے محبوبؐ) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سارے کا سارا آپؐ کے لیے مسخر کر دیا۔‘‘ (فصوص الحکم)

توحید کی حقیقت سمجھنے کے لیے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو ؒ کے بیان کردہ تنزلاتِ ستہ کو سمجھنا بھی از حد ضروری ہے۔ توحید اسلام کا بنیادی رکن ہے۔ عام مسلمان اس کی وسعت اور گہرائی میں نہیں جاتا اس لیے اس کے لیے یہ عقیدہ صرف اللہ کو ایک ماننے تک محدود ہے لیکن جب فقرا کاملین و عارفین نے اس کی شرح کی تو اس کی وسعت و گہرائی کو لامحدود پایا۔ عوام کے لیے کلمہ طیب توحید کا اعلان ہے جو بظاہر نہایت صاف اور سیدھا ہے۔ ان کی نظر میں توحید’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ‘‘ا للہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تمام تعریفیں اس کو زیبا ہیں، وہی خالق و مالک ہے۔اس کا کوئی ثانی نہیں نہ شریک نہ مثل وہ بے مثال ہے۔ لیکن جب فقرا کاملین و عارفین اسی کلمہ کی شرح بیان فرماتے ہیں تو بعض علما کرام عش عش کر اٹھتے ہیں جبکہ بعض علما کرام کفر و شرک و زندیق کے فتوے داغتے ہیں۔
’’لَآ اِلٰہَ ‘‘ نہیں ہے کوئی معبود ’ اِلَّا اللّٰہُ‘‘سوائے اللہ کے۔ یہ کلمہ نفی بھی ہے اور اثبات بھی یعنی ہر غیر اللہ کی نفی اور واحد اللہ کا اثبات۔ اگر غیر اللہ کا وجود ہی نہیں تو اس کائنات اور دیگر مخلوقات کی کیا حقیقت ہے؟ اس سلسلہ میں دو نظریات عام ہیں:
وحدت الوجود
وحدت الشہود۔
نظریہ وحدت الوجود:
وحدت الوجود یا ہمہ اوست (معرفت ِ ذات) اس نظریہ کو سب پہلے سیّدالشہدا سیّدنا امامِ حسینؓ عالی مقام نے اپنی کتاب مرآۃ العارفین میں بیان فرمایا۔ یہ وحدت الوجود پر اوّلین تصنیف ہے جو در اصل سورۃ الفاتحہ کی تفسیر ہے اور حضرت امام زین العابدینؓ کے سوال کے جواب میں امامِ عالی مقامؓ نے تحریر فرمائی۔ وحدت الوجود کی تشریح اور انسانِ کامل کی اصطلاح بھی تحریر ی طور پر سب سے پہلے آپؓ نے ہی وضع فرمائی۔

عارفین باللہ اس نقطہ پر متفق ہیں کہ اب تک جتنی کتب وحدت الوجود سے متعلق شائع و تحریر ہو چکی ہیں سب مرآۃ العارفین کی ہی شرح ہیں۔ حضرت ابو سعید مبارک مخزومی ؒ (سیّدنا غوث الاعظم ؓ کے مرشد پاک) نے اپنی کتاب ’’تحفہ مرسلہ شریف‘‘میں تفصیلاً وحدت الوجود اور تنزلاتِ ستہ کو بیان فرمایا۔ لیکن حضرت شیخ ِ اکبر محی الدین ابن ِعربیؒ کی تحریر سے وحدت الوجود کو عروج ملا۔آپؒ نے نہایت جامع انداز میں نظریہ وحدت الوجود کو اس قدر تفصیل سے بیان فرمایا ہے کہ مزید اس نظریہ پر لکھنا اور بیان کرنا ممکن نہیں۔
اس نظریہ کو سمجھنے سے پہلے حلول اور اتحاد کو سمجھنا ضروری ہے۔ حلول اور اتحاد میں دو جسموں (وجود) کا ہونا ضروری ہے لیکن وحدت الوجود میں چونکہ وجود دراصل ایک ہی ہے اور وہ ہے حق تعالیٰ‘ اس لیے توحید سے مراد حلول یا اتحاد لینا سراسر جہل، لغو اور ظلم ہے۔
شیخ اکبر محی الدین ابن ِ عربی ؒ فرماتے ہیں:
٭ وجود صرف ذاتِ حق کا ہے کوئی اس کا ادراک نہیں کر سکتا مگر وہ خود۔ کوئی اسے نہیں پہچانتا مگر وہ خود۔ اس کا حجاب اس کی اپنی وحدت ہے۔ اس کا حجاب اس کا یہی وجود ہے۔ اس کی وحدت نے اسے اس طرح محجوب کر رکھا ہے کہ اس کی شرح ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ اسے کوئی اور نہیں دیکھتا خواہ کوئی نبی، رسول، کوئی کامل اکمل ولی ہو یا کوئی مقرب فرشتہ۔ اس کا نبی وہ خود ہے۔ اسی کا رسول ‘‘وہ‘‘ ہے اس کا کلام ’’وہ‘‘ ہے اس نے اپنا کلام خود اپنی طرف سے اپنے علاوہ بغیر کسی واسطے کے اپنے ہی ذریعے سے اپنی طرف بھیجا۔ اس کے علاوہ کسی چیز کا وجود نہیںاس لیے اپنے تئیں فنا کی طرف نہیں جاسکتا۔
٭ بندہ اور ربّ ہر ایک اپنی ذات کے کمالِ وجود میں ساتھ ہیں باوجود اس زیادتی اور کمی کے عبد ہمیشہ عبد اور ربّ ہمیشہ ربّ ہے۔ (فتوحاتِ مکیہ،مترجم: صائم چشتی ،جلدسوم)
٭ معرفت ِ حق تعالیٰ کے متلاشی اور عرفانِ ذات کے طالب صادق صاف صاف دیکھتے ہیں کہ عالم میں واقع کثرت اُس واحد حقیقی میں موجود ہے جو وجودِ مطلق ہے اور بصورتِ کثرت ظاہر ہوا ہے جیسے قطروں کا وجود دریا میں، پھل کا وجوددرخت میں اور درخت کا وجود بیج میں۔ (فصوص الحکم)
اور اس کا وجود عین اس کی ذات ہے اور اس کی ذات کے اثبات کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔

نظریہ وحدت الشہود:
شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین سہروردیؒ نے توحید کو ہمہ از اوست (ہر شے کا وجود حق سے ہے) یعنی معرفت ِ صفات کے نکتہ سے سمجھانے کی کوشش فرمائی ہے۔ آپؒ نے ذاتِ باری تعالیٰ کو نورالانوار کہا ہے۔ ’’اللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‘‘اور بیان فرمایا کہ نور ہی ’’ظہور اور کمالِ ظہور ہے‘‘ اس سے اوپر کوئی نور عالی نہیں۔ لہٰذا یہ صرف اپنی ذات ہی سے عشق و محبت رکھتا ہے اور اس ذات پر ہی اس کا کمال ظاہر ہے اور تمام اشیا سے اکمل واجمل ہے۔

ذاتِ باری تعالیٰ ہی اصل ہے اور یہ جو کثرت نظر آ رہی ہے اس کی صفات کا ظہور (ظِل) ہے۔اور معرفت ِ صفات ہی معرفت ِ الٰہیہ ہے۔
ان دونوں مندرجہ بالا نظریات میں اگر فرق کو دیکھا جائے تو نظریہ وحدت الوجود میں وجود ہے ہی صرف ذاتِ حق تعالیٰ کا جبکہ وحدت الشہود نظریہ میں مخلوق کا وجود بھی ثابت کیا جاتا ہے اور اسے اللہ کے نور کا سایہ یا عکس قرار دیا جاتا ہے۔ معاذ اللہ! جب نبی پاکؐ کا سایہ نہیں تھا تو اللہ کا سایہ کیسے ممکن ہے؟ وحدت الوجود میں معرفت ِ ذات ہے جبکہ وحدت الشہود میں معرفت صفات ہے۔ اگرچہ اللہ پاک نے اپنے نور سے بالترتیب وحدت سے کثرت میں ظہور فرمایا لیکن اکثر لوگ کثرت یعنی صفات کی معرفت میں محو ہوجاتے ہیں اور اصل (ذات) تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔ اگر وہ کثرت کی معرفت سے معرفت ِ الٰہیہ حاصل کر پائیں تو حق ہے وگرنہ محرومی۔ یہ بھی درست ہے کہ جو آدمی جس مرتبہ پر ہوتا ہے وہ اسی کے متعلق ہی بتلا سکتا ہے۔
حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے مطابق عارفِ صفات صاحب ِ ریاضت تو ہو سکتا ہے لیکن صاحب ِ راز نہیں اور صاحب ِ ریاضت صاحب ِ درجات ہے۔ معرفت ِ صفات کی انتہا سدرۃ المنتہیٰ پر اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی اور لوحِ محفوظ کا مطالعہ ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ تک خلق (مخلوق) کا مقام ہے اور اس سے آگے عالم ِ لاھوت میں غرقِ توحید ہونا معرفت ِ ذات کا مقام ہے۔ معرفت ِ صفات والا کثرت میں ہی رہتا ہے وحدت الوجود میں داخل نہیں ہو سکتا جبکہ معرفت ِ ذات والے کا سفر ہی وحدت سے شروع ہوتا ہے۔ (بحوالہ شمس الفقرا)
توحید اور وحدت الوجود کی سمجھ تب تک نہیں آ سکتی جب تک مرشد کامل اکمل کی صحبت میں رہ کر تزکیہ نفس کی دولت حاصل نہ کی جائے۔ مرشد کامل اکمل نفس کو پاک کر کے اللہ پاک کی معرفت عطا کرتا ہے اور قربِ حق کے مراتب طے کرواتا ہے تب ہی طالب ِ مولیٰ اس قابل بنتا ہے کہ نہ صرف وحدت الوجود کے نظریہ کو سمجھ سکے بلکہ بصیرت کی بدولت وحدت کا مشاہدہ بھی کر سکے۔
سلسلہ سروری قادری کے موجود امام اور شیخِ کامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں جو بیعت کے پہلے ہی روز طالبِ مولیٰ کو تصور اسم اللہ ذات اور ذکر ِ یاھُو عطا فرما دیتے ہیں جس کی مشق اور مرشد کی صحبت کی بدولت طالبِ مولیٰ نہ صرف تزکیہ نفس کے مرحلہ سے گزرتا ہے بلکہ باطنی ترقی کی بدولت نفس پر پڑے ہوا و ہوس کے حجابات بھی دور ہوتے ہیں اور طالبِ مولیٰ بتدریج وحدت کی طرف بڑھتا ہے اور مرشد کامل کی نظرِ کرم کی بدولت وحدت الوجود کا مشاہدہ کرتا ہے۔ سب طالبانِ مولیٰ کے لیے دعوت ہے کہ وہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی پاکیزہ و نورانی صحبت سے مستفید ہوں اور نہ صرف اپنے قلب اور روح کو منور کریں بلکہ وحدت تک رسائی بھی حاصل کریں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں وحدت الوجود اور توحید کے نظریہ کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 
“یہ مضمون سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی تصنیف مبارکہ “شمس الفقرا” کے باب توحید سے  لیا گیا ہے۔”                

اپنا تبصرہ بھیجیں