بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین)
Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen
قسط نمبر 22 مرتب: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری
روح کو موت نہیں
فرمایا: عبدیعنی انسان دو چیزوں کا مجموعہ ہے،ایک جسم ہے اور دوسری روح۔ یہ جسم ہی نفس ہے اور روح وہ ہے جس کی وجہ سے اس نفس میں حرکت ہوتی ہے۔اللہ فرماتا ہے:
٭ کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ (سورۃ آل عمران۔185، سورۃ الانبیا۔ 35، سورۃ العنکبوت۔57)
ترجمہ: ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔
یہ نہیں فرمایا کہ کُلُّ عَبْدٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ کہ ہرعبد کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ کیونکہ عبد تو جسم اور روح کا مجموعہ ہے۔ یا روح کے متعلق نہیں فرمایا کہ روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے بلکہ روح کے متعلق تو اللہ فرماتا ہے:
٭ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ (سورۃ البقرۃ۔ 156)
ترجمہ: ہم اللہ کی طرف سے آئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
روح اللہ کی طرف سے آتی ہے اور ادھر ہی لوٹ کر چلی جاتی ہے۔ تبھی تو اللہ نے فرمایا:
٭ وَ نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِی (سورۃ الحجر۔29)
ترجمہ: میں نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔
اللہ اسلام کے لیے سینہ کب کھولتا ہے؟
فرمایا: انسان کا سینہ اسلام کے لیے تب کھلتا ہے جب اس کا تزکیہ ہوتا ہے ۔ اللہ فرماتا ہے:
٭ لَا یَمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ ٭ (سورۃالواقعہ۔ 79)
ترجمہ: پاک لوگ ہی اس (کتاب)کو چھو سکتے ہیں۔
فقہی لحاظ سے معنی ہوا کہ غسل یا وضو کر کے ہی اس کتاب کو چھو سکتے ہیں۔ لیکن فقر کے لحاظ سے اس کا معنی یہ ہے کہ اس کتاب کو تب ہی سمجھا جا سکتا ہے جب تزکیہ ہو کر پاکی حاصل ہو چکی ہو۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کے لیے سینہ اسی کا کھلتا ہے جس کا تزکیہ ہو چکا ہو۔
٭ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی ٭ (سورۃ الاعلیٰ۔14)
ترجمہ: یقینا وہ فلاح پا گیا جس کے نفس کا تزکیہ ہو گیا۔
قرآن سے ہدایت کن کو ملتی ہے؟
قرآن میں اللہ فرماتا ہے:
٭ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ (سورۃالبقرۃ۔2)
ترجمہ: اس میں ہدایت ہے متقین کے لیے۔
اس کتاب میںہر کسی کے لیے ہدایت نہیں۔ صرف پاک لوگ ہی اس کتاب کے رازوں کو جان سکتے ہیں۔ یہ اعلان اللہ نے کتاب کے شروع میں ہی کر دیا۔ اللہ نے یہ نہیں کہا کہ مسلمان کے لیے ہدایت ہے بلکہ فرمایا متقی کے لیے ہدایت ہے۔
مسلمان اور متقی میں فرق
مسلمان اور متقی میں بڑا فرق ہوتاہے۔ملاکے نزدیک متقی پرہیزگار ہے یعنی وہ جو نمازپڑھتاہے، روزہ رکھتاہے جبکہ صوفیا کے نزدیک جو جتنا اللہ پاک کے قرب میں ہے وہ اتنا زیادہ متقی ہے۔ جو قریب ہو وہی اس کا کلام سمجھے گا ناں! اگر متقی بننا ہے تو اسم ِاللہ ذات کا تصور کرو۔ اس سے جو حقیقت حاصل ہو اس کو اپنے اندر سمو لینا چاہیے۔ اسی لیے حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں:
٭ زبان سے کلمہ کا اقرار کرنے والا منافق ہے جبکہ دل سے اقرار کرنے والا مومن ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
زبانی کلمہ ہر کوئی پڑھدا، دل دا پڑھدا کوئی ھو
دعوت اِلی اللہ کا کام
فرمایا: دعوت کے کام میں اچھا اخلاق ہونا ضروری ہے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے حکم دیا کہ فرعون کو دعوت دو تو فرمایا اچھے طریقے سے بات کرنا۔ اگر حضرت موسیٰؑ، جو اس وقت سب سے اعلیٰ مقام رکھتے تھے، کو یہ حکم دیا گیا اور اس کے متعلق دیا جو اس وقت کا سب سے گنہگار تھا تو پھر دیکھ لیں کہ ادھر نہ تو کوئی حضرت موسیٰؑ جیسا اعلیٰ مقام رکھتا ہے اور نہ کوئی فرعون جیسا گنہگار ہے۔ اللہ فرماتا ہے:
٭ اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ (سورۃ النحل۔ 125)
ترجمہ: اپنے ربّ کی راہ کی طرف بلاؤ حکمت اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔
سجادہ نشینی قرآن میں کہاں ثابت ہے؟
فرمایا: اللہ نے سورۃ الانفال میں فرمایا:
٭ وَ مَا لَہُمْ اَلَّا یُعَذِّبَہُمُ اللّٰہُ وَ ہُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا کَانُوْٓا اَوْلِیَآئَہٗ ط اِنْ اَوْلِیَآؤُہٗ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ٭ (سورۃالانفال ۔34)
ترجمہ: اور ان (کافروں) کے لیے کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے حالانکہ یہ مسجد ِحرام سے روک رہے ہیں اور یہ اِس کے اہل ہی نہیں،اس کے اہل تو تقویٰ والے ہیں مگر ان میں سے اکثر جانتے نہیں۔
اس آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ کعبہ کے متولی متقی اور اولیا ہیں۔
اسی طرح فرماتا ہے:
٭ اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَہْلِہَا (سورۃ النسائ۔ 58)
ترجمہ:بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل لوگوں کے سپرد کرو۔
اب اولیا جس کو اہل سمجھتے ہیں اس کو سجادہ نشین مقر ر کر دیتے ہیں۔ یہی دعا حضرت زکریا علیہ السلام نے کی:
٭ فَہَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا ٭لا یَّرِثُنِیْ وَیَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ (سورۃ مریم۔5-6)
ترجمہ: پس مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما جو میرا بھی وارث ہو اور آلِ یعقوب کا بھی وارث ہو۔
مرشد کی خاموشی
فرمایا: حضرت مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں کہ جس کو مرشد کی خاموشی فائدہ نہیں دیتی اس کو مرشد کا کلام بھی فائدہ نہیں دے سکتا۔ ہمارے مرشد بھی خاموش رہتے تھے۔ ہم نے بھی ان کی خاموشی سے فیض حاصل کیا۔ مرشد باطن کی تربیت کرتا ہے جس کا زبان سے تعلق نہیں۔
نفس کی حالتیں
کسی نے نفس کی برائیوں کے متعلق سوال کیا تو فرمایا: ایک حالت میں نفس برائی کا حکم دیتا ہے اور ایک حالت میں انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے۔
٭ إِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ م بِالسُّوْٓئِ (سورہ یوسف۔53)
ترجمہ: بیشک نفس ِامارہ برائی کا حکم دیتا ہے۔
جس حالت میں انسان کو اللہ کے قریب لے کرجاتاہے اس کے متعلق اللہ فرماتا ہے:
٭ یٰٓاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ٭صلے ق ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً٭ (سورۃ الفجر ۔ 27-28)
ترجمہ: اے نفس ِمطمئنہ! لوٹ اپنے ربّ کی طرف اس حالت میں کہ تو اس سے راضی ہوا اور وہ تجھ سے راضی ہوا۔
نفس کی برائیوں سے نجات
فرمایا: جب انسان اللہ کا ذکر کرتا ہے تو نفس ٹھیک رہتا ہے، لیکن جیسے ہی ذکر سے غافل ہوتا ہے یہ اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔ شیطان نفس ِ امارہ کا وزیر ہے۔ نفس ِامارہ اس کے مشورے پر چلتا ہے، اسی کی بات مانتا ہے اور جب انسان اسم ِاللہ ذات کا ذکر کرتا ہے تو شیطان دور ہو جاتا ہے۔ حدیث ہے:
٭ إِنَّ الشَّیْطَانَ جَاثِمٌ عَلٰی قَلْبِ ابْنِ آدَمَ، فَإِذَا ذَکَرَ اللّٰہَ خَنَسَ وَ إِذَا غَفَلَ وَسْوَسَ
ترجمہ:شیطان ابن ِآدم کے دل پر جما رہتا ہے۔ جب وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جب وہ غافل ہوتا ہے تو وسوسے ڈالنے لگتا ہے۔
نفس کی چار حالتیں
مزید فرمایا: قرآن کے مطابق نفس کی چار حالتیں ہیں۔
• نفس ِامارہ: یہ خواہشاتِ نفس پر ابھارتا ہے۔
• نفس ِلوامہ: انسان جب برائی کرتا ہے تو یہ نفس انسان کو شرمندہ کرتا ہے۔ جب کہا جاتا ہے کہ میرا ضمیر مجھے تنگ کر رہا ہے، یہ نفس ِلوامہ ہی ہوتا ہے۔
• نفس ِملہمہ: یہ نفس انسان کو برائی کرنے سے پہلے ہی روک دیتا ہے۔
• نفس ِمطمئنہ: یہ معرفت کا مقام ہے۔ اس مقام پر انسان کامل ہو جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جس کے متعلق اللہ نے فرمایا:
٭ اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ٭ (سورۃیونس۔ 62)
ترجمہ: بیشک اولیا پر نہ کچھ خوف ہوتا ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں۔
قیامت کب آئے گی؟
فرمایا: جب تک اللہ پاک دنیا میںبچے بھیج رہا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ دنیا سے مایوس نہیں ہوا ہے۔ جب اللہ دنیا میں بچے بھیجنا بند کردے گا اس کا مطلب ہے کہ وہ دنیا کو سمیٹنے لگا ہے اور قیامت قریب ہے۔
بلا اور امتحان میں فرق
(3مارچ 2024) کسی نے پوچھا کہ امتحان اور بلا میں کیا فرق ہے؟ آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا:بلا اور امتحان میں فرق ہے۔ امتحان وہ آزمائش ہے کہ انسان کے دل میں غم، تکلیف اور پریشانی ہو، جو قلب پر وارد ہو۔ جبکہ بلا وہ ہے جو قلب کے ساتھ ساتھ جسم پر بھی وارد ہو۔ یعنی اندر بھی تکلیف اور باہر جسم پر بھی تکلیف ہو۔مصیبت، پریشانی اور بیماری ہر انسان کی تقدیرہے۔جب مومن پر بیماری آتی ہے تو وہ اللہ پر یقین رکھتا ہے جیسا کہ اللہ فرماتا ہے:
٭ وَإِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیْنِ ٭ (سورۃ الشعرا۔80)
ترجمہ: اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے۔
مومن کا یقین ہوتا ہے کہ جو میرا علاج کر رہا ہے اس کے ہاتھ میں شفا نہیں ہے، شفا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جب وہ تندرست ہو جاتا ہے تو اللہ پاک اسے اس یقین کی وجہ سے نئی منزل عطا کرتا ہے۔ دوسری طرف اگر دنیادار کی بات کی جائے تو جب اس پر بیماری آتی ہے تو وہ ڈاکٹروں پر یقین کرتا ہے اور اللہ پر یقین نہیں کرتا۔ اپنے اس یقین کی وجہ سے وہ توحید سے گر جاتاہے۔
اسی طرح مومن پر جب مصیبت اور پریشانی آتی ہے تو وہ اللہ پر یقین رکھتا ہے کہ وہی مجھے اس مشکل اور پریشانی سے نکالے گا اور اس طرح نکالے گا کہ جہاں کسی کا گمان بھی نہیں ہو گا۔ وہ اس مشکل وقت میں کہتا ہے کہ میرا تو اللہ پر یقین ہے میرا تو اللہ پر توکل ہے۔ اس توکل اور یقین کی وجہ سے وہ پریشانی سے نکل جاتا ہے۔ دوسری طرف دنیادار ہے جو مشکل اور پریشانی میں اللہ کی بجائے لوگوں پر توکل کرتا ہے، وہ سبب کے خالق کی بجائے اسباب پر توکل کرتا ہے۔ اس طرح اپنے اس عمل کی وجہ سے دنیادار توحید سے گر جاتا ہے۔ یہ مومن اور عام مسلمان کے یقین میں فرق ہے۔
کیا اللہ کا راستہ مشکل ہے؟
فرمایا: ایک اور بات یاد رکھنی چاہیے کہ پریشانیاں اور مشکلات اس وجہ سے نہیں آتیں کہ آپ اللہ کے راستے پر چل رہے ہیں جیسا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ کی راہ پر چلیں گے تو آزمائشیں آئیں گی۔ بلکہ یہ تو دنیاداروں پر بھی ویسے ہی آتی ہیں۔
آپ خود فیصلہ کریں کیا ہسپتال صرف اللہ کے بندوں سے بھرے پڑے ہیں؟ نہیں بلکہ یہ سب پر آتی ہیں لیکن فرق صرف یہ ہے کہ اللہ والے کا یقین اور ہوتا ہے، دنیادار کا یقین اور ہوتا ہے۔ معاملہ باطن کا ہوتا ہے۔ اس کے باطن کو آزمایا جاتا ہے اور پھر اگر یقین اللہ پر ہو تو اسے عطا کیا جاتا ہے۔
مصائب اور تکالیف پر اللہ کا احسان
مختلف مصائب و بیماریوں میں مبتلا ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ وہ تقدیر ہوتی ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھیں اگر یہ مشکلات و مصائب نہ ہوں تو انسان جیسا متکبر اور ظالم ہی کوئی نہ ہو۔ جیسے فرعون کو ساری زندگی سر دَرد نہیں ہوا، دوسری بیماریاں تو دور کی بات ہے۔ پھر اس نے خدائی کا دعویٰ کر دیا۔ یہی نمرود کا حال تھا۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ کے بندے صرف اللہ کو دیکھتے ہیں اور اللہ پر ہی یقین رکھتے ہیں جبکہ دنیادار اسباب پر اور لوگوں پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ فرق ہے اللہ کے بندوں اور دنیاداروں میں۔ امتحان اور مصائب سے ہی اللہ پاک اپنے بندے کو آزماتاہے اور اسے نئی منزلیں عطا کرتا ہے۔ توحید پختہ ہوتی ہے جبکہ دنیادار اپنی بے یقینی کی وجہ سے مزید مصیبتوں میں گرتا چلا جاتا ہے۔ سورۃ حجرات آیت نمبر تین میں ہے:
٭ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ لِلتَّقْوٰی ط لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ ٭ (سورۃ الحجرات۔3)
ترجمہ: وہ لوگ جن کے قلوب تقویٰ کے لیے امتحان میں مبتلا ہیں بڑی بخشش اور اجر کے مستحق ہیں۔
تقویٰ کی خاطر کا مطلب ہے تقویٰ کی منازل کے لیے جن کے قلوب اللہ تعالیٰ نے امتحان میں مبتلا کیے ہیں ان کے لیے بڑا اجر ہے۔ انہی مصائب اور پریشانیوں کی وجہ سے دنیادار مزید نیچے گر جاتا ہے جبکہ مومن انہی کی وجہ سے بلند ہوتا ہے۔ اگر مشکلات نہ آئیں تو اللہ آزمائے کیسے؟ نئی منزلیں عطا کرنے کے لیے ہی تو بلا و امتحان سے آزماتا ہے۔
رحمن اور رحیم میں فرق
کسی نے سوال کیا کہ رحمن اور رحیم کی صفت میں کیا فرق ہے؟
آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا کہ رحمن کی صفت کے ساتھ اللہ تمام مخلوق کو نوازتا ہے لیکن رحیم مومنوں کے لیے خاص ہے۔
نوافل کے معنی
ایک دفعہ آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا کہ حدیث قربِ نوافل میں نوافل سے مراد صرف نماز والے نوافل نہیں بلکہ ہر نیکی ہے۔ نوافل کے معنی عبادت کے ہیں۔ یہ کوئی بھی عبادت ہو سکتی ہے۔
مرکز ِفقر
( 7جولائی 2019) فرمایا: ہمارے جانے کے بعد بھی طالبانِ مولیٰ کے لیے یہ جگہ مرکز رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے کن کہہ دینا ہے لیکن کن ظاہری جدوجہد سے فیکون ہوتا ہے۔ باطن میں صرف حکم ہوتا ہے ظاہر میں جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ کامیابی ظاہری جدوجہد پر ہوتی ہے۔
اعلیٰ عبادت
فرمایا: ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ مسجد ِ نبویؐ کی کنڈی پکڑ کر سوچ رہے تھے جبکہ باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عبادت کر رہے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پوچھا: ابوبکرؓ کیا سوچ رہے ہو؟ جواب دیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! میں سوچ رہا ہوں یہ دین کس طرح پوری دنیا میں پھیلے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
ان تمام کی عبادات سے بہتر ابوبکرؓ کا یہ سوچنا ہے۔
(جاری ہے)