alif

alif | الف

الف

شرح ظاہر و باطن 

جان لے کہ ظاہر درحقیقت باطن کا اظہار ہے۔ ظاہری جہان فانی ہے اور نفسانی خواب و خیال کی مثل ہے جبکہ باطنی روحانی دنیا لازوال ہے اور اسے بقائے جاودانی حاصل ہے۔ ان دونوں کے درمیان تعلق قائم کرنے والا علمِ حق شناس اور منصف قرآن ہے جس کے مطا بق اعمال کی حقیقت اور ان کا ثواب احوال کے موافق ہوتا ہے۔ باطن اصل ہے کہ اس میں معرفت اور وصالِ الٰہی ہے۔ اس کے برعکس ظاہری دنیا سردی گرمی بہار و خزاں کے موسموں کی طرح بدلتی رہتی ہے۔ پس غیب (باطن) پر ایمان لانا ضروری ہے جو بے شک لاریب ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
الٓمّٓ۔ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَارَیْبَ ج  فِیْہِ ج ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ۔الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ۔ (سورۃ البقرہ1-3)
ترجمہ: الٓمّٓ۔ (قرآن) وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، یہ کتاب متقین کو ہدایت بخشتی ہے جو غیب (باطن) پر ایمان رکھتے ہیں۔ 

جو شخص غیب اور صاحبِ باطن اولیا اللہ اہلِ غیب کی غیبت و گلہ کرتا ہے وہ درحقیقت اپنے حقیقی بھائی کا گوشت کھاتا ہے۔ ایسا شخص مومن و مسلمان کیسے ہو سکتا ہے؟ باطن کئی قسم کا ہے اور ظاہر میں اعلیٰ مراتب حاصل کرنا انتہائی مشکل اور بلند ہمتی و توفیق کا کام ہے۔ بعض کاباطن باطل و زندیق جبکہ ظاہر برحق تحقیق ہوتا ہے، بعض کا ظاہر باطل و زندیق اور باطن برحق تحقیق ہوتا ہے، بعض کا ظاہر و باطن باطل و زندیق ہوتا ہے اور بعض کا ظاہر وباطن برحق تحقیق ہوتا ہے۔ تمام مومن و مسلما ن و کافر و کاذب و مشرک و منافق و ظالم کے مراتب کی بنیادانہی اقسام پر ہے ۔

ظاہر کسے کہتے ہیں اور باطن کیا ہے؟ ظاہر و باطن کا مکمل علم بلکہ کل مخلوقات کا تمام علم تفسیرِقرآن کی طے میں ہے۔ اس طے کو صرف عالم باللہ صاحب تاثیر عارف ولی اللہ روشن ضمیر کھول سکتا ہے کیونکہ وہ اہلِ نظیر اور دونوں جہاں پر امیر ہوتا ہے۔ 

جان لے جس طالب مرید قادری کا ظاہر و باطن ایک ہو جاتا ہے اسے رفاقتِ حق حاصل ہو جاتی ہے اور پھر وہ ظاہر و باطن میں کسی سے کوئی التجا نہیں کرتا۔ پس معلوم ہو ا کہ کامل قادری عارف باللہ ہمیشہ دیدار سے مشرف رہنے والا نظارہ بین اور صاحبِ حق الیقین ہوتا ہے، وہ انوارِ توحید میں غرق ہو کر عین با عین دیدار میں مستغرق رہتا ہے۔ پس ایسے کامل قادری کو ذکر فکر، ورد و وظائف، مراقبہ و مکاشفہ سے کیا سروکار کہ وہ تو مکمل یقین اور اعتبار کے ساتھ لاھوت لامکان میں ساکن ہو کر باعیان دیدار کرتا ہے۔ 

(اقتباس از کتاب ’’نور الہدیٰ کلاں‘‘ تصنیف مبارکہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ)

 

اپنا تبصرہ بھیجیں