امیر الکونین | Ameer-ul-Konain

امیر الکونین

قسط نمبر22

اے عزیز! وہ مرشد عجیب احمق ہیں جو شب و روز حبِّ دنیا کے باعث بے جمعیت رہتے ہیں اور پریشان ہو کر بے حیائی سے (دنیاوی مال و دولت کا) سوال کرتے ہیں جبکہ دعویٰ کرتے ہیں باطن صفا مرشد ہونے کا۔ مرشدکامل جب کسی کو نوازنا چاہتا ہے تو اسے علم ِ کیمیا اکسیر کے بے شمار خزانے عطا کرتا ہے اور طالب کو سونا و چاندی کا علم حاصل ہو جاتا ہے اس کے بعد اپنی نگاہ سے قرب و حضورِ حق عطا کرتا ہے۔ جو مرشد پہلے ہی روز معرفت ِ توحید کا علم اور مشاہدہ و دیدارِ الٰہی کا سبق دیتا ہے اس طالب کو ذکر، ورد وظائف اور مراقبہ کرنے کی کیا ضرورت؟ عارف اہل ِ دیدار کی آنکھیں، دل اور روح مشاہدہ و دیدار میں غرق رہتے ہیں اور وہ فنا فی اللہ کی حالت میں اللہ کے اسرار کا بے حجاب مشاہدہ کرنے میں مشغول رہتے ہیں۔ اہلِ  دیدا ر کو مشاہدہ اور دیدار سے الہام ہوتا ہے اور وہ ہر شے مشاہدہ و دیدار سے دیکھتے ہیں اور ان کی دلیل بھی مشاہدہ و دیدار سے ہوتی ہے اور وہ سلطان الوھم سے بھی مشاہدہ و دیدار کے ذریعے رابطے میں ہوتے ہیں اور ان کی جمعیت و غنایت بھی قرب، مشاہدہ اور دیدار سے ہوتی ہے اور وہ ہدایت بھی مشاہدہ اور دیدار سے پاتے ہیں۔ سب سے پہلے دیدار ہے پھر اعتبار ہے۔ سب سے پہلے طالب حضوری کا مشاہدہ کرتا ہے بعد میں اسے قرب نصیب ہوتا ہے اور آخر طالب نورِ توحید میں غرق ہو جاتا ہے۔ بیت:
این فقر را شد مراتب از ازل
حق لقا فیض و عطائش بافضل
ترجمہ: فقیر کو حق تعالیٰ کے قرب و دیدار کے مراتب اللہ کے فیض و فضل سے ازل سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔
اللہ کی رحمت کی یہ راہ دیدار کی تلقین سے کھلتی ہے۔ ابیات:
ہر مراتب را کنم تحقیق تر
ہر طریقت کل و جز در من نظر
ترجمہ: میں ہر مرتبے کی تحقیق کرتا ہوں اور طریقت کے تمام طریقے اور راستے میری نگاہ میں ہیں۔
شد مرا تلقین از حضرت رسولؐ
طالبان را میرسانم باحضور
ترجمہ: چونکہ مجھے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے تلقین حاصل ہے اس لیے میں طالبانِ مولیٰ کو بھی حضوری میں پہنچاتا ہوں۔
یہ مراتب ِ دیدار شریعت کی نماز جو زبان سے ادا کی جاتی ہے‘ سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ نمازِ طریقت جو قلب سے ادا کی جاتی ہے اور نمازِ حقیقت جو روح سے ادا کی جاتی ہے اور نمازِ سرّ جو چشم ِ سرّ سے باعیاں ادا کی جاتی ہے‘ شامل ہیں۔ اس نماز میں طالب جب سجدہ میں بے سر ہو کر جاتا ہے تو اللہ کے دیدار اور حضوری سے مشرف ہوتا ہے۔ بیت:
سر در سجدہ بود بیند خدا
سجدہ نادیدہ کے باشد روا
ترجمہ: طالب جب سجدہ میں سر جھکاتا ہے تو حق تعالیٰ کا دیدار کرتا ہے۔ جس سجدہ میں دیدار نہ ہو وہ سجدہ کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے۔
خواص کی نماز دیدار سے مشرف ہونے سے ادا ہوتی ہے جس میں وہ حق تعالیٰ کے روبرو سجدہ کرتے ہیں اور اللہ سے دائمی راز و نیاز میں مصروف رہتے ہیں جبکہ عوام کی نماز اور سجدہ صرف رسوم اور آواز سے ادا کیا جاتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
مَنْ لَّمْ یُؤَدِّ  فَرَضُ الدَّائِمِ لَمْ یَتَقَبَّلِ اللّٰہُ مِنْہُ فَرَضُ الْوَقْتِ۔
ترجمہ: جو دائمی فرض ادا نہیں کرتا اللہ اس کے وقتی فرض بھی قبول نہیں فرماتا۔ 

بیت:
لعنتے بر بے نمازان ہر دوام
در نمازے شد لقا وحدت تمام
ترجمہ: بے نمازیوں پر ہمیشہ لعنت ہو۔ نماز میں تو حق تعالیٰ کا دیدار، قرب اور وحدت حاصل ہوتی ہے (پھر بھی لوگ کیوں نہیں نماز ادا کرتے)۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اَلصَّلٰوۃُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔
ترجمہ: نماز مومنین کی معراج ہے۔

فقیر ِ کامل طالب ِ مولیٰ کو ہر خزانہ، ہر تصرف، ہر تصوف، ہر تفکر، ہر توجہ، ہر حکمت، ہر علم، ہر مقامِ قربِ ذات صفاتِ الٰہی کا حصول، ہر مخلوقاتِ خدا پر اختیار، ازل سے ابد تک، عقبیٰ سے تحت الثریٰ تک اور ماہ سے ماہی تک ہر شے کا نظارہ اور سرّ اسرارِ الٰہی کا مشاہدہ عطا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مرشد دیگر علوم بھی عطا کرتا ہے جیسا کہ علم ِ غیب سے آگاہی، علم ِ توفیق، علم ِ تحقیق، علم ِ صدیق، علم ِ تصدیق، علم ِ عیاں، علم ِ لقا جو لامکان میں حاصل ہوتا ہے‘ علم ِلاھوت، علم ِ ملکوت، علم ِ جبروت، علم ِ ناسوت، علم ِ معرفت، علم ِ شریعت، علم ِ طریقت، علم ِ حقیقت، علم ِ حق، علم ِ باطل، علم ِ فقر، علم ِ آیاتِ قرآن، علم ِ حدیث، علم ِ تفسیر، علم ِ روشن ضمیر، علم باتاثیر، علم ِ جملہ کیمیا اکسیر، علم ِ سنگ پارس، علم ِ سنگ ِ شفا، علم ِ نظر، علم ِ طلب، علم ِ محبت، علم ِ جمعیت، علم ِ جامع، علم ِ تلقین، علم ِ راسخ دین، علم ِ حیا، علم ِ ادب، علم ِ راز، علم ِ کلید، علم ِ قفل، علم ِ نصاب، علم ِ تکرار، علم ِ سخاوت، علم ِ وقت، علم ِ نحس، علم ِ سعد، علم ِ سعید، علم ِ تجرید، علم ِ ترک، علم ِ توکل، علم ِ الہام اور علم ِ مجاہدہ۔ مرشد کامل مندرجہ بالا تمام علوم کلمہ طیبہ   لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ   کی کنہ سے کھولتا ہے اور طالب ِ مولیٰ کو کلمہ کے ہر ہر حرف کی حقیقت کھول کر دکھاتا ہے جو کہ حق ہے اور حق کی جانب سے ہے۔ مرشد کامل یہ علم عطا کر کے دنیا و آخرت میں لایحتاج بنا دیتا ہے۔ جو طالب روزِ اوّل کلمہ طیبہ   لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللّٰہ  کو اس کی کنہ سے پڑھتا ہے اور اس میں سے اسم ِ اعظم پاتا ہے تو اٹھارہ ہزار عالم کی کل مخلوقات جو کہ جز ہیں‘ پر حکمران بن جاتا ہے۔ جز کل کا محتاج ہے جبکہ کل لایحتاج ہوتا ہے۔ مرشد کامل صادق طالب کو علم ِ جزکی تعلیم دیتا ہے اور علم ِ کل سے تلقین کرتا ہے۔ علم ِ جز سے توفیق حاصل ہوتی ہے اور علم ِ کل سے اس توفیق کی تحقیق حاصل ہوتی ہے اور حق اس کا رفیق ہوتا ہے۔ جو طالب ِ مولیٰ روزِ اوّل ہی جامع مرشد سے علم ِ کل و جز کا سبق پڑھتا ہے تو وہ کل و جز کا مشاہدہ کرتا ہے اور دونوں جہان پر تصرف کرتا ہے۔ کیمیا کے خزانے تصور کی قوت سے اس کے قبضہ و تصرف میں آ جاتے ہیں اور طالب ہر عمل کا عامل اور ہر تصرف میں کامل ہو جاتا ہے۔ جو طالب مرشد کی تعلیم و تلقین کے آغاز سے ہی علم ِ کل و جز پر عمل کرتا ہے اسے تمام عمر ریاضت و مجاہدہ اور علم و حکمت کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ اسے مراتب ِ جمعیت کہتے ہیں اور جمعیت کا یہ منصب مرشد جامع سے حاصل ہوتا ہے۔ مرتبہ جمعیت تمام مخلوقات کے حساب اور کل و جز رسومات اور حی ّ و قیوم ذات کی حقیقت کے مجموعہ کو کہتے ہیں جو ایک حرف ’طاعت‘ سے حاصل کیا جا سکتا ہے اور تمام جہان طالب کے تصرف یا ہتھیلی میں آجاتے ہیں اور وہ سب کا نظارہ ناخن کی پشت پر کرتا ہے۔ نیز جمعیت اللہ کی معرفت عطا کرتے ہوئے وجود میں سے خطرات کا خاتمہ کرتی ہے۔ جمعیت کی غیر موجودگی میں یہ خطرات وجود کو بیمار و پریشان کرتے ہیں اور اس مرض کا مکمل علاج اور دوا ضروری ہے جو کہ دیدار و قربِ الٰہی سے مشرف ہونا ہے۔ مشاہدہ و معراج دائمی جمعیت بخشتے ہیں جس کی مہربانی سے طالب ہر ضرورت و پریشانی سے آزاد ہو جاتا ہے اور رجعت، زوال اور سلب سے پاک مراتب حاصل کرتا ہے۔ حضوری، معرفت ِ الٰہی، قرب اور وصال کی جمعیت عظیم مراتب ہیں۔ طالب کے پاس راہِ طریقت کا علم و حکمت، توفیق ِ الٰہی، اقرار و تصدیق، خزائن ِ الٰہی، قال و حال، تصور و تصرف، ترک و توکل اور غنایت و ہدایت کی جمعیت ہونی چاہیے۔ کامل طریقہ قادری۱؎ میں عارف جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نظر و صفاتِ محمود سے موصوف ہوتا ہے‘ حق کا مظہر اور شکرگزار ہوتا ہے جو ہمیشہ دیدارِ پروردگار میں غرق رہتا ہے۔ دیگر طریقوں یا خانوادہ کا مرید اگر دیدارِ حق اور ان مراتب کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹا اور شیخی خور ہے۔ دنیاوی عالم ظاہری علم حاصل کرنے میں وقت ضائع کرتا ہے۔ تین طرح کے علوم کے تین طرح کے عالم ہیں وہ تین علوم علم ِ نفس، علم ِ قلب اور علم ِ روح ہیں۔اگر عالم کے نفس و زبان ایک دوسرے کے موافق ہو جائیں تو وہ عالم ِ نفس ہوگا جو تکبر اور خواہشاتِ نفس کا شکار ہوتا ہے۔اور اگر عالم کی زبان و قلب ایک دوسرے کے موافق ہو جائیں تو وہ عالم ِ قلب ہوتا ہے جسے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ اور اگر عالم کی زبان اور روح ایک دوسرے کے موافق ہو جائیں تو وہ عالم ِ روح ہوتا ہے جو دائمی قرب و وصال سے مشرف ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ اَیْ مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ بِالْفَنَآءِ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ بِالْبَقَآءِ
ترجمہ: جس نے اپنے نفس کو پہچانا تحقیق اس نے اپنے ربّ کو پہچانا یعنی جس نے اپنے نفس کو فنا سے پہچانا تحقیق اس نے اپنے ربّ کو بقا سے پہچانا۔

پس عالم ِ قلب اور عالم ِ روح کی مجلس ایک دوسرے کے مخالف ہے لہٰذا ایک دوسرے کو پسند نہیں آتی۔ اور حق شناس مرشد کامل اپنی نگاہ سے دونوں کی اس طرح تحقیق کرتا ہے جس طرح صراف سونا و چاندی کی تحقیق کرتا ہے۔ مرشد پر فرضِ عین ہے کہ پہلے ہی روز طالب ِ مولیٰ کو اپنی توجہ سے ان مراتب ِ جمعیت کی تمامیت تک لازمی پہنچا دے تاکہ طالب کا وجود سر سے پائوں تک نور بن جائے اور اللہ کی حضوری میں پہنچ کر اللہ سے ہم کلام ہو سکے۔ ابیات:
علم بہر از قرب اللہ حق لقا
علم دنیا باز دارد از خدا
ترجمہ: علم اللہ کے قرب کی خاطر حاصل کیا جائے تو قرب و وِصال عطا کرتا ہے لیکن اگر یہ دنیا کی خاطر حاصل کیا جائے تو حق تعالیٰ سے دور کرتا ہے۔
علم ِ دنیا فتنہ از فرعون لعین
علم بہر از معرفت حق الیقین
ترجمہ: علم ِ دنیا ملعون فرعون کا فتنہ ہے جبکہ معرفت ِ الٰہی کا علم حق الیقین تک پہنچاتا ہے۔
ہر کہ خواند علم را بہر از ثواب
علم آنرا میدہد عامل خطاب
ترجمہ: جو کوئی ثواب کی نیت سے علم سیکھتا ہے تو علم اسے عامل کا خطاب دیتا ہے۔
ہر کہ خواند علم را بہر از مصطفیؐ
واقف اسرار گردد از اِلٰہ
ترجمہ: اور جو کوئی علم کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خوشنودی کی خاطر پڑھتا ہے تو وہ معبود کے اسرار سے واقف ہو جاتا ہے۔
جمعیت تین قسم کی ہے جمعیت ِ نفس، جمعیت ِ قلب اور جمعیت ِ روح۔ روح مشاہدہ و معراج کی لذت سے جمعیت پاتی ہے اور قلب قربِ الٰہی کی لذت سے جمعیت پاتا ہے اور نفس کو شہوت اور خواہشاتِ نفسانی کی لذت سے جمعیت حاصل ہوتی ہے۔ یہ تینوں قسم کی جمعیت طالب ِ مولیٰ کے بچائو کے لیے مددگار ہے جس طرح کشتی کے لیے دریا کا پانی مددگار ہے اور مچھلی کے لیے پانی مددگار ہے۔ جمعیت ِ نفس علم ِ اکسیر اور سنگ ِ پارس پر تصرف سے حاصل ہوتی ہے اس کے ساتھ طالب دعوتِ تکسیر پر تصرف حاصل کرتا ہے تاکہ سونا و چاندی جمع کر سکے اور مراقبہ سے ساری دنیا پر تصرف کر سکے جو کہ استدراج ہے۔ نفس کو دنیا پر تصرف، لذات و خواہشات کی بازیگری سے جو جمعیت حاصل ہوتی ہے وہ استدراج ہے۔ جمعیت ِقلب غنایت سے حاصل ہوتی ہے جو کہ اسمِ اللہ ذات کے تصور کی تاثیر سے ممکن ہے اور طالب کو لایحتاج بنا دیتی ہے۔ جمعیت ِ روح ہدایت، قرب، مشاہدہ، دیدار ِ الٰہی اور دائمی معراج سے حاصل ہوتی ہے۔ نفس ہمیشہ استدراج کی طلب میں رہتا ہے۔ قلب ہمیشہ غنایت اور لایحتاج بننے کی طلب میں رہتا ہے جبکہ روح ہمیشہ دیدار و معراج کی طلب میں رہتی ہے۔ مرشد کامل طالب کے نفس، قلب، روح کو اسمِ اللہ  ذات اور کلمہ طیب لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللّٰہ  سے حاصل ہونے والی حضوری کی تعلیم و تلقین سے ایک ہی قدم اور ایک ہی دم میں مکمل جمعیت عطا کر دیتا ہے کہ طالب اپنے ہر حال کا مشاہدہ کرتا ہے اور مرید ِ لایرید بنتا ہے۔ اس کے بعد نفس قلب کی صفت اختیار کر لیتا ہے اور قلب روح کی فطرت اختیار کر لیتا ہے اور روح قلب و نفس کے ساتھ جمعیت کی غرض سے مکمل طور پر نورِ توحید میں ڈھل جاتی ہے اور طالب کو قرب و دیدارِ الٰہی اور حضوری کے مراتب دائمی طور حاصل ہو جاتے ہیں۔ ابیات:
دیدار در ہفت علم و ہفت راہ
در یک ہفتہ رسد وحدت اِلٰہ
این ہفت علم از ہفت آیت یاد کن
تا شوی محرم خدا و ز رازِ کن
ترجمہ: دیدارِ حق تعالیٰ سات علم اور سات طریقے سے حاصل ہو سکتا ہے۔ اگر طالب وہ علم اور طریقے حاصل کر لے تو سات روز میں وحدتِ حق تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ سات علم قرآن کی سات اقسام کی آیات سے یاد کر تاکہ تو رازِ کن اور حق تعالیٰ سے واقف ہو سکے۔
سات آیاتِ قرآن یہ ہیں آیت ِ وعدہ، آیتِ وعید، آیتِ امر معروف، آیتِ نہی منکر، آیتِ قصص الانبیا، آیتِ منسوخ، آیتِ ناسخ۔ ہر مراتب شریعت کی پیروی سے کھلتے ہیں اور واپس شریعت کی طرف ہی لوٹتے ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
اَلنِّہَایَۃُ ھُوَ الرَّجُوْعُ اِلَی الْبِدَایَۃِ  
ترجمہ: انتہا ابتدا کی طرف لوٹ جانے کا نام ہے۔
شریعت قرآن ہے اور طریقت قرآن کی تفسیر ہے۔ حقیقت قرآن کی آیات سے عین حقیقت کا دیدار ہے اور معرفت قرآن سے جاودانی جمعیت کا حصول ہے۔ ہر ایک مقام اور قرآن قرب، معرفت اور دیدارِ رحمن پر دلالت کرتا ہے۔ کوئی بھی علم، حکمت اور تصرف قرآن سے باہر نہیں اور نہ ہوگا۔
مردہ دل علما اور زندہ دل فقرا میں کیا فرق ہے؟ علما نادان بچے کی مانند ہیں اور تصور اسمِ اللہ ذات اور اسمِ محؐمد  سے ناواقف ہیں جبکہ فقرا اسمِ اللہ ذات کے تصور کے عامل اور اسمِ محمد کے تصرف سے کامل ہوتے ہیں اور دنیا و آخرت میں (ہر شے سے) لایحتاج رہتے ہیں۔ جملہ علوم اسمِ اللہ  ذات کے تصرف اور قید میں ہیں جبکہ اسمِ اللہ  ذات کسی علم کی قید میں نہیں۔ اسمِ اللہ ذات نفس کو نیست و نابود کر دیتا ہے اور اللہ کی حضوری میں پہنچاتا ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَایَعْلَمُہَآ اِلَّا ھُوَ ط وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ ط وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ اِلَّا یَعْلَمُھَا وَلَا حَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلاَ یَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ۔ (الانعام۔59)
ترجمہ: اور اس کے پاس غیب کی چابیاں ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور وہ جانتا ہے جو کچھ خشکی اور تری میں ہے اور کوئی پتا بھی ایسا نہیں گرتا جس کا علم اللہ کو نہ ہو۔ اور نہ کوئی بیج ایسا ہے جو زمین کی تاریکی میں ہے اور نہ کوئی تر اور خشک چیز جو کتابِ مبین میں بیان نہ کی گئی ہو۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:اِنَّ الْقُرْاٰنَ رَحْمَۃَ اللّٰہِ عَلَی الْخَلَائِقِ۔ ترجمہ: بے شک قرآن مخلوق پر اللہ کی رحمت ہے۔(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں