امر ِ ربی Amar-e-Rabbi
تحریر: مسز عظمیٰ شکیل سروری قادری
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
٭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ (سورۃ بنی اسرائیل۔85)
ترجمہ: (اے محبوبؐ) فرما دیجئے روح امر ربی ہے۔
٭ اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ (سورۃ الاعراف۔ 54)
ترجمہ:بے شک اللہ تمہارا ربّ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ ایام میں تخلیق کیا اور پھر عرش پر استوا فرمایا۔
امرربی سے مراد اللہ کا وہ ارادہ ہے جس پر وہ ’کن‘ فرماتا ہے اور ’فیکون‘ ہو جاتا ہے۔ اس سے مراد اللہ کا وہ ارادہ ہے جو حکم ِربی سے چھ مراتب میں نزول کی صورت اختیار کرتا ہوا ساتویں مرتبہ پر جامع صورت اختیار کرتا ہے۔اِسی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے ’’اُس نے اس کائنات کو چھ ایام میں تخلیق کیا ہے۔‘‘ مراد یہ کہ چھ مرتبوں پر نزول فرمایا۔ درجہ بدرجہ نزول کے بعد پھر خود کو مکمل ظاہر فرمایا۔ نزول کے ان چھ مراتب کو تنزلاتِ ستہ یا چھ ایام کہا جاتا ہے۔ اور عرش پر استوا سے مراد وہ مقام ہے جہاں اللہ کا ظہور درجہ بدرجہ نزول کے بعد مکمل ہوتا ہے۔رسالہ روحی شریف میں درج ہے کہ:
٭ میں تھا ھاھویت میں ،خزانہ لاھوت کا، مخفی لاھوت میں، ارادہ کیا ملکوت میں، پہچانا جاؤں جبروت میں، خلق کیا مخلوق کو ناسوت میں، اور ظہور میرا مکمل ہوا اس ذات (انسانِ کامل) میں جو حقیقت ِھاھویت کی آنکھوں کا سرچشمہ ہے۔(رسالہ روحی شریف)
وہ چھ مراتب یا تنزلاتِ ستہ درج ذیل ہیں:
مراتب ِالٰہیہ:
۱) ھاھویت ۲) یاھوت ۳) لاھوت
مراتب ِکونیہ:
۴) ملکوت ۵) جبروت ۶) ناسوت
۷) انسانِ کامل : عرشِ استویٰ یا مرتبہ ہفتم ہے جہاں امر ربی کی انتہا ہے۔
تنزلاتِ ستہ کے ان چھ مراتب میں سے تین کا تعلق عالمِ امر اور تین کا تعلق عالم ِخلق سے ہے۔ ھاھوت، یاھوت اور لاھوت کا تعلق عالم امر اور جبروت، ملکوت، ناسوت کا تعلق عالم ِخلق سے ہے۔
حضر ت علامہ ابنِ عربیؒ شجرۃ الکون میں فرماتے ہیں:
٭ اللہ تعالیٰ نے تمام عالم ِکون کو آدم (انسان) کی صورت و اِسم پر پیدا فرمایا۔ عالم کی دو اقسام ہیں؛ عالم الملک (یعنی عالم خلق) اور عالم ملکوت (یعنی عالمِ امر)۔عالمِ ملک جسمانیتِ آدم کی مانند ہے اور عالمِ ملکوت مثلِ روحانیتِ آدم ہے۔
عالمِ امر کیا ہے ؟ عالمِ امر وہ ہے جہاں اللہ کا ارادہ دنیا میں ظاہر ہونے سے پہلے موجود تھا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
٭ اِنَّمَآ اَمْرُہٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَیْاً اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ٭ (سورۃ یٰسین۔ 82)
ترجمہ: جب وہ عالم ِامر میں کسی بات کا ارادہ کرلیتا ہے تو اُسے کہتا ہے ہو جا، تو وہ ہو جاتی ہے۔
عالمِ امر اجسام سے عاری ہے۔ یہ ارواح، نفوس، ارادوں، خیالات و تصورات کا عالم ہے جو مکمل وجود رکھتاہے مگر دیکھا اور چھوا نہیں جاسکتا۔
عالمِ خلق کیا ہے ؟ اس سے مراد ظاہری عالم ہے جہاں اشیا کو دیکھا، چھوا، سونگھا یا ٹکڑے ٹکڑے کیا جا سکتا ہے۔
عالمِ امر:
۱) عالمِ ھاھویت
۲) عالمِ یاھوت
۳) عالمِ لاھوت
۱) عالمِ ھاھویت (مرتبۂ احدیت):
عالمِ ھاھویت کا مرتبہ احدیت ہے ، جہاں صرف اور صرف اللہ موجود تھا اور کوئی شے موجود نہ تھی۔ اسی مرتبہ کے متعلق سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’اللہ تعالیٰ کی نشانیوں (آیات) میں غور کرو مگر اللہ تعالیٰ کی ذات میں غور نہ کرو۔‘‘
اسی مرتبہ کے متعلق سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
٭ اُس ذاتِ پاک کی ماہیت کو سمجھنے کے لیے انتہائی سوچ بچار کرتے ہوئے عقل کے ہزاروں ہزار بے شمار قافلے سنگسار ہو گئے۔ (رسالہ روحی شریف)
مرتبہ احدیت اللہ تعالیٰ کی کنہ ہے جسے صوفیا کرام نے لاتعین، وجودِ مطلق، منقطع الوجدان، ھاھویت ِحق، حقیقت ِحق، مرتبۂ لاظہور اور مرتبہ عین الکافور کہا ہے۔
۲) عالم یاھوت (مرتبۂ وحدت):
خزانۂ یاھوت کے متعلق حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں: ’’جان لے کہ جب نورِ احمدی نے وحدت کے گوشۂ تنہائی سے نکل کر کائناتِ کثرت میں ظہور کا ارادہ فرمایا تو اپنے حسن کی تجلی کی گرم بازاری سے (تمام عالموں) کو رونق بخشی، اس کے حسن ِبے مثال اور شمع ِجمال پر دونوں جہان پروانہ وار جل اُٹھے اور میم احمدی کا نقاب اوڑھ کر صورتِ احمدیؐ اختیار کی۔‘‘(رسالہ روحی شریف)
جب حق تعالیٰ نے چاہا کہ اُس کی پہچان ہو اور اُس کو کوئی پہچاننے والا ہو تو خود سے اسم ِذات جدا کیا (خود کو اسم ِاللہ ذات کی صورت میں ظاہر فرمایا) اور اُس سے نورِ محمدیؐ کا ظہور ہوا اور اپنی قدرت و وحدت کے آئینے میں (نورِ محمدیؐ) دیکھا تو نورِ محمدؐ کو دیکھتے ہی اپنے آپ پر (نورِ محمدیؐ) کی صورت میں اپنے تعین پر مشتاق ،مائل فریفتہ ہوا اور اپنی ہی بارگاہ سے ربّ الارباب حبیب اللہ کا خطاب پایا۔ (عین الفقر)
سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
٭ جان لے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے روحِ محمدؐ کو اپنے نورِ جمال سے پیدا کیا۔
فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے:
٭ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میری روح کو پیدا فرمایا۔
٭ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا۔
٭ اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا۔
٭ اللہ نے سب سے پہلے عقل کو پیدا فرمایا۔
عقل، قلم اور نور سے مراد صورتِ احمدی ہے ، آپؐ کا نام ’’نور‘‘اس لیے کہ آپؐ ظلماتِ جلالیہ سے پاک ہیں۔’’ عقل ‘‘اس لیے کہ آپؐ کی ذات تمام کلیات پر محیط اور’’قلم‘‘ اس لیے کہ آپؐ ہی کی بدولت علم منتقل ہوا۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
٭ قَدْ جَآئَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیْنٌ ٭ (سورۃ المائدۃ۔ 15)
ترجمہ: اور بے شک تمہارے پاس آیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نور اور کتابِ مبین۔
۳) عالمِ لاھوت (مرتبۂ واحدیت):
یہ مرتبہ سوم ہے جہاں تمام عالم نورِ محمدیؐ میں چھپا ہوا تھا اور اظہار کے لیے بے قرار تھا۔ یہ مرتبہ لاھوت لامکاں ہے اور ہر آلائش ،حدث و شہادت اور کدورت ِکون و کثافت ِمکاں سے پاک ہے ۔ یہ محض بحرِ انوارِ غیب اور دنیائے اسرارِ لطیف ہے۔ اور یہ عالمِ امر کا آخری مرتبہ ہے۔ یہاں سے انسان کی حقیقت کا آغاز ہوتاہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جو انسان کی روحانیت سے جڑا ہے۔ اسی مقام پر روح کو روحِ قدسی کہا جاتاہے اور نورِ محمدیؐ، روحِ قدسی کی صورت میں قلب میں ڈھلا۔
اللہ (عالمِ ھاھویت ۔ مرتبہ احدیت)
نورِ محمدیؐ (عالمِ یاھوت مرتبہ وحدت)
روحِ قدسی (عالمِ لاھوت مرتبہ واحدیت)
اسی مقام کے متعلق سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں ’’میں احمد ہوں بغیر میم کے۔‘‘
اللہ پاک خود فرماتا ہے :
٭ اے محبوبؐ! اگر آپ نہ ہوتے تو میں اپنا ربّ ہونا ظاہر نہ فرماتا۔
حضرت غوث علی شاہ قلند رقادریؒ فرماتے ہیں:
٭ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام پیغمبرِ خدا کے پاس بیٹھے تھے اور حضرت محمدؐ نے دریافت فرمایا کہ اے جبرائیل! تم جانتے ہو کہ وحی کہاں سے آتی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) میری رسائی سدرۃ المنتہیٰ (عالم ِجبروت)سے آگے نہیں۔ اس مقام پر ایک ندا ئے غیب وارد ہوتے ہی اس کو آپؐ تک پہنچانا میرا کام ہے ، اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتا۔ آپؐ نے فرمایا ’’اب کی بار ندا آئے تو اسی پر پرواز شروع کرو اور دیکھو کہ یہ ندا کہاں سے آتی ہے۔‘‘ حضرت جبرائیل ؑنے ایسا ہی کیا اور ایک طویل مسافت طے کرنے کے بعد دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی وہ وحی ندا کر رہے ہیں۔ پھر حضرت جبرائیل ؑامین زمین کی طرف متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی جگہ پر موجود ہیں۔
اس سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ ایک آن ِ واحد کے اندر آنحضرتؐ نے اپنے تئیں اس عالم (ناسوت) اور اُس عالم (وحدت) میںبیک وقت دکھلا دیا ۔(تذکرۂ غوثیہ)
یہی وہ مرتبہ ہے جسے نورِ محمدی، اللہ کا حکم، روحِ قدسی، اللہ کی روح یا حکم ِالٰہی بھی کہا جاتا ہے۔ حضرت امام غزالیؒ روحِ قدسی کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
٭ روحِ قدسی ایک جوہر مجرد ہے جو بذاتِ خود قائم ہے۔نہ مکان میں متمکن رہتی ہے اور نہ جہت اور نہ زمان سے مقید اور نہ بدن اور عالم سے متصل (جڑی ہوئی) ہے اور نہ اس سے خارج ہے بلکہ روحِ قدسی ایک ذاتِ بے اوصافِ ربوبیت سے موصوف ہے اور مقامِ الوہیت میں تمام اشیا سے مقرب ہے۔ اسی واسطے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدؐ کو نااہلوں سے روح کی حقیقت بیان کرنے کا حکم نہیں کیا۔(کیمیائے سعادت)
عالم ِخلق
۴) جبروت (روحِ سلطانی)
۵) ملکوت (روحِ نورانی)
۶) ناسوت (روحِ جسمانی)
۴) جبروت (عالم ِ ارواح):
عالمِ خلق میں نزول کے اعتبار سے یہ مرتبہ اوّل اور روح کا عالمِ ھاھویت کی جانب سے نزول دیکھا جائے تو یہ مرتبہ چہارم ہے۔ یہ وہ مرتبہ ہے جسے عالم ِارواح کہا جاتا ہے۔ اس مرتبہ سے پہلے روح غیر مخلوق ہوتی ہے بس اسے اللہ کی روح یا روحِ قدسی یا نورِ محمدیؐ کہا جاتا ہے۔ اس عالم میں فاردت( ترجمہ: پس میں نے چاہا) والا مرتبہ ہے۔ اس عالم میںاللہ نے روحِ قدسی کو جبروتی لباس پہنا کر ’’روحِ سلطانی‘‘ کے پردے کی صورت میں عالم ِجبروت میں اتارا۔ اس مقام پر فرشتوں کی تخلیق روحِ قدسی سے ہوئی۔ اس مقام پر روحِ قدسی جو غیر مخلوق تھی روحِ سلطانی ’’مخلوق‘‘ کی صورت میں ظاہر ہوئی اس لیے نبی، رسول یا ہر وہ بشر جو اپنی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے وہ فرشتوں سے افضل ہے۔ باقی عالم ِجبروت میں انسان کی نورانیت بھی فرشتوں جیسی ہوتی ہے عیبوںسے پاک۔مگر یہاں اس بات کو بھی سمجھنا ضروری ہے کہ فرشتوںکی رسائی سدرۃ المنتہیٰ تک تھی اور انسان کی رسائی خالق تک ہے۔
’’عالمِ ارواح ‘‘الوھیت کی تفصیل ہے اور اس کے اسماء و صفات کا مرتبہ ہے۔ روحِ سلطانی ہر مادے سے مجرد اورمنفرد ہے اور اجسام کے عوارض، الوان اور اشکال سے پاک ہے۔ قابلِ ادراک خود اور غیرِ خود ہے۔ یہ روح ایک وجودِ بسیط ہے جس کی کوئی صورت نہیں مگر جس صورت میں چاہتی ہے نمودار ہو جاتی ہے اس لیے فرشتے جس صورت میں چاہتے ہیں نمودار ہو جاتے ہیں اور یہ معنی ہر صورت میں ظاہر ہیں۔ اور یہ وہ مرتبۂ ذات ہے جس میں ذات ’’روحِ سلطانی‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔
جبروت عربی میں جوڑنے اور ملانے کو کہتے ہیں۔ یہ مرتبہ مراتبِ الٰہیہ، مراتبِ حقی یا حقائق الٰہیہ (احدیت، وحدت، واحدیت) اور مراتب ِکونیہ یا مراتبِ خلقی(جبروت، ملکوت اور ناسوت) کے درمیان بمنزلہ پل، سیڑھی اور واسطے کے ہے یعنی عالمِ امر کو عالمِ خلق سے جوڑتا ہے اس لیے اس مقام کو جبروت کہتے ہیں۔ یہی مقامِ جبرائیلؑ ہے جو اللہ تعالیٰ اور انبیاکے درمیان وسیلہ رہے ہیں اور عبد و معبود اور خالق و مخلوق کے درمیان تعلق جوڑنے پر مامور ہیں۔ یہ مقام عالمِ غیب اور عالمِ کثیف کے درمیان گویا ایک برزخ (پردہ) ہے۔( رسالہ روحی شریف)
۵) ملکوت (عالمِ مثال):
اَنْ اُعْرَفَ (میں پہچانا جاؤں) کا مقام ہے۔ عالمِ جبروت میں اللہ ارادہ کرتا ہے کہ اسے پہچانا جائے اور عالمِ ملکوت میں روحِ سلطانی کو روحِ سیرانی یا روحِ روحانی میں پنہاں کر دیا جاتا ہے اور اس مقام پر روح مثالی صورتوں میں ظاہر ہوئی۔ اس مرتبہ سے قبل تمام مراتب میں ذاتِ حق تعالیٰ پوشیدہ تھی، اس کی پہچان ناممکن تھی اور اللہ عزوجل باطن میں تھا اور اپنے آپ کو ظاہر کرنے کے عمل سے گزر رہا تھا۔یہ عالم ِمثال (عالم ملکوت) اشیائے کونیہ کا مرکبہ لطیف ہے یعنی کُن سے تخلیق کی گئی وہ اشیا جو نہ ٹکڑے ہونے اور نہ ہی توڑ پھوڑ کو قبول کرتی ہیں۔ لہٰذا اس عالم میں صورت تو آگئی مگر ابھی کثافت نہیں آئی یعنی انہیں دیکھا تو جا سکتا ہے لیکن چھوا نہیں جا سکتا جیسے کہ خواب میں نظر آنے والی صورتیں۔سچے خواب بھی عالمِ ملکوت سے آتے ہیں۔ (رسالہ روحی شریف)
حیوانات ، نباتات اور جمادات کی ارواح کو یہاں عالمِ ملکوت میں تخلیق کیا گیا۔
۶) ناسوت(عالم ِاجسام) :
یہ نزول کے اعتبار سے مرتبہ ششم اور تعین کے اعتبار سے پنجم ہے۔ اس میں مثالی صورتوں نے اجسام حاصل کیے اور مخلوق کے مختلف جسم ظاہر ہوئے۔ ان اجسام میں ’’ذات‘‘ روحِ نورانی پر روحِ جسمانی یا حیوانی کا پردہ ڈال کر عنصری جسمانی صورت میں مخلوق میں ظاہر ہو گئی۔ یوں اللہ تعالیٰ عالمِ احدیت سے نزول کر کے عالم ِناسوت میں ظاہر ہو گیا۔
صوفیا کرام حق ذات کے درجہ بدرجہ باطن سے ظاہر کی جانب نزول سے ظہور تک کے مراتب کو تنزلاتِ ستہ کی تفصیل میں بیان کرتے ہیںکیونکہ وہ ہر مرتبہ کو مشاہدات کی راہ سے اور مشاہدات اسم ِاللہ ذات کے نور یا نورِ محمدی کی روشنی سے حاصل کرتے ہیں۔یاد رہے کہ جو لوگ بھی اللہ کی کھوج میں نکلتے ہیں اللہ انہیں علم ضرور عطا کرتا ہے مگر وہی علم اگر اس کے محافظ کے بغیر دے دیا جائے تو بھٹکا دیتا ہے جیسا کہ اللہ کے اسی نزول کے مراتب کو جب سکھوں اور ہندوؤں نے بیان کیاتواپنی کم عقلی کی بنا پر اتحاد اور حلول کا نظریہ تخلیق کر دیا۔
اتحاد کیا ہے ؟
نظریۂ اتحاد یہ ہے کہ جب انسانی روح ترقی اور عروج حاصل کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ سے جا ملتی ہے۔ مطلب یہ کہ انسانی روح اور اللہ کی روح کوئی دو شے ہیں؟ نہیں،ایسا نہیں ہے بلکہ یہ ایک ہی روح ہے جو کہ اللہ خود درجہ بدرجہ نزول کر کے بطون سے ظہور کی طرف آیا اور خود عالم ِاجسام میں ظاہر ہوا۔
حلول کیا ہے ؟
حلول یہ ہے کہ اجسامِ عالم بھی اپنا ایک وجود رکھتے ہیں اور ذاتِ حق تعالیٰ نے ان میں حلول کیاجس سے مراد شامل ہونا یا سمانا ہے۔ اور ان کے عقیدے میں یہ بھی ہے کہ یہ اجسام تخلیق ہوئے ہیں اور پھر ذاتِ حق ہر جسم میں حلول ہوا اور سب کو زندگی بخشی۔ حالانکہ اجسام کو تو فنا ہونا ہے اور اگر یہ اجسام اور روح کو ایک مان لیں تو فنا ہونے والی اور بقا پانے والی شے ایک کیسے ہو سکتی ہے اور اس جیسے عقیدے کی بنا پر یہ شرک کے مرتکب ہوئے۔ ان کے اس بے بنیاد عقیدے پر ہمارے بہت سے مسلمان فرقوں نے، خود کو حق کی پہچان سے محروم پایا اور محدود عقل سے مطالعہ کیا، شرک جیسا ناپاک لفظ اپنے ہی مسلمان بھائیوں پر لگا دیا جو اللہ والوں، اولیا اللہ و صوفیا کرام سے ان کی حقیقت پہچاننے پران سے عشق کرتے تھے ۔ پس علم خواہ کسی کے پاس بھی ہو اگر اسے نورِ محمدیؐ کی روشنی میں نہ دیکھا جائے تو وہ باطل بن جاتا ہے۔
۷) انسانِ کامل :
ساتواں مرتبہ ’’ذاتِ سرچشمۂ چشمان حقیقت‘‘ یعنی میری پہچان مکمل ہوئی یا مکمل طور پر ظاہر انسانِ کامل میں جو سرچشمہ ہے میری حقیقت کا، یعنی انسانِ کامل پر آکر اللہ کا اظہار مکمل ہوا اور انسانِ کامل سے مراد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات ہے۔
انسانِ کامل کا ذکر تو اللہ عزوجل نے اپنی تمام آسمانی کتابوں میں کیا جن کے توسط سے یہ کائنات وجود میں لائی گئی جیسا کہ ’’انجیل‘‘ کی ابتدا ان الفاظ سے ہوئی ’’اب و ام و ابن‘‘انہوں نے اب (روح) ، ام (مریم) اور ابن سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام لیااور پھر کہا ان میں تیسرااللہ ہے ۔ جبکہ یہ نہ جانا کہ ’’اب‘‘ سے مراد ’’اسمِ اللہ‘‘ ہے اور ’’ام‘‘ سے مراد ہے ’’کنہ ذات‘‘ جو ماہیتِ حقائق کا معبد ہے اور ’’ابن‘‘سے مراد ہے کتاب جو وجودِ مطلق ہے۔(انسانِ کامل)
اسی طرح اگر تورات کی ابتدا دیکھی جائے تو پیدائش کا ذکر 7 دنوں پر کچھ یوں بیان ہوا ہے:
۱۔پہلا دن ’’اللہ نے روشنی کو پیدا کیا اور اسے اندھیرے سے الگ کر کے دن اور رات کا نظام بنایا۔ــ‘‘
۲۔دوسرا دن ’’آسمان کی تخلیق کی اور اوپر کے پانیوں کو نیچے کے پانیوں سے الگ کیا۔ ‘‘
۳۔تیسرا دن ’’خشکی (زمین) کو سمندر سے الگ کیا اور زمین پر پودے، گھاس اور پھلدار درخت اگائے۔‘‘
۴۔چوتھا دن ’’سورج ، چاند اور ستارے بنائے گئے۔‘‘
۵۔پانچواں دن ’’آبی جانور اور پرندے پیدا کیے گئے۔‘‘
۶۔ چھٹا دن ’’زمین پر چلنے والے جانور اور سب سے آخر میں انسان (آدم) کو اپنی شبیہ پر پیدا کیا۔ ‘‘
۷۔ اللہ نے ساتویں دن سارا کام تکمیل دیا اور آرام کیا۔
اگر تورات کے اس نزول کو بھی انسان نورِ محمدیؐ کے فیض اور برکت کی نگاہ سے دیکھے تو 7 مراتب میں اللہ نے اپنے نزول اور تخلیقِ کائنات کا عمل بیان کیا مگر چونکہ اس میں ردّوبدل اور مجاز و مفہوم کا سلسلہ ہی اتنا ہوا کہ اصل معانی و مفہوم تبدیل ہو گئے ۔ اور اگر کہیں الفاظ صحیح موجود ہیں تو اس کا مفہوم غلط سمجھا دیا گیا جبکہ یہ وہی سارے مراتب ہیں جو کہ پہلے بیان کیے جا چکے ہیں۔
۱) نورِ الٰہی
۲) نورِ محمدی
۳) روحِ قدسی
۴) روحِ سلطانی
۵) روحِ نورانی
۶) روحِ جسمانی
ساتواں مرتبہ جہاں اللہ نے اپنا ظہور مکمل کیا وہ انسانِ کامل ہے کیونکہ اگراللہ کے آرام والی بات دیکھی جائے تواللہ پاک خود قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:
٭ لَا تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوْمٌ (سورۃ البقرۃ۔255)
ترجمہ: نہ اُسے اونگھ آتی ہے نہ نیند۔
لہٰذا اس ساتویں مرتبہ سے مراد اللہ کا آرام کرنا نہیں بلکہ اللہ کا مکمل ظہور یعنی انسانِ کامل ہے جس کے متعلق بیان کرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے الٓمٓ جن کو علما اور مفسرین بیان کرنے یا اُس پر غور و فکر کرنے کی تلقین کے بجائے یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ان حروف کا علم تو اللہ اور رسولؐ کے پاس ہے جن کوحروفِ مقطعات کہا جاتا ہے مگر سیّد الشہدا حضرت امام حسینؓ اپنی تصنیفِ لطیف ’’مرآۃ العارفین‘‘ میں انسانِ کامل کے متعلق فرماتے ہیں:
٭ اور اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ فرماتا ہے کہ الٓمٓ یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں (الٓمٓ) کے الف سے مراد احدیت ِذاتِ حق تعالیٰ ہے یعنی حق تعالیٰ کی اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے جو اعیان پر منبسط ہے اس لیے کہ ل کاایک قائمہ’ ا‘ ہے اور ایک ذیل ہے جو دائرہ ’ں‘ ہے۔ ں سے مراد دائرۂ کون (عالم) ہے۔ پس قائمہ ’ ا‘ کا ذیل (ں) سے جڑنا اس بات کی دلیل ہے کہ وجودِ کون ’’جامع‘‘ پر منبسط ہے۔ میم سے مراد عالموں (کون و مکان) کے جامع یعنی انسانِ کامل کی طرف اشارہ ہے ، پس حق اور عالم اور انسانِ کامل ایک کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے۔(مرآۃ العارفین)
الف ’’ا‘‘سے مراد اللہ کی ذات۔۔۔ل کے متعلق آپؓ فرماتے ہیں ’’یہ دو مقامات کا جامع ہے چونکہ’ ا‘ اور’ں‘ کو جوڑ کے بنا ہے ۔ ’ا‘ سے مراد ذاتِ باری تعالیٰ ہی ہے ، ںسے مراد وجودِ عالم کا دائرہ ہے۔
’ا ‘سے مراد حقائق ِالٰہیہ اور ’ں ‘سے مراد حقائق ِکونیہ یعنی کُن سے تخلیق کردہ عام اشیا کے حقائق ہیں۔‘‘
بظاہر ’ا‘ اور ’ں‘ کا مل کر ’’ل‘‘ کی صورت بنانا نہیں سمجھ آتا بلکہ دیکھنے والے کو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ’’ل‘‘ ایک ہی حرف ہے ’ا‘ اور ’ں‘ سے مل کر نہیں بنا، بالکل یہی صورتِ حال عالم کی ہے اگرچہ وہ ’ ا‘ اللہ کا ’ں‘ عالم کی صورت میں نزول ہے لیکن یہ حقیقت اللہ نے چھپا کر رکھی اور اس کو تفکر کرنے والوں پر ہی عیاں کیا۔ جیسا کہ مجذوب الحال لوگوں کو صرف اللہ ہی دکھائی دیتا ہے دنیا کی ہر شے میں، اور دنیا دار لوگوں کو عالم دکھائی دیتا ہے۔ جن کو صرف اللہ ہی دکھائی دیتا ہے، سے مراد یہ ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ ہر شے اللہ کے اظہار کا ذریعہ ہے اور یہ دونوں حصے ہی بہت اہم ہیں۔
الٓمٓ میں ’م‘ سے مراد انسانِ کامل یا ذاتِ محمدؐ ہے جس میں الف اور ل کے تمام حقائق جمع ہیں۔’ل‘ میں ’ا‘ پہلے اور ’ں‘ کا دائرہ بعد میں ہے جبکہ ’م‘ میں دائرہ اوپر اور ’ا‘ نیچے کی طرف ہے جس میں اشارہ ہے کہ ’ل‘ عالم کی ابتدا ’ا‘ اللہ ہے جبکہ ’م‘ محمدؐ کی انتہا ’ا‘ اللہ کی ذات ہے ۔ ’ل‘ کا ’ں‘ عالم کی طرف اشارہ کرتا ہے لیکن یہاں عالم کا دائرہ نامکمل حالت میں ہے جبکہ ’م‘ کے اوپر بنا دائرہ مکمل حالت ’ہ‘ میں ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وجود کا دائرہ انسانِ کامل محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات میں آکر مکمل ہو گیا۔ اس کے بغیر عالم کا ’ں‘ ادھورا اور نامکمل ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عالم میں ہر وقت ایک انسانِ کامل موجود ہے جو قدمِ محمدؐ پر ہے اس کی موجودگی کی وجہ سے ہی کائنات کا دائرہ موجود ہے وہ نہ ہو تو کائنات کا توازن قائم نہ رہے اور یہ تمام نظام بے توازن ہو کر درہم برہم ہو جائے۔(مرآۃ العارفین)
٭ انسانِ کامل دو نسخہ ہے ؛ نسخہ ظاہر اور نسخہ باطن۔نسخہ ظاہر تمام عالم کے مشابہ ہے اور نسخہ باطن مراتبِ الٰہیہ کے مشابہ ہے۔(فصوص الحکم)
٭ ہر زمانہ میں، ازل سے ابد تک، اپنا لباس بدلتے رہتے ہیں اور اکمل افراد کی صورت میں آپؐ جلوہ نما ہوتے ہیں۔(فصوص الحکم)
انسانِ کامل سے مراد وہ صاحب ِنظر ہوتا ہے جو مرید کو اسم ِاللہ ذات کا تصور عطا کرتا ہے اور اپنی نگاہِ کامل کی بدولت مرید کو مشاہدہ کی صورت میں یہ دکھا دیتا ہے کہ انسانِ کامل کون ہے۔ اس دور میں بہت سے لوگوں نے مشاہدات کیے۔ دورِ حاضر کے انسانِ کامل ’’سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس‘‘ ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے کبھی خود اس بات کا اقرار اپنی زبانِ مبارک سے نہیں کیا بلکہ یہ تمام مشاہدات آپ کے دَر پر آنے والے ان افراد کے ہیں جنہیں علمِ دعوت یا اسمِ اللہ ذات سے حاصل ہونے والے اسرار میں بارگاہِ رسالتؐ سے آگاہی ملی کہ آپ مدظلہ الاقدس ہی سلطان الفقر ہفتم اور انسانِ کامل ہیں۔
پس جہاں مرید کی رسائی اس حد تک مرشد کی نگاہ کی بدولت ہو جائے تو سمجھیں وہاں آپ مدظلہ الاقدس کے مراتب کیا ہوں گے اور خیال رہے جن مریدین نے بھی یہ مشاہدہ کیا کہ آپ مدظلہ الاقدس ہی دورِ حاضر کے انسانِ کامل ہیں، اُنہوں نے یہ بارگاہِ نبوتؐ سے مشاہدہ حاصل کیا۔اور جس نے نبی کو دیکھا ہے بے شک اُس نے حق دیکھا کیونکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کافرمان ہے:
٭ جس نے مجھے دیکھا گویا اُس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری مثل نہیں بن سکتا۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں دورِ حاضر کے مرشد کامل اکمل اور انسانِ کامل کی معرفت عطا فرماکر ان تک رسائی نصیب عطا فرمائے۔ اللہ پاک ہمیں سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی نورانی صحبت اور نگاہِ کامل سے اپنے نفوس کا تزکیہ کرکے قرب و معرفتِ الٰہی کی راہ پر گامزن کرے اور مجلسِ محمدیؐ کی دائمی حضوری جیسے اعلیٰ ترین باطنی مقامات نصیب فرمائے۔ آمین!
استفادہ کتب:
۱۔مرآۃ العارفین : تصنیفِ لطیف سیّد الشہدا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ
۲۔رسالہ روحی شریف : تصنیفِ لطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
۳۔عین الفقر: ایضاً
۴۔سلطان العاشقین : ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز
۵۔انسانِ کامل
۶۔نورِ محمدیؐ