Tawakal 91

توکل–Tawakkal

تحریر: شازیہ تبسم علی سروری قادری۔(لاہور)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
* وَعَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوْا اِنْ کُنتُمْ مُّوْمِنِےْنَ ۔
ترجمہ: ’’ اور اللہ پر بھروسہ کرواگر تم ایمان والے ہو۔‘‘
کسی بھی تعلق کی بنیاد بھروسہ ہوتا ہے ۔ جب تک ہم کسی پر بھروسہ نہیں کرتے ہم کسی سے تعلق نہیں بنا سکتے۔ اسطرح جو بھروسہ ہم اللہ پر کرتے ہیں اس کو ’ ’ توکل‘‘ کہتے ہیں ۔ ایک مومن کا توکل ہی اسے اللہ تک پہنچا سکتا ہے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
* اللہ پر بھروسہ’’توکل‘‘ کہلاتا ہے۔ اللہ پاک سے عشق کا تقاضا ہے کہ اپنا ہر کام بلکہ اپنا آپ اللہ پاک کے سپرد کر دیا جائے۔ توکل کو ’’فقر‘‘ کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ مرشد کا پہلا سبق یہی ہوتا ہے اور ایک طالب مولیٰ کی نشانی بھی یہی ہے کہ وہ متوکل ہوتا ہے۔ طالبِ مولیٰ کو ہر لمحہ ،ہر کام اور ہر منزل پر اللہ تعالیٰ پر ہی توکل ہونا چاہیے۔پس بہتر ہے کہ طالبِ مولیٰ اپنا ہر معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردے اور خود کو درمیان سے ہٹا دے۔ (شمس الفقرا)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: ’’اسی پر توکل کرو اگر تم مسلم ہو۔‘‘ (سورۃ یونس۔84)
مزید ارشاد ہے:
ترجمہ: ’’ جس نے اللہ پر توکل کیا اس کیلئے اللہ کافی ہے۔‘‘ (سورۃ طلاق)
سورۃ آلِ عمران میں ہے ’’اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکے گا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ایسا ہے جو تمہاری مدد کرے اور مومنوں کو تو اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے۔‘‘
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر میرے بندے توکل کریں تو میں رات کو ان پر بارش برساؤں اوردن میں ان پر سورج طلوع کرتا رہوں اور انہیں گرج کی آواز نہ سناؤں‘‘۔ (مسند امام احمد)
یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ توکل کرنا اسباب اختیار کرنے کے منافی نہیں بلکہ اسباب اختیار کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
ایک بدو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں عرض کیا ’’کیا میں اونٹنی کو باندھ دوں یا چھوڑ دوں اور توکل کروں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اسے باندھو اور توکل کرو۔‘‘ (مکاشفتہ القلوب)
اس کائنات میں کسی امر کا وجود اسباب، ذرائع اور وسائل کے بغیر ناممکن ہے اور اللہ پاک کو بھی اسباب سے ماورا توکل مقبول اور منظور نہیں اور ترکِ اسباب و وسائل کو توکل کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ بنیادی امر جو قابلِ غوروفکر ہے وہ یہ کہ اسباب اور وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے آخری بھروسہ، مکمل اعتماد اور توکل صرف ذاتِ باری تعالیٰ پر ہونا چاہیے۔ اسباب اورذرائع کو ترک کر کے توکل کے بہانے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا، عمل سے بیگانہ ہوجانا، جدوجہد اور سعی و کا وشوں کو ترک کرنا توکل کی روح کے سراسر خلاف ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل کرو جیسے کہ توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں اس طرح روزی دے جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ و ہ صبح خالی پیٹ ہوتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر جاتے ہیں۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جو سب سے کٹ کر صرف اللہ تعالیٰ کا ہوگیا اللہ تعالیٰ اسے اس کی ہر حاجت میں کافی ہے اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا اور جو کٹ کر دنیا کا ہوگیا اللہ اسے اس (دنیا) کے سپرد کردے گا۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جس کو یہ سب اچھا لگے کہ وہ سب لوگوں سے زیادہ مستغنی (بے پرواہ) ہو تو اسے چاہیے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے اس پر اپنے پاس والے سے زیادہ یقین رکھے۔‘‘
حضرت ابو درداؓ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:
* ’’رزق بندے کو اس طرح تلاش کرتا ہے جیسے اس کی موت اسے تلاش کرتی ہے۔‘‘
حضرت یحییٰ بن معاذ ؒ فرماتے ہیں: بغیر طلب کے بندے کو روزی ملنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ روزی کو حکم ہے کہ بندے کو تلاش کرے۔
حضرت ابراہیم بن ادہم ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک راہب سے پوچھا آپ کہاں سے کھاتے ہیں؟ اس نے کہا کہ مجھے اس کا علم نہیں میرے ربّ سے پوچھو وہ مجھے کہاں سے کھلاتا ہے؟
حضرت شاہ سید محمد ذوقیؒ توکل کے بارے میں لکھتے ہیں:
* خدا پر بھروسہ کرنا اور اپنے سب کام خدا کے سپرد کردینا اس کے بھی مختلف درجے ہیں۔
* صالحین اور ان سے کم تر درجہ کے لوگ خدا پر توکل کرتے ہیں مگر اس خواہش کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ان کے کاموں کو ان کی مصلحتوں کے مطابق انجام دے۔
* محسنین کا توکل یہ ہے کہ وہ اپنے سب کاموں میں خدا کی طرف رجوع کریں اور خدا کے کئے ہوئے پر اعتراض کرنے والے نہ ہوں بلکہ خوش ہوں کہ اللہ کا چاہا پورا ہوا۔
* صدیقین کا توکل یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے حال سے خدا کی ذات کے حال کی طرف پھر جائیں۔ا ن کی نظریں اپنی ذات پر نہیں پڑتی بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے شہود میں مستغرق (ڈوبا ہوا) اور اس کی ذات میں فنا رہتے ہیں۔ بس یہی ان کا توکل ہے۔
* محققین کا توکل یہ ہے کہ وہ بساط میں جگہ پکڑنے کے بعد بے چین رہتے ہیں۔
توکل مقدمہ ہے احسان کا ۔ کیونکہ احسان کاذاتی مرتبہ یہ ہے کہ خدا کی نظر کو اپنی جانب دیکھے اور جو شخص حق تعالیٰ کی نظر کو اپنی جانب دیکھتا ہے اسے لازم ہے کہ اپنے سب کاموں میں حق تعالیٰ ہی کی جانب رجوع کرے کیونکہ حق تعالیٰ بندے کی مصلحتوں کو اس سے بہتر جانتا ہے۔ متوکل خوب سمجھتا ہے کہ بے فائدہ محنت میں اپنا نفس ہلاک کرنا حماقت ہے۔
توکل کے لیے یہ شرط ضروری ہے کہ غلام اس امر پر خوش ہو جو اس کا آقا اس کے لیے پسند فرماتا ہے لیکن یہ عوام کا کام ہے اس لیے توکل کا حکم بھی مومنوں ہی کو دیا گیا ۔ (سر دلبراں)
حضرت عبدا للہ بن عباسؓ سے روایت ہے:
’’ ایک روز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہمراہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا! اے لڑکے! اللہ کے حقوق کی حفاظت کرو تو وہ تمہارے حقوق کی حفاظت کرے گا اور تم اسے سامنے پاؤ گے اور جو کچھ مانگنا ہو اللہ سے مانگو اور جب مدد درکار ہو تو اس سے مدد لو اور جان لو کہ اگر تمام دنیا اس بات پر تُل جائے کہ وہ تمہیں کسی چیز کے ساتھ نقصان پہنچائے تو نقصان نہیں پہنچا سکے گی مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے اور دفتر خشک ہوچکے ہیں۔‘‘ (احمد، ترمذی)
شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
* تو اپنے درہم اور دنیا پر بھروسہ نہ کر کیونکہ یہ تجھے عاجز اور ضعیف بنا دے گا ۔اللہ تعالیٰ پر بھروسہ (توکل) کر یہ تجھے قوی بنا دے گا اور تیری مدد کرے گا تجھ پر لطف و کرم کی بارش برسائے گا جہاں سے تیرا گمان بھی نہ ہوگا وہیں سے تیرے لیے فتوحات لائے گا اور تیرے دل کو اتنی قوت عطا فرمائے گا کہ تجھے نہ دنیا کے آنے کی پرواہ ہوگی اور نہ اس کے چلے جانے کی اور جب تو اپنے مال و جاہ اور اہل و عیال اور اسباب پر بھروسہ کرنے لگے گا تو اللہ تعالیٰ کے غضب کا اور ان چیزوں کے زوال کا نشانہ بن جائے گا۔(الفتح الربانی۔ مجلس 42 )
* حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے ’’ملعون ہے وہ شخص جس کا بھروسہ (توکل) اپنی جیسی مخلوق پر ہو۔‘‘
کثرت کے ساتھ اس دنیا میں وہ لوگ ہیں جو اس لعنت میں شامل ہیں مخلوق میں ایک آدھ ہی ایسا ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ (توکل) رکھتا ہے پس جس نے اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کیا اس نے مضبوط رسی کو پکڑ لیااور جس نے اپنی جیسی مخلوق پر بھروسہ کیا اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص مٹھی کو بند کرے اور ہاتھ کو کھولے تو اسے ہاتھ میں کچھ نظر نہ آئے۔(الفتح الربانی مجلس۔ 45)

توکل کی فضیلت
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
* اِنَّ اللّٰہ ےُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِےْنَ (آل عمران۔159 )
بے شک اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی محبت کے ساتھ موسوم ناموں میں سب سے بلند درجہ توکل کا ہوتا ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ مدد کے لئے کافی ہو پھر اس کا کیا ہی بلند مقام ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جس پر اپنی کفایت، محبت اور نگہبانی کا احسان فرمایا اسے عظیم کامیابی حاصل ہوئی اس لئے کہ محبوب نہ جدا ہوتا ہے نہ دور ہوتا ہے اور نہ حجاب کرتا ہے۔(مکاشفتہ القلوب)
روایت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو منجنیق کے ذریعے آگ میں ڈالا گیا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم ؑ سے عرض کیا ’’کوئی ضرورت ہو تو بتائیے ؟‘‘ آپؑ نے فرمایا ’’تمہارے پاس میری کوئی ضرورت نہیں‘‘ اور فرمایا حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنَعْمَ الْوَکِےْل۔
ترجمہ:’’ مجھے اللہ ہی کافی ہے اور وہ کتنا اچھا کا رساز ہے۔‘‘
حضرت سعید بن جبیرؓ فرماتے ہیں مجھے بچھو نے ڈنگ مارا۔ میری ماں نے مجھے قسم دی کہ تو ضرور دم کروائے گا میں نے دم کروانے والے کو وہ ہاتھ دیا جس پر ڈنک نہیں لگا تھا۔حضرت خواص ؒ نے یہ آیت پڑھی وَتَوَکَّلُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَاےَمُوْت۔ (الفرقان۔58 )
ترجمہ: ’’ اور آپ اس پر بھروسہ کریں جب کبھی موت نہیں آئے گی۔‘‘
پھر فرمایا:
اس آیت کے پڑھنے کے بعد بندے کے لئے مناسب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کی پناہ چاہے۔
ایک بزرگ کا فرمان ہے ’’میں اللہ تعالیٰ پر راضی ہوگیا کہ وہی بھلائی فرمانے والا ہے اور مجھے بھلائی کا راستہ مل گیا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے حسن ادب کی درخواست کرتے ہیں۔‘‘( مکاشفتہ القلوب)
حضرت شیخ خراسانیؒ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ آپؒ کہیں جارہے تھے۔ راستے میں ایک کنویں میں گر گئے (اور تین دن کنویں میں رہے) تین دن کے بعد کچھ اولیا وہاں سے گزرے انہوں نے اس کنویں کے کنارے پر پڑاؤ کیا۔ شیخ خراسانیؒ نے یہ سوچا کہ ان لوگوں کو مدد کے لیے پکاروں پھر یہ خیال آیا کہ ان کی مدد مانگنا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے غیر سے مدد مانگنے کے مترادف ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کرنے کے مترادف ہوگا یعنی اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ میں یہ کہہ رہا ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے کنویں میں ڈالا ہے اور اب تم لوگ آکر مجھے یہاں سے نکالو ۔ اس دوران وہ قافلے والے خود کنویں پر آئے ۔ انہوں نے کنویں میں جھانک کر دیکھا اور بولے یہ کنواں راستے میں ہے ۔ اس کے کنارے پر کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔اسکا کوئی منڈیر نہیں ہے ایسا نہ ہو کہ کوئی گزرنے والا شخص اس میں گر پڑے۔ایسا کرتے ہیں اس پر چھت ڈال کر اس کا منہ بند کردیتے ہیں تاکہ کوئی اس میں گر نہ پڑے اور ہمیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کا اجرو ثواب حاصل ہو۔
حضرت شیخ ابو حمزہ خراسانیؒ فرماتے ہیں یہ سن کر میں گھبرا گیا اور اپنی زندگی سے ناامید ہو گیا (لیکن میں نے انہیں آواز نہیں دی)ان قافلے والوں نے اس کنویں پر چھت ڈال دی اور اس کا دہانہ بند کر کے زمین ہموار کی اور وہاں سے چلے گئے۔ میں نے خدا سے دعا مانگی ۔ موت کے تصور سے مجھ پر کپکپی طاری ہوگئی کیونکہ اب کسی بھی مخلوق کی مدد کا کوئی امکان باقی نہیں رہا تھا۔جب رات ہوئی تو اس چھت میں جنبش پیدا ہوئی ۔جب میں نے غور سے دیکھا تو مجھے لگا کہ کوئی چیز اس کنویں کے منہ کو کھول رہی ہے۔ پھر اژدھے کی مانند ایک جانور نے اپنی دم لٹکائی اس وقت مجھے یقین ہو گیا کہ یہ میری امداد کا ذریعہ ہے‘ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے۔ اس جانور کی دم کو میں نے پکر لیا اور اس نے مجھے باہر نکال دیا۔ اس وقت غیب سے آواز آئی:
’’اے ابو حمزہ! تمہاری نجات کتنی بہترین ہے جو جان لینے والا ہے اس کے ذریعے تمہاری جان بچائی گئی ہے۔‘‘ (کشف المحجوب)
شیخ ابو محمد بن جعفرؒ بیان کرتے ہیں:
ایک مرتبہ میں حضرت جنید بغدادی ؒ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ اس وقت بخار میں مبتلا تھے۔ میں نے ان سے کہا ’’جناب! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کو شفا عطا کردے‘‘ تو حضرت جنید بغدادی ؒ نے بتایا ’’میں نے کل یہ دعا کی تھی تو مجھے آواز آئی! یہ جسم ہماری ملکیت ہے یہ ہماری مرضی ہے ہم اسے ٹھیک رکھیں۔ تم ہمارے فیصلے میں دخل نہ دو، تم اپنے عمل دخل کو ختم کر دو تاکہ تم اپنے خدا کے حقیقی بندے بن جاؤ۔‘‘( کشف المحجوب)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ اپنے پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:
تُلّہ بَنھ توکّل والا، ہو مردانہ تریئے ھُو
جس دُکھ تھیں سکھ حاصل ہووے،اُس دُکھ تھیں نہ ڈریئے ھُو
اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا آیا، چِت اُسے وَ ل دھریئے ھُو
اوہ بے پرواہ درگاہ ہے باھوؒ ، اُوتھے رو رو حاصل بھریئے ھُو
مفہوم: اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ اور توکّل کر کے مردانہ وار راہِ فقر میں چلنا چاہیے۔ جس دکھ کے بعد سکھ حاصل ہونا ہو اس دکھ کا سامنا کرتے ہوئے ڈرنا نہیں چاہیے۔ قرآنِ پاک کے اس حکم کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہر تکلیف کے ساتھ آرام اور سکون شامل ہوتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ تو بے نیاز اور بے پرواہ ہے اس سے رو رو کر ’’وصال‘‘ طلب کرنا چاہیے۔

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں