شان سیّدنا غوث الاعظمؓ Shan Syedna Ghaus-ul-Azam

4.4/5 - (22 votes)

شان سیدنا غوث الاعظمؓ 
Shan Syedna Ghaus-ul-Azam

تحریر:مسز نورین ناصر سروری قادری ۔لاہور

سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کو اللہ تعالیٰ نے وہبی ولایت سے نوازا یعنی آپؓ شکمِ مادر ہی سے ولی پیدا ہوئے تھے۔ مقامِ غوثیت و قطبیت و فردانیت سے عروج پا کر آپؓ مقامِ محبوبیت پر فائز تھے۔ بلاشبہ آپؓ آیتہ من آیات اللہ اور معجزۃ من معجزات رسولؐ تھے۔ ایک ایسا وجودِ مسعود جو قطبوں کا قطب، غوثوں کا غوث اور کل ولیوں کا سردار ٹھہرے، اُن کی عظمتِ شان اور رفعتِ مقام سمجھ میں نہیں آتا کہ کیسے بیان کی جائے۔بڑے بڑے عرفا و علما اور واصلانِ حق اور اللہ والوں سے جب آپؓ کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ بس یہ کہہ کر چپ ہو گئے کہ 

پوچھتے کیا ہو شہِ جیلاںؓ کے فضائل آسیؔ
ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا

سیدّنا غوث الاعظمؓ دنیا کے تمام اولیا اللہ کے سردار اور نبوت کے بعد ولایت کے اُس مقام پر فائض ہیں جہاں کسی اور کو رسائی نصیب نہیں ہوئی۔

شیخ الحرمین حضرت عبداللہ بن اسعد یافعی یمنی شافعی ارشاد فرماتے ہیں :
حضور سیدّنا شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے اوصاف و کمالات اتنے روشن اور درخشاں ہیں کہ اگر پھولوں کی پتیاں دفتر بن جائیں اور باغوں کی ٹہنیاں قلمیں بنا لی جائیں اور کوئی ان کے اوصاف و کمالات کو لکھنا چاہے تو وہ ان کے اوصاف و کمالات کو کماحقہ کیا لکھ سکے گا سیرتِ غوث الوریٰ کا ایک باب بھی مکمل نہ ہوگا۔(زبدۃ الآثار تلخیص بہجتہ الاسرار)

حضرت ملا عبدالرحمن بن احمد جامیؔ نقشبندی بارگاہِ غوثیت میں اپنی عقیدتوں کا خراج پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

گویم ز کمالِ تو چہ غوث الثقلینا
محبوبِ خدا، ابنِ حسن، آل حسینا
سر جملہ نہادند در قدمت و گفتند
تاللّٰہ     لقد     آثرَک     اللّٰہ     علینا

ترجمہ: اے غوث الثقلین شیخ عبدالقادرؓ!آپ کے اوصاف و کمالات کو میں کیسے بیان کروں، آپؓ کی عظمتِ شان کا یہ حال ہے کہ آپؓ محبوبِ ربّ العالمین کے محبوب ہیں، حضرت امام حسنؓ کے بیٹے اور حضرت امام حسینؓ کی مقدس آل ہیں۔ زمانے کے سارے ولیوں نے اپنے سر آپؓ کے قدموں میں رکھ دیے اور زبان سے یہی نعرہ لگایا کہ اللہ کی قسم! یہ مرتبہ اور یہ فضیلت ہمارے اوپر آپؓ کو کسی اور نے نہیں اللہ ربّ العزت نے عطا فرمائی ہے۔

حضرت امام احمد رضاؒ سیرت و کردارِ غوث الاعظمؓ کو نہایت خوبصورت انداز میں یوں بیان فرماتے ہیں : 

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
جو ولی قبل تھے، یا بعد ہوئے، یا ہوں گے
سب اَدب رکھتے ہیں دل میں میرے آقا تیرا
سارے اَقطابِ جہاں کرتے ہیں کعبے کا طواف
کعبہ کرتا ہے طوافِ درِ والا تیرا

آپؓ نے برسر منبر اپنی زبانِ اقدس سے ایک ایسا کلمہ ارشاد فرمایا جو آپؓ کے علاوہ دنیا جہان کے کسی ولی کی زبان سے نہ نکلا۔ علمااور اولیا اس بات پر متفق ہیں کہ آپؓ نے یہ بات از خود نہیں کہی تھی بلکہ من جانب اللہ آپ اس کے کہنے پر مامور تھے، آپؓ نے فرمایا:
قَدَمِیْ ھَذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللّٰہ
 ترجمہ:یعنی میرا یہ قدم اللہ کے ہر ولی کی گردن پر ہے۔

 مطلب یہ کہ شرق سے لے کر غرب تک کوئی ولی اس وقت تک درجہ ولایت پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک میرے قدم کو وہ اپنے سر کاتاج نہ بنالے اور اُس عہد سے لے کر اِس عہد تک ہر بندہ جو ایمان کے درجات میں ترقی کرتا ہوا ولی، اوتاد، اَبدال یا قطب وقت ہوا ہے آپؓ کے دربار میں اپنی شرفِ غلامی کے نذرانے ضرور پیش کرتا ہے۔اسی کے بارے میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے کیا خوبصورتی سے بیان فرمایا ہے کہ:

چوں پائے نبیؐ شد تاجِ سرت تاج ہمہ عالم شد قدمت
اقطابِ جہاں در پیش درت اُفتادہ چو پیش شاہ گدا 

ترجمہ:اے شیخ عبدالقادر جیلانی! جس طرح ہمارے نبیؐ کا قدم آپؓ کے سر کا تاج ہے اسی طرح ربِّ ذوالجلال نے آپؓ کے قدم کو ہمارے سروں کا تاج بنا دیا ہے۔ دنیا جہاں کے اقطاب و اولیا آپؓ کے در کے سامنے یوں پڑے ہوئے ہیں جیسے بھکاری بادشاہ کے آگے پڑا ہوا ہوتا ہے۔

سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخِ کامل اور موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سیدّنا غوث الاعظمؓ کی اس شان کے متعلق فرماتے ہیں:
قَدَمِیْ ھَذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللّٰہ سے مرادصرف یہ ہی نہیں کہ آپؓ کا مرتبہ تمام اولیا سے بلند ترہے بلکہ تمام سلاسل اسی طریقے سے فیض حاصل کرتے ہیں۔ اس قول سے یہ بھی مراد ہے کہ سیدنا غوث الاعظمؓ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اجازت سے ولایت و فقر کے تمام خزانوں کے مالک و مختار ہیں اور آپؓ کی اجازت اور مہربانی کے بغیر کوئی انسان ولایت اور فقر کے ادنیٰ مراتب کو بھی نہیں پا سکتا۔ (حیات و تعلیمات سیدّنا غوث الاعظمؓ)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اپنی کتاب ’’ہمعات‘‘ میں فرماتے ہیں:
شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانیؓ اپنی قبر شریف میں زندوں کی طرح تصرف فرماتے ہیں اور لوگوں کی حاجتیں اور ان کی مرادیں پوری کر رہے ہیں۔(ہمعات)

 اور ایسا کیوں نہ ہو کہ آپؓ صاحبِ قدمِ مصطفیؐ ہیں کہ جس طرح تاجدارِ کائنات خاتم الانبیا و المرسلین بن کر آئے اور صبحِ قیامت تک آپؐ کی نبوت اور رسالت کا سکہ چلے گا اِسی طرح سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؓ امام الاولیا و الصالحین بن کر آئے اور صبحِ قیامت تک آپؓ کی ولایت و کرامت کا ڈنکا بجتا رہے گا۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نبیوں کے تاجدار اور سیدّنا غوث پاک ولیوں کے تاجدار ہیں۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوت بے مثال اور غوث پاکؓ کی ولایت باکمال۔ سیدّالانبیا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے معجزات بے شمار اور آپؓ کی کرامات بے شمار۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے امتیوں کی تعداد سب سے زیادہ اور آپؓ کے مریدوں کی تعداد سب سے زیادہ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کمال خدا کا کمال اور آپؓ کا کمال مصطفیؐ کا کمال۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دیکھ کر خدا یاد آتا ہے اور آپؓ کو دیکھ کر مصطفیؐ یاد آتے ہیں۔

حضرت شیخ شہاب الدین ابو حفص سہروردیؒ فرماتے ہیں:
 میں سیدّنا شیخ عبدالقادر جیلانی ؓکے مدرسے کے صحن میں تھا، کیا سنتا ہوں کہ آپؓ مسند ِتدریس و ارشاد پر بیٹھے یوں لب کشائی فرما رہے ہیں:ہر ولی صاحبِ نسبت، صاحبِ تعلق اور صاحبِ قدم ہوتا ہے اور وہ کسی نہ کسی نبی کے نقشِ قدم پر گامزن اور اُس کا قائم مقام ہوتا ہے۔ اسی لیے کسی کو ولایتِ ابراہیمی نصیب ہوتی ہے تو کسی کو ولایتِ موسوی سے حصہ ملتا ہے اور کسی پر ولایتِ عیسوی کا رنگ چڑھا ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ اعزاز و شرف بخشا ہے کہ میں مصطفیؐ جانِ رحمت شمع بزمِ ہدایت کے نقشِ قدم پر جادہ پیما اور اُن کے طریقے پر قائم ہوں۔ یعنی خداوند قدوس نے مجھے ولایتِ محمدیؐ عطا فرما دی ہے۔ مصطفیؐ جانِ رحمت نے جس جگہ سے اپنا قدم اٹھایا میں نے ٹھیک وہیں اپنا قدم رکھا، بجز اس قدمِ نبوت کے کہ نبی کے علاوہ کسی اور کا وہاں گزر نہیں۔(الفیوضات الربانیۃ لاسماعیل بن محمد القادری جیلانی: 85 مطبوعہ مصر)

آپؓ نے فرمایا:
میں اس زمین پر اِمام الانبیا کا نائب و جانشین بھی ہوں اور (علوم و معارفِ) مصطفی کا وارث و قاسم واَمین بھی۔(زبدۃ الآثار تلخیص بہجتہ الاسرار)

جس طرح تاجدارِ کائنات کل جہان کے لیے رحمت اور سارے عالمین کے لیے رسول بن کر جلوہ فرما ہوئے خواہ وہ انسان ہوں، جنات ہوں یا ملائکہ۔ اور آپؐ کی نبوت اور رسالت صبح قیامت تک سب کے لیے عام و تام ہے اور ان سب کو محیط۔ اسی طرح صاحبِ  قدم مصطفیؐ سیدّنا شیخ عبدالقادر جیلانیؓ بھی اپنی شان و مقام کے بارے میں فرماتے ہیں:
انسانوں کے بھی پیر ہوتے ہیں، جنوں کے بھی پیر ہوتے ہیں، فرشتوں کے بھی پیر ہوتے ہیں اور مجھ پر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا حال یہ ہے کہ میں بیک وقت انسانوں کا بھی پیر ہوں، جنوں کا بھی پیر ہوں اور فرشتوں کا بھی پیر ہوں یعنی میں سارے پیروں کا پیر، پیران پیر ہوں۔ (زبدۃ الآثار تلخیص بہجتہ الاسرار)

 اپنے معروف قصیدے کے ایک شعر میں آپؓ نے اس کی وضاحت فرمائی ہے:

فجدیِ رسول اللہ طہٰ محمدؐ
انا عبد القادر شیخ کل طریقۃ

ترجمہ: میرے بابا اللہ کے رسول طہٰ محمدؐ عربی ہیں اور میں عبدالقادر ہر سلسلہ طریقت کا شیخ و مرشد ہوں۔ (الفیوضات الربانیۃ لاسماعیل بن محمد القادری جیلانی)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں :

شفیع امت سرورؐ بود آں شاہ جیلانیؓ
 تعال اللہ چہا قدرت خدایش داد ارزانی 

ترجمہ: شیخ عبدالقادرجیلانی رضی اللہ عنہٗ سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت کے شفیع ہیں۔ اللہ بزرگ و برترنے انہیں کس قدر عظیم قدرت عطا کی ہوئی ہے۔ (کلید التوحید کلاں) 

سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؓ رسولِ پاکؐ کی ذات میں فنا ہو گئے اور فنائیت کی اس منزل پر فائض ہونے کا اعزاز و اکرام آپؓ کو یہ ملا کہ جس طرح اللہ پاک نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سراپا معجزہ بنا دیا تھا اسی طرح سیدنا غوث الاعظم کو ربّ ذوالجلال نے سراپا کرامت بنا دیا تھا۔

آپّ کے خلفا خدام کہتے ہیں کہ حضور سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی کروٹ بدلتے تو کرامت ظاہر ہو جاتی،کچھ نقل و حرکت فرماتے تو ظہورِ کرامت ہو جایا کرتا تھا۔ گویا اللہ ربّ العزت نے آپؓ کے وجودِ مسعود کو سراپا کرامت بنا دیا تھا۔ کسی بھی پیغمبر یا رسول سے اتنے معجزے ظہور پذیر نہیں ہوئے جتنے معجزات مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دستِ حق پرست سے ظاہر ہوئے۔ آپؐ کے معجزات اتنے وافرو کثیر ہیں کہ ان کا احاطہ شمار نہیں کیا جا سکتا اسی طرح کسی بھی دور کے کسی ولی سے اتنی کرامتیں ظاہر نہیں ہوئی جتنی شہنشاہِ ولایت سیدنا عبدالقادرجیلانیؓ کے دستِ حق پر ظہور پذیر ہوئی۔

حضور نبی کریمؐ ابھی دنیا میں تشریف بھی نہیں لائے تھے مگر آپؐ کی آمد کی دھوم مچی ہوئی تھی۔ابو البشر حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ روح اللہ تک کم و بیش ایک لاکھ 24 ہزار انبیاومرسلین آپؐ کی آمد کا قصیدہ پڑھ رہے ہیں اور آپؐ کے آنے کی خوشخبری دے رہے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام آپؐ کے لیے سراپا اِشتیاق ہیں بلکہ تعمیر خانہ کعبہ کے بعد مزدوری کے طور پر آپؐ کی آمد ہی کی دعا فرما رہے ہیں۔ پھر حضور کی آمد سے پہلے آخری نبی حضرت عیسٰی علیہ السلام کے کلمات کو تو قرآنِ مجید نے باقاعدہ اپنے سینے میں محفوظ کر لیا ہے۔ انہوں نے فرمایا:
ترجمہ: ’’اے لوگو میں تمہیں مژدۂ جاں فزا سنا رہا ہوں کہ میرے بعد ایک رسول آنے والا ہے جس کا نام احمد ہوگا۔(سورۃ الصف۔6)

 اسی طرح سیدّنا شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی سیرت کا مطالعہ کریں تو آپؓ کی ولادت ابھی نہیں ہوئی مگرآپؓ کے آنے کی دھوم مچی ہوئی تھی، اولیا و صالحین آپؓ کی آمد کی خوشخبریاں دے رہے تھے۔ بہت سے اہلِ اللہ نے آپؓ کی پیدائش سے برسوں قبل ہی پیشنگوئی کر دی تھی کہ عراق میں ایک ایسے بزرگ ظاہر ہونے والے ہیں جو فضل و کرامت میں بہت بڑے مقام و مرتبے پر فائز ہوں گے۔ ان پر تمام اقطاب کے حالات واضح کر دیے جائیں گے اور ان کے سینوں کے تمام علوم اُن پر روشن ہو جائیں گے۔ ایک وقت آئے گا کہ وہ یہ اعلان کریں گے ’’میرا یہ قدم ہر ولی کی گردن پر ہے‘‘۔ ان کی وجہ سے اولیاکے درجات بڑھیں گے اور ان سے خلقِ خدا کو بے انتہا فائدہ پہنچے گا۔ الغرض اللہ کی بارگاہ میں ان کی شان اس قدر بلند ہوگی کہ کسی دوسرے ولی کو نصیب نہیں ہوگی!

 یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ جب پیغمبر کو آنا تھا تو ان کی آمد کی خبر پچھلے پیغمبر دے رہے تھے اور جب اللہ کے اس عظیم ولی کو آنا تھا تو ان کی خبر وقت کے اولیا کرام دے رہے تھے اور صرف اولیا نہیں بلکہ خود امام الانبیا و المرسلین نے بھی سیدّنا شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی ولادت کی خوشخبری آپ کے والد ماجد حضرت ابو صالح موسیٰ جنگی دوست کے خواب میں تشریف لا کر دی۔ سیدنا شیخ عبدالقادرجیلانیؓ کے والد کے خواب میں تاجدارِ کائناتؐ، صحابہ کرامؓ کے جلو میں جلوہ فرما ہوئے اور آپ کو مبارکباد دیتے ہوئے فرمایا:
اے ابو صالح! تمہیں مبارک ہو عنقریب تمہیں میرا ربّ ایک ایسا سعادت مند بیٹا عطا فرمائے گا جو میرا بھی دوست اور میرے ربّ کا بھی دوست۔ میرا بھی محبوب اور میرے ربّ کا بھی محبوب۔ اور عنقریب اولیاو اقطاب کے درمیان اسے وہ مرتبہ دیا جائے گا جس طرح کا مقام و مرتبہ اللہ ربّ العزت نے نبیوں اور رسولوں کے درمیان مجھے عطا فرمایا ہے۔(تفریح الخاطر فی مناقب الشیخ عبدالقادر)

مولانا جلال الدین رومیؒ، جنہیں شریعت و طریقت کا سنگم مانا جاتا ہے، اپنی شہرہ آفاق مثنوی کے ایک شعر میں فرماتے ہیں:

غوثِ اعظمؓ درمیانِ اَولیا
چوں محمدؐ درمیانِ اَنبیا

 یعنی اولیاصالحین کے درمیان حضرت غوثِ اعظمؓ کی شان ایسی ہی ہے جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان انبیاو مرسلین کے درمیان۔

 حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ ایک شعر میں فرماتے ہیں کہ:

اُوست در جملہ اولیا ممتاز
چوں پیمبر در انبیا ممتاز

ترجمہ:حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ اَولیا کی صف میں ویسے ہی ممتاز ہیں جیسے اَنبیا کی صف میں آمنہؓ کے لعل محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)ممتاز ہیں۔

آقائے دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب اس دنیا میں تشریف لائے تو معجزاتی طور پر سر سجدے میں اور زبان پر امت کی بخشش کے لیے دعا تھی اسی طرح جب شیخ عبدالقادر جیلانیؓ پیدا ہوئے توآپ کی ولادت بھی باکرامت تھی اور پیدا ہوتے ہی کرامتوں کا ظہور ہونے لگا۔ آپؓ یکم رمضان المبارک کو پیدا ہوئے اور دن بھر آپؓ نے دودھ نہیں پیا،گو کہ پورا دن روزے کی حالت میں گزار دیا۔پورے رمضان شریف میں یہ حالت رہی کہ دن بھر مطلق دودھ نہیں پیتے تھے۔ جس وقت افطار کا وقت ہوتا دودھ منہ میں لے لیتے۔ نہ وہ عام بچوں کی طرح روتے چلاتے تھے اور نہ کبھی ان کی طرف سے دودھ کے لیے بے چینی کا اظہار ہوا۔

آپؓ کی والدہ ماجدہ کا بیان ہے کہ زمانہ رضاعت میں عبدالقادر جیلانیؓ نے دو رمضان المبارک گزارے۔ان دونوں مقدس مہینوں میں آپ کا یہ حال تھا کہ آغاز سے اختتام تک پورے دن روزے سے رہتے اور افطار کے وقت سے پہلے دودھ کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتے تھے۔
پنگھوڑے میں آپؓ کی اس کرامت کو دیکھ کر پورے علاقے میں اس واقعہ کی ایسی شہرت ہوئی کہ لوگوں کی زبان پر جملہ گردش کر رہا تھا کہ اَشراف کے گھرانے میں اور سادات کے خاندان میں ایک ایسا بچہ پیدا ہوا ہے جو کہ رمضان کے دنوں میں دودھ نہیں پیتا۔(زبدۃ الآثار تلخیص بہجتہ الاسرار)

سرکار ِدو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اس دنیا میں آنے کا مقصد یہ تھا کہ اخلاق کی روشنی عام کی جائے اور اخلاقِ عالیہ کی جو قدریں مٹ رہی تھیں انہیں دوبارہ زندہ کیا جائے۔ چنانچہ تاجدارِ کائنات معلمِ انسانیت نے اس دنیا میں اپنی آمد کا مقصد ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق 
 ترجمہ:میں دنیا میں اسی لیے بھیجا گیا ہوں تاکہ اخلاق عالیہ کی تکمیل کر دوں۔(مسندِشہاب قضاعی)

اور اخلاقیات کے جس درس سے زمانہ ناآشنا ہے،میں انہیں اس دولت سے مالا مال کر دوں تاکہ دنیا جہان سے جہالت و بد اخلاقی کا خاتمہ ہو جائے اور اخلاق و اقدار کی چاندنی ہر طرف پھیل جائے اور پھر آپؐ کا اخلاقِ حمیدہ ایسا تھا کہ اپنے کیا غیر، سبھی مداح ثنا خوان تھے۔ اور کیوں نہ ہو! جن کے اخلاق کی سربلندی کی گواہی قرآن دے بھلا ان کے اخلاق کی بلندی کا اندازہ کون لگا سکتا ہے!

 اخلاقِ جمیلہ اور محاسنِ حمیدہ کے تعلق سے کچھ یہی حال شہنشاہ ِولایت سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کا بھی تھا کہ آپؓ کے جملہ سیرت نگاہوں نے آپؓ کو خلقِ حسن کی عظیم منزل پر فائز بتایا ہے۔ آپؓ نے زندگی بھر لوگوں کواخلاق و کردار میں پاکیزگی و چمک پیدا کرنے اور تقویٰ طہارت سے سدا آراستگی رکھنے کا درس دیا۔

 آپؓ بذاتِ خود حق گو، خدا ترس، رقیق القلب،کشادہ جبیں، شگفتہ رو، کریم الاخلاق، حیادار، وسیع الظرف اور مشفق و فیاض دل تھے۔ اتنی بلند جلالت و منزلت کے باوجود چھوٹوں کے ساتھ ہمیشہ لطف و شفقت کا معاملہ فرماتے اور بڑوں کا احترام بجا لاتے۔ ہمیشہ سلام میں پہل کرتے۔ غربا و مساکین کی تواضع فرماتے۔ کسی سائل کو رَد نہ کرتے۔غمزدہ لوگ آپ کو دیکھتے ہی خوش ہو جاتے اور آپؓ کے احباب میں ہر ایک کو یہی خیال ہوتا ہے کہ وہی آپؓ کو زیادہ محترم اور محبوب ہے۔

جس دور میں سیدّنا شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کو اس دنیا میں بھیجا گیا وہ دور اسلام و مسلمین کے لیے بڑی آزمائش اور ابتلا کا تھا۔اس دور میں اسلامی معاشرہ بری طرح گوناگوں فتنوں کے حصار میں گھرا ہوا تھا اور دین کے اندر بہت سے غیر شرعی امور در آئے تھے جن سے دین کو پاک کرنا بے حد ضروری تھا۔ چنانچہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ نے معاشرے سے ان تمام بگاڑ کو ختم کیا اور ملتِ اسلامیہ کی مردہ اقدار کو دوبارہ زندہ کر کے توانائی بخشی۔ اسی لیے آپؓ کو ’’محی الدین‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتاہے یعنی دین کو زندہ کرنے والا۔جب تک آپؓ اس دنیا میں رہے برابر جہالت کا خاتمہ فرماتے رہے اور علم و معرفت کی روشنی پھیلاتے رہے۔ گویا آپ کی پوری زندگی تعلیم و تعلم سے عبارت رہی۔

سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے اعلیٰ منصب ولایت اور لامحدود روحانی مقام کو بیان کرنا ممکن نہیں۔ آپؓ نے فرمایا:

اَفَلَتْ  شُمُوْسُ  الْاَوَّلِیْنَ  وَ شَمْسُنَا
اَبَدًا عَلٰی فَلَکِ الْعُلٰی لَا تَغْرُبٗ 

ترجمہ:پہلے لوگوں کے آفتاب ڈوب گئے لیکن ہمارا آفتاب بلندیوں کے آسمان پر کبھی غروب نہ ہوگا۔

آفتاب سے مرادفیضانِ ہدایت ہے اور غروب ہونے سے مراد اس فیض کا بند ہونا ہے جو کبھی نہ ہو گا۔ آپؓ کا یہ فرمان فرقہ واریت کے اس دور میں بھی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوا ہے۔اور آپؓ کا آفتاب، آپؓ کے روحانی وارث اور آپؓ کے سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخِ کامل، آفتابِ فقر محبوبِ سبحانی سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی صورت میں روشن و تاباں ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی دینِ محمدیؐ کے فروغ کے لیے کی گئی کاوشوں کی بدولت تا قیامت یہ آفتاب اپنی نورانی و پاکیزہ روشنی سے بے نور قلوب کو نورِ حق سے منور فرماتا رہے گا۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس موجودہ دور میں وہ واحد ہستی ہیں جنہوں نے دین محمدیؐ کو حقیقی معنوں میں حیاتِ نو عطا فرمائی ہے اور فقرِمحمدیؐ کے فیض کو دنیا بھر میں عام فرما رہے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی دینِ محمدیؐ کے فروغ کے لیے کی گئی بے لوث کاوشوں کے اعتراف کے طور پر آپ مدظلہ الاقدس کو بارگاہِ مجلسِ محمدیؐ سے ’’شبیہ غوث الاعظم‘‘ کا لقب عطا کیا گیا ہے جو آپ مدظلہ الاقدس کے سیدّنا غوث الاعظمؓ کے حقیقی روحانی وارث ہونے کی کامل دلیل ہے۔

استفادہ کتب:
۱۔کلید التوحید کلاں، تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
۲۔زبدۃ الآثار تلخیص بہجتہ الاسرار، تالیف شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ
۳۔الفیوضات الربانیہ، جمع و ترتیب شیخ اسماعیل بن محمد بن سعید القادری جیلانی
۴۔تفریح الخاطر فی مناقب الشیخ عبدالقادر، تصنیف شیخ عبدالقادر اربلیؒ

 

11 تبصرے “شان سیّدنا غوث الاعظمؓ Shan Syedna Ghaus-ul-Azam

  1. غوثِ اعظمؓ درمیانِ اَولیا
    چوں محمدؐ درمیانِ اَنبیا

  2. واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
    اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا

  3. واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
    اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا

  4. حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نبیوں کے تاجدار اور سیدّنا غوث پاک ولیوں کے تاجدار ہیں۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوت بے مثال اور غوث پاکؓ کی ولایت باکمال۔ سیدّالانبیا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے معجزات بے شمار اور آپؓ کی کرامات بے شمار۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے امتیوں کی تعداد سب سے زیادہ اور آپؓ کے مریدوں کی تعداد سب سے زیادہ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کمال خدا کا کمال اور آپؓ کا کمال مصطفیؐ کا کمال۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دیکھ کر خدا یاد آتا ہے اور آپؓ کو دیکھ کر مصطفیؐ یاد آتے ہیں۔

  5. سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؓ رسولِ پاکؐ کی ذات میں فنا ہو گئے اور فنائیت کی اس منزل پر فائض ہونے کا اعزاز و اکرام آپؓ کو یہ ملا کہ جس طرح اللہ پاک نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سراپا معجزہ بنا دیا تھا اسی طرح سیدنا غوث الاعظم کو ربّ ذوالجلال نے سراپا کرامت بنا دیا تھا۔

  6. شیخ الحرمین حضرت عبداللہ بن اسعد یافعی یمنی شافعی ارشاد فرماتے ہیں :
    حضور سیدّنا شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے اوصاف و کمالات اتنے روشن اور درخشاں ہیں کہ اگر پھولوں کی پتیاں دفتر بن جائیں اور باغوں کی ٹہنیاں قلمیں بنا لی جائیں اور کوئی ان کے اوصاف و کمالات کو لکھنا چاہے تو وہ ان کے اوصاف و کمالات کو کماحقہ کیا لکھ سکے گا سیرتِ غوث الوریٰ کا ایک باب بھی مکمل نہ ہوگا۔(زبدۃ الآثار تلخیص بہجتہ الاسرار)

  7. سیدّنا غوث الاعظمؓ دنیا کے تمام اولیا اللہ کے سردار اور نبوت کے بعد ولایت کے اُس مقام پر فائض ہیں جہاں کسی اور کو رسائی نصیب نہیں ہوئی۔

  8. سیدّنا غوث الاعظمؓ دنیا کے تمام اولیا اللہ کے سردار اور نبوت کے بعد ولایت کے اُس مقام پر فائض ہیں جہاں کسی اور کو رسائی نصیب نہیں ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں