کربلا اور عہد ِ وفا | Karbala or Ahde Wafa

کربلا اور عہدِ وفا

 اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری۔ لاہور

میدانِ کربلا وہ میدانِ عشق ہے جہاں شہیدوں کے ہر خون کا قطرہ وفا کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ شہیدانِ کربلا عشق و وفا کی داستانیں رقم کیے اس جہانِ فانی سے تو کوچ کر گئے لیکن اسلام کی بنیادوں کو اہلِ ایمان کے سینوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پیوست کرگئے۔ واقعہ کربلاوہ شعلۂ ایمانی ہے جو اہلِ بیتؓ سے محبت رکھنے والوں کو ہر دم سلگائے رکھتا ہے اور دینِ اسلام سے عہدِ وفا نبھانے کا درس دیتا ہے۔
شوقِ جامِ شہادت کا جذبہ تو کوئی امامِ عالی مقام سیدّناامام حسینؓ سے سیکھے، جانتے تھے کہ کربلا کی سرزمین اُن کے اور اُن کے پیاروں کے خون کی پیاسی ہے، اہلِ کوفہ کی بیوفائی سے بھی آگاہ تھے لیکن پھر بھی اپنے نانا جانؐ کے دین پر قربان ہونے اور شوقِ دیدار کے لیے اس گلشنِ حیات کوخیرباد کہنے کے لیے کمربستہ تھے۔

عشق اور وفا کا طریقہ تو کوئی امام عالی مقامؓ کے ساتھیوں سے سیکھے،  جب ان کے امام نے ان پر یہ بات آشکار کر دی کہ ان کا ساتھ نبھانے کا مقصد جامِ شہادت نوش کرنا اور گلشنِ فردوس میں جا مقیم ہونا ہے پھر بھی ان کی استقامت میں رَتی برابر فرق نہ آیا۔ وقتاً فوقتاً آپؓ اپنے اصحابؓ کے قلوب شوقِ شہادت سے گرماتے رہے اور جو پلٹنا چاہے اسے واپس لوٹ جانے کی اجازت بھی دے دی لیکن قربان جائیں ان اصحاب پر کہ جن کے پائے استقلال پر ذرہ برابر لغزش نہ آئی ۔ ایک موقع پر آپؓ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا :
’’جو شخص راہِ خدا میں جان قربان کرنا چاہے، موت کا مشتاق اور لقائے الٰہی کا طالب ہو وہ میرے ساتھ چلے۔‘‘
کسی ساتھی نے اپنے امام کا ساتھ نہ چھوڑا اور قربان ہونے کے لیے لبیک کی صدا بلند کی۔ ایک موقع پر پھر فرمایا:
’’لوگو! تم میں سے جو تلواریں کھا سکتا ہو اور تیروں کی دعوت برداشت کر سکتا ہو وہ میرے ہمراہ رہے ورنہ واپس لوٹ جائے۔‘‘
آپؓ کے تمام ساتھی صادق عاشق تھے اور عشق میں عاشق محبوب پر تن، من، جان، اولاداور مال سب کچھ نچھاور کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ عشق کا سفر تمام کشتیاں جلا کر ہی طے کیا جاتا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ پنجابی بیت میں عشقِ حقیقی کی حقیقت اور سچے عاشق کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

جے کر دین علم وِچ ہوندا، تاں سِر نیزے کیوں چڑھدے ھوُ
اٹھارہ ہزار جو عالم آہا، اَگے حسینؓ دے مردے ھوُ
جے کجھ ملاحظہ سرورؐ دا کردے، تاں تمبو خیمے کیوں سڑدے ھوُ
جے کر مندے بیعت رسولیؐ، پانی کیوں بند کردے ھوُ
پر صادق دین تنہاں دا باھوؒ، جو سر قربانی کردے ھوُ

سچا دین تو ان عاشقان کا ہوتا ہے جو سر تو قربان کر دیتے ہیں لیکن اپنے عشق پر حرف نہیں آنے دیتے ۔ (سبحان اللہ)

پیاس کی شدت سے گلے میں کانٹے چبھتے ہیں لیکن یزیدی لشکر کی بربریت اور سنگدلی کی انتہا یہ کہ تین دن پیاسے اور بے سروسامان لوگوں کو پانی کا ایک قطرہ گلے سے اتارنے نہیں دیا جاتا۔ بڑے تو بڑے، بچے بھی ایک ایک بوند کے لیے ترس رہے ہیں لیکن دریائے فرات کا پانی ان پر بند کر دیا جاتا ہے صرف اس ڈر سے کہ ان کے اندر جذبۂ ایمانی کا جو سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے کہیں پانی کی دو بوند مل جا نے سے اس سمندر میں طغیانی نہ آجائے اور انہیں جان سے ہاتھ نہ دھونا پڑ جائے۔ گرمی کی شدت اور تپتی ہوئی ریت میں ان بہتر (72) نفوس کے علاوہ باقی ہر جاندار پانی پی کر سیر ہو سکتا تھا لیکن دریائے فرات کو یہ اعزاز حاصل نہ ہو سکا کہ وہ ان خوش نصیب عاشقانِ اہل بیت کی پیاس بجھا جا سکتا۔ 

جن کو دھوکے سے کوفہ بلایا گیا
جن کو بیٹھے بٹھائے ستایا گیا
جس کے بچوں کو پیاسے رلایا گیا
جن کی گردن پہ خنجر چلایا گیا
جس نے حق کربلا میں ادا کر دیا
اپنے ناناؐ کا وعدہ وفا کر دیا
اس حسینؓ ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام 

عاشق جان کی بازی لگاتا ہے، اپنے خون سے سرزمینِ کربلا کو سرخ کرتا ہے اس جوشیلے نوجوان ’’فرزندِ امام حسینؓ حضرت علی اکبرؓ ‘‘کی جرأت و بہادری پر لاکھوں سلام۔ جب حضرت امام حسینؓ کے تمام جانثار اپنی جان قربان کر چکے تو اس کے بعداولادِ ابو طالب میں جنہوں نے سب سے پہلے جامِ شہادت نوش کیا وہ امام حسینؓ کے فرزند حضرت علی اکبرؓ تھے۔ آپؓ کی عمر صرف انیس برس تھی اور انتہائی خوبرو نوجوان تھے، رگوں میں شیرِ خدا کا خون گردش کر رہا تھا، شوقِ شہادت عروج پر تھا اور خونِ حیدری جوہر دکھانے کے لیے بے تاب تھا۔ جب اپنے شفیق بابا جان سے جامِ شہادت نوش کرنے کی اجازت مل گئی اور میدانِ جنگ میں قدم رکھا تو تمام یزیدی لشکر اس بہادر نوجوان کی بہادری دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا۔ آپؓ نے میدانِ جنگ میں داخل ہوتے ساتھ ہی صدا بلند کی:

اناعلی ابن الحسین بن علی
نحن و بیت الہ اولی النبی

ترجمہ:میں علی ہوں،حسینؓ کا فرزند اور علیؓ کا پوتاہوں ۔ بیت اللہ کی قسم ہم نبیؐ کی آل ہیں۔  

آپؓ کا میدان میں داخل ہونا تھا گویا دشمنوں کی صفوں کی صفیں الٹا دیں۔ ایک ہی وار میں کئی نامور جنگجو ؤں کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔ 

جب ان بدبختوں میں اکیلے حملہ کرنے کی سکت باقی نہ رہی تو ایک ساتھ حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ آپؓ بہادری کے جوہر دکھاتے رہے اور دشمن خون میں نہا کر خاک پر لوٹتے رہے۔ جسم تیروں، نیزوں، تلواروں کے زخم سے چور چور تھا، تین دن کی بھوک و پیاس سے جسم نڈھال تھا لیکن جذبۂ ایمانی اور وفا شعاری کا جوہر ہر چال سے عیاں تھا۔ تلوار تھی کہ رُکتی نہ تھی اور نہ جذبۂ عشق کم ہوتا تھا لیکن مسلسل تلواروں اور تیروں کی ضربیں پڑ رہی تھیں جس سے چمنِ فاطمہؓ کا گل اپنے خون میں نہا گیا تھا۔ آخر شدید زخمی حالت میں آپؓ اپنے گھوڑے سے گر پڑے اور اپنے بابا کو آواز دی ’’اے پدر بزرگوار! مجھ کو لیجیے۔‘‘ پدرِ بزرگوار نے اپنے لختِ جگر کو گود میں لیا اور خوش بخت بیٹے نے اپنے بابا جان سے کہا: ’’اے پدر بزرگوار! میں دیکھ رہا ہوں آسمان کے دروازے کھلے ہیں، بہشتی حوریں شربت کے جام لیے انتظار کر رہی ہیں۔‘‘ یہ کہا اور جامِ شہادت نوش کر لیا ۔  

 حضرت امام حسینؓ کے چھوٹے فرزند علی اصغرؓ جو ابھی شیر خوار بچے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی سنگدلی اور بربریت کسی معرکہ میں نہ دیکھی گئی جو خاندانِ اہلِ بیتؓ کے ساتھ روا رکھی گئی۔ شیر خوار بچہ جو نہ جنگ کر نے کے قابل ہے نہ اپنا دفاع کرنے کے، جس سے کسی کو کوئی دشمنی کا خطرہ نہیں، بھوک اور پیاس کی شدت سے بلک رہا ہے، ماں کا دودھ خشک ہو چکا ہے، ننھے بچے کی حالت تھی جو دیکھی نہ جاتی تھی۔ شفیق بابا جانؓ اپنے بچے کو ایسی حالت میں لیے یزیدی لشکر کے پاس جاتے ہیں اور پانی کا تقاضا کرتے ہیں اور بچے کے حال پر رحم کھانے کی التجا کرتے ہیں۔ صد افسوس ایسے سنگدلوں پرجن کا دل بچے کی تڑپ سے نہیں پگھلتا۔ صد افسوس ایسے سنگدل جفاکاروں پر جن میں رحم کا گوشہ نہیں تھا۔ اسی اثنا میں ایک بد باطن نے ایک ایسا تیر مارا کہ حضرت علی اصغرؓ کا حلق چھیدتا ہوا امام عالی مقام کے بازو سے پار ہو گیا اور ننھے بچے نے اپنے باباجانؓ کے ہاتھوں میں جان دیدی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

 آپؓ کا مبارک سینہ اپنے پیاروں کو خون میں نہاتا دیکھ کر چھلنی ہو چکا  تھا۔ جب آپؓ کے تمام جانثار ساتھی، بھائی، بھتیجے اور بیٹے راہِ خدا میں اپنی جان وقف کر چکے اب آپؓ نے خود میدانِ کارزار میں جانے کا ارادہ کیا۔ کوئی ساتھی موجود نہ تھا جو اب ہاتھ تھام کر پہلے خود میدانِ جنگ میں جانے کی التجا کرتا۔ وہ وقت آگیا تھا جس کے متعلق حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔ وہ گھڑی آن پہنچی تھی حب چمنِ فاطمہؓ کا گل دینِ اسلام کی حرمت کی خاطر جان کی بازی لگانے کے لیے تیار تھا۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔ غموں اور صدموں سے دل گھائل تھا۔ کہیں ننھی سکینہ باپ کے ساتھ لپٹنا چاہتی تھی، کہیں ہمشیرہ زینبؓ کادل اس بات سے کھنچتا تھا آخری بار اپنے بھائی کا چہرہ تک رہی ہوں۔ خاندانِ اہلِ بیتؓ کے آخری چشم و چراغ حضرت امام زین العابدینؓ جو کہ علیل تھے، حضرت امام حسینؓ نے ان سے ملاقات فرمائی، اپنے اور اپنے جانثاروں کے اہل  و عیال کو ان کے سپرد کیا اور انہیں بحفاظت مدینہ منورہ لے جانے کی ذمہ داری سونپی۔ حضرت امام زین العابدینؓ نے میدانِ کارزار میں جانے اور شہادت کا مرتبہ نوش فرمانے کی التجا کی تو آپؓ نے ان نے فرمایا:
’’جانِ پدر لوٹ آؤ، میدان میں جانے کا قصد نہ کرو۔ کنبہ، عزیز و اصحاب، خدام جو ہمراہ تھے راہِ حق میں جان نثار کر چکے اور الحمد للہ کہ ان مصائب کو اپنے جدکریم کے صدقہ میں صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کیا اب اپنا ناچیز ہدیہ سرراہِ خدا میں نذر کرنے کیلئے حاضر ہے۔ تمہاری ذات سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں، بیکسانِ اہلِ بیتؓ کو کون وطن تک پہنچائے گا، بیبیوں کی نگہداشت کون کرے گا، میرے بعد امانتِ الٰہیہ کون سنبھالے گا، جدوپدر کی جو امانتیں میر ے پاس ہیں کس کے سپرد کی جائیں گی، قرآنِ کریم کی محافظت اور حقائقِ عرفانیہ کی تبلیغ کا فرض کس کے سر پر رکھا جائے گا، میری نسل کس سے چلے گی، حسینی سیدّوں کا سلسلہ کس سے جاری ہوگا۔یہ سب توقعات تمہاری ذات سے وابستہ ہیں، رسالت و نبوت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے آخری چراغ تم ہی توہو، تمہارے نور سے ہی دنیا مستفید ہوگی۔ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دلدادگانِ حسن تمہارے اسی روئے تاباں سے حبیبِ حق کے انوار و تجلیات کی زیارت کریں گے۔ اے نورِ نظر، لختِ جگر یہ تمام کام تمہارے ذمہ کئے جاتے ہیں میرے بعد تم ہی میرے جانشین ہو گے، تمہیں میدان میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔‘‘ (امام حسینؓ اور یزیدیت)

 آپؓ میدانِ جنگ میں تشریف لائے، شامیوں اور کوفیو ں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور ان کو خاندانِ اہلِ بیتؓ سے دشمنی رکھنے والوں کے انجام سے ڈرایا۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ان کے نواسوں سے محبت اور عظمتِ آلِ رسولؐ سے دلوں کوگرمایا۔ اس سے پہلے کہ کسی کا دل آپؓ کی تقریر سے پگھلتا اور بغاوت کرنے پر آمادہ ہوتا ابنِ زیاد نے ان کے ضمیر جو کہ پہلے ہی خریدے جا چکے تھے، ان کو مزید مال و متاع اور حکومتی عہدو ں کے لالچ سے گمراہی اور پستی میں دھکیل دیا۔ ایمان کا چراغ سینوں میں بجھ چکا تھا اور وہ خود کو جہنم کا ایندھن بنانے کے لیے بضد تھے۔ ایسے میں جب حضرت امام حسینؓ کی جانب سے حجت تمام ہو چکی تو آپؓ نے دشمنوں کو للکارا اور میدان میں آکر اپنی بہادری کے جوہر دکھانے کا حکم دیا۔ ایک ایک کر کے یزیدی لشکر کے تمام نامور جنگجو آپؓ کے سامنے آتے رہے اور آپؓ اس طرح انہیں موت کے گھاٹ اتارتے رہے جیسے خزاں کے موسم میں درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔ عمرو بن سعد کے لشکر میں فاتحِ خیبر شیرِ خدا علی مشکل کشا کے شیر بیٹے کی جرأت و بہادری سے ہیبت و خوف کا سماں تھا۔ منافقوں کے دستوں کے دستے آپؓ کی تلوار سے گاجر و مولی کی طرح کٹتے رہے۔ آخر اکٹھے مل کر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ حضرت امام حسینؓ کے میدان میں تشریف لانے سے پہلے سب بہادری کے دعوے کر رہے تھے اور آپؓ کا سر تن سے جدا کرنے کے لیے تیار تھے لیکن جب آپؓ میدان میں تشریف لائے تو کوئی یہ جسارت نہ کر پایا۔ کئی افراد ارادۂ قتل سے آگے بڑھے لیکن جیسے ہی آپؓ کے چہرہ پر نگاہ پڑتی تو جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا۔ نضر ابن خرشہ اس ناپاک ارادہ سے آگے بڑھا مگر امام عالی مقامؓ کی ہیبت سے اس کے ہاتھ کانپ گئے اور تلوار ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ خولی ابنِ یزید نے یاشبل ابنِ یزید نے بڑھ کر سرِ اقدس کو تن مبارک سے جدا کر دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد 

