عقل ِبیدار Aqal-e-Baydar

Rate this post

عقل ِبیدار Aqal-e-Baydar

تصنیف ِلطیف: سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ

قسط نمبر 6                                                  مترجم: سلطان محمد احسن علی سروری قادری

تمام درجات کو طے کرنا اور لامکان میں اللہ تعالیٰ تک پہنچنا اسم ِاللہ ذات کی قوت اور تصور کی توفیق سے ہی ممکن ہے جہاں اللہ تعالیٰ کا دیدار اور لقا حاصل ہوتا ہے۔ ہر مرتبہ کی تحقیق، پہچان اور ہر عنایت اسم ِاللہ ذات کے تصور اور طریق ِ شریعت کو اپنا رفیق بنانے سے ممکن ہے کیونکہ انہی کی بدولت وصال حاصل ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو وہ کیا جانیں جو ظاہر میں عالم لیکن باطن میں جاہل ہیں۔ جن کی زبان زندہ اور قلب مردہ ہے، وہ مردار کے طالب ہیں۔ علم پر عمل نہ کرنے کے باعث ان کے مراتب سلب ہو جاتے ہیں۔  

ابیات:

جثہ در جثہ شود انوار تر

خوش ببین دیدار صاحب نظر

ترجمہ: جب باطنی وجود انوار سے پُر ہو جاتا ہے تو طالب صاحب ِنظر بن کر بخوشی دیدار کرتا ہے۔

ہر کہ اینجائی نہ بیند بی نصیب

کی بہ بیند کور چشم اہل از رقیب

ترجمہ: جس نے اس جہان میں اللہ کا دیدار نہ کیا وہ بے نصیب ہے۔ کور چشم کیسے دیدار کر سکتا ہے، وہ تو اللہ کا رقیب (مخالف) ہے۔

ہر کہ بیند آن شناسد زان بدان

روئے خدا را دیدہ اندر لامکان

ترجمہ: جو اسے دیکھ لے وہ نہ صرف اس کی پہچان حاصل کر لیتا ہے بلکہ اسے جان بھی لیتا ہے۔ وہ لامکان میں پہنچ کر اللہ تعالیٰ کا چہرہ دیکھتا ہے۔

دیدہ ام دریافتم بینم دوام

معرفت توحید فقرش شد تمام

ترجمہ: میں معرفت ِتوحید اور فقر میں کامل ہوچکا ہوں اورمجھے ایسی آنکھیں حاصل ہیں جن سے میں ہمیشہ اس کا دیدار کرتا ہوں۔

گر بگویم دیدہ ام گردن زنند

دیدہ را نا دیدہ گو کافر شوند

ترجمہ: اگر میں کہوں کہ میں نے اسے دیکھا ہے تو میری گردن اُڑا دی جائے گی اور اگر دیدار کرنے کے بعد کہوں کہ دیدار نہیں کیا تو کافر ہو جائوں گا۔

درمیان حیرتم لب بستہ بہ

ہر کہ از دیدار ترسد با من بدہ

ترجمہ: اس مسئلہ پر حیران ہوں اس لیے خاموش رہنا بہتر ہے۔ یااللہ! اگر لوگ دیدار سے خوفزدہ ہیں تو مجھے عطا کر دے۔

جب تک جانور کو اَللّٰہُ اَکْبَرْ کی تکبیر کی چھری سے ذبح نہ کیا جائے وہ حلال نہیں ہوتا۔ اسی طرح جو اَللّٰہُ اَکْبَرْ کی تکبیر سے نفس کو ذبح نہ کرے وہ معرفت اور وصال تک ہرگز نہیں پہنچ سکتا۔ جو موت سے خوفزدہ ہو وہ عاشق نہیں بلکہ ابھی تک خام ہے۔ جو طالب ِدیدار ہونے کا دعویٰ تو کرتا ہو لیکن ذبح ہونے کی ہمت نہ رکھتا ہو وہ اہل ِمردار میں سے ہے۔ مجاہدہ سے مشاہدہ اور ریاضت سے راز حاصل ہوتے ہیں۔ دائمی نماز و عبادت وہی ہے جس میں اسرارِ پروردگار حاصل ہوں۔ فنا و بقا کا مرتبہ، ایمان، حیا، اللہ کی معرفت اور لقا سے مشرف ہونا، بغیر کسی تکلیف کے خزائن ِالٰہی پر تصرف پانا، حیّ قیوم ذات کے علوم حاصل کرنا، الہام کی عرض پیش کرنا، لوحِ محفوظ پر درج علوم کا مطالعہ کرنا، حکمت و بصیرت حاصل کر کے روشن ضمیر بننا، بغیر لشکر کے بادشاہ بن کر تمام عالم پر حاکم اور امیر ہونا اور جو چیز و مرتبہ بھی مطلوب ہو، حاصل کرنا مشق مرقومِ وجودیہ سے ممکن ہے۔ قطب الاقطاب، غوثِ وحدت، ولی الفرد کے مراتب، جامع نور، ہدایت ِفقر، فیض البرکات، اسم ِاعظم کا فضل، مردہ کو زندہ کرنے کی قوت اور تمام روحانی علوم اسم ِاللہ ذات اور مشق مرقومِ وجودیہ سے حاصل ہوتے ہیں۔ اس مشق کا حقیقی نقش ان عارفوں کو نصیب ہوتا ہے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مثل اللہ کے طالب، حبیب اور صاحب ِیقین ہوتے ہیں۔ یہ یُحْیِ وَ یُمِیْتُ کے مراتب ہیں جو روزِ ازل سے اسم ِاللہ ذات کا تصور اور تفکر کرنے والے عارفین کو حاصل ہیں۔ عامل اس مشق کے متعلق محض جانتے ہیں جبکہ کامل اس مشق کو کرتے ہیں۔ تصور سے کی جانے والی مشق مرقومِ وجودیہ وجود کو اس طرح پاک کرتی ہے جس طرح پانی اور صابن پلید کپڑے کو نجاست سے پاک کر دیتے ہیں۔ اگر مستقبل میں اس پانی سے کوئی درخت اُگ جائے تو اس کے تنے اور پتوں پر اسم ِاللہ ذات تحریر ہوتا ہے۔ روشن ضمیر، صاحب ِنظر اور صاحب ِقدرت اس کو پہچان کراس کے اوپر تحریر شدہ اسم ِاللہ ذات پڑھ لیتے ہیں اور اس کا ادب بجا لاتے ہیںکیونکہ وہ روشن ضمیر صاحب ِتفسیر اس کی تاثیر سے آگاہ ہوتے ہیں۔ مشق مرقومِ وجودیہ کا نقش یہ ہے:

 

اسم ِاللہ ذات کے انوار کی تجلیات کی بدولت طالب لامکان میں بے مثل و بے مثال، لم یزل و لایزال پروردگار کے دیدار سے مشرف ہوتا ہے جو کہ برحق ہے۔ اس غیر مخلوق ذات کو دیکھ کر اگر تجھے اس پر اعتبار نہ آئے یا پھر دیدار اور وصال کو مخلوق میں سے کسی صورت اور حال کے مطابق خیال کرے جیسا کہ خام لوگ کہتے ہیں تو وہ دیدار نہیں ہے۔ دیدار کرنے والوں کے یقین کی خاطر اللہ تعالیٰ نے چند نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ وہی طالب اشرف الانسان اور باعیان عارف باللہ بنتا ہے جو مرشد سے علم ِدیدار کا سبق پڑھتا ہے اور مرشد کے فرمان پر یقین رکھتا ہے۔ مرشد کامل اس طالب ِصادق کو باطنی توجہ سے مشرفِ دیدار کر دیتا ہے۔ اس کی پہلی نشانی یہ ہے کہ دائمی بیمار (مریض ِ عشق) ہوتا ہے، دوسری نشانی یہ کہ اس کا قلب زندہ و بیدار ہوتا ہے اور اس کی روح فرحت یاب ہوتی ہے اور وہ شریعت کی پیروی میں ہوشیار ہوتا ہے۔ اس کی تیسری نشانی یہ ہے کہ وہ بدعت سے بیزار ہو کر شرک و کفر سے ہزار بار استغفار کرتا ہے۔ یہ ہیں اہل ِ دیدار جنہیں ان کے احوال اور نشانیوں سے پہچانا جا سکتا ہے۔

 

 

نغمہ و سرود

کلمہ طیب، تلاوتِ قرآنِ مجید اور نماز کے لیے دی گئی اذان، یہ سب آوازیں ہیں لیکن سرود کی آواز ان سے مختلف ہے جس کی کچھ اقسام ہیں اور ہر قسم کا ایک نام ہے۔ سرود کی وہ آواز جو روزِ الست سنائی دی، وہ اسرار سے پردے ہٹاتی ہے اور معرفت و دیدار کا وسیلہ بنتی ہے۔ یہ آواز رازِ رحمانی ہے جو اللہ کا قرب عطا کرتی ہے اور انہیں نصیب ہوتی ہے جو عاشق اور اہل ِتصوف فقرا ہیں اور اللہ کی طرف راہنمائی کرتے ہیں۔ شیطانی و نفسانی سرود سے پیدا ہونے والی آواز مختلف ہے۔ آوازِ دنیا پریشان اور آوازِ سرودِ معصیت ِشیطان سے دل میں شہوت، حرام خوری، طمع اور خواہشاتِ نفس پیدا ہوتی ہیں جو اللہ کی معرفت سے دور رکھتی ہیں۔ بیت:

سرود سر دردیست بسر نفس و ہوا

این ہوا را ای برادر کی خدا دارد روا

ترجمہ: نفس اور اس کی خواہشات کو ابھارنے والا سرود محض سردردی ہے۔ اے عزیز! یہ خواہشات اللہ کے نزدیک کیسے جائز ہو سکتی ہیں!

ایسا سرود اہل ِزنار کفار کی رسم ہے کیونکہ یہ کفار بتوں کے سامنے گاتے بجاتے ہیں یا پھر اہل ِ دنیا کی جن میں سرود کے باعث شہوت کا غلبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ زنا کی طرف مائل ہوکر خوشی حاصل کرتے ہیں اور دین سے خارج ہو جاتے ہیں۔ ایسا سرود محض خام خیالی ہے جو دجال سے تعلق رکھتا ہے۔ روحانی سرود خوش آواز ہے جو روزِ الست سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی بدولت عارفین، عاشقین، طالبانِ مولیٰ، محبین، واصلین، غوث و قطب اور جانثار مومن و مسلمانوں کے دل پاکیزہ ہو جاتے ہیں اور ان میں نورِ رحمت کا فیض اور حضورِ حق کا فضل پیدا ہوتا ہے۔ ایسا سرود روح کو قربِ ربانی عطا کرتا ہے اور طالب ہر مقام کا باعیان نظارہ دیکھنے والا عارف بن جاتا ہے۔ دجالی و شیطانی سرود اور اللہ کے قرب کی طرف وسیلہ بننے والے اور وصال عطا کرنے والے سرود کو کس علم سے معلوم کیا جا سکتا ہے؟ اس سرود کی وجود پر تاثیر کی بدولت۔ جو سرود محمود ہو وہ مرتبہ محمود پر پہنچا دیتا ہے اور جو مردود ہو وہ مرتبہ مردود پر پہنچا دیتا ہے۔

٭ اَلسَّرُوْدُ حَالَتُ الْعَارِفِیْنَ وَ طَعَامُ الْمُحِبِّیْنَ وَ وَسِیْلَۃُ الْعَاشِقِیْنَ وَشَوْقُ الْوَاصِلِیْنَ

ترجمہ: سرود عارفین کی حالت، محبین کا طعام، عاشقین کا وسیلہ اور واصلین کا شوق ہوتا ہے۔

سرود سننا بعض کے لیے فرض، بعض کے لیے سنت اور بعض کے لیے بدعت ہے۔ 

٭ اَلْفَرْضُ لِلْوَاصِلِیْنَ وَ السُنَّۃُ لِلطَّالِبِیْنَ وَ الْبِدْعَۃُ لِلْغَافِلِیْنَ

ترجمہ: سرود سننا واصلین کے لیے فرض، طالبانِ مولیٰ کے لیے سنت اور غافلین کے لیے بدعت ہے۔

تو خود کو ان میں سے کس گروہ کے ساتھ شمار کرتا ہے؟ سرود کے تین مراتب ہیں: اوّل وہ خوش آواز سرود جس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مدحت و ثنا بیان کی جاتی ہے، دوم اشعارِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، سوم آیاتِ اسم ِاعظم جو یہود صفت نفس کو قتل کر دیتی ہیں۔ لہٰذا سرود سننے کے لائق وہ ہوتا ہے جو سرود کی آواز سنتے ہی یوں بے جان ہو جائے گویا کہ مردہ۔ وہ خود کو حضورِ حق میں لے جائے، اپنے نفسانی جسم کو چھوڑ کر روحانی جسم میں داخل ہو جائے اور پھر سرود سنتے ہی دوبارہ زندہ ہو جائے۔ تاہم سرود سنتے ہی زندہ ہو جانا بھی ابتدائی اور خام مراتب ہیں۔ سرود سننے کے لائق وہی ہوتا ہے جو سرود کی آواز سنتے ہی یکبارگی فنا فی اللہ کے راز تک پہنچ جائے۔ یہ قلب ِ سلیم کے مراتب ہیں جس میں طالب اپنی جان سے گزر کر حق کو تسلیم کر لیتا ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

٭ قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَO (سورۃ البقرہ۔156)

ترجمہ: وہ (طالبانِ مولیٰ) کہتے ہیں: بیشک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں۔

ہم نے اللہ تعالیٰ کی قضا کو قبول کیا۔ پاکیزہ اور آباد باطن والوں کومبارک باد ہو، وہ قابل ِستائش ہیں۔ ابیات:

سرود با سرور رساند عاشقان

عاشقانی کم بود اندر جہان

ترجمہـ: عاشقوں کو سرود کی بدولت سرور حاصل ہوتا ہے۔ لیکن حقیقی عاشق اس دنیا میں کم ہیں۔

سرود تیغ قاتل است سر پیش نہ

گر تو عاشق واصلی سر را بدہ

ترجمہـ: سرود قتل کرنے والی تلوار کی مثل ہے اس کے سامنے اپنا سر پیش کر دے، اگر تو باوصال عاشق بننا چاہتا ہے تو اپنا سر قربان کر دے۔

چون تو بی سر میشوی بشنوی آواز

خوش آوازی بی سران را برد راز

ترجمہـ: جب تُو اپنا سر قربان کر دے گا تب تو ایسی خوش آواز سنے گا جو سر قربان کرنے والوں کو رازِ حقیقی تک لے جاتی ہے۔

باھُوؒ با سرودی سامع شد با خدا

این مراتب یافتم از مصطفیؐ

ترجمہـ: باھُوؒ اس سرود میں اللہ تعالیٰ کے کلام کو سنتا ہے۔ میں نے یہ مراتب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پائے ہیں۔

کلمہ طیب کو خوش آواز میں پڑھنے سے سرود میں وجد پیدا ہوتا ہے جو وحدت کا فیض اور فضل عطا کرتا ہے۔ کلمہ طیب کی کنہ کو سمجھنے سے میں نے اس عیاں ذات کے راز کو پایا۔ کلمہ کی کنہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ اے احمق و نادان سن! فقرا عالم ہوتے ہیں جو ہر علم ِمنطق و معانی کے ساتھ نہ صرف نفسانی لوگوں کے ساتھ بلکہ ارواح کے ساتھ بھی کلام کرتے ہیں۔ دراصل فقرا ان علوم کے حافظ ہوتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے قرب میں ہونے کی بدولت انہیں جلدی سیکھ لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

٭ فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ  (سورۃ البقرہ۔152)

ترجمہ: پس تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا۔

فقیر ِکامل کی انتہا کیا ہے؟ کامل کے پاس ہر طرح کا علم ہوتا ہے اور اس کو مخلوقِ خدا کی تقدیر پر کامل تصرف حاصل ہوتا ہے۔ وہ طالب کو علم کے ذریعے تقدیر دکھا دیتا ہے یا پھر تقدیر کے ذریعے اس پر علوم کھول دیتا ہے۔ ان دونوں علوم پر تصرف کا خزانہ مرشد کامل ہی بغیر محنت و تکلیف کے عطا کر سکتا ہے۔بیت:

با مطالعہ طالع بکشاید ترا

مرشد کامل بود عارف خدا

ترجمہ: مرشد کامل عارف باللہ ہوتا ہے جو علم کے ذریعے تجھ پر تقدیر کو منکشف کر سکتا ہے۔

افسانوں کو چھوڑ اور اپنا رُخ معرفت کی طرف موڑ۔ اے طالب سن!اگر تو واقعی صادق طالب ہے اور ہر مشکل برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے تو ہی تُو دیدارِ پروردگار کے لائق ہے۔ طالب تین قسم کے ہیں جن کو تین ناموں سے موسوم کیا گیا ہے۔ اوّل وہ طالب جو اللہ کو پسند کرتا ہے، دوم وہ طالب جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پسند کرتا ہے۔ ایسا طالب اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے۔ سوم وہ طالب جو مخلوق کو پسند کرتا ہے اگرچہ وہ عالم و فاضل ہو لیکن وہ دانشمند نہیں ہے۔ جان لو کہ بعض مرشد فتنہ انگیز ہوتے ہیں جو راہزن کی مثل ہیں۔ وہ طالبوں کو اس طرح مایہ فساد میں مبتلا کرتے ہیں کہ انہیں خاک بھی سونا اور چاندی نظر آتی ہے۔ بعض مرشد مرتبہ محمود پر ہوتے ہیں جو اپنے طالب کے سامنے سونا بھی مٹی کی مثل دکھاتے ہیں اور انہیں حضوری میں پہنچا دیتے ہیں۔ اگر طالب طریق ِتوفیق سے کامل اور ناقص مرشد میں تفریق نہیں کر سکتا تو وہ خود بھی ناقص اور احمق ہے جو بالآخر محروم رہتا ہے۔ طالب کسے کہتے ہیں؟ طالب بننا بہت ہی مشکل اور دشوار کام ہے۔ بے ادب اور بے حیا طالب سے ایک روز کا آشنا کتا بہتر ہے۔ مجھے ایسے طالبوں پر حیرت ہوتی ہے جن کی زبان پر موسیٰ علیہ السلام جیسا کلام ہوتا ہے لیکن دل میں فرعون جیسا نفاق۔ ان کی زبان پر ابراہیم علیہ السلام جیسا کلام ہوتا ہے لیکن دل میں نمرود جیسا حسد بھرا ہوتا ہے۔ ان کی زبان پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کلام ہوتا ہے لیکن دل میں ابوجہل سی جہالت بھری ہوتی ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

٭ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَرَضٌ لا فَزَادَھُمُ اللّٰہُ مَرَضًا (سورۃ البقرہ۔10)

ترجمہـ: ان کے دلوں میں بیماری ہے، پس اللہ نے ان کی بیماری کو مزید بڑھا دیا ہے۔

پس اس مرض کا علاج طبیب القلوب اور مرغوب عارف مرشد کے پاس ہے۔ وہ اس کا علاج کیسے کرتا ہے؟ سب سے پہلے وہ طالب کو دنیا کے تمام خزانوں پر تصرف عطا کر دیتا ہے تاکہ اس کا دل ان سب سے بے نیاز اور لایحتاج ہو کر کفر و شرک سے بیزار ہو جائے۔ بعد ازاں مرشد طالب کو وحدت کے سمندر میں غوطہ دیتا ہے جس سے اسے مشاہدئہ معراج حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح طالب ان امراض اور استدراج سے خلاصی پا لیتا ہے۔ بیت:

طالبان را بس بود این یک سخن

طالب آن باشد بود در طلب کن

ترجمہ: طالبوں کے لیے بس یہی ایک حرف کہنا کافی ہے کہ اصل طالب وہی ہوتا ہے جو رازِ کن کی طلب میں ہو۔

اس پر حیران مت ہو اور نہ ہی انکار کر کیونکہ اللہ کی رحمت، فیض، فضل، عطا، دونوں جہان، کل مخلوقات، عیاں لامکان اور آیاتِ قرآن و حدیث کا علم سب کچھ دل میں موجود ہے۔ اس سے مراد ایسا دل ہے جو روشن ضمیر ہو۔ صاحب ِروشن ضمیر سب پر قادر، غالب اور حکمران ہوتا ہے۔ یہ مالک الملکی فقیر کے مراتب ہیں۔ 

ابیات:

دل کہ جنبد بالیقین قرب از خدا

فرش سازد عرش را بیند لقا

ترجمہ: جو دل قربِ الٰہی کی بدولت یقین سے دھڑکتا ہے وہ عرش کو اپنا فرش بنا لیتا ہے جہاں وہ دیدارِ الٰہی کرتا ہے۔

دل کہ با دیدہ شود نی بی بصر

صاحب دل کی بود این گاؤخر

ترجمہ: جس دل کو چشم ِبصیرت حاصل ہو وہ نابینا نہیں ہوتا۔ حیوانات کی مثل لوگ صاحب ِدل کیسے ہو سکتے ہیں!

دل کہ دم را برد با روح و قلب

شد مشرف اہل دل با رازِ رب

ترجمہ: جو دل سانس کو قلب و روح کے ساتھ ہم آہنگ کر لے وہ اہل ِدل کو رازِ ربّ سے مشرف کر دیتا ہے۔

این مراتب قادری را شد بیان

کم بود چون قادری اندر جہان

ترجمہ: یہ مراتب جو بیان کیے گئے ہیں صرف قادری طالبوں کو حاصل ہوتے ہیں۔ لیکن ایسے قادری طالب دنیا میں بہت کم ہیں۔

یہ راہ روحانی طور پر طے ہوتی ہے۔ اس راہ میں تصور اسم ِاللہ ذات کی طاقت اللہ کی معرفت اور قرب تک پہنچاتی ہے۔ جب طالب فقر میں کامل ہو جاتا ہے تو دونوں جہان اس کے قدموں تلے آ جاتے ہیں اور ارواحِ جن و انس حلقہ بگوش غلام کی مثل اس کے ماتحت ہو جاتی ہیں۔  حدیث ِمبارکہ ہے:

٭ حُبُّ الْفُقَرَآئِ مِفْتَاحُ الْجَنَّۃِ 

ترجمہ: فقرا کی محبت جنت کی کنجی ہے۔

(جاری ہے)

 
 
 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں