فرامین سلطان باھوؒ (اقتباس : عین الفقر )
Farameen Sultan-ul-Arifeen Ain-ul-Faqr
قسط نمبر 2 مترجم: پروفیسر سلطان حافظ حماد الرحمن سروری قادری
عارف باللہ
٭ عابد اور عارف وہ ہے جو خود کو عبادت کے درجہ ٔ معرفت تک پہنچائے۔
٭ فقیر عارف باللہ اسے کہتے ہیں جو فنافی اللہ، فنا فی الرسول، فنا فی فقر اور فنا فی ھُو ہو۔
٭ فقیر عارف باللہ کو کوئی غم نہیں رہتا کہ اس کے غم (اسم ِاللہ کی برکت سے) ہمیشہ کے لیے دور ہو چکے ہیں اور وہ مستی کی حالت میں بھی ہوشیار رہتا ہے۔
٭ جب عارف واصل فنا فی اللہ اسم ِ اللہ ذات کے برزخ کو تصور سے اپنے دل پرنقش کرتا اور اسے دیکھتا ہے تو اس کا جسم اسم ِاللہ ذات میں غائب ہو جاتا ہے۔
٭ عارفِ مولیٰ، توحید میںغرق عارف باللہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر، دنیا اور عقبیٰ سے دور، اللہ تعالیٰ کی ذات میںمگن اور مسرور رہتے ہیں۔اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔
٭ عارف باللہ نفس کی تحقیق کرتا ہے (اس کے نیک و بد پر نظر رکھتا ہے) اور صاحب ِ نفس،نفس کواپنا رفیق بنا کر رکھتا ہے۔
٭ مخلوق کو موت آتی ہے لیکن عارف کو وصال نصیب ہوتا ہے۔
٭ عارف کی موت معراج ہوتی ہے جس کی بدولت وہ جمالِ الٰہی سے واصل ہو جاتا ہے۔
فقیر کامل
٭ اے اللہ!تیرا سِرّ ہر صاحب ِ راز کے سینہ میں ہے اور تیری رحمت کا دروازہ ہر ایک کے لیے کھلا ہے۔
٭ حضرت محمد رسول اللہa کی اُمت کے فقیر وحدت میں غر ق ہو کر ہمہ تن توحید بن جاتے ہیں۔
٭ جب فقیر درویش اٹھارہ ہزار عالموں سے گزر کر بالائے عرش پہنچ جاتا ہے تو ہر شے کو دیکھ (اور جان) لیتاہے۔
٭ صرف فقیر انسان (حقیقی) ہیں اور دوسرے تمام لوگ حیوان ہیں۔
٭ فقیر وں اور درویشوں کی جماعت کا خمیر عشق کی مٹی اورانوارِ تجلی سے گوندھا گیاہے۔
٭ فقیروں کