دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر | Diyar e Ishq Mein Apna Maqam Paida Kar

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

تحریر: محترمہ نورین سروری قادری۔ سیالکوٹ

انسان زمین پر اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ کل مخلوقات میں سب سے منفرد اور باکمال ہے۔ بہت سے کمالات کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات کے مرتبہ پر فائز ہے۔ انسان کو یوں تو بے شمار خداداد صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے مگر دل اور دماغ دو ایسی انمول قوتیں عطا کی گئی ہیں جو اس کو تمام مخلوقات میں ممتاز کرتی ہیں۔ انسان کی سوچ اور عمل اس کی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دل جمالی صفات سے انسان کی ذات کو مزین کرتا ہے جبکہ دماغ اس کے لیے سمتوں کا تعین کرنے میں مدد کرتا ہے۔ دل و دماغ کی مشترکہ کاوشیں ہی ہیں جو انسان کو انسان بناتی ہیں۔ مگر اکثر یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ دل و دماغ میں تضاد پایا جاتا ہے۔ دل اگر مشرق کی بات کرتا ہے تو دماغ مغرب کی شان میں رطب اللسان ہے، جو بات دماغ کے نقطہ نظر سے درست و صادق آتی ہے دل اس کی نفی کر دیتا ہے۔ گویا دونوں کے مابین خاموش اور بظاہر نہ نظر آنے والی جنگ چھڑجاتی ہے جو انسان میں بے چینی، اضطراب، پریشانی اور کشمکش کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ انسان میں ہونے والی اندرونی ٹوٹ پھوٹ ظاہری طور پر غصے کو جنم دیتی ہے جو انسان کی شخصیت کی ٹوٹ پھوٹ کا باعث بن جاتی ہے۔ تاہم ایسا نہیں کہ اس پر قابو نہ پایا جا سکے، دماغ کی سختی کو دل کی نرمی سے اور دل کے جذباتی پن کو دماغ کی سمجھداری سے متوازن کیا جا سکتا ہے۔ دل و دماغ کا یہی توازن ایک بہتر طرزِ زندگی کے حامل انسان کو جنم دیتا ہے جس کی ظاہری طمانیت اندرونی سکون کی خبر دیتی ہے اور ایسا انسان ہی معاشرے کے لیے امن کا پیامبرثابت ہوتا ہے، جس کے دل و دماغ اس کی گرفت میں ہوں نہ کہ خود دل و دماغ کے ہاتھوں کھلونا بنا ہوا ہو۔ درحقیقت ایسا انسان ہو جو زمانے کو اپنی شان کے مطابق ایک نئے طریقے سے چلانا جانتا ہو، جو تقدیر کو بدلنے پر قادر ہو، اس کے لیے نیا زمانہ اور نئی دنیا پیدا کرنا کونسا مشکل کام ہے۔ ایسے ہی انسان کی تمنا فکر ِاقبال کا نہایت اہم حصہ ہے۔ ایسے انسان کے بارے میں ہی اقبالؒ بالِ جبریل میں فرماتے ہیں:

 دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
 نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر

مطلب کہ یہ عشق ہی ہے جو انسان کی تربیت کر کے اس کو نیا زمانہ پیدا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ جب عشق کی بدولت دل غیر اللہ سے پاک ہو جاتا ہے تو ایک نیا جہان پیدا ہو جاتا ہے جہاں حسب و نسب کو نہیں دیکھا جاتا۔ صرف اور صرف عشق کو پرکھا جاتا ہے۔ عشق کی بدولت تمام کائنات انسان کے سامنے سرنگوں ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس آج کا دور علم و عقل کا دور ہے جہاں عشق دور دور تک نظر نہیں آتا۔ ایک نفسانفسی کا عالم ہے جہاں ہرکوئی اپنی دوڑ میں مصروف ہے۔ مادیت پرستی کے اس دور میں ایک ایسے مردِ کامل کی ضرورت ہے جو مسلمانوں کوعشقِ الٰہی کا سبق دے اور انہیں دین کے حقیقی معنی سمجھا کر ایک سچا اور پکا مسلمان بنائے۔

کلامِ اقبال میں ایسے انسان کے لیے مردِ کامل، مردِ حق، مردِ مومن، مردِ حُر، امامِ برحق، مردِ فقیر، صاحبِ ایجاد، صاحبِ دل،بندۂ حق، صاحبِ ادراک، مردِ خود آگاہ، مردِ بزرگ، مردِ قلندر اور مہدی برحق وغیرہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ (شمس الفقرا)

یہ کوئی عام آدمی نہیں بلکہ خاص الخاص انسان ہے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اس کے متعلق فرماتے ہیں:
آدمی سب ہیں مگر انسان خاص ہے۔ انسان وہ ہے جس کے اندر اللہ پاک کی ذات ظاہر ہو جائے۔ (سلطان العاشقین)

اللہ پاک کی ذات انسانِ کامل، مردِ مومن یا مردِ کامل میں ظاہر ہوتی ہے جو زمین پر اللہ پاک کا نائب، خلیفہ اور امامِ زمانہ اور امانتِ الٰہیہ کا حامل ہوتا ہے۔

’’مردِ مومن یا انسانِ کامل ‘‘ اقبال کے تفکر سے ترا شیدہ وہ مجسمہ ہے جس میں ایمان اور یقین کی روح پھونکی گئی ہے، جس کے ارادے آسمان کی مانند بلند اور چٹان کی مثل مضبوط ہیں، جس کی آنکھوں سے سچائی کا نور نکل کر اطراف کو منور کرتا ہے، جو سمندر کی تہہ میں جھانکنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور سوچوں کو جانچنے اور پرکھنے کی قدرت سے مالا مال ہے۔ اقبال کا مردِ مومن ان جیسی بے شمار خوبیوں کا حامل ہے جو ایک عام انسان کو خاص بنا کر اس کے مقام اور مرتبے کو فضیلت سے ہمکنار کرتا ہے۔ اقبال ہر فرد کو ’’مردِ مومن یا انسانِ کامل‘‘ کے مقام پر فائز دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے یہی افکار ہر دور کے انسان کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک عام انسان اس اعلیٰ و ارفع مقام پر کیسے پہنچ سکتا ہے؟ جیسے کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ اس مقام پر عشق کی بدولت ہی پہنچا جا سکتا ہے اور اللہ کی محبت میں خود کو فنا کر کے حیاتِ جاودانی حاصل کر لینا ہی عشق کی انتہا ہے۔ میرے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس عشق کے بارے میں فرماتے ہیں:
جب طالبِ مولیٰ علم اور عقل کی حد پار کر کے عشق کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو عشق اسے تمام حدود پار کر کے لامکاں تک پہنچا دیتا ہے۔ (سلطان العاشقین)

اگر عشق کاراستہ اختیار کر لیا جائے تو یقینا یہ ایسی صلاحیت پیدا کرے گا کہ دنیا میں انقلاب برپا ہو جائے گا۔ جس طرح آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جہالت و پستی میں گھری مخلوق کو اپنی نگاہ کے نور اور اپنی صحبت سے طیب و طاہر کر کے دنیا میں سب سے بڑا انقلاب برپا کیا، اسی طرح آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے غلام بھی آپ کے نقشِ قدم پر چل کر دنیا میں انقلاب لاتے ہیں۔ انقلاب اس کے سوا کیا ہو گا کہ مسلم دنیا کو، جو اس وقت ظلمت و تاریکی میں گھری ہوئی ہے، قرآنِ حکیم کی تعلیمات اور دین کی اصل حقیقت سے روشناس کرایا جائے اور دین کی حقیقت سے وہی روشناس کروا سکتا ہے جو خود اس حقیقت سے واقف ہو۔

مردِ مومن (انسانِ کامل) کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہیں اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی معیت اور فیضان حاصل ہو گیا اور جنہوں نے صحبتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مستفید ہو کر اپنی سیرت و کردار کو سنوار لیا۔ جو باطل کے خلاف معرکہ آرائی میں فولاد کی طرح سخت اور اپنے ہم نشینوں کے ساتھ ریشم کی طرح نرم ہوتے ہیں اور ہمہ وقت رضائے حق کے متلاشی رہتے ہیں۔ دنیا و آخرت کی کوئی متاع انہیں اللہ پاک کی رضاسے زیادہ محبوب نہیں ہوتی۔ مردِ مومن (انسانِ کامل) اپنا تن من دھن حتیٰ کہ اپنی متاعِ حیات سب کچھ دنیوی غرض کے لیے نہیں بلکہ فقط رضائے الٰہی کے لیے لٹا دیتا ہے۔ اس کا جینا مرنا سب رضائے الٰہی کے لیے ہوتا ہے۔ جو ساری دنیا کو ٹھکرا کر اپنا مرکزِ حیات رضائے الٰہی کو ٹھہراتا ہے اور تب اس کے ربّ کی رضابھی اس کے شاملِ حال ہوتی ہے اور اللہ پاک اس کے تمام اقدام سے راضی ہو کر اسے بلند مقام پر فائز فرما دیتا ہے اور اسی مقام کے بارے میں اقبالؒ فرماتے ہیں: 

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

(بالِ جبریل)

اس مقام پر اللہ پاک مردِ مومن (انسانِ کامل) کے سینے پر رضی اللّٰہ عنہم و رضوا عنہ (اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہو گئے) لکھ دیتا ہے۔
مردِ مومن (انسانِ کامل) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا باطنی نائب ہوتا ہے اور کائنات کا نظام اللہ پاک اسی کے ذریعے چلاتا ہے۔
علامہ اقبالؒ مردِ مومن کے بارے میں بالِ جبریل میں فرماتے ہیں: 

ہاتھ ہے اللہ کا، بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں، کارکشا کارساز
خاکی و نوری نہاد، بندہ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیاز

گمراہی کے اس دور میں جب کفر و جہالت کا اندھیرا ہر طرف چھایا ہوا ہے، سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا آفتاب پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہے جو جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں کو چیر کر ہر طرف ایمان کی روشنی بکھیر رہا ہے اور دنیا کو حق کے راستے کی دعوت دے رہا ہے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس دورِ حاضر کے انسانِ کامل، مرشد کامل اکمل، مردِ کامل، مردِ حق، مردِ مومن، مردِ حُر، امامِ برحق، مردِ فقیر، صاحبِ ایجاد، صاحبِ دل، بندۂ حق، صاحبِ ادراک، مردِ خود آگاہ، مردِ بزرگ، مردِ قلندر اور مہدیٔ برحق ہیں۔ 

آپ مدظلہ الاقدس سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخِ کامل ہیں۔ گمراہی کے اس دور میں آپ مدظلہ الاقدس سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات کو عام فرما رہے ہیں تاکہ گمراہی ختم ہو جائے، دینِ حق کا بول بالا ہو اور دینِ حنیف پھر سے زندہ ہو جائے۔ دینِ حق کی سر بلندی کے لیے آپ مدظلہ الاقدس دن رات مصروفِ عمل ہیں۔ 

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی وفات کے بعد 26 دسمبر 2003ء کو مسندِتلقین و ارشاد سنبھالی۔ اس دن سے آج تک آپ مدظلہ الاقدس فقر کی تعلیمات کو عوام الناس تک پہنچانے کے لیے دن رات مصروفِ عمل ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے فردِ واحد کی طرح سے فقر کی تعلیمات کو پھیلانے کے مشن کا آغاز کیا اور راستے میں آنے والی ہر مشکل اور طوفان کا نہایت جواں مردی سے مقابلہ کیا۔ جب انسانِ کامل کائنات میں تلقین و ارشاد کے لیے مسند سنبھالتا ہے تو کائنات کو موجودہ دور کے مطابق لے کر چلتا ہے اور پرانی بساط کو الٹ کر ایک نیا جہان پیدا کرتا ہے کیونکہ انسانِ کامل ہی کائنات میں سردار بھی ہے، سپاہی بھی اور فوج کا سپہ سالار بھی، زمانے کے لیے رحیم و کریم اور نذیر و بشیر بھی ہے۔ وہ کلیم اللہ بھی ہے اور خلیل اللہ بھی۔ زمانہ اسی کے اشارے کے مطابق حرکت کرتا ہے اور وہ قرآن و سنت کے مطابق ایک نئے زمانے کو ترتیب دیتا ہے۔ ہر طرح کی تبدیلی اس کے اختیار میں ہوتی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس بھی نئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق فقر کی تعلیمات کو ہر خاص و عام تک پہنچانے کے لیے ہر ذریعہ ابلاغ کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس سے پہلے تک فقر کی تعلیمات صرف خواص تک محدود تھیں۔ لیکن آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشد کریم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے فیضِ فقر کو ہر خاص و عام کے لیے عام فرما دیا ہے اور آپ مدظلہ الاقدس بیعت کے پہلے ہی روز مریدین کو اسمِ اللہ ذات کا تصور اور سلطان الاذکار ھوُ کا ذکر عطا فرما دیتے ہیں۔ اسمِ محمدؐ کا فیض بھی آپ مدظلہ الاقدس نے ہی عام فرمایا ہے۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے حالاتِ زندگی اور جہدِمسلسل کے متعلق جان کر یہ بات بخوبی سمجھ آجاتی ہے کہ نیا زمانہ پیدا کرنے سے مراد کیا ہے۔ درحقیقت مردِ مومن ہر زمانہ میں اس زمانے کی شان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی ذات کا مظہر ہوتا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کا پیغام اس دور کی شان اور انداز کے مطابق ہر خاص و عام تک پہنچاتا ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس نے اگست 2006ء میں سلطان الفقر پبلیکیشنز قائم فرمایا۔ یہ شعبہ تاحال 100 سے زائد کتب شائع کر چکا ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس نے حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے بعد آنے والے تمام سروری قادری مشائخِ کاملین کے اعلیٰ و ارفع مقام اور ان کی تعلیمات سے دنیا بھر کو روشناس کروانے کے لیے تمام مشائخِ کاملین کی سوانح حیاتِ پر سات سال کی انتھک محنت سے ایک خوبصورت کتاب ’’مجتبیٰ آخرزمانی‘‘ تحریر فرمائی اور ان مشائخ کاملین کی عظمت سے عوام الناس کو آگاہ کیا۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے ایک ایک لمحے کو دینِ محمدیؐ کے لیے وقف کر دیا ہے اور ہر لمحہ طالبانِ مولیٰ کی راہنمائی فرماتے ہیں۔ مشائخِ کاملین کی سوانحِ حیات کے علاوہ ان کے عارفانہ کلام کو ایک کتاب کی شکل میں جمع فرمایا اور مکمل تحقیق کے بعد ’’کلام مشائخ سروری قادری‘‘ کے نام سے کتاب شائع فرمائی۔ اس خوبصورت کتاب میں تمام عارفانہ کلام کی لغت بھی درج کی گئی ہے۔

آپ مدظلہ الاقدس نے فقر و تصوف کے موضوعات پر چوبیس کتب تحریر فرمائی ہیں جن میں نمایاں ترین تصنیف ’’شمس الفقرا‘‘ ہے۔ یہ کتاب تعلیماتِ فقر کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ اس کے بیالیس ابواب ہیں جن میں طالبانِ مولیٰ کے لیے راہِ فقر میں درپیش تمام مسائل پر مکمل راہنمائی موجود ہے۔

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے سترہ سال کی تحقیق اور محنت سے حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے پنجابی ابیات پر مبنی ’’ابیاتِ باھوؒ کامل‘‘ کے نام سے کتاب شائع فرمائی۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی مختصر مگر جامع سوانح حیات، تعلیماتِ باھوؒ کا مکمل جائزہ اور ابیات پر مکمل تحقیق تحریر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تمام ابیات کی لغت اور جامع شرح بھی تحریر فرمائی ہے۔

تعلیماتِ فقر پر مبنی بہت سی کتب آپ مدظلہ الاقدس نے تصنیف فرمائی ہیں جوکہ طالبانِ مولیٰ کی راہِ حق کی راہنمائی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ فقر کی تعلیمات کو عام فرمانے کے لیے آپ مدظلہ الاقدس نے اگست 2006ء میں ماہنامہ سلطان الفقر کا آغاز فرمایا جو دنیا بھر میں فقر کی تعلیمات کا واحد ترجمان ہے۔ 

مردِ قلندر، صاحبِ ایجاد ایسا عظیم الشان انسان ہے جو چاند ستاروں تو کیا بلکہ پوری کائنات پر کمندیں ڈال سکتا ہے۔ وہ عام انسانوں میں انہی کی طرح رہ کر محبوبِ حقیقی کے عشق میں سرمست طالبانِ مولیٰ کی راہنمائی فرماتا ہے۔ وہ کسی سلطان اور امیر کاغلام نہیں بنتا بلکہ وہ صرف اور صرف اللہ پاک اور آقا کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا غلام رہتا ہے جو خود کو آقا کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات میں فنا کر کے ایک نئی دنیا وجود میں لاتا ہے اور جو کچھ کرتا ہے آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طریق کے مطابق کرتا ہے۔ جس طرح صحابہ کرامؓ نے اپنی رضا کو حق تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھال لیا تو دنیا ان کے لیے تسخیر ہو گئی۔

نہ تخت و تاج میں، نہ لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے

(بالِ جبریل)

زمانہ جتنی تیزی کے ساتھ ترقی کر رہا ہے اتنی ہی تیزی سے انسانی دماغ بھی ترقی کر رہا ہے۔ آج کا انسان ٹیکنالوجی کا عادی ہو چکا ہے۔ کتابوں کی دنیا سے نکل کر انٹرنیٹ کی دنیا میں قدم رکھ چکا ہے۔ تمام دنیا کمپیوٹر اور موبائل کی صورت میں سمٹ کر اس کی مٹھی میں آ چکی ہے۔ اس لیے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس بھی محض کتابوں تک محدود نہیں رہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے عوام الناس کا رجحان دیکھتے ہوئے جدید ذرائع ابلاغ مثلاً ویب سائٹس اور سوشل میڈیا فورمز کو استعمال کرتے ہوئے دینِ حقیقی یعنی فقرِ محمدی کو پھیلا نے کا بندو بست فرما دیا۔ اگر باطل قوتیں ترقی کرتی ہیں تو حق کی قوتیں بھی اپنے عروج پر پہنچتی ہیں۔ بڑھتے ہوئے انٹرنیٹ کے رجحان کے باعث آپ مدظلہ الاقدس نے مختلف ویب سائٹس تیار کروائیں جن پر فقر کے مختلف موضوعات پر مبنی تعلیمات مہیا کیں۔ نہ صرف ویب سائٹس بلکہ تمام سوشل میڈیا فورمز یعنی فیس بک، انسٹاگرام، پن ٹرسٹ، ریڈاٹ، لنکڈان، مکس اور ٹمبلر وغیرہ پر مضامین اور بلاگز کی صورت میں ان تعلیمات کو عوام الناس تک پہنچایا۔

آپ مدظلہ الاقدس نے ویب ٹی وی چینلز کا آغاز فرمایا جن پر فقر کے مختلف موضوعات پر تقاریر، تمام روحانی محافل، مشائخ سروری قادری کا عارفانہ کلام، تحریک دعوتِ فقر کی ترقیاتی سرگرمیاں اور دیگر بے شمار ویڈیوز موجود ہیں۔

لائکی (Likee)، ٹک ٹاک (TikTok) اور سنیک ویڈیو (Snack video) جیسے فورمزکے بارے میں لوگوں کا یہ گمان ہے کہ ان کی وجہ سے نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے اوریہ تمام سوشل فورمز دین سے دوری کا باعث بن رہے ہیں۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس ایسی ایجادات کے بارے فرماتے ہیں:
جس طرح انسان کے اندر خیر و شر موجود ہے اسی طرح اس کی ہر ایجاد میں بھی خیرو شر موجود ہے، اس ایجاد کے شر کو چھوڑ دینا چاہیے اور خیر کو اپنا لینا چاہیے۔ (سلطان العاشقین)

 نوجوان نسل کا دھیان ٹک ٹاک، لائکی اور سنیک ویڈیو جیسے فورمز کی طرف دیکھتے ہوئے فقر کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے آپ مدظلہ الاقدس نے ان فورمز پرچینلز بنوائے تاکہ دنیا بھر میں فقر کی تعلیمات کو عام کیا جا سکے۔ مادیت پرستی کے اس دور میں لوگ کتب کا مطالعہ نہیں کر پاتے۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ مدظلہ الاقدس نے شارٹ ویڈیوز کا انداز اپنایا تاکہ کم وقت میں فقر کی زیادہ سے زیادہ تعلیمات لوگوں تک پہنچ سکیں۔

سمارٹ فون استعمال کرنے والے لوگوں کے لیے ایک اپلیکیشن Tehreek Dawat e Faqr   کے نام سے متعارف کروائی جس پر سلطان الفقر پبلیکیشنز کی تمام کتب اور میگزین دستیاب ہیں۔ یہ اپلیکیشن گوگل پلے سٹور (Playstore) سے مفت ڈاون لوڈ کی جا سکتی ہے۔

آپ مدظلہ الاقدس کے ان تمام اقدامات کی بدولت فیضِ فقر ایک مخصوص علاقے یا لوگوں تک محدود ہو کر نہیں رہ گیا بلکہ دنیا بھر میں لوگ فقر سے آشنا ہو رہے ہیں اور ان کے اندر فیضِ فقر کے حصول کے لیے تڑپ بھی پیدا ہو رہی ہے۔

انسانِ کامل وہ قطب ہے جس کے گرد تمام کائنات گردش کرتی ہے۔ کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نائب ہونے کی وجہ سے انسانِ کامل کو تمام ظاہری اور باطنی عالموں پر تصرف اور اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اقبالؒ ضربِ کلیم میں فرماتے ہیں: 

جو عالم ایجاد میں ہے ’’صاحبِ ایجاد‘‘
ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ

آپ مدظلہ الاقدس نے آن لائن بیعت کا سلسلہ شروع فرما کر سلسلہ سروری قادری کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کر دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ فیضِ فقرسے مستفید ہوسکیں۔
آپ مدظلہ الاقدس نے فقر کے فروغ کے لیے تحریک دعوتِ فقر کی بنیاد رکھی جس کے قیام کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو راہِ فقر کی دعوت دینا ہے تاکہ وہ اللہ کا قرب اور مجلسِ محمدیؐ کی حضوری حاصل کر سکیں۔ 

آپ مدظلہ الاقدس کی شان اس قدر بلند ہے کہ گزشتہ ادوار میں خواتین فیضِ فقر سے اس قدر مستفیض نہیں ہو سکیں لیکن سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے خواتین کو بھی اس فیض سے محروم نہیں رکھا بلکہ ان میں بھی عام فرما دیا ہے۔ 

جہانوں میں تمہارے حکم کی تعمیل ہوتی ہے
تمہاری ذات کی کہاں کوئی تمثیل ہوتی ہے
کوئی بَن میں تمہیں ڈھونڈے کوئی منبر و محراب میں
وہیں ملتے ہو جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے

تاریخ میں پہلی بار آپ مدظلہ الاقدس نے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی حیاتِ مبارکہ پر مکمل تحقیق کے بعد ایک مکمل او ر جامع ڈاکیومینٹری بنوائی جس میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی اور تعلیمات کے ان تمام پہلوؤں کا مکمل احاطہ کیا گیا ہے جس سے دنیا ناآشنا تھی۔

آپ مدظلہ الاقدس نے اسم اللہ ذات کے ذکر و تصور کی دعوت و تبلیغ کے لیے ہر ذریعہ استعمال کیا ہے جن میں روحانی محافل، تقاریر، سوشل میڈیا، کتب، ویب سائٹس، انگریزی اور اُردو بلاگز، اولیا کی کتب کے تراجم، ملک بھر کے تبلیغی دورے، آڈیو ویڈیوز عارفانہ کلام وغیرہ شامل ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کی طرح دینِ محمدی کو پھر سے زندہ کیا ہے اس لیے یہ کہنا ہر گز بے جا نہ ہوگا کہ آپ مدظلہ الاقدس نے مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالنے کے بعد2003 سے لے کر اب تک جو کام کر دیا وہ فقروتصوف کی دنیا میں اگلی کئی صدیوں کے لیے کافی رہے گا اور طالبانِ مولیٰ کی راہِ حق پر رہنمائی کرتا رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس کو بارگاہِ نبویؐ سے شبیہ غوث الاعظم کا لقب عطا ہوا ہے۔

حاصل تحریر یہ کہ انسانِ کامل طالبانِ مولیٰ کی راہِ فقر میں راہنمائی کرتا ہے اور ان کے قلوب کو تمام دنیاوی محبتوں اور نفسانی بتوں سے پاک کر کے ان کا رشتہ اللہ سے جوڑ دیتا ہے۔ کائنات کی ہر شے اس کے حکم کی تابع ہوتی ہے۔ انسانِ کامل دنیا کی روح کی مانند ہے۔ وہ کائنات کے تمام رازوں سے واقف ہوتا ہے۔ انسانِ کامل اللہ کی تمام صفات سے متصف ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ کائنات میں موجود تمام مخلوقات اس کی طرف کھینچی چلی آتی ہیں۔ انسانِ کامل قدمِ محمدؐ پر ہونے کی وجہ سے ہر خاص و عام کو صرف اور صرف فقر، معرفت و دیدارِ الٰہی اور مجلسِ محمدیؐ کی حضوری کی طرف بلاتا ہے اور مخلوق کو خالقِ حقیقی کے قریب کرنے کے لیے انسانِ کامل کئی اقدامات کرتا ہے۔ موجودہ دور کے انسانِ کامل و مردِ فقیر اور مردِ قلندر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں جو قدمِ محمدؐ پر ہیں اور فقیرِ کامل کے مرتبہ پر فائز ہیں اس لیے آپ مدظلہ الاقدس نے آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپؐ کے اصحاب کی سنت پر عمل کرتے ہوئے دینِ اسلام کی مزید سر بلندی اور امت کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے اور آپس میں جوڑنے کی خاطر مقامی اور دور دراز علاقوں سے آنے والے مریدین کے لیے خانقاہ سلطان العاشقین قائم فرمائی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے خانقاہی نظام کے ساتھ ساتھ سنتِ نبوی پر عمل کرتے ہوئے خانقاہ سلطان العاشقین سے متصل مسجد ِزہراؓ بھی تعمیر کروائی ہے جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ مسجد ِزہرا قیامت تک کے طالبانِ مولیٰ کے لیے فقر کامرکز ہے۔ مسجد کی تعمیر میں حصہ لینا بہت بڑی سعادت کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کوجانی و مالی، ذہنی اور تکنیکی طور پر مسجدِ زہراؓ کی تعمیر میں حصہ لے کر قربِ حق تعالیٰ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

استفادہ کتب:

شمس الفقرا؛ تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
فقرِ اقبال؛ تصنیف ایضاً
سلطان العاشقین ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز

 
Click to rate this post!
[Total: 0 Average: 0]

21 تبصرے “دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر | Diyar e Ishq Mein Apna Maqam Paida Kar

    1. “دماغ کی سختی کو دل کی نرمی سے اور دل کے جذباتی پن کو دماغ کی سمجھداری سے متوازن کیا جا سکتا ہے ”
      اور یہ کام۔صرف انسانِ کامل ہی سر انجام دے سکتا ہے۔

  1. انسانِ کامل طالبانِ مولیٰ کی راہِ فقر میں راہنمائی کرتا ہے اور ان کے قلوب کو تمام دنیاوی محبتوں اور نفسانی بتوں سے پاک کر کے ان کا رشتہ اللہ سے جوڑ دیتا ہے۔

  2. نہ تخت و تاج میں، نہ لشکر و سپاہ میں ہے
    جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے

  3. گمراہی کے اس دور میں جب کفر و جہالت کا اندھیرا ہر طرف چھایا ہوا ہے، سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا آفتاب پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہے جو جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں کو چیر کر ہر طرف ایمان کی روشنی بکھیر رہا ہے اور دنیا کو حق کے راستے کی دعوت دے رہا ہے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس دورِ حاضر کے انسانِ کامل، مرشد کامل اکمل، مردِ کامل، مردِ حق، مردِ مومن، مردِ حُر، امامِ برحق، مردِ فقیر، صاحبِ ایجاد، صاحبِ دل، بندۂ حق، صاحبِ ادراک، مردِ خود آگاہ، مردِ بزرگ، مردِ قلندر اور مہدیٔ برحق ہیں۔ 

  4. بے شک انسان کامل کی راہنمائی سے ایک عام انسان بھی حقیقی عشق کی دولت سے سرفراز ہو جاتا ہے.

  5. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
    اسم اعظم عطا فرماتے ہیں جس سے ذاکر کو لقائے الہی اور مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائمی حضوری نصیب ہوتی ہے

  6. اللہ تعالیٰ ہم سب کوجانی و مالی، ذہنی اور تکنیکی طور پر مسجدِ زہراؓ کی تعمیر میں حصہ لے کر قربِ حق تعالیٰ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

  7. جہانوں میں تمہارے حکم کی تعمیل ہوتی ہے
    تمہاری ذات کی کہاں کوئی تمثیل ہوتی ہے
    کوئی بَن میں تمہیں ڈھونڈے کوئی منبر و محراب میں
    وہیں ملتے ہو جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے

  8. انسانِ کامل طالبانِ مولیٰ کی راہِ فقر میں راہنمائی کرتا ہے اور ان کے قلوب کو تمام دنیاوی محبتوں اور نفسانی بتوں سے پاک کر کے ان کا رشتہ اللہ سے جوڑ دیتا ہے۔ کائنات کی ہر شے اس کے حکم کی تابع ہوتی ہے

  9. نہ تخت و تاج میں، نہ لشکر و سپاہ میں ہے
    جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے

  10. ہ یہ عشق ہی ہے جو انسان کی تربیت کر کے اس کو نیا زمانہ پیدا کرنے کے قابل بناتا ہے۔

  11. بہت عمدہ!

    دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
    نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر

  12. اللہ پاک کی ذات انسانِ کامل، مردِ مومن یا مردِ کامل میں ظاہر ہوتی ہے

  13. مسجد ِزہرا قیامت تک کے طالبانِ مولیٰ کے لیے فقر کامرکز ہے۔ مسجد کی تعمیر میں حصہ لینا بہت بڑی سعادت کی بات ہے۔

  14. انسانِ کامل طالبانِ مولیٰ کی راہِ فقر میں راہنمائی کرتا ہے اور ان کے قلوب کو تمام دنیاوی محبتوں اور نفسانی بتوں سے پاک کر کے ان کا رشتہ اللہ سے جوڑ دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں