غوث الاعظمؓ محی الدین احیائے اسلام کا مینارِ نور
Ghaus-ul-Azam Mohiyuddin-Ahya-e-Deen Ka Minar-e-Nur
تحریر:فقیہہ صابر سروری قادری(رائیونڈ)
دینِ اسلام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر کامل و مکمل ہوا۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے:
اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ (سورۃالمائدہ۔ 3)
ترجمہ:آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی۔
اللہ تعالیٰ نے اعلان فرما دیا کہ اسلام اپنی تکمیل کو پہنچ چکا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر نعمت تمام ہو گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب کسی نئے دین یا شریعت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انسانوں کے دل وقتاً فوقتاً غفلت، دنیا پرستی اور باطل افکار کی تاریکی میں ڈوبتے رہتے ہیں۔ دین کامل ہے مگر انسان کی سمجھ، عمل اور تقویٰ میں کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین کو مکمل کرنے کے بعد اس کی حفاظت اور تجدید کا نظام ’’ولایت‘‘کی صورت میں جاری فرمایا۔ نبوت کا دروازہ بند ہوا مگر ولایت کا دروازہ قیامت تک کے لئے کھل گیا تاکہ اولیائے کاملین ہر دور میں اُمت کو قرآن و سنت کی اصل روح یاد دلائیں، ایمان و عشق کے چراغ روشن کریں اور مردہ دلوں کو زندہ کریں۔
اولیاکرام دراصل زندہ دلوں کے لیے مینارِ نورہیں، جو اندھیروں میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ یہی اولیائے کاملین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نائب اور وارث ہیں۔ یہ وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جو ہر دور میں دین کو تازہ کرتے، کتاب و سنت کی روشنی میں امت کی اصلاح فرماتے اور مردہ دلوں کو ایمان کی حرارت عطا کرتے ہیں۔ اسی حقیقت کو قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ وُ یُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ (سورۃ محمد۔7)
ترجمہ:اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔
یہ آیت دراصل اس عظیم اصول کو واضح کرتی ہے کہ جو بھی اللہ کے دین کی خدمت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی تائید و نصرت فرمائے گا اور اسے دنیا میں استقامت و کامیابی عطا کرے گا۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دین میں کمزوری آئی، بدعات اور گمراہیاں پھیلیں تو اللہ نے اپنے خاص بندوں کے ذریعے عوام الناس کی مدد فرمائی۔ انہی عظیم اولیامیں سب سے نمایاں، سب سے درخشاں اور سب سے کامل ہستی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ ہیں۔ آپؓ نے دین کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا اور اس آیت کی عملی تفسیر بن گئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو ایسا غلبہ، قبولیت اور استقامت عطا کی کہ آپؓ کا فیضان قیامت تک پوری دنیا میں جاری و ساری رہے گا۔
جس طرح سمندر میں مینار (Light house) اپنی بلندی اور روشنی کے باعث دور دور تک راستہ دکھاتاہے اسی طرح آپؓ کی ذاتِ مبارکہ امتِ مسلمہ کے لیے قیامت تک ایک مینارِ نورکی مانند ہے جو اندھیروں میں بھٹکے ہوئے قافلوں کو راہِ حق دکھاتا رہے گا۔
یہی وجہ ہے کہ آپؓ کو بجا طور پر ’’احیائے اسلام کا مینارِ نور‘‘کہا جاتا ہے۔
سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادرجیلانیؓ کا فیض عالمگیر ہے۔ آپؓ نے دین کے جوہر کو اُجاگر کیا اور اسلام کی حقیقی روح کو دنیا کے سامنے زندہ کیا اسی لیے دنیا آپؓ کو ’’غوث الاعظم محی الدین‘‘ کے لقب سے یاد کرتی ہے۔
’’محی الدین ‘‘کا لقب دراصل آپؓ کے روحانی منصب اور ازلی ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے۔ ’’محی‘‘ کا مطلب ہے زندہ کرنے والا اور ’’الدین‘‘ سے مرادہے دینِ اسلام۔ اس طرح ’’محی الدین‘‘ وہ ہستی ہیں جنہوں نے مردہ دلوں کو ذکرِ الٰہی سے زندہ کیااور اُمت کو غفلت و گمراہی سے نکال کر اسلام کی اصل روح کو اجاگر کیا۔ ’’محی الدین‘‘ صرف ایک لقب نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جو آپؓ کے کردار اور فیضان سے پوری امت پر ظاہر ہوئی۔
’بہجۃ الاسرار‘ میں تحریر ہے کہ آپؓ نے ایک مرتبہ اپنے مشہورِ زمانہ لقب ’’محی الدین‘‘ کے متعلق یہ وضاحت فرمائی:
’’ایک دن میں بغداد سے باہر گیاہوا تھا۔ واپس آیا تو راستے میں ایک بیمار اور خستہ حال شخص کو دیکھا جو ضعف و لاغری کے سبب چلنے سے عاجز تھا۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تو کہنے لگا ’اے شیخ! مجھ پر اپنی توجہ کر اور اپنے دمِ مسیحا نفس سے مجھے قوت عطا کر۔‘ میں نے بارگاہِ ربّ العزت میں اس کی صحت یابی کے لئے دعا مانگی اور پھر اس پر دم کیا۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس شخص کی لاغری اور نقاہت یک لخت دور ہوگئی اور وہ تندرست و توانا ہوکر اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا ’عبدالقادر! مجھے پہچانا؟‘ میں نے کہا ’نہیں‘۔ وہ بولا ’میں تمہارے نانا کا دین ہوں، ضعف کی وجہ سے میری یہ حالت ہوگئی ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے تیرے ذریعے سے مجھے حیاتِ تازہ عطا کی ہے پس تو’محی الدین‘ ہے اوراسلام کا مصلح اعظم ہے۔‘
میں اس شخص کو چھوڑ کر بغدادکی جامع مسجد کی طرف روانہ ہوا۔ راستہ میں ایک شخص ننگے پاؤں بھاگتا ہوا میرے پاس سے گذرا اور بلند آواز سے پکارا ’سیدّی محیّ الدین‘۔میں حیران رہ گیا۔ پھر میں نے مسجد میں جا کر دوگانہ ادا کیا۔ جونہی میں نے سلام پھیرا میرے چاروں طرف لوگ انبوہ در انبوہ جمع ہوگئے اور محیّ الدین، محیّ الدین کے فلک شگاف نعرے لگانے لگے۔ اس سے پہلے کبھی کسی نے مجھے اس لقب سے نہیں پکارا تھا۔‘‘ (بحوالہ حیات و تعلیمات سیدّنا غوث الاعظمؓ)
ولادت اور ابتدائی زندگی
سیدّنا غوث الاعظم شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانیؓ یکم رمضان المبارک 470ھ (17 مارچ 1078ئ) بروز جمعتہ المبارک عالمِ وحدت سے عالمِ ناسوت میں تشریف لائے۔ آپؓ کے والد ماجد حضرت سیدّنا ابو صالح موسیٰ جنگیؒ حسنی اور والدہ ماجدہ اُم الخیر سیدّہ فاطمہؒ حسینی سیدّ ہیں گویا آپؓ نجیب الطرفین سیدّ ہیں۔ آپؓ کو ہر دو حسبی اور نسبی طور پر فقر کا مرتبہ بدرجہ اتم عطا ہوا اور حقیقتِ محمدیہ پورے طور پر آپؓ کے وجودِ مسعود میں جلوہ گر ہوئی۔
آپؓ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ اُمّ الخیر بیان فرماتی ہیں کہ ولادت کے ساتھ احکامِ شریعت کا اِس قدر احترام تھا کہ سیدّنا غوثِ الاعظمؓ رمضان میں دن بھر میں کبھی دودھ نہیں پیتے تھے۔ ایک مرتبہ اَبر کے باعث 29شعبان کو چاند کی رویت نہ ہوسکی۔ لوگ ترددمیں تھے لیکن اِس مادر زادولی سیدّنا غوث الاعظمؓ نے صبح کو دودھ نہیں پیا۔ بالآخر تحقیق کے بعد معلوم ہواکہ آج یکم رمضان المبارک ہے۔ آپؓ کی والدہ محترمہ کا بیان ہے کہ آپؓ کے پورے عہدِ رضاعت میں آپؓ کا یہ حال رہا کہ سال کے تمام مہینوں میں آپ دودھ پیتے رہتے تھے لیکن جوں ہی رمضان شریف کا مبارک مہینہ آتا تو آپؓ کایہ معمول رہتا تھا کہ طلوعِ آفتاب سے لے کر غروبِ آفتاب تک قطعاً دودھ نہیں پیتے تھے خواہ کتنی ہی دودھ پلانے کی کوشش کی جاتی یعنی رمضان شریف کے پورے مہینہ آپؓ دن میں روزہ سے رہتے تھے اور جب مغرب کے وقت اذان ہوتی اور لوگ افطارکرتے توآپؓ بھی دودھ پینے لگتے تھے۔
مشہور روایت ہے کہ جب سیدّنا غوث الاعظمؓ کی عمر چاربرس ہوئی تو اسلامی رواج کے مطابق والدہ محترمہ نے آپ کو مکتب میں داخل کرا دیا۔ پہلے ہی روز اُستاد نے کہا! پڑھو بیٹے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ آپؓ نے بسم اللہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ اَلٓمّٓ سے لے کر مکمل اٹھارہ 18 پارے زبانی پڑھ ڈالے۔ استاد نے حیرت کے ساتھ دریافت کیا کہ یہ تم نے کب پڑھا؟ اور کیسے پڑھا؟ توآپؓ نے فرمایا کہ والدہ ماجدہ اٹھارہ پاروں کی حافظہ ہیں جن کا وہ اکثر دور کیاکرتی تھیں جب میں شکم ِمادر میں تھا تو یہ اٹھارہ پارے سنتے سنتے مجھے بھی یاد ہوگئے تھے۔
یہ شان ہوتی ہے اللہ کے ولیوں کی! سیدّنا غوث الاعظمؓ آج سے کئی صدیوں قبل ہی اِس حقیقت کومن وعن سچ ثابت کرچکے ہیں کہ دورانِ حمل ماں جو کچھ بھی سوچ رہی ہوتی ہے اور پڑھ رہی ہوتی ہے تو اُس کا اثر دونوں صورتوں میں شکمِ مادر میں رہنے (پلنے) والے بچے پر ضرور پڑ تاہے اور آج چاند کو چھولینے اور اِس پر چہل قدمی کرنے کی دعویدار اکیسویں صدی کی جدید سائنسی دنیاکے سائنسدان اپنی تحقیقات سے یہ بتاتے پھر رہے ہیں کہ سائنس نے یہ ایک نئی تحقیق کرلی ہے کہ دورانِ حمل ماں جو کچھ بھی منفی یامثبت سوچ رکھتی ہے اِس کا اَثر آئندہ آنے والے بچے کی زندگی پر پڑتا ہے۔ یہ بات سائنس نے آج دریافت کی ہے جبکہ سیدّنا غوث الاعظمؓ نے صدیوں قبل اِسکا عملی ثبوت دنیا کے سامنے خود پیش کر دیا تھا۔ ہمیں بطور امت اس بات پر فخرہوناچاہئے کہ موجودہ دنیا کی کوئی ترقی قرآن و سنت اور تعلیماتِ اسلامی کے دائرہ کار سے باہر نہیں ہو سکتی۔ اور یوں آپؓ نے اپنے وطن جیلان ہی میں باضابطہ طور پر قرآنِ کریم مکمل کیااور چند دوسری دینی کتابیں پڑھ ڈالیں تھیں۔
دس برس کی عمر تک تمام ابتدائی علوم پر مکمل دسترس حاصل کر چکے تھے۔ اٹھارہ برس کی عمر میں مزید حصولِ علم کے لیے 488ھ میں بغداد تشریف لے گئے اور مدرسہ نظامیہ میں داخل ہو گئے۔ یہاں آپؓ کے اساتذہ میں ابوالوفا علیؒ بن عقیل، ابو زکریاؒ یحییٰ بن علی تبریزی، ابو سعیدؒ بن عبدالکریم، ابو سعید بن مبارک مخزومی اور ابو الخیر حماد بن مسلم دباسؒ جیسے نامور علما و آئمہ شامل تھے۔ حضرت ابو سعید مبارک مخزومیؒ آپ کے مرشد و شیخ بھی تھے جن سے آپؓ نے خرقۂ خلافت اور امانتِ الٰہیہ حاصل کی۔ علمِ قرآن، تفسیر، حدیث، علمِ فقہ، علمِ لغت، علمِ شریعت، علمِ طریقت غرض ایسا کوئی علم نہ تھا جو آپؓ نے اس دور کے باکمال اساتذہ و آئمہ سے حاصل نہ کیا ہو اور صرف حاصل ہی نہیں کیا بلکہ ہر علم میں وہ کمال پیدا کیا کہ تمام ہم عصرعلما سے سبقت لے گئے۔
سیدّنا غوثِ اعظم488ھ سے 496ھ تک آٹھ سال کے عرصے میں ہر قسم کے علم پر کامل دسترس حاصل کرنے کے بعد ریاضات و مجاہدات میں مشغول ہو گئے۔ 496ھ سے 521ھ تک پچیس سال کی طویل مدت میں آپ ؓنے ایسے ایسے مجاہدے اور ریاضتیں کیں کہ ان کا حال پڑھ کر انسان کی روح تک لرز جاتی ہے۔ آپؓ کا اپنا بیان ہے ’’میں نے ایسی ہولناک سختیاں جھیلی ہیں کہ اگر وہ پہاڑ پر گزرتیں تو پہاڑ بھی پھٹ جاتا۔ جب مصائب اور تکالیف کی ہر طرف سے مجھ پر یلغار ہو جاتی تھی تو میں تنگ آکر زمین پرلیٹ جاتا اور اس آیت کریمہ کا ورد شروع کر دیتا ہے:فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسرًا۔لا اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔ ترجمہ: بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے،بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔
اس آیت مبارکہ کی تکرار سے مجھے تسکین حاصل ہو جاتی اور جب زمین سے اٹھتا تو سب رنج و کرب دور ہو جاتا۔‘‘
ایک بار دورانِ وعظ فرمایا ’’میں پچیس سال تک عراق کے ویرانوں اور جنگلوں میں پھرتا رہا ہوں اور چالیس سال تک فجر کی نماز عشا کے وضو سے پڑھی ہے اورپندرہ سال تک عشاکی نماز میں ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر صبح تک قرآنِ حکیم ختم کیا۔ میں نے بسا اوقات تیس سے چالیس دن بغیر کچھ کھائے پیئے گزارے ہیں۔‘‘ پچیس سال کے سخت ترین مجاہدے کے بعد سیدّناغوث الاعظم ؓفقر و معرفت اور فنا فی الرسول و فنا فی اللہ بقا باللہ کی ان بلندیوں پر فائز ہو گئے جن کے متعلق کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اب خلقِ خدا پر توجہ کرنا اور ان کی تربیت و اصلاح کرنا ان پر فرض ہو گیا۔ 521ھ میں آپ ؓنے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم سے مسند تلقین و ارشاد سنبھالی۔
آپؓ کی پیدائش کے وقت عالمِ اسلام بڑے کٹھن حالات سے گزر رہا تھا۔ اخلاقیات کا نام و نشان نہ تھا، بدکاری عروج پر تھی۔ طوائف الملوکی کی وجہ سے ہر طرف انتشار کا دور دورہ تھا۔ بدکاری، فسق و فجور، سیاسی اَبتری اور اخلاقی انحطاط اپنے عروج کو پہنچ چکے تھے۔ مذہبی زوال پذیری کے ساتھ ساتھ روحانی صورتحال بدترین ہو گئی تھی۔ دین کی روح ختم ہو چکی تھی۔ ایسے حالات میں ربِّ ذوالجلال نے سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ کے ذریعے دینِ حق کو نئی زندگی بخشی۔ روحانی اقدار بلند ہوئیں، ایک انقلاب برپا ہو گیا اور اشاعتِ اسلام اور ترویج و تبلیغ دین کا سنہری دور شروع ہوا۔
آپؓ نے لوگوں کی تربیت کے لیے وعظ و نصیحت کا سلسلہ شروع کیا۔ وعظ کی حیرت انگیز اثر پذیری کے باعث چند ہی دنوںمیں آپؓ کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ عراق، شام، عرب و عجم سے ہجومِ خلق آپؓ کی طرف متوجہ ہو گیا۔ آپؓ نے چالیس سال تک خلقِ خدا کی رہنمائی کے لیے اپنے صبح و شام وقف کیے رکھے۔ وعظ کے دوران تجلیاتِ الٰہیہ کا شدید نزول آپؓ کے حالات سے ظاہر ہوتا۔ کبھی آوازمیں بہت تیزی آ جاتی، کبھی بات کرتے کرتے چہرہ مبارک سرخ ہو جاتا اور چیخ نکل جاتی۔ عام لوگ تو ان تجلیات کو سہہ بھی نہ پاتے اور ان پر وجد طاری ہو جاتا۔ بعض لوگ جوش میں آکر اپنے کپڑے پھاڑ ڈالتے اور بعض بے ہوش ہو جاتے تھے۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ مجلسِ وعظ میں ایک دو شخص غشی کی حالت میں واصل بحق ہو گئے۔