حضرت امام حسین ؓ نے ہمت و بہادری اور استقامت کی ایسی اعلیٰ مثال قائم کی جس کی رہتی دنیا تک کوئی نظیر نہیں مل سکتی۔ محرم ۶۱ھ کی 10 تاریخ بروزجمعتہ المبارک چھپن سال پانچ ماہ پانچ دن کی عمر میں حضرت امام عالی مقامؓ نے اس ناپائیدار دنیا سے رحلت فرمائی اور داعی اجل کو لبیک کہا۔ ابنِ زیاد بد نہاد نے سر مبارک اور شہزادیوں کو ننگے سر کوفہ کے کوچہ و بازار میں پھروایا اور اس طرح اپنی بے حمیتی اور بے حیائی کا مظاہرہ کیا۔ پھر سیدّالشہدا اور ان کے تمام جانباز اصحاب کے مبارک سروں کو اسیرانِ اہلِ بیت کے ساتھ شمرناپاک کی ہمراہی میں یزید کے پاس دمشق بھیجا۔ 

حضرت زینب ؓ کی جرأت اور حق گوئی

ہمشیرۂ حسینؓ حضرت بی بی زینبؓ کی جرأت و حق گوئی کی بدولت سانحہ کربلا کوفہ و شام کے گلی کوچوں میں پھیلا۔ آپؓ جدھر کا رخ کرتیں وہاں خاندانِ اہلِ بیتؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں پر کیے جانے والے ظلم و ستم کا حال لوگوں کو سناتیں۔ ان کی تقاریر اور خطبوں نے کوفہ و شام کے ماحول کو بدل دیا تھا اور تماشائیوں کو آہ و زاری میں مبتلا کر دیاتھا۔ سیدّہ کی بیٹی کا خطبہ درد اور تاثیر میں اس قدر ڈوبا ہوتا کہ سامعین کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔ یزید کے محل میں آپؓ کے خطبات نے لوگوں پر اتنا اثر کیا کہ ان میں احساسِ ندامت کا بیج بو دیا اور ان کے ضمیر کو اس قدر جھنجھوڑ دیا کہ خود ان کو اپنی نظر میں جھکا دیا۔ یزید کے محل میں جب آپؓ کی نظر حضرت امام حسینؓ کے سر مبارک پر پڑی تو آپؓ نے جس غمناک آواز میں فریاد کی اس نے تمام درباریوں کے دل ہلا دیے۔ آپؓ نے فرمایا:
’’اے طلقا کے بیٹے! کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو چار دیواری کا تحفظ فراہم کر کے پردے میں بِٹھا رکھا ہے جبکہ رسولؐ زادیوں کو برہنہ سر دربدر پھرا رہا ہے۔ تو نے عصمت کی چادریں چھین لیں اور ان کی بے حرمتی کا مرتکب ہوا تیرے حکم پر رسولؐ زادیوں کو بے نقاب کر کے شہر شہر پھرایا گیا۔‘‘

 اہلِ بیتؓ کا قافلہ جب حضرت امام زین العابدینؓ کے ہمراہ مدینہ منورہ پہنچا توایک کہرام برپا ہو گیا۔ ہر طرف گریہ و زاری کی صدائیں بلند تھیں۔ گویا قیامت سے پہلے قیامت آگئی تھی۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔ درحقیقت سانحہ کربلا وہ واقعہ ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ میدانِ کربلا وہ میدان ہے جہاں آلِ رسولؐ کا خون ناحق بہایا گیا۔ وہ قافلہ جو کوفہ والوں کی مدد کی خاطر ان کے اصرار پر تشریف لایا تھا وہی لوگ بیوفائی کے مرتکب ٹھہرے اوران کے خون کے پیاسے بن گئے۔ وہ قافلہ جو جنگ کی تیاری کے ساتھ نہ آیا تھا، جس میں بچے، بوڑھے، عورتیں سب شامل تھے ان پر ظلم ستم کے پہاڑ  توڑے گئے۔ 

شاہ است حسینؓ بادشاہ است حسینؓ
دین است حسینؓ دین پناہ است حسینؓ
سر داد، نداد دست در دستِ یزید
حقا کہ بنائے لا الہ است حسینؓ

ترجمہ: شاہ بھی حسین ؓہیں بادشاہ بھی حسینؓ ہیں۔ دین بھی حسینؓ ہیں دین کو پناہ دینے والے بھی حسینؓ ہیں۔ سر دے دیا مگر اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں نہیں دیا۔حقیقت تو یہ ہے کہ لا الہ کی بنیاد ہی حسینؓ ہیں۔ (حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ اجمیری)

واللہ! دین کو پناہ دینے والے حسین ؓ ہی ہیں۔ دینِ اسلام کو تقویت  اور سرخرو کرنے والے بھی حسین ابن ِعلی ؓ ہیں۔ واقعہ کربلا میں ’ ’لا الہ ‘‘ (نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے) کا عملی مشاہدہ دکھانے والے امام حسینؓ ہی ہیں۔ آپؓ نے اپنی گردن تو کٹا دی لیکن اپنے نانا کے دین کو جھکنے نہیں دیا۔ اصل دین کا امتحان تو ہوتا ہی یہی ہے کہ ’’لا الہ‘‘ کی حقیقی کنہہ سے واقف ہو کر وقتِ آزمائش اس پر استقامت سے ڈٹا جائے۔ حضرت امام حسینؓ اپنے وقت کے امام اور مرتبۂ انسانِ کامل پر فائز تھے۔ انسانِ کامل کو ’’مرتبہ کن‘‘ حاصل ہوتا ہے۔ ایسا کونسا کام تھا جو آپؓ حکم فرماتے اور وہ نہ ہوتا۔ دریائے فرات کو حکم دیتے تو وہ خود چل کر آپؓ کے خیموں تک آن پہنچتا، آسمان کو حکم دیتے تو بارش برسا دیتا، کربلا کی تپتی ہوئی ریت کو حکم دیتے تو وہ طوفان بن کر دشمنانِ اہلِ بیت کو اپنے اندر سمیٹ لیتا لیکن آپؓ نے ایسی کوئی صورت اختیار نہ کی۔ اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہر آزمائش کو صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیا۔ بلکہ اسے اپنی خوش نصیبی سمجھا کہ اللہ نے انہیں اس آزمائش کے لیے چنا ہے اور رضائے الٰہی کے سامنے اپنا سرِتسلیم خم کر دیا۔ حضرت سلطان باھُوؒ پنجابی ابیات میں آپؓ کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

عاشق سوئی حقیقی جیہڑا، قتل معشوق دے منے ھوُ
عشق نہ چھوڑے مکھ نہ موڑے، توڑ ے سَے تلواراں کھنے ھوُ
جت وَل ویکھے راز ماہی دے، لگے اوسے بنھے ھوُ
سچا عشق حسینؓ ابنِ علیؓ د ا باھوؒ، سر دیوے راز نہ بھنے ھوُ

حضرت امام حسینؓ کے بلند و اعلیٰ مرتبہ و مقام سے واقف ہونے کے باوجود کس چیز نے یزید کو سنگدلی پر ابھارا تھا، کس نے اس کے ایمان کی روشنی کو بالکل ختم کر دیا تھا؟ یزید طالبِ دنیا تھا، مال و زر اور دنیاوی شان و شوکت کا طالب تھا۔ حضرت سلطان باھوؒ اپنی تصنیف ’’عین الفقر‘‘ میں طالب دنیا کے متعلق فرماتے ہیں:
دنیا شیطان اور طالبانِ دنیا شیاطین ہیں۔
دنیا کذب ہے اور طالبِ دنیا کذاب ہے۔
دنیا خبث ہے اور طالبِ دنیا خبیث ہے۔
دنیا لعنت ہے اور اس کا طالب ملعون ہے۔
دنیا جہل ہے اور اس کا طالب ابو جہل ہے۔ 

حضرت اما م حسینؓ طالبِ مولیٰ تھے۔ اللہ کی رضا پر سرِ تسلیم خم کرنے والے، وصالِ یار اوردیدار کے مشتاق۔ قصۂ مختصر جان کی بازی لگانے والے طالبِ مولیٰ ہی ہوتے ہیں، عشق و وفا نبھانے والے طالبِ مولیٰ ہی ہوتے ہیں، محبوب کی رضا پر راضی رہنے والے طالبِ مولیٰ ہی ہوتے ہیں، عہدِوفا کا پاس رکھنے والے طالبِ مولیٰ ہی ہوتے ہیں۔ حضرت امام حسینؓ کی زندگی طالبانِ مولیٰ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

 اللہ پاک ہم سب کو واقعہ کربلا سے عشق ووفا کا سبق سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

استفادہ کتب:
عین الفقر: تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
ابیاتِ باھوؒ
سیدّاالشہداحضرت امام حسینؓ اور یزیدیت: تصنیف لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس
شانِ کر بلا؛ مرتب :محمد الیاس عادلؔ

 

 

25 تبصرے “کربلا اور عہد ِ وفا | Karbala or Ahde Wafa

  1. حضرت امام حسینؓ نے ہمت و بہادری اور استقامت کی ایسی اعلیٰ مثال قائم کی جس کی رہتی دنیا تک کوئی نظیر نہیں مل سکتی۔

  2. شاہ است حسینؓ بادشاہ است حسینؓ
    دین است حسینؓ دین پناہ است حسینؓ
    سر داد، نداد دست در دستِ یزید
    حقا کہ بنائے لا الہ است حسینؓ

    1. حضرت اما م حسینؓ طالبِ مولیٰ تھے۔ اللہ کی رضا پر سرِ تسلیم خم کرنے والے، وصالِ یار اوردیدار کے مشتاق۔ قصۂ مختصر جان کی بازی لگانے والے طالبِ مولیٰ ہی ہوتے ہیں، عشق و وفا نبھانے والے طالبِ مولیٰ ہی ہوتے ہیں، محبوب کی رضا پر راضی رہنے والے طالبِ مولیٰ ہی ہوتے ہیں، عہدِوفا کا پاس رکھنے والے طالبِ مولیٰ ہی ہوتے ہیں۔ حضرت امام حسینؓ کی زندگی طالبانِ مولیٰ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

      1. قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
        اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

  3. شہیدانِ کربلا عشق و وفا کی داستانیں رقم کیے اس جہانِ فانی سے تو کوچ کر گئے لیکن اسلام کی بنیادوں کو اہلِ ایمان کے سینوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پیوست کرگئے۔

  4. قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

  5. عشق اور وفا کا طریقہ تو کوئی امام عالی مقامؓ کے ساتھیوں سے سیکھے، جب ان کے امام نے ان پر یہ بات آشکار کر دی کہ ان کا ساتھ نبھانے کا مقصد جامِ شہادت نوش کرنا اور گلشنِ فردوس میں جا مقیم ہونا ہے پھر بھی ان کی استقامت میں رَتی برابر فرق نہ آیا۔

  6. اللہ پاک ہم سب کو واقعہ کربلا سے عشق ووفا کا سبق سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

  7. اللہ پاک ہم سب کو واقعہ کربلا سے عشق ووفا کا سبق سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

  8. قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کر بلا کے بعد

  9. میدانِ کربلا وہ میدانِ عشق ہے جہاں شہیدوں کے ہر خون کا قطرہ وفا کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

  10. سچا دین تو ان عاشقان کا ہوتا ہے جو سر تو قربان کر دیتے ہیں لیکن اپنے عشق پر حرف نہیں آنے دیتے ۔ (سبحان اللہ)

اپنا تبصرہ بھیجیں