مجتبیٰ آخر زمانی Mujtaba Akhar Zamani
(تصنیف ِ لطیف: سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن)
قسط نمبر 6 باب اوّل ۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
سوانحِ حیات سیّد عبد الرحمن جیلانی دہلوی
سلسلہ نسب
سیّد عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ کی اولاد پاک سے ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا شجرہ نسب اس طرح حضرت غوث الاعظمؓ سے جا ملتا ہے:
سید عبد الرحمن جیلانی دہلوی بن سید عبد القادر بن سید شرف الدین بن سید احمد بن سید علاؤ الدین ثانی بن سید شہاب الدین ثانی بن سید شرف الدین قاسم بن سید محی الدین یحییٰ بن سید بدرالدین حسین بن علاؤ الدین بن شمس الدین بن سیف الدین یحییٰ بن ظہیر الدین مسعود بن ابی نصر محمدبن ابو صالح نصر بن سیدنا عبد الرزاق جیلانی رحمتہ اللہ علیہ بن غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ
ولادت سید عبدالرحمن جیلانی دہلویؒ
سید عبد الرحمن جیلانی رحمتہ اللہ علیہ شام کے شہر حماہ میں 1024ھ (1615 ئ) میں پیدا ہوئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد سیدعبدالقادر رحمتہ اللہ علیہ درویش منش انسان اور ولی ٔ کامل تھے، ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد سے ہی حاصل کی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ 35سال کی عمر میں حماہ سے بغداد تشریف لائے اور جد ِ امجد غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ کے مزار شریف پر معتکف ہوگئے۔ تین سال تک آپ رحمتہ اللہ علیہ مزار شریف پر معتکف رہے۔ تین سال بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ کو غوث الاعظمؓکی جانب سے باطنی حکم ملا کہ ہندوستان میں سیدعبد الجلیل رحمتہ اللہ علیہ کے پاس چلے جائو۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ 38سال کی عمر میں شاہ جہان کے دور ِ حکومت میں13۔ذیقعد 1062ھ (15اکتوبر 1652ئ) بروز منگل براستہ ایران اور افغانستان ہندوستان تشریف لائے اور سید عبد الجلیل رحمتہ اللہ علیہ کے دست ِ مبارک پر 10 ذوالحجہ 1062ھ (10نومبر1652ئ) کو بیعت ہوئے جو برہان پور انڈیا، عادل پور سندھ یا دریائے سندھ کے کنارے کسی جگہ پر مقیم تھے، درست معلوم نہیں ہے۔ سید عبد الجلیل رحمتہ اللہ علیہ کے حکم پر آپ رحمتہ اللہ علیہ 9صفر 1063ھ (8جنوری 1653ئ) بروز بدھ دہلی تشریف لائے اور اب جہاں آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار مبارک ہے، وہاں اپنا مکان اور خانقاہ تعمیر کرائی اور ارد گرد کی زمین خرید کر سالکین کے لیے حجرے بنوائے اور ایک مسجد تعمیر کروائی جو اب بھی مسجدشاہ عبد الرحمن کے نام سے موجود ہے۔ موجودہ صدر سٹیشن پرانی دہلی اور مسلم وقف بورڈ کوارٹرز آپ رحمتہ اللہ علیہ کی زمین پر بنائے گئے ہیں۔
تلقین و ارشاد
سید عبد الرحمن جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے خمول و گمنامی کی زندگی گزاری۔ شہرت سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو سخت نفرت تھی۔ کبھی شاہی دربار اور درباری حکام سے ملاقات کے لیے نہیں گئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ صاحب ِ تصرف قادری فقیر تھے۔ دہلی اور اس کے گردو نواح میں لاکھوں لوگوں نے آپ رحمتہ اللہ علیہ سے فیض پایا اور لاکھوں لوگ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے دامنِ ارادت سے وابستہ ہوئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ قائم مقام فقیر تھے یعنی وہ فقیر جو ایک ہی جگہ مقیم رہ کر فیض تقسیم کرتا ہے۔ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ دہلی آمد کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ کبھی دہلی سے باہر تشریف لے گئے ہوں۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی دہلی آمد کے دومقاصد تھے، ایک تو سلسلہ کو ظاہری طور پر سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے حوالہ کرنا تھا کیونکہ اس سلسلہ نے قیامت تک جاری رہنا تھا اور سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ سے اسے عروج حاصل ہونا تھا۔ دوسرے اورنگ زیب عالمگیر کی باطنی امداد کرنا تھا تاکہ اورنگ زیب عالمگیر کو برسر ِاقتدار لاکر شریعت ِمحمدی کو زندہ اور قائم کیا جا سکے۔ عالمگیر کو فتوحات دلانے اور اس دور میں رائج بدعات کو ختم کرنے کے پیچھے آپ رحمتہ اللہ علیہ ہی کی باطنی قوت کار فرما تھی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے وصال کے بعد یہ فریضہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے ہوا اور اورنگ زیب عالمگیر نے مغلیہ خاندان کی سب سے بڑی سلطنت قائم کی اور شریعتِ محمدی کو زندہ و قائم کیا۔
حسن وجمال
سید عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا رنگ گندمی، قد میانہ اور آنکھیں بہت خوبصورت تھیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے چہرہ مبارک پر اتنا نور ہوتا تھا کہ طالبانِ مولیٰ کے لیے زیادہ دیر آپ رحمتہ اللہ علیہ کے چہرہ مبارک پر نگاہیں جمائے رکھنا ممکن نہ تھا۔
ازواج و اولاد
سید عبد الرحمن جیلانیؒ نے6جمادی الثانی 1065ھ (12 اپریل 1655ئ) بروز سوموار دہلی میں جیلانی سادات میں سیدہ زاہدہ خاتون سے نکاح فرمایا۔ 1070ھ (1660ئ) میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں پہلے فرزند سید تاج العارفین کی ولادت ہوئی جن کا 1075ھ (1665ئ) میں مرضِ اسہال سے وصال ہو گیا۔ 1082ھ (1671ئ) میں آپؒ کے ہاں دوسرے فرزند سید عبد العزیزؒ (آپؒ اوائل عمری میں ہی حجاز تشریف لے گئے اور مدینہ شریف میں مستقل سکونت اختیار کی۔ سید عبدالعزیزؒ کی اولاد میں سے سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سید محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانیؒ مدینہ سے ہند تشریف لائے اور سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ سے امانتِ الٰہیہ حاصل کی اور ریاست بہاول پور کے شہر احمد پور شرقیہ میں سکونت اختیار کی۔سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سید محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانیؒ کا مزار مبارک احمد پور شرقیہ میں مرجع خلائق ہے۔ان کے حالاتِ زندگی بابِ دوم میں مطالعہ فرمائیں۔) کی ولادت ہوئی۔ سید عبد الرحمن دہلویؒ کے وصال کے بعد آپؒ کی زوجہ محترمہ سیدہ زاہدہ خاتون رحمتہ اللہ علیہا 10سال حیات رہیں، اُن کا وصال 1098ھ (1687ئ) میں ہوا۔
آپؒ کا سلسلہ فقر
سید عبد الرحمن جیلانیؒ کا سلسلہ فقر حضرت غوث الاعظمؓ تک اس طرح پہنچتا ہے:
آپ مرید تھے سید عبد الجلیل رحمتہ اللہ علیہ کے، وہ مرید تھے سید عبد البقا رحمتہ اللہ علیہ کے، وہ مرید تھے سید عبدالستاررحمتہ اللہ علیہ کے، وہ مرید تھے سید عبدالفتاح رحمتہ اللہ علیہ کے، وہ مرید تھے سید نجم الدین برہان پور والے کے، وہ مرید تھے سید محمد صادق یحییٰ جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے، وہ مرید تھے سید عبد الجبار بن ابوصالح نصر کے، وہ مرید تھے سید عبد الرزاق جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے اور وہ مرید تھے سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ کے۔
خلفا
سید عبد الرحمن جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ اکبر سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔ خلفا اصغر میں شاہ حبیب اللہ قادری رحمتہ اللہ علیہ ہیں اور دوسرے خلیفہ اصغر سید محمد صدیق رحمتہ اللہ علیہ تھے جو پہلے سجادہ نشین ہوئے اور لاولد فوت ہوئے۔
وصال مبارک
دورِ عالمگیری میں21۔رمضان المبارک 1088ھ (16نومبر 1677ئ) شبِ جمعہ وصال فرمایا اور اپنے حجرہ میں مدفون ہوئے۔
عرس مبارک
آپ رحمتہ اللہ علیہ کا عرس مبارک21۔رمضان المبارک کو ایک عرصہ تک بڑی شان و شوکت سے منعقد ہوتا رہا ہے اور اب بھی عقیدت مند ہر سال 21رمضان المبارک کو آپ رحمتہ اللہ علیہ کا عرس مبارک مناتے ہیں۔
مزار مبارک
آپ رحمتہ اللہ علیہ جس حجرہ میں رہائش پذیر تھے وصال کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ کو وہیں دفن کیا گیا ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ سید محمد صدیق دربار کے متولی اور سجادہ نشین ہوئے لیکن دورِ عالمگیری میں ہی وہ لاولد فوت ہوگئے۔ اُن کا کب وصال ہوا اور تربت مبارک کہاں ہے کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ برطانوی دورِ حکومت میں جب اس علاقہ سے سڑک اور ریل کی پٹری گزاری گئی اور صدر ریلوے سٹیشن بنایا گیا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کو محفوظ بنانے کے لیے پٹری کا رخ بدلا گیا اور ایک احاطہ بنا کر آپ رحمتہ اللہ علیہ کے دربار کو اس نظام سے علیحدہ رکھا گیا۔
1947ء میں تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان سے ہجرت کرکے آنے والے آہستہ آہستہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی زمین پر مسلم وقف بورڈ کے عملہ کی ملی بھگت سے قابض ہوتے چلے گئے۔ یوں تو اُن کی دست برد سے کوئی بھی مزار اور خانقاہ محفوظ نہ رہی لیکن آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کے ارد گرد کی وسیع زمین اُن لوگوں کے قبضہ میں چلی گئی۔اب ایک مختصر کمرہ میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار اور تعمیر کردہ مسجد شاہ عبد الرحمن موجود ہے باقی تمام زمین ناجائز قابضین کے قبضہ میں جا چکی ہے۔ مزار سید عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی تمام زمین پر اور دیگر مزارات اور مسلم املاک پر یہ لوگ کس طرح قابض ہوئے اس کا تذکرہ ہندوستانی کتب ہی سے کرتے ہیں۔
حضرت فرید الدین شاہ بلند شہر یو۔پی انڈیا ’’راہنمائے مزاراتِ دہلی ‘‘میں تحریر کرتے ہیں:
افسوس ہے کہ تقسیمِ وطن کے مضر اثرات سے عبادت گاہوں، خانقاہوں کا تقدس بھی محفوظ نہ رہ سکا۔ مسلمان کثیر تعداد میں پاکستان چلے گئے۔ ہزاروں درگاہوں اور موقوفہ جائیدادوں پر غاصبانہ قبضے ہوگئے اور اُن کی شکل و صورت بھی تبدیل کر دی گئی۔ رفتہ رفتہ ان کی صحیح تاریخ اور نام و نشان کو بھی اہلِ دنیا نے فراموش کر دیا۔ (راہنمائے مزاراتِ دہلی طبع 2007ء صفحہ 7)
ڈاکٹر محمد حفیظ الرحمن صدیقی’’ مزاراتِ اولیا دہلی‘‘ میں بیان کرتے ہیں:
1947ء کے بعد دہلی میں جو افراتفری مچی تو زیادہ تر مسلمان پاکستان چلے گئے اور دہلی پر پاکستان سے آئے ہوئے پناہ گزینوں کا قبضہ ہو گیا۔ مسلمانوں کے مذہبی مقامات کا بہت برا حال ہوا اور اُن کا کوئی پُرسانِ حال نہ رہا۔ درگاہ قدم شریف ، درگاہ شاہِ مرداں اور چراغِ دہلی اور قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ کی فصیل پر پاکستان سے آئے ہوئے پناہ گزینوں نے قبضہ کر لیا۔ کسی طرح سے حکومت نے اِن درگاہوں کے خاص مقام کو خالی کروایا، باقی پوری فصیل پر آج بھی اُن ہی کا قبضہ ہے۔ باقی درگاہوں پر خود مسلمانوں نے قبضہ کرکے اپنے گھر بنا لیے ہیں۔ ان درگاہوں کی چار دیواریاں جو بہت وسیع تھیں اور اُن میں بھی بڑے بڑے اولیاکرام دفن تھے ان سبھی مزاروں پر لوگوں نے قبضہ کرکے گھر، مکان اور دکانیں بنا لی ہیں۔ آج بھی شیخ صلاح الدین رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ جو ساوتری نگر، شیخ سرائے میں ہے اس میں دکان چل رہی ہے۔ اسی جگہ ان کے خاندان کے ایک بزرگ کی درگاہ میں بڑھئی کا کام چل رہا ہے۔درگاہ شیخ سلیمان دہلوی رحمتہ اللہ علیہ جوظفر محل سے پورب نندو فروٹ والے کے مکان کے سامنے ہے، اس میں دکان کھول دی گئی ہے اور قبر کا تعویز اکھاڑ دیا گیا ہے۔ اس کے قریب دو اور مزاروں پر گنبد تعمیر ہیں جو کسی ہندو کے قبضہ میں ہیں اور رہائش کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ اسی طرح حضرت نظام الدین اولیا رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ کے چاروں طرف آرام فرمارہے صوفیا کرام کے مزاروں پر مکان تعمیر ہوگئے ہیں۔
ان مزاروں اور درگاہوں کی اپنی الگ الگ چار دیواری اور وسیع زمین تھی جو قبر ستان کے طور پر استعمال کے لیے تھی۔ ان ساری زمینوں پر حکومت نے قبضہ کر لیا اور دہلی کے زیادہ تر مزاروں اور قبرستان کی زمینوں پر ڈی۔ ڈی ۔اے (Delhi Development Authority ) کا قبضہ ہے اور کچھ پر ایم۔ سی ۔ڈی (Municipal Corporation of Delhi) نے قبضہ جما رکھا ہے اور باقی پر بڑے بڑے سرمایہ داروں کا قبضہ ہے۔ اوبرائے ہوٹل (دہلی کا مشہور ہوٹل)، دہلی پبلک سکول یہ سب قبرستان کی زمین پر واقع ہیں۔ سید محمود نجار کیلوکھریؒ کی درگاہ کی زمین جو قبرستان کے استعمال کے لیے وقف تھی وہاں مزارات ختم کیے جارہے ہیں جبکہ یہ وقف بورڈ (مسلم وقف بورڈ کو مسلمانوں کی مذہبی املاک، درگاہوں ، مزارات،مساجد، قبرستانوں و دیگر املاک کی حفاظت اور انتظام کے لیے قائم کیا گیا تھا لیکن یہ بورڈ خود بہت بڑا مافیا بن گیا اور اس کی زیر ِ نگرانی مسلمانوں کی نشانیاں ، مزارات، مساجد کی وقف جائیدادوں اور قبرستانوں تک پر قبضہ کرایا گیا اور انہیں مسمار کرایا گیا۔) کی نگرانی میں ہے۔ افسوس اب وقف بورڈ کی نگرانی میں بھی مزارات اور ان کی زمینیں محفوظ نہیں ہیں۔ (مزاراتِ اولیا دہلی، طبع دہلی 2006ئ)
اسی کتاب میں خواجہ سید اسلام الدین نظامی سجادہ نشین و امام خلجی مسجد دربار حضرت شیخ نظام الدین اولیا ؒ تحریر فرماتے ہیں:
دہلی کی زیادہ تر پرانی آبادی پاکستان چلی گئی اور دہلی کی درگاہوں، مزاروں اور دیگر مسلم عمارتوں پر پاکستان سے آئے ہوئے مہاجرین کا قبضہ ہو گیا۔ بعد میں ان میں سے کچھ مقامات کو مولانا ابو الکلام آزاد نے خالی کرایا۔ اس دوران زیادہ تر مزارات کے کتبے توڑ دیئے گئے جس کی وجہ سے اِن بزرگوں کے مزاروں کو پہچاننا دشوار ہو گیا۔ بہت سارے مزاروں پر قبضہ کرکے مکان بھی بنا لیے گئے۔
اِن عبارات سے آ پ نے اندازہ لگا لیا ہو گا کہ تقسیمِ بر صغیر کے بعد ہندوستان میں مزارات کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ مسلمانوں کی چھوڑی ہوئی زمینوں کی حفاظت کے لیے مسلم وقف بورڈ قائم کیا گیا جس پر مسلمانوں کے اس مذہبی طبقہ کا قبضہ تھا جس کا سیاسی تسلط اور غلبہ ہندوستان میں کانگرس کے اتحادی ہونے کی وجہ سے قائم تھا۔ یہ لوگ اپنے فکری اور اعتقادی نقطہ نگا ہ کے لحاظ سے تصوف و روحانیت سے نہ صرف نابلد تھے بلکہ ذہنی طور پر اس کے مخالف بھی تھے۔ انہوں نے اپنوں میں درگاہوں اور مزارات کی زمینیںریوڑیوں کی طرح تقسیم کیں اور یوں یہ طبقہ مسلم ورثہ کی تباہی کا باعث بنا۔ سید عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دربار سے ملحقہ بھی وسیع زمین تھی جہاں ناجائز قابضین نے اپنے مکانات کی تعمیرات شروع کردیں۔ یوں یہ پورا علاقہ ’’مسلم وقف بورڈ کوارٹرز دہلی نمبر6‘‘ کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اب آپؒ کا ایک چھوٹا سا مزار اور ملحقہ مسجد شاہ عبد الرحمن ہے۔ باقی تمام زمین اِن قابضین کے قبضہ میں جاچکی ہے۔ اب مزار کی جگہ پر قبضہ کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ مزار اب بھی مسلم وقف بورڈ کی تحویل میں ہے اور مزار کی نگرانی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ سید سلیم الزمان ہاشمی خود مخطوطہ میں مختلف جگہوں پر لکھتے ہیں:
یہ خادمِ سادات سید سلیم الزمان ہاشمی ولد حافظ قاری سید احسان اللہ ہاشمی جو کہ دربار سید عبد الرحمن جیلانیؒ کے گردو نواح میں رہائش پذیر ہے، اب تو یہ آثم اکیلا ہی فتنہ گروں کے درمیان اس دربار کی حفاظت پر مامور ہے کمزور اور ناتواں عمر کے اِس حصہ میں فتنوں میں گھرا ہوا ہے۔تقسیمِ ہند کے بعد اس علاقہ پر فتنہ گروں اور قبضہ گروپوں نے قبضہ کر لیا ہے اور اِن کے ڈر کی وجہ سے کوئی یہاں نہیں آتا اور پھر کوئی سجادہ نشین بھی نہیں ہے جو لوگوں کو معلومات مہیا کر سکے۔دربار پر فتنہ پرور قبضہ کرنے اور اسے ختم کرنے کی عرصہ سے کوشش کر رہے ہیں اور دربار کی کافی زمین پر قابض ہو چکے ہیں لیکن اللہ کے خاص فضل و کرم سے کسی کی نگرانی اور سجادگی کے نہ ہونے کے باوجود آپ رحمتہ اللہ علیہ کا دربار محفوظ ہے۔
مزار کا پتہ: پرانی دہلی6۔لاہوری دروازہ سے مشرق کی جانب نزد صدر ریلوے سٹیشن ریلوے کالونی مسلم وقف بورڈ کوارٹرز دہلی6۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کی ظاہری بیعت کے بارے میں اختلاف
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھورحمتہ اللہ علیہ کی حیاتِ مبارکہ پر تحقیق کرنے والوں میں سب سے زیادہ اختلاف آپ رحمتہ اللہ علیہ کے سید عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر ظاہری بیعت کے معاملہ پر پایا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود بیعت فرمایا اور آپ کو غوث الاعظم حضرت شیخ محی الدین سید عبدالقادر جیلانیؓ کے سپرد فرمایا اور انہوں نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تربیت فرمائی اور آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتب میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کو ہی ’’شیخِ ما‘‘ فرمایا ہے، اس بات کا تذکرہ ہم بھی پچھلے صفحات میں کر چکے ہیں۔دوسری دلیل یہ لوگ یہ لاتے ہیں کہ سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ نے خود اپنی کسی کتاب میں بھی اس ظاہری بیعت کا تذکرہ نہیں کیا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ سے یہ بات بعید از قیاس ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کسی سے فیض حاصل کریں اور اُس کا تذکرہ بھی نہ کریں۔ یہ دلیل تصوف میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی کیونکہ ایسی بہت سی اور مثالیں بھی موجود ہیں جیسے کہ شاہ حبیب اللہ قادری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اپنی کتاب سِرّ الحبیب میں کہیں بھی اپنے مرشد سید عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ نہیں فرمایا۔ اسی طرح شیخ عبد القادر جیلانیؓ نے بھی اپنی کسی کتاب میں اپنے مرشد حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخزومی کا ذکر نہیں فرمایا۔ سید عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ سے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت کا ذکر ’’مناقبِ سلطانی‘‘ میں شجرۂ طریقت کے ساتھ مذکورہے اور چونکہ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی حیات پر یہ اوّلین تصنیف ہے اس لیے اس پر یقین کرنا چاہیے اور اختلاف تو تب کیا جائے جب کوئی دوسری وجہ یا ثبوت موجود ہو۔ اب ہم اس سلسلہ میں اختلافات کا ذکر کرتے ہیں۔
(جاری ہے)