اکابرینِ اسلام کی شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے بارے پیشین گوئی
آپؓ کے ظہور کی بیشمار بشارتیں آپؓ کی سوانح کی کتابوں میں موجود ہیں۔یعنی آپؓ کی آمد سے قبل ہی آپؓ کی عظمت کے ڈنکے بج رہے تھے۔
امام یعقوب ہمدانیؒ سے روایت ہے کہ میرے مرشد نے ایک دفعہ مجھے بتایا کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی ولادت سے کئی سال پہلے انہوں نے شیخ المشائخ ابوعبداللہ علیؒ سے سنا کہ زمانہ قریب میں ایک بزرگ کا ظہور سرزمینِ عراق میں ہوگا جو اللہ کا خاص بندہ ہو گا اوراس کا نام عبدالقادرہوگا۔اللہ تعالیٰ نے اسے تمام اولیا اللہ کا سرتاج بنایا ہے۔
حضرت امام شیخ ابو یعقوب یوسف ہمدانیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے 468ھ میں حضرت شیخ ابو احمد عبداللہ جوی حقیؒ سے سنا وہ فرمایا کرتے تھے کہ عنقریب سر زمینِ عجم میں ایک سعادت مند بچہ پیدا ہو گا جو کراماتِ عظیمی اور منازلِ جلیلہ کا حامل ہوگا اور تمام اولیا کرام کے ہاں اسے پوری طرح مقبولیت کا شرف حاصل ہوگا۔وہ اعلان فرمائیں گے:
قَدَمِیْ ہَذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللّٰہ
ترجمہ: میرا یہ قدم تمام اولیا اللہ کی گردن پر ہے۔
’’بہجۃ الاسرار‘‘ میں ہے کہ جب سیدّناشیخ عبدالقادر جیلانیؓ کو مرتبۂ غوثیت و مقامِ محبوبیت سے نوازا گیا تو ایک دن جمعہ کی نماز میں خطبہ دیتے وقت اچانک آپؓ پر استغراقی کیفیت طاری ہو گئی اور اسی وقت زبانِ فیض سے یہ کلمات جاری ہوئے: قَدَمِیْ ہَذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللّٰہ یعنی میرا یہ قدم تمام اولیا اللہ کی گردن پر ہے۔
منادِ غیب نے تمام عالم میں ندا کردی کہ جمیع اولیا اللہ اطاعتِ غوثِ پاک کریں۔ یہ سنتے ہی جملہ اولیا اللہ جو زندہ تھے یا پردہ کر چکے تھے سب نے گردنیں جھکا دیں۔
مولانا عبدالرحمن جامیؒ بیان کرتے ہیں:
جس وقت سیدّنا غوث پاک نے یہ ارشاد فرمایاکہ میرا قدم تمام اولیااللہ کی گردن پر ہے، اس وقت اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کے دل پر ایک تجلی ہوئی اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے ملائکہ مقربین کی ایک جماعت ان کے پاس ایک لباس لے کر آئی جو تمام اولیامتقدمین اور متاخرین کی موجودگی میں انہیں پہنایا گیا۔ زندہ اولیا کرام تواپنے اجسام کے ساتھ وہاں حاضر تھے لیکن جو وصال پاچکے تھے ان کی ارواح موجود تھیں اور اس وقت ملائکہ اور رجال الغیب نے اس مجلس کو گھیرے میں لیا ہوا تھا اور ہوا میں صف بستہ کھڑے تھے۔ اس اعلان کے بعد روئے زمین کا کوئی ولی ایسا نہ تھا جس نے اپنی گردن کو نہ جھکادیا ہو مگر ایک عجمی نے انکار کیا تو اسکا حال محو ہوگیا (ولایت سلب کرلی گئی)۔
جس کی منبر بنی گردنِ اولیا
اس قدم کی کرامت پہ لاکھوں سلام
حضرت سخی سلطان باھوؒ نے اپنے ابیات میں بارہا سیدّنا غوث پاکؓ کی شان بیان فرمائی ہے۔ ان ابیات کی تشریح میرے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے بڑے پیارے اور آسان لفظوں میں بیان فرمائی ہے۔
طالب غوث الاعظمؓ والے، شالا کدی نہ ہوون ماندے ھوُ
جیندے اندر عشق دی رتی، سدا رہن کرلاندے ھوُ
جینوں شوق ملن دا ہووے، لے خوشیاں نت آندے ھوُ
دوہیں جہان نصیب تنہاں دے باھوؒ،جیہڑے ذاتی اسم کماندے ھوُ
مفہوم: سیدّنا غوث الاعظم ؓکے طالب (مرید) کبھی بھی پریشان نہیں ہوتے۔ جس کے اندر رتی بھر بھی عشق ِحق تعالیٰ ہو وہ ہمیشہ دیدارِ یار کے لیے فریاد کرتے رہتے ہیں اور اس کے لیے بے قراراور بے چین رہتے ہیں اور محبوبِ حقیقی سے ملاقات کی خوشی میں راہِ فقر میں آنے والی مشکلات اور آزمائشیں بڑی خوشی سے برداشت کرتے ہیں۔ دونوں جہانوں میں وہی با نصیب ہیں جو اسمِ اللہ ذات کا ذکر اور تصور کرتے ہیں۔(ابیاتِ باھوؒ کامل)
سیدّناشیخ عبدالقادر جیلانیؓ کو شاہِ جیلاں کہہ کر بھی پکارا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے لیے ایک منظوم قصیدہ کہا جو قصیدہ غوثیہ کے نام سے مشہور و معروف ہے۔اس قصیدے میں ان کے معجزات و کرامات کا اظہار ہے تاکہ لوگ ان کے بارے میں جان سکیں اور ان کے علوم سے فائدہ اٹھائیں۔ اس قصیدہ میں آپؓ نے جن کمالات و کرامات کا اظہار کیا ہے وہ قرآن کریم سے ثابت ہیں۔ مثلاً مردوں کا زندہ کرنا، دریائوں کا خشک ہوجانا، پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہوجانا، زمانہ کی اطلاع کرنا، آگ کا بجھ جانا وغیرہ۔ان تمام باتوں کا ظہور انبیاو مرسلین کے ہاتھوں پر ہوا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسانوں میں ایسی کرامات کا ظہور ممکن ہے۔
اپنے منظوم قصیدے کے پہلے حصے میں آپؓ نے اپنی عظمت و شرف کو بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ محبت کی وجہ سے مجھے وصالِ الٰہی حاصل ہوا کیونکہ جب محبت ہو تو وصال نصیب ہوتا ہے یعنی عاشق اپنے معشوق سے مل جاتا ہے یا جڑ جاتا ہے۔جب وصالِ حق ہوا تو میں اس قابل ہوگیا کہ فیضانِ الٰہی اللہ تعالیٰ سے طلب کروں پھر میں اس نشہ کا متحمل ہوگیا یعنی حق تعالیٰ سے وصال کے بعد انسان کو خاص استعداد اور طاقت نصیب ہوتی ہے جو قبل از وصال حاصل نہیں ہوسکتی۔
اسی قصیدے میں آپؓ کا فرمانِ مبارک ہے کہ جب مجھے وصالِ الٰہی حاصل ہوگیا تو میرا کاسہ دل فیضانِ الٰہی کا ظرف بن گیا۔ جس طرح پانی نشیب کی طرف جلدی جاتا ہے اسی طرح فیضانِ الٰہی میری طبعی کشش کی وجہ سے میری طرف دوڑتا ہوا آیا۔ یعنی میں جس چیز کا طالب تھا وہ مجھے مل گئی اور میں اس کو پی کر مست و مدہوش ہوگیا لیکن میری مستی کی یہ کیفیت چھپی ہوئی نہ رہی بلکہ میرے احباب نے بھی میری مستی کا مشاہدہ کرلیا۔
سیدّنا غوث الاعظمؓ خود پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:خدا نے مجھے وہ لباس پہنایا ہے جس پر عزم (مستحکم ارادے) کے بیل بوٹے تھے اور میرے سر پر کمالات کے تاج رکھے گئے۔ عزم ایک ایسی قوت ہے جس کی وجہ سے منازلِ عرفان طے کرنے میں عارف مسلسل کوشش کرتاہے اور تھکتا نہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے عرفان و بصیرت کا وہ لباس عطا فرمایا ہے جس میں عزم کے پھول بوٹے ہیں اس وجہ سے میرے ارادے میں کبھی لغزش نہیں ہوتی اور مجھے ہر ایک طریقہ ولایت کا تاجِ کمال عطا کیا گیا ہے جس کی وجہ سے میں ہر ایک طریق میں بیعت کرسکتا ہوں اور خدا نے مجھے اپنے قدیم راز پر مطلع فرمایا اور میری گردن میں رضا و تسلیم کا گلوبند ڈالا اور جو کچھ میں نے مانگا وہ مجھے عطا کردیا۔
یہاں پر جس قدیم راز کا تذکرہ ہے وہ قرآنِ کریم کے اسرار کی معرفت اور اسرارِ علم الغیب ہیں جو ان کو عطا کیے گئے ہیں۔ ان کے حصول کے لیے رضا و تسلیم کی ضرورت ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پہلے عطا کردی اور مجھے صبرو تحمل کا پیکر بنادیا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام اقطاب پر حاکم و سردار بنایا ہے اور میرا حکم ہر حال میں جاری ہے کیونکہ ان کو سرّ قدیم مل گیا تھا اور جن کو سرّ قدیم مل جائے اسکی حکومت اور حکم ہمیشہ جاری رہتا ہے، اسے کبھی زوال نہیں آتا۔ اسی لیے آپؓ ہمیشہ تمام اولیاکے سردار رہیں گے۔ اسی سرّ قدیم کا فیض تھا کہ آپؓ قرآن کریم کی ایک ایک آیت کی 40 تفاسیر بیان کیا کرتے۔چنانچہ حافظ ابوالعباس احمدبن احمدبغدادی اور علامہ حافظ عبدالرحمن بن الجوزی جو دونوں اپنے وقت میں علم کے سمندر اور حدیثوں کے پہاڑ شمار کئے جاتے تھے، آپ ؓکی مجلسِ وعظ میں بغرض امتحان حاضرہوئے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ جب سیدّنا غوث الاعظمؓ نے وعظ شروع فرمایا تو ایک آیت کی تفسیر مختلف طریقوں سے بیان فرمانے لگے۔ پہلی تفسیر بیان فرمائی تو اِن دونوں عالموں نے ایک دوسرے کودیکھتے ہوئے تصدیق کرتے ہوئے اپنی اپنی گردنیں ہلادیں۔ اِسی طرح گیارہ تفسیروں تک تو دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کراپنی اپنی گردنیں ہلاتے اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتے رہے مگر جب سیدّنا غوث الاعظمؓ نے بارہویں تفسیر بیان فرمائی تو اِس تفسیر سے دونوں عالم ہی لاعلم تھے اِس لئے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دونوں آپؓ کا منہ مبارک تکنے لگے۔ اِسی طرح چالیس تفسیریں اِس آیت مبارکہ کی آپؓ بیان فرماتے چلے گئے اور یہ دونوں عالمِ استعجاب میں حیرت کی تصویر بنے سنتے اور سر دھنتے رہے۔ پھر آخر میں آپؓ نے فرمایاکہ اب ہم قال سے حال کی طرف پلٹتے ہیں پھر بلند آواز سے کلمہ طیبہ کا نعرہ بلند فرمایا تو ساری مجلس میں ایک جوش کی کیفیت اور اضطراب پیداہوگیا اور علامہ ابن الجوشی نے جوشِ حال میں اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے ۔(بہجتہ الاسرار)
سیدّنا شیخ عبدالقادر جیلانیؓ اپنے زمانہ کے سیاسی اور معاشرتی حالات اور دلسوز واقعات و حوادث سے بظاہر تو دور تھے لیکن اپنے شعور و احساس کو اس کے اثرات سے دور نہیں کرسکتے تھے۔ معاشرتی بگاڑ اور اخلاقی و ثقافتی خرابیاں وبائی امراض کی طرح معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کررہی تھیں جس کا بنیادی سبب دین سے دوری اور حب ِدنیا تھی اور حال یہ تھاکہ ہر سوُمادیت کا غلبہ تھا۔ اس پرُفتن کٹھن وقت میں تجدید و احیائے دین کرنا اور اصلاحِ عقیدہ و عمل پر توجہ مرکوز کرنا نہ صرف ایک ابدی اَمر تھا بلکہ یہ ایک ہمہ جہت مردِ قلندر کا تقاضا کر رہا تھا۔ شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ نے اصلاحِ انسانیت اور تشکیلِ افراد کے لیے اپنی توجہ عالیہ اور نظر کیمیا حیاتِ انسانی کے نظریاتی اور عملی پہلوؤں پر مرکوز فرمائی اور ان میں موجود فساد و خرابی کا ازالہ فرمایا۔
عقیدہ و نظریہ کی اصلاح میں سیدّنا غوث الاعظمؓ کی خدمات
عقیدہ دل کے ارادے اور فکرو خیال کا نام ہے۔ اگر دل کا ارادہ درست ہوجائے تو عمل قابلِ قبول ہوتا ہے۔ عقیدہ کو درست کرنے کے لیے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی تعلیمات جن اصولوں پر مبنی ہیں ان میں توحید کو مرکزیت حاصل ہے۔ اس حوالے سے سیدّنا غوث الاعظمؓ کی چند تعلیمات ملاحظہ ہوں:
1۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ توحید کے حقیقی مفہوم کی وضاحت میں اپنی کتاب’’ فتوح الغیب‘‘ میں اللہ پر مکمل اعتماد کرنے اور توحید کا درس دیتے ہوئے یوں ارشاد فرماتے ہیں:
اس پر نظر رکھو جو تم پر نظر رکھتا ہے۔ اس کے سامنے رہو جو تمہارے سامنے رہتا ہے۔ اس سے محبت کرو جو تم سے محبت کرتا ہے۔ اس کی بات مانو جو تم کو بلاتاہے۔ اپنا ہاتھ اسے پکڑاؤ جو تمہیں گرنے سے بچالے گا اور تم کو جہالت کی ظلمات سے نکال دے گا اور ہلاکتوں سے محفوظ رکھے گا۔
2۔’’الفتح الربانی‘‘ میں فرماتے ہیں:
توحید کو اتنا مضبوط کرو یہاں تک کہ تیرے دل میں جمیع مخلوقات میں سے ایک ذرّہ بھی باقی نہ رہے۔ ساری مخلوق عاجز ہے۔ نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ وہی ذات تیرے اندر اور مخلوق میں تصرف فرماتی ہے۔ جو چیز تیرے لیے مفید ہے یا نقصان دہ، وہ اللہ کے علم میں ہے اور اس کا قلم چل چکا ہے۔
3۔ جب عقیدۂ توحید راسخ ہوجاتاہے اور انسان اللہ تعالیٰ کو وحدہٗ لاشریک مان لیتا ہے تو پھر توحید کے ثمرات و نتائج جس طرح ظاہر ہوتے ہیں۔اس حوالے سے سیدّنا غوث الاعظمؓ الفتح الربانی میں فرماتے ہیں:
جب تو توحید پر جما رہے گا تو تجھے واحد ِ حقیقی کے ساتھ انس حاصل ہو جائے گا۔ (الفتح الربانی مجلس 36)
4۔ جب نظر و فکر اور تخیل و تصور پر توحید کا غلبہ ہوجاتا ہے اور انسان اللہ کی طرف یکسوئی کے ساتھ مائل ہوجاتا ہے تو پھر بندے کی جو حقیقت ہوتی ہے، اس حوالے سے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
جو اللہ کی اور اس کے چہرے کی خوشنودی چاہتا ہے وہ اس طرح ہوجاتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا ’’ہم نے پہلے ہی موسیٰؑ پر دائیوں کا دودھ حرام کردیا تھا۔ (یعنی)اس محبِّ صادق کے دل پر فانی مخلوق کی محبت حرام کردی جاتی ہے۔‘‘(الفتح الربانی)
5۔ توحید ِخالص اور رضائے الٰہی کے حصول کو اوڑھنا بچھونا بنالینے میں ہی نجات و فلاح پوشیدہ ہے۔ جتنا زیادہ عقیدۂ توحید پختہ اور صداقت پر مبنی ہوگا، اتنا زیادہ مرتبہ ومقام بلند ہوگا۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان کی خالصیت نصیب ہوجائے اور انسان اپنا سب کچھ اس کے سپرد کردے تو پھر اسے بارگاہِ خداوندی میں مقامِ صدیقیت عطا کردیا جاتا ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؓ (الفتح الربانی) میں فرماتے ہیں کہ اللہ فرماتا ہے کہ:
جس نے میرے فیصلہ کو تسلیم کیا اور میری آزمائش پر صبر کیا اور میری نعمتوں کا شکر ادا کیا تو میں اسے اپنے پاس صدیق لکھ لوں گا۔ اور جو میرا فیصلہ نہیں مانتا اور میری آزمائش پر صبر نہیں کرتا اور نہ ہی عطا کردہ نعمتوں پر شکر بجا لاتا ہے، پس وہ میرے سوا کسی اور معبود کو تلاش کرے (یعنی میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے)۔
مذکورہ بالا اقتباسات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عقیدۂ توحید کی اصلاح حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے نزدیک بنیادی اور اہم رکن ہے اور یہ ایسی بنیاد ہے جس پر دینِ اسلام کی پوری عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ اگر اساس و بنیاد کمزور رہ جائے تو مضبوط عمارت کھڑی کرنا محال ہوتا ہے۔ لہٰذا توحید کو خالص و پاک کرنا اوّلین اقدام ہے، جس کا دینِ اسلام میں ہر انسان و بشر سے تقاضا کیا گیا ہے۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کبھی کسی حاکمِ وقت کو حق کی تعلیم دیتے خائف نہ ہوتے۔ امام الشطنوفی ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدّنا غوث الاعظمؓ کی خدمت میں بادشاہ المستنجد باللہ ابوالمظفر یوسف حاضر ہوا۔ اس نے آپ کو سلام کیا اور نصیحت چاہی اور آپ کے سامنے دس تھیلیاں رکھ دیں جن کو دس غلاموں نے اٹھایا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے ان کی حاجت نہیں اور قبول کرنے سے انکار کیا۔ اس نے بڑی عاجزی کی، تب آپ نے ایک تھیلی اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑ لی اور دوسری بائیں ہاتھ میں اور دونوں کو نچوڑا تو ان سے خون بہنے لگا۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابوالمظفر! کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے کہ لوگوں کا خون لیتے ہو اور میرے سامنے لاتے ہو۔ وہ خوفزدہ ہوگیا۔ تب شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ کی عزت کی قسم کہ اگر رسول اللہ ؐ کے رشتہ کا لحاظ نہ ہوتا تو میں ان تھیلیوں کو اتنا نچوڑتا کہ یہ خون تمہارے محل کو ڈبودیتا۔(بہجۃ الاسرار)
خلیفہ المستنجد باللہ آپ کی بارگاہ میں اکثر حاضر ہوتا تھا۔ ایک نشست میں اس نے آپؓ سے کرامت دیکھنے کی التماس کی اور عرض کیا کہ میں آپؓ کی کوئی کرامت دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ میرا دل تسلی پائے۔ آپؓ نے فرمایا کہ تم کیا چاہتے ہو؟ اس نے کہا کہ میں غیب سے سیب چاہتا ہوں اور وہ زمانہ سیب کا نہ تھا۔ آپؓ نے ہوا میں ہاتھ بڑھایا تو دو سیب آپ کے ہاتھ میں تھے۔ ایک سیب آپؓ نے اسے دے دیا اور ایک اپنے پاس رکھا۔ آپؓ نے اپنے سیب کو کاٹا تو نہایت مزیدار اور خوشبودار تھا۔ المستنجد نے اپنا سیب کاٹا تو اس میں کیڑے تھے۔ اس نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ آپؓ کے ہاتھ میں اچھا اور عمدہ سیب ہے جبکہ میرا سیب خراب ہے۔ آپؓ نے فرمایا: ابوالمظفر! تمہارے سیب کو ظلم کے ہاتھ لگے تو اس میں کیڑے پڑ گئے۔
امام حسن بصریؓ سے چودہ سلاسل جاری ہوئے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ کمزور ہو چکے تھے۔ سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ نے انہیں نئے سرے سے ترتیب دیا اور یوں آپؓ سے چار سلاسل جاری ہوئے جن میں قادری، چشتی، سہروردی اور نقشبندی شامل ہیں یعنی آپؓ ان تمام سلاسل کے امام ہیں۔ ان سلاسل میں سے قادری سلسلہ آپؓ کا اپنا سلسلہ ہے۔آپؓ کو اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر حکمرانی عطا فرمائی۔
شیخ شہاب الدین سہروردیؒ فرماتے ہیں:
میں نے اپنے چچا سے پوچھا کہ اے چچا! آپ شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کا اس قدر کیوں ادب کرتے ہیں؟فرمایا’’میں ان کاادب کیوں نہ کروں جبکہ اللہ نے ان کو تصرفِ کامل عطا فرمایا ہے۔ عالمِ ملکوت پر بھی ان کو فخر حاصل ہے۔ میرا کیا تمام اولیا اللہ کے احوالِ ظاہر و باطن پر ان کو تصرف دیا گیا ہے جس کو چاہے روک لیں جس کو چاہے چھوڑ دیں۔‘‘(حیات و تعلیمات سیدّنا غوث الاعظمؓ)
سیدّنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے سلسلہ قادری کے دشمن کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
طریقہ قادری کا دشمن تین حکمت سے خالی نہیں ہوتا: اوّل رافضی و خارجی، دوم ناقص و کاذب و حاسد سوم مردود و منافق۔ (نور الہدیٰ کلاں)
سیدّنا غوث الاعظمؓ کی بلندپایہ شانِ عظمت کو مخلوقِ خدا پر ظاہر کرنے کے لیے اللہ جل جلالہٗ نے آپؓ کو بے شمار خوبصورت القابات سے نوازا۔ ان میں سے چند درج ذیل ہے:
غوث الاعظمؓ، محی الدین، پیرانِ پیر دستگیر، سلطان الاولیا، بازِ اشہب، محبوبِ سبحانی، شیخ الشیوخ، سردار الاولیا، قندیل ِلامکانی، السیدّ السند، قطبِ اوحد، زعیم العلما، امام الاولیا، ابوصالح، قطبِ رباّنی۔
سلطان الفقر سوئم:
سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کا مرتبہ ’سلطان الفقر‘ ہے۔ سلطان الفقر ہستی کی شان و عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ مرتبہ تمام اولیااللہ سے اعلیٰ، افضل اور ممتاز ہے۔ سلطان الفقر ہستیوں کے بارے میں سب سے پہلے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ نے اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف’رسالہ روحی شریف‘ میں یوں بیان فرمایا ہے:
ان کا قدم تمام اولیا اللہ، غوث و قطب کے سر پر ہے۔ اگر انہیں خدا کہا جائے تو بجا ہے اور اگر بندۂ خدا کہا جائے تو بھی روا ہے۔اس راز کو جس نے جانا اس نے ان کو پہچانا۔اُن کا مقام حریمِ ذاتِ کبریا ہے۔
علمی خدمات:
سیدّناشیخ عبدالقادرجیلانیؓ نے طالبینِ حق کے لئے گرانقدر کتب تحریر فرمائیں، ان میں سے چند مشہور کتب کے نام درج ذیل ہیں:
الفتح الربانی والفیض الرحمانی، ملفوظاتِ غوثیہ، سرّ الاسرار، الرسالۃ الغوثیہ، فتوح الغیب، غنیتہ الطالبین۔
وصال:
شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کا انتقال 1166ء کو ہفتہ کی شب (11 ربیع الثانی561 ہجری) کو ا کانوے(91) سال کی عمر میں ہوا اور آپؓ کی تدفین آپؓ کے مدرسہ کے احاطہ میں ہوئی۔
اللہ پاک ہمیں سیدّنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے وسیلہ سے آپؓ کے روحانی وارث سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی تعلیمات کی حقیقی معنوں میں مکمل اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
استفادہ کتب:
۱۔حیات و تعلیمات سیدّنا غوث الاعظمؓ: تصنیف ِلطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس
۲۔ابیات باھوؒ کامل: تحقیق، ترتیب و شرح سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس
۳۔سیدّنا شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی اصلاحی خدمات: ڈاکٹر شفاقت علی البغدادی
سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادرجیلانیؓ کا فیض عالمگیر ہے۔ آپؓ نے دین کے جوہر کو اُجاگر کیا اور اسلام کی حقیقی روح کو دنیا کے سامنے زندہ کیا اسی لیے دنیا آپؓ کو ’’غوث الاعظم محی الدین‘‘ کے لقب سے یاد کرتی ہے۔
جس کی منبر بنی گردنِ اولیا
اس قدم کی کرامت پہ لاکھوں سلام
سبحان اللہ
A very good blog on a great Saint♥️
جس کی منبر بنی گردنِ اولیا
اس قدم کی کرامت پہ لاکھوں سلام
طالب غوث الاعظمؓ والے، شالا کدی نہ ہوون ماندے ھوُ
جیندے اندر عشق دی رتی، سدا رہن کرلاندے ھوُ
جینوں شوق ملن دا ہووے، لے خوشیاں نت آندے ھوُ
دوہیں جہان نصیب تنہاں دے باھوؒ،جیہڑے ذاتی اسم کماندے ھوُ
طالب غوث الاعظمؓ والے، شالا کدی نہ ہوون ماندے ھوُ
جیندے اندر عشق دی رتی، سدا رہن کرلاندے ھوُ
جینوں شوق ملن دا ہووے، لے خوشیاں نت آندے ھوُ
دوہیں جہان نصیب تنہاں دے باھوؒ،جیہڑے ذاتی اسم کماندے ھوُ
سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کا مرتبہ ’سلطان الفقر‘ ہے۔ سلطان الفقر ہستی کی شان و عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ مرتبہ تمام اولیااللہ سے اعلیٰ، افضل اور ممتاز ہے۔
جس طرح سمندر میں مینار (Light house) اپنی بلندی اور روشنی کے باعث دور دور تک راستہ دکھاتاہے اسی طرح آپؓ کی ذاتِ مبارکہ امتِ مسلمہ کے لیے قیامت تک ایک مینارِ نورکی مانند ہے جو اندھیروں میں بھٹکے ہوئے قافلوں کو راہِ حق دکھاتا رہے گا۔
سیدنا غوث الاعظم کی جدوجہد بے مثال ہے، میرے مرشد سلطان العاشقین نے بھی فقر کو عام کرنے کے لیے اسی طرح جدوجہد کی ہے
اللہ پاک ہمیں سیدّنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے وسیلہ سے آپؓ کے روحانی وارث سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی تعلیمات کی حقیقی معنوں میں مکمل اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Ameen
توحید کو اتنا مضبوط کرو یہاں تک کہ تیرے دل میں جمیع مخلوقات میں سے ایک ذرّہ بھی باقی نہ رہے۔ ساری مخلوق عاجز ہے۔ نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ وہی ذات تیرے اندر اور مخلوق میں تصرف فرماتی ہے۔ جو چیز تیرے لیے مفید ہے یا نقصان دہ، وہ اللہ کے علم میں ہے اور اس کا قلم چل چکا ہے۔
بہت بہترین