عقل ِبیدار Aqal-e-Baydar

Rate this post

عقلِ بیدار Aqal-e-Baydar

تصنیفِ لطیف: سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ
قسط نمبر 8                         مترجم: سلطان محمد احسن علی سروری قادری

غنایت کی خاطر تمام دنیا اور خزائنِ الٰہی کو اپنے قبضہ و قدرت اور اختیار میں لے آنا بہتر ہے یا توفیق و عنایتِ الٰہی سے دنیا کی جانب نہ دیکھنا بہتر ہے۔ تجھے دونوں میں سے کس عمل پر اعتبار ہے؟ بہتر یہ ہے کہ توفیق و تصرف تو رکھا جائے لیکن دنیا حاصل کرنے کی خاطر اسے عمل میں نہ لایا جائے کیونکہ دنیا کی اصل فخر ِفرعون اور مرتبہ زندیق ہے۔ نفس، مخلوق اور دنیا یہ تینوں عام حجاب ہیں، طاعت، ثواب اور کرامات کی طلب یہ تینوں خاص حجاب ہیں۔ عرشِ اکبر پر نماز پڑھنا، لوحِ محفوظ کا مطالعہ کرنا، تمام زمین کو آدھے قدم میں طے کر لینا اور پانچ وقت خانہ کعبہ میں سنت طریقے سے باجماعت نماز پڑھنا حجاباتِ اکبر ہیں۔ توحید میں غرق ہونے کے لیے نفس کو فنا کرنا پڑتا ہے تب ہی مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری حاصل ہوتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قلب کو صاف رکھا جائے اور طبقات کی طیر سیر کی خواہش نہ کی جائے۔ یہ اللہ کے قرب اور اسے بے حجاب دیکھنے کے مراتب ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
٭ اِنَّ اللّٰہَ یَجْرِبُ الْمُؤْمِنِیْنَ بِالْبَلَآئِ کَمَا یَجْرِبُ الذَّھْبَ فِی النَّارِ
ترجمہ: بیشک اللہ تعالیٰ مومنین کی پرکھ بلاؤں کے ذریعے کرتا ہے جس طرح سونے کی پرکھ آگ سے کی جاتی ہے۔

دنیا آزمائش گاہ ہے اور یہی بندے اور پروردگار کے درمیان حجاب ہے۔ الٰہی! ایسا سر مت دینا جو تیرے سوا مخلوق کے آگے سجدہ ریز ہو، ایسی آنکھ مت دینا جو تیرے علاوہ کسی دوسرے کی طرف دیکھے، ایسے کان مت دینا جو تیری بجائے غیر کا کلام سنیں، ایسی زبان مت دینا جو تیرے سوا غیر کی حمد و ثنا بیان کرے، ایسے قدم مت دینا جو بجز تیرے غیر کی طرف بڑھیں، ایسے ہاتھ مت دینا جو بجز تیرے غیر کی طرف دستگیری کے لیے اُٹھیں، ایسی کمر مت دینا جو تیرے سوا غیر کی طاعت کے لیے کمربستہ ہو، ایسا سینہ مت دینا جس میں بجز تیرے غیر کی محبت ہو کیونکہ غیر کی محبت غلیظ و نجس ہے اور نہ ہی ایسا قلب دینا کہ جو بجز تیرے غیر کے قریب ہو۔ بیت:

علم با عین است میباشد قبول
زان بود حاصل شود وحدت وصول

ترجمہ: جو علم عین ذات تک پہنچا دے وہی بارگاہِ الٰہی میں مقبولیت دلاتا ہے اور اسی سے وحدت اور وصال حاصل ہوتا ہے۔
وہ نقش جس کی بدولت روزِ اوّل ہی رجعت و زوال اور پریشانی سے پاک مرتبہ ٔنور حضور حاصل ہو جائے، یہ ہے:

 

تصور اسمِ اللہ ذات خطرات، وساوس، وہمات اور خیالات سے محفوظ رکھتا ہے۔ تصور ایک نور ہے جس کی بدولت طالب جو بھی دیکھتا ہے وہ اللہ کی معرفت، قرب اور حضوری سے دیکھتا ہے اور وہ خواب و بیداری میں دیدارِ الٰہی سے مشرف ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیثِ مبارکہ ہے:
٭ تَنَامُ عَیْنِیْ وَلَا یَنَامُ قَلْبِیْ  (بخاری3569)
ترجمہ: میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔

تصور اسمِ اللہ ذات زمین و آسمان کے طبقات کے نظارہ کی بجائے لاھوت لامکان کا عیاں مشاہدہ اور قربِ رحمن عطا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ تصور اسمِ اللہ ذات مخلوق کی طرف دیکھنے سے بھی دور رکھتا ہے۔ بیت:

چنان کن جسم را در اسم پنہاں
کہ میگردد الف در بسم پنہاں

ترجمہ: اپنے جسم کو اسم ِاللہ ذات میں اس طرح پنہاں کر لے جس طرح الف ’بسم‘ میں پنہاں ہوتا ہے۔

اس راہ میں طالب کو روزِ اوّل ہی اللہ کا قرب اور حضوری حاصل ہو جاتی ہے لیکن یہ راہ عوام کے لیے نہیں ہے۔ بیت:

نورِ وحدت می درآید در وجود
شیطان را بدنام کردی از سجود

ترجمہ: نورِ وحدت وجود کے اندر ہی پوشیدہ ہے۔ شیطان (آدم علیہ السلام کے وجود میں) نورِ وحدت کو نہ دیکھ سکا اس لیے سجدہ نہ کرنے پر بدنام ہوا۔
فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
٭ یَفْعَلُ اللّٰہُ مَا یَشَآئُ  (سورۃ ابراہیم۔27)
ترجمہ:اللہ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے۔
٭ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ  (سورۃ المائدہ۔1)
ترجمہ: وہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اس کا حکم فرماتا ہے۔

ماضی، حال، مستقبل کی حقیقت اور نیک و بد درجات اسم ِاللہ ذات کے حاضرات سے معلوم ہو جاتے ہیں۔ بعض کے وجود میں نارِ شیطانی غالب ہوتی ہے اور بعض کے وجود میں نورِ رحمانی۔ شیطان کو نارِ اَنا نے اللہ کے حکم پر نور (یعنی آدم) کو سجدہ کرنے سے باز رکھا اور وہ ہوائے نفسانی اور ریا میں مبتلا ہو گیا۔ جو توفیق ِالٰہی کی بدولت اس نقش کا تصور کرتا ہے اس پر تمام تفصیلات منکشف ہو جاتی ہیں۔
٭ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO  ھُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَ الظَّاہِرُ وَ الْبَاطِنُ  (سورۃ الحدید۔3)
ترجمہ: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحم فرمانے والا ہے۔ وہی اوّل و آخر ہے اور وہی ظاہر و باطن ہے۔
٭ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ ج وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ  (سورۃ الشوریٰ۔11)
ترجمہ: اس کی مثل کوئی شے نہیں اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔
دائرہ نقش یہ ہے:

یہ نقش تمام کلیدوں کی کلید ہے جس سے معرفتِ توحید کا قفل کھلتا ہے اور قلب و قالب سر سے قدم تک نور میں ڈھل جاتے ہیں جس کے بعد طالب کو روزِ اوّل ہی یقین کا مرتبہ حاصل ہو جاتا ہے۔ جو اس نقش کو لکھتا ہے وہ صاحب ِنظر ہو جاتا ہے اور جو اس نقش کا تصور کرتا ہے وہ فقر میں کامل ہو جاتا ہے۔ وہ ایسا زندہ دل عارف بن جاتا ہے جس کا نفس مردہ ہوتا ہے۔ ان مراتب تک مردہ دل کیسے پہنچ سکتے ہیں! طالبِ مولیٰ پہلے ہی روز ولی اللہ بن کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہم صحبت ہو جاتا ہے، ابتدا و انتہا اس کے لیے ایک ہو جاتے ہیں اور وہ معرفت اور قرب کے تمام مقامات کا محرم ہو جاتا ہے۔ ان مراتب پر پہنچنے پر طالب کا وجود سراسر نور بن جاتا ہے جس کے بعد وہ حضوری میں نورِ ذات کو دیکھتا ہے اور ہر امر پر غالب ہو جاتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
٭ اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ
ترجمہ: جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے پس وہی اللہ ہے۔

٭ یَمْشِیْ عَنِ الرَّاسِ بِدُوْنِ الْاَقْدَامِ
ترجمہ: (راہِ فقر پر) قدموں کی بجائے سر کے بل چلنا پڑتا ہے۔

وہ ذکرِ حبس جس میں حضوری کے حصول کے لیے سانس روکا جائے تو ایسا حبس بیکار ہے کہ اس کا تعلق عین ذات سے نہیں۔ ظاہری آنکھیں ناقص ہوتی ہیں۔ دیدار کے لیے دل کی آنکھوں کا کھلنا اور روشن ضمیر ہونا ضروری ہے کیونکہ اسی سے حضوری حاصل ہوتی ہے۔ یہی کاملین کی راہ ہے جو روزِ الست سے اس کے محرم ہوتے ہیں۔ انہوں نے نورِ معرفت کا سمندر نوش کیا ہوتا ہے لیکن خود کو پوشیدہ رکھتے ہیں اور ہمیشہ دیدار میں مشغول رہتے ہیں۔ خام، نامکمل اور مردہ دل عوام اس راہ سے بے خبر ہیں۔ اس راہ میں نہ صرف سر کو پاؤں بنانا پڑتا ہے بلکہ اس سے تیز چلنا بھی پڑتا ہے۔ یہ تصورِ حضور ہے۔ تیزی سے اس راہ میں بڑھنے سے مراد یہ ہے کہ تصور، توجہ باطنی اور تصرف سے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر ہوا جائے۔ جو اس راز کو جان لیتا ہے وہ ایک دم میں خود کو حضوری میں پہنچا دیتا ہے۔ دیدار کرنے والے کو ایسی ہی دائمی نظر حاصل ہوتی ہے۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔ اس مقام پر پہنچ کر طالب تابناک عجائبات دیکھتا ہے اور روشن ضمیر بن کر بارگاہِ حق میں حاضر ہو جاتا ہے۔ یہ  اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ  کا مرتبہ ہے۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔

جو طالب زندگی بھر یا ایک بار بھی اسمِ اللہ ذات کے اس نقش کو تصور و تفکر سے وجود پر لکھنے کی مشق کرتا ہے تو روزِ قیامت تک اسمِ اللہ ذات اس کے  ہفت اندام سے جدا نہ ہوگا۔ یہ طالب پر اس طرح تاثیر کرتا ہے کہ ا س کے لیے حیات و موت برابر ہو جاتی ہے۔ جو کوئی اسمِ اللہ ذات کو دماغ پر نقش کرتا ہے اس پر محبت، مشاہدۂ حضوری، مراقبہ اور معراجِ ملاقات کے اسرار منکشف ہو جاتے ہیں۔ ہدایت وہ علم ہے جو سینہ میں منتقل ہوتا ہے لیکن اس سینہ میں نہیں جو کینہ سے پُر ہو۔ اسمِ اللہ ذات کے تصور سے تزکیہ نفس، تصفیہ قلب اور تجلیہ روح و سرّ ہوتا ہے۔ جس سے اسرار منکشف ہوتے ہیں اور ان اسرار کو صرف عارفین ہی یقین کے ساتھ پہچانتے ہیں۔ وہ نقش یہ ہے:

جو طالب اسمِ اللہ ذات کی چاروں منازل  اَللّٰہ ،لِلّٰہ، لَہٗ ،ھُوْ  کا سبق پڑھتا ہے وہ سر سے پاؤں تک نور بن جاتا ہے اور اس کے وجود میں اربع عناصر کی صفات باقی نہیں رہتیں۔ جو فنا فی اللہ ہو کر یکتا باخدا ہو جاتا ہے اسے نہ خوف و رجا کی خبر رہتی ہے نہ نفس و شیطان اور شہوت کی۔

ابیات:

ہر کہ با تفکر خوش نویسد راز راہ
در وجودش یافتہ قرب اِلٰہ

ترجمہ: جو طالب تفکر سے وجود پر اسمِ اللہ ذات لکھتا ہے وہ اس راستہ کے راز سے آگاہ ہو جاتا ہے اور اپنے ہی وجود میں ذاتِ الٰہی کا قرب پا لیتا ہے۔

دو چشم خویش را بر بند چون باز
درونت تا دہد گم گشتہ آواز

ترجمہ: اپنی دونوں آنکھوں کو باز کی مثل بند کر لے تاکہ تجھے تیرے اندر سے گم گشتہ آواز سنائی دے۔

در سینۂ من درس وحدت معرفت
ہر کہ می خواند شود عیسیٰؑ صفت

ترجمہ: میرے سینے میں معرفت اور وحدت کا سبق پوشیدہ ہے۔ جو اسے پڑھ لیتا ہے وہ عیسیٰ علیہ السلام کی صفات کا حامل ہو جاتا ہے۔

ہر کہ بنویسد بہ سینہ سربسر
عامل و کامل شود عارف نظر

ترجمہـ: جو اسمِ اللہ ذات کو درست طریقہ سے سینہ پر لکھ لیتا ہے وہ عامل و کامل ہو کر صاحبِ نظر عارف بن جاتا ہے۔

ہر کہ خواند سطر حرف از خدا
عالم باللہ شود او اولیا

ترجمہ: جو اللہ تعالیٰ سے ایک بھی سطر یا حرف پڑھ لے وہ عالم باللہ اور ولی اللہ بن جاتا ہے۔

مرشد کامل وہ ہے جو باطنی توجہ سے طالبِ مولیٰ کو اس طرح تلقین کرے کہ اسے یقین حاصل ہو جائے۔ جس طرح زندگی میں طالب کی راہنمائی کرتا ہے موت کے بعد بھی اسی طرح دست بیعت کرے۔ اس پر حیران مت ہو نہ ہی اس کا انکار کر کیونکہ اولیا اللہ کو ہر طرح کے مراتب کی توفیق حاصل ہوتی ہے اور بلاشبہ وہ خزائن ِالٰہی پر تصرف رکھتے ہیں۔ 

٭ اَلرِّضَآئُ فَوْقَ اْلقَضَآئِ
ترجمہ: رضا قضا پر غالب ہوتی ہے۔
جو اس نقش کا تصور کرے اور اسے اپنے وجود پر لکھے وہ کامل ہو جائے گا۔ نقش یہ ہے:

 

اس نقش میں ہر مشکل کو کھولنے کا کامل حل موجود ہے۔ جو کامل توجہ حاصل کر لے تو عجب نہیں کہ وہ عرش سے تحت الثریٰ تک ہر چیز کو زیر و زبر کر دے۔ اس راہ کا تعلق پڑھنے سے نہیں بلکہ مرتبہ فقر سے ہے جس کی بدولت فقیر ہر ملکِ ولایت پر غالب آتا ہے اور صاحبِ بست و کشاد، فقیر مالک الملکی اور صاحب ِاختیار ہو جاتا ہے۔ وہ جسے چاہے ملکِ ولایت عطا کر کے نواز دے اور جسے چاہے معزول کر کے ملک بدر کر دے۔ یہ اختیارات اہلِ ذات فقیر کے پاس ہیں جیسے فقیر باھوُ جو کہ فنا فی ھوُ کے مرتبہ پر ہے۔ فقرا سے خوفزدہ رہ کیونکہ ہر خزانہ و دولت ان کے تصرف میں ہوتی ہے۔ کامل فقرا اس نقش کی بدولت ہی تمام مراتب کھولتے اور تصرفات عطا کرتے ہیں۔ اس نقش کو یقین سے دیکھ۔

 

جیسے ہی روحِ اعظم وجودِ معظم میں داخل ہوئی اور بولی یَا اَللّٰہ۔ اللہ کا نام لیتے ہی بندے اور ربّ کے درمیان سے عطائے الٰہی کی بدولت تمام حجابات ختم ہو گئے۔ تاہم ابھی تک کوئی بھی اسمِ اللہ ذات کی کنہ، ماہیت اور انتہا تک نہیں پہنچ سکا اور نہ ہی قیامت تک پہنچ پائے گا۔ مرشد کامل طالبِ مولیٰ کو سب سے پہلے اسمِ اللہ ذات کا سبق دیتا اور اس کی تلقین کرتا ہے۔ جب طالب اسمِ اللہ ذات پڑھتا ہے تو مرشد کامل باطنی توجہ اور اسمِ اللہ ذات کی توفیق سے اُسے حضورِ حق میں پہنچا دیتا ہے۔ جس طالبِ مولیٰ کو وہ اسمِ اللہ ذات کی تعلیم دیتا ہے اسے حضورِ حق میں بھی لے جاتا ہے۔ یہ کاملین کی راہ ہے جو روزِ الست سے اللہ کے مشاہدہ میں مشغول ہیں۔ یہ دیدار میں مست رہنے والوں کے مراتب ہیں۔بیت:

آنچہ خوانی از اسم اللہ بخوان
اسم اللہ با تو ماند جاودان

ترجمہ: تو جو علم بھی حاصل کرنا چاہتا ہے اسمِ اللہ ذات سے حاصل کر لے۔ اسمِ اللہ ذات ہی ہمیشہ تیرے ہمراہ رہے گا۔

یہ باعیان راہ ہے جو ابتدا میں ہی لاھوت لامکان تک پہنچ دیتی ہے۔حیوانات کی مثل احمق لوگ ان مراتب کو کیا جانیں! تو خود کو کس گروہ میں شمار کرتا ہے؟  نقش یہ ہے:

 

اپنا تبصرہ بھیجیں