کلید التوحید (کلاں) | Kaleed ul Tauheed Kalan
قسط نمبر41 مترجم: سلطان محمد احسن علی سروری قادری
پس خواب اور مراقبہ کے احوال ایک جیسے ہیں بلکہ مراقبہ خواب سے غالب تر ہے۔ صاحبِ خواب بلند آواز اور شور سے بیدار ہو جاتا ہے لیکن جس کسی پر مراقبہ غالب آ جائے وہ وحدانیتِ ذات اور نورِ حضور کے مشاہدہ میں اس طرح غرق ہوتا ہے کہ اس حالت میں اگر صاحب ِ مراقبہ کاسر تن سے جدا کر دیا جائے تو بھی اسے خبر نہ ہو۔ پس معلوم ہوا کہ مراقبہ موت کی مثل ہے۔ موت جیسے اس مراقبہ میں طالب حضوری سے مکمل شعور کے ساتھ جواب باصواب پاتا ہے۔ مراقبہ اور معرفت کے یہ مراتب اللہ تعالیٰ عارفوں کو عطا کرتا اور انہیں اپنے نور سے سرفراز فرماتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ (سورۃ البینہ۔8)
ترجمہ: اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہیں۔
اور ان کی دوستی سے اللہ راضی ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
اِرْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ج۔ فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ۔لا وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ ۔ (سورۃ الفجر۔28-30)
ترجمہ: تو اپنے ربّ کی طرف اس حال میں لوٹ کہ تو اس سے راضی ہو اور وہ تجھ سے راضی۔ پس میرے خاص بندوں میں شامل ہو کر میری جنت میں داخل ہو جاؤ۔
مراقبہ اللہ کے اسرار سے محرم ہونے کا نام ہے۔ صاحبِ مراقبہ کی بیداری نیند کی مثل ہوتی ہے لیکن وہ نیند میں بھی بیدار اور ہوشیار ہوتا ہے اور اللہ کے سوا کسی غیر کی طرف دیکھنے سے استغفار کرتا ہے۔ مراقبہ معرفت، محبت اور مجلسِ محمدی کے مراتب عطا کرتا ہے جو کہ محبین اور محققین کا ہی نصیب ہیں۔ مراقبہ کے ان مراتب سے مردہ دل اور مردود محروم رہتے ہیں۔ مراقبہ مومنین کو مجلسِ محمدی کی دائمی حضوری بخشتا ہے اورمعراج کی مثل ہے۔
اَلصَّلٰوۃُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِیْنَ
ترجمہ: نماز مومنین کی معراج ہے۔
لاَصَلٰوۃَ اِلَّا بِحُضُوْرِ الْقَلْبِ
ترجمہ: حضورِ قلب کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
مراقبہ اور معرفت عارف باللہ کے دو بال و پَر ہیں جس کی نظر ہمیشہ معرفتِ مولیٰ پر رہتی ہے۔ بیت:
ناظران را نظر باشد بر اِلٰہ
لعنتی بر مال دنیا عز و جاہ
ترجمہ: عارفین کی نظر اللہ کی طرف ہوتی ہے اس لیے وہ دنیا کے مال اور عز و جاہ پر لعنت بھیجتے ہیں۔
مرتبہ دنیا تُذِلُّ مَنْ تَشَآئُ ہے یعنی اللہ جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے اور صاحبِ مراقبہ فقیر کا مرتبہ تُعِزُّ مَنْ تَشَآئُ ہوتا ہے یعنی اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے۔ خواب و مراقبہ چھ قسم کا ہوتا ہے بعض کا خواب اور مراقبہ تصور اسمِ اللہ ذات کے زیر ِ اثر ہوتا ہے اور معرفت عطا کرتا ہے۔ ان کا خواب و مراقبہ رحمانی ہوتا ہے۔ بعض کا خواب اور مراقبہ تلاوتِ قرآن اور اسمائے حسنیٰ کے وظیفہ کے زیرِ اثر ہوتا ہے جو انہیں انبیا اور اولیا کی ارواح سے ملاقات کا شرف عطا کرتا ہے۔ ان کا خواب اور مراقبہ روحانی ہوتا ہے۔ بعض کا خواب اور مراقبہ سرود، شراب، بدعت جیسے اعمال کے باعث ہوتا ہے جو انہیں گمراہ کر دیتا ہے۔ ایسا خواب و مراقبہ شیطانی ہوتا ہے۔ بعض کا خواب اور مراقبہ حرص، حسد، غیبت، خودپسندی، تکبر اور ریا کے باعث ہوتا ہے ایسا خواب اور مراقبہ دنیا اور اس کی پریشانیوں سے متعلق ہوتا ہے۔ بعض کا خواب اور مراقبہ غصے، غضب اور غلاظت کے اثر کے باعث ہوتا ہے ایسا خواب اور مراقبہ نفسانی ہے۔ بعض کا خواب اور مراقبہ فرشتوں، جنات یا مؤکلات کی طرف سے ہوتا ہے جو پوشیدہ احوال کے بارے میں خبر دیتے ہیں ایسا خواب اور مراقبہ نادانی ہے۔ دراصل خواب اور مراقبہ دو قسم کا ہوتا ہے بعض کا خواب اور مراقبہ محض خیال ہوتا ہے جو سیاہ اور مردہ دل دنیا دار لوگوں کا ہوتا ہے اور وہ خواب و مراقبہ میں جو کچھ دیکھتے ہیں وہ جانوروں، درندوں، پرندوں، مور، سانپ، بیل، گدھے اور اونٹ وغیرہ کو دیکھتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ حبِ دنیا کی وجہ سے ان کے دل تاریک ہیں اس لیے معرفتِ الٰہی سے محروم رہتے ہیں۔ خواب و مراقبہ کی دوسری قسم اللہ کی معرفت اور وصال سے متعلق ہے جو صاحب ِ ذکر فکر، صاحب ِ تلاوت و وظائف اور صاحبِ صوم و صلوٰۃ ذاتِ الٰہی میں مستغرق صاحب فنا فی اللہ بقا باللہ کرتا ہے اس لیے بعض خواب اور مراقبہ میں نہریں، باغات، حوریں اور محلات دیکھتے ہیں، خواب میں نماز پڑھتے ہیں اور حرمِ کعبہ اور حرمِ مدینہ کی زیارت کرتے ہیں۔ یہ متقی، علما عامل کے مراتب ہیں جو اہلِ جنت ہیں۔ بعض لوگ خواب و مراقبہ میں دریا کے پانی میں تیرتے ہیں اور پھر تیرتے ہوئے اس پانی سے نکلتے ہیں اور طیر سیر کرتے ہیں اور ذکر لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ اور تفکر کرتے ہیں اور ہمیشہ مجلسِ محمدیؐ میں حاضر رہتے ہیں اور نورِ معرفتِ توحید کے سمندر میں غوطے لگاتے ہیں۔ یہ فقیرِ کامل عارف باللہ کے مراتب ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ خواب کا دارومدار تعبیر پر ہے اور مراقبہ کا دارو مدار مکمل طور پر روشن ضمیری پر ہے۔ عارفین کو نہ تو مراقبہ کی ضرورت ہوتی ہے نہ خواب کی۔ کیونکہ ایک لمحہ میں انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہزاروں ہزار الہام اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جانب سے پیغامات وصول ہوتے ہیں اور وہ اس قرب و حضوری میں جواب باصواب پاتے ہیں۔ صاحبِ باطن صفا کو مراقبہ، خواب اور استخارہ کی کیا حاجت؟ کیونکہ نفسِ امارہ کو قتل کرنے کی بدولت دونوں جہان ان کے مدِنظر ہوتے ہیں اس لیے کہ عارفانِ باللہلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو مدنظر رکھتے ہیں اور مجلسِ محمدی کی حضوری میں حاضر رہتے ہیں۔ قرب کے یہ مراتب اسمِ اللہ ذات کی برکت اور حرمت سے حاصل ہوتے ہیں اس کے علاوہ خواب و مراقبہ کے پانچ مراتب اور پانچ مقامات ہیں۔ بعض ہر ایک مقام پر کامل اور مکمل عامل ہوتے ہیں اور بعض ہر ایک مقام سے بے خبر اور ناقص و خام ہوتے ہیں۔ وہ پانچ مراتب اور مقامات یہ ہیں:
۱) مقامِ ازل، صاحبِ مقامِ ازل کا مرتبہ رجا ہے۔ اس مرتبہ پر وہ جو کچھ خواب اور مراقبہ میں دیکھتا ہے وہ روحانیت سے اور ذکرِ روح کی برکت سے دیکھتا ہے۔
۲) مقامِ ابد، صاحبِ مقامِ ابد کا مرتبہ خوف ہے اس مرتبہ پر وہ جو کچھ خواب اور مراقبہ میں دیکھتا ہے وہ مقامِ ابد سے متعلق اور ریاضت، وظائف اور نوافل نماز کی برکت سے دیکھتا ہے۔
۳) مقامِ دنیا، صاحبِ مقامِ دنیا کا مرتبہ ناسوت ہے۔ اس مرتبہ پر جو کچھ خواب اور مراقبہ میں دیکھتا ہے وہ نفس کی شامت، مردہ دلی اور دنیا داری کی وجہ سے ہے۔
۴) مقامِ عقبیٰ، صاحبِ مقامِ عقبیٰ اس مرتبہ پر جو کچھ بھی خواب اور مراقبہ میں دیکھتا ہے وہ ذکرِ قلب کی برکت سے مقامِ عقبیٰ سے دیکھتا ہے۔
۵) مقامِ معرفتِ مولیٰ، صاحبِ معرفتِ مولیٰ کے مراتب اولیٰ ہیں وہ جو کچھ بھی خواب اور مراقبہ میں دیکھتا ہے وہ مقامِ توحید لامکان سے متعلق ہے جو اسے اسرارِ سبحان، معرفت، قرب، حضوری، عنایت، ہدایت اور تمام علوم کی جمعیت عطا کرتا ہے اور وہ یہ سب ذکرِ سرّ حی ّ و قیوم کی برکت سے دیکھتا ہے۔
پس عارف باللہ اسے کہتے ہیں جو یہ پانچوں مقامات اور اس کے مطالب تصور اسمِ اللہ ذات کی مدد سے طالب پر کھول دے اور بغیر ریاضت اور تکلیف کے ایک لمحہ میں یہ پانچوں خزانے طالب کو عطا کر دے۔ پس مرشد اس صفت کا حامل اور کامل و مکمل ہونا چاہیے۔ ناقص مرشد کے ہاتھ پر بیعت ہونا اور اس سے تلقین لینا طالب پر حرام ہے۔ ابیات:
دست مردی گیر تا مردی شوی
جز بہ مردان نیست راہ راہبری
ترجمہ: کسی مرد کامل کا ہاتھ تھام تاکہ تو بھی مرد ہو جائے کیونکہ مردانِ خدا کے سوا کوئی اس راہ پر راہنمائی نہیں کر سکتا۔
مرد مرشد می رساند ہر مقام
مرشدی نامرد طالب زر تمام
ترجمہ: مرد مرشد ہی ہر مقام تک پہنچاتا ہے جبکہ نامرد مرشد صرف مال و دولت کا طالب ہوتا ہے۔
اگر تو آئے تو دروازہ کھلا ہے اور اگر نہ آئے تو اللہ بے نیاز ہے۔
بیت:
گر بہ خواہی خوش حیاتی نفس را گردن بزن
یا رضائے دوست بگزیں یا ہوائے خویشتن
ترجمہ: اگر تو خوشگوار زندگی گزارنا چاہتا ہے تو نفس کی گردن مار دے۔ لہٰذا یا دوست کی رضا اختیار کر یا اپنی مرضی پر چل (یعنی اب تیرے ہاتھ میں ہے جو تو کرنا چاہے)۔
جان لو کہ نفس کے تین سو ساٹھ سر ہیں اور ہر ایک سر میں تین سو ساٹھ خواہشات ہیں جو حق کی رضا اورمعرفت سے محروم رکھتی ہیں۔ ہر ایک خواہش میں ستر ہزار قسم کی مستی، نشہ اور انا ہے اور یہ ہر ایک نشہ شراب کے نشے سے زیادہ غالب ہے۔ یہ درست ہے کہ اگر تو تمام جنوں اور شیاطین کو جمع کرے تو تمام شیاطین نفس کی دیوانگی کی تعلیم سے دیوانے ہو جائیں گے کیونکہ ہر ایک شیطان کے اردگرد نفسِ امارہ ہے۔ پس معلوم ہوا کہ نفس کے تین سو ساٹھ سر کاٹنے کے لیے تین سو ساٹھ طرح کی ریاضت روزانہ درکار ہے۔ اور اگر تین سو پینسٹھ دن ریاضت کی جائے جو کہ ایک سال بنتا ہے تو ہر روز نفس کا ایک سر جدا ہو۔ اس کے بعد ہی طالب تلقین و ارشاد کے لائق بنتا ہے اور مؤدب بن کر مراتبِ معرفت کی ابتدا کو پہنچتا ہے۔ لیکن عارف باللہ مرد مرشد غازی ہوتا ہے جو تصور اسمِ اللہ ذات کی تلوار سے نفس کے تمام سروں کو ایک ہی بار میں جدا کر دیتا ہے اور جنگ سے امن پا لیتا ہے۔
بیت:
نفس را گردن بزن با تیغ ذات
نفس کشتہ باز کے گردد حیات
ترجمہ: نفس کی گردن اسمِ اللہ ذات کی تلوار سے جدا کر دے۔ نفس اگر مر جائے تو دوبارہ زندہ نہیں ہوتا۔
علما عامل، فقیرِ کامل اور صاحبِ زیرک عقلمند انسان وہ ہے جو سب سے پہلے نفس کے سرکش گھوڑے کو چوگان کے ذریعے کھینچ کر میدانِ تعلیم میں ڈالے اور ہمت کی باگ سے اس کی اصلاح کر کے اسے بے حجاب دیدار عطا کر دے۔ یا پھر یہ کہ نفس کو بچے کی مثل معرفت کے مکتب میں ایسی تعلیم دے کہ وہ مرتے دم تک حق سے دور نہ جائے۔ کیا تو جانتا ہے کہ ہر بلا سے سخت اور ہر دشمن سے بدترین جان اور ایمان کا دشمن آدمی کے وجود میں اس کا نفس ہے جو وجود میں غائب ہوتا ہے۔ پس اس غائب کو غائب راہ سے تلاش کرنا چاہیے۔ نفس کو ظاہری ریاضت سے نہیں مارا جا سکتا سوائے عارف باللہ مربی کی مدد سے۔ نفس کو پہچانناآسان کام ہے لیکن نفس کو توفیقِ حق سے شفیق رفیق بنانا مشکل ہے۔ جیسے ہی نفس توفیقِ حق پا لیتا ہے وہ حق تعالیٰ کا رفیق بن جاتا ہے اور جب نفس حق کا رفیق بن جائے وہ قلب میں ڈھل جاتا ہے اور قلب روح میں تبدیل ہو جاتا ہے اور روح سِرّ میں بدل جاتی ہے۔ پس ان سب کی اصل ایک ہی ہے۔ عارف باللہ صاحبِ وصال مرشد پہلے ہی روز طالبِ مولیٰ کو چار چیزیں عطا کرتا ہے اوّل صفائے قلب کے لیے ذکر، دوم قربِ حق کے لیے معرفت، سوم انتہائی مراتب کے لیے دعوت، چہارم مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم۔ اے مبتدی طالب! ان مراتب پر مغرور نہ ہو۔ قرب و وِصال حضوری سے آگے کا مرتبہ ہے۔ بعض طالب ابتدا میں خام خیالی کی وجہ سے واردات، وہمات اور خطرات کا شکار ہو جاتے ہیں ایسے میں مبتدی طالب کو چاہیے کہ ذکر اور تفکر کرے اور اسمِ اللہ ذات سے مشاہدئہ تجلیات اورجمعیت حاصل کرے۔ مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو مقامِ زوال پر ہوتے ہیں لیکن سمجھتے ہیں کہ وہ صاحبِ وصال ہیں۔ پس معرفت ذکر فکر میں نہیں اور نہ ہی حضوری میں ہے معرفت صرف غرقِ حق میں ہے اور غرقِ حق حضوری سے آگے کا مقام ہے کیونکہ حضوری میں جدائی (یعنی دوئی) ہے اور غرق نورِ توحید میں فنا ہے۔
ابیات:
غرق را داند شناسد اہل غرق
ہر کہ اینجا می رسد از جملہ فرق
ترجمہ: غرق کی حالت کو صرف وہی جانتے اور پہچانتے ہیں جو غرق ہو چکے ہوں۔ جو اس مقام پر پہنچ جاتا ہے وہ دیگر ہر شے سے جدا ہو جاتا ہے۔
جیم جملہ و ز جدائی کے جمال
از جمالِ حق ببین زاں غرق حال
ترجمہ: جو مخلوق سے قریب اور حق سے دور ہو اسے جمالِ حق کا مشاہدہ کیسے ہو سکتا ہے۔ جمالِ حق کے مشاہدہ کے لیے غرق ہونا ضروری ہے۔
جو ان مراتب پر پہنچ جاتا ہے وہ شریعتِ محمود کی پیروی کرتا ہے اور بدعت مردود سے بیزار ہو جاتا ہے۔ پس مرد وہ ہے جو میدانِ معرفت کا پہلوان بن کر مردوں سے کشتی لڑے۔ تو نہیں جانتا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں چار طرح کے لشکر تھے۔ جس کے پاس یہ چار لشکر نہیں وہ ہفت اقلیم فتح نہیں کر سکتا۔ یہ دو لشکر ظاہر کے اور دو لشکر باطن کے تھے۔ لشکر ِظاہر میں ایک اہلِ شجاعت اصحابؓ کا لشکر اور دوسرا خلقِ محمدیؐ کا لشکر تھا۔ لشکرِباطن میں ایک لشکر انبیا اور شہدا کی ارواح کا اور دوسرا لشکر فرشتوں اور باطن صفا فقرا کی ارواح کا تھا۔ یہ چاروں ظاہری و باطنی لشکر اللہ کے حکم اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اجازت سے ظلِ اللہ اہلِ اللہ کی مدد کے لیے تیار رہتے ہیں لیکن تمام زمین درویشوں کی برکت سے قائم ہے۔ جو درویشوں کا منکر ہو وہ دونوں جہان میں پریشان رہتا ہے لیکن درویش کو دنیاوی فائدوں کے پیچھے نہیں ہونا چاہیے۔ یہ کتاب اسمِ اللہ ذات سے مسمّٰی کو پہچاننے کا معمہ ہے یا یہ کتاب حقیقت کا عکس ہے یا یہ کتاب اسمِ اللہ ذات کا طلسمات ہے۔ اس کتاب کے معمہ کو صاحبِ معمہ ہی کھول سکتا ہے کیونکہ کسی عامل کامل کے بغیر نہ پارے سے کشتہ بنایا جا سکتا ہے نہ اسے کھایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کامل کے بغیر دعوت جاری نہیں ہو سکتی۔ اے بیدار مغز والے! اصل انسان وہی ہے جو اللہ کی معرفت اور دیدار کے لائق ہو۔
ابیات:
نہ ہر سر بود لائق بادشاہی
نہ ہر دل تواں گفت گنج الٰہی
ترجمہ: نہ ہر سر بادشاہی کے لائق ہے اور نہ ہی ہر دل کو گنجِ الٰہی کہا جا سکتا ہے۔
علم باطن ہمچو مسکہ، علم ظاہر ہمچو شیر
کی بود بے شیر مسکہ کے بود بے پیر پیر
ترجمہ: علمِ باطن مکھن کی مثل ہے اور علمِ ظاہر دودھ کی مثل۔ دودھ کے بغیر مکھن کہاں سے آ سکتا ہے اس طرح پیر کے بغیر بزرگی کیسے حاصل ہو سکتی ہے۔
حق کا دوست بن اورہمیشہ حق کے ساتھ خوش رہ۔ بیت:
مرا ز پیر طریقت نصیحتی یاد است
کہ غیر یاد خدا ہر چہ ہست برباد است
ترجمہ: مجھے اپنے پیر طریقت کی نصیحت یاد ہے کہ حق تعالیٰ کی یاد کے سوا ہر شے فنا ہونے والی ہے۔
اے طالبِ حق! درست اور سچائی کو اختیار کر اور غلط اور گندگی کو ترک کر دے۔ بعض کا باطن غلط ہوتا ہے اور ظاہر درست اور وہ تلاوت، ورد و وظائف اور تسبیح میں مشغول رہتے ہیں اور بعض کا ظاہر عجب و ریا جیسے اعمال کے باعث غلط ہوتا ہے جیسا کہ کہا گیا:
اَلرِّیَآئُ اَشَدُّ مِنَ الْکُفْرِ
ترجمہ: ریا کفر سے بھی بڑا گناہ ہے۔
لیکن ان کا باطن درست ہوتا ہے اور وہ معرفتِ اِلَّا اللّٰہُ میں غرق اور مجلسِ محمدیؐ میں ہوتے ہیں۔ بعض کا ظاہر و باطن دونوں درست اور بعض کا ظاہر و باطن دونوں غلط ہوتے ہیں۔ پس جن کا ظاہر باطن صحیح ہو وہ صاحبِ مراقبہ اور صاحبِ استغراق ہوتے ہیں اور وہ بارہ قسم کی ’غ‘ سے پاک ہوتے ہیں۱۔ غلط ۲۔غل ۳۔ غش ۴۔ غلیظ ۵۔ غیبت ۶۔غیرت ۷۔ غضب ۸۔ غصہ ۹۔غیر ۱۰۔ غلاظت ۱۱۔ غفلت ۱۲۔ غلبۂ نفسِ امارہ۔ جب یہ تمام ـ’غ‘ صاحبِ غرق کے وجود سے ختم ہو جاتے ہیں اور وہ غین سے عین تک رسائی حاصل کر کے عین سے واصل ہو جاتا ہے اور درج ذیل مراتب حاصل کر لیتا ہے:
رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ (سورۃ البینہ۔8)
ترجمہ: اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔
یُحِبُّھُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗٓ (سورۃ المائدہ۔54)
ترجمہ: وہ (اللہ) ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔
اس کے بعد صاحبِ غرق اپنے وجود کے اندر وحدت کے سمندر میں اس طرح غوطہ زن ہوتا ہے کہ (وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا) ایک ہی دم اور ایک ہی قدم میں صورِ اسرافیل ؑاس کے کانوں تک پہنچتا ہے اور قیامت قائم ہو جاتی ہے۔ ایسی قوت صاحبِ غرق کو حاصل ہوتی ہے اور وہ تمام مقامات کو طے کر کے مقامِ ازل اور ابد تک پہنچ جاتا ہے لیکن فرض، واجب، سنت اور مستحب کی ادائیگی کے لیے مراقبہ میں استغراق سے پلک جھپکنے میں باہر آتا ہے لیکن صاحبِ مراقبہ کو ظاہر باطن میں ایسی توفیقِ الٰہی حاصل ہوتی ہے کہ وہ حق سے یگانگت کی وجہ سے اس کا رفیق ہوتا ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَ ھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ (سورۃ الحدید۔4)
ترجمہ: اور وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے تم جہاں کہیں بھی ہو۔
جب صاحبِ مراقبہ اس مرتبہ پر پہنچتا ہے تو اس کا نفس مطمئنہ ہو کر قلب کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور قلب روحِ مقدس کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور روح امرِخدا ہے اور سِرّ کے ساتھ ڈھل جاتی ہے اور مغز و پوست اور جان اور ہر رگ میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے کہ بندہ نہ خدا ہوتا ہے نہ خدا سے جدا۔ پس چار لوگوں کو چار طرح کے لوگوں کے سامنے حجت کے طور پر پیش کیا جائے گا جب وہ (بروز قیامت) معذرت کر رہے ہوں گے درویشوں پر حجت کے لیے حضرت عیسیٰ ؑ کو، اہلِ دنیا پر حجت کے لیے حضرت سلیمانؑ کو، بیماروں پر حجت کے لیے حضرت ایوبؑ کو اور غلاموں پر حجت کے لیے حضرت یوسف ؑ کو۔
(جاری ہے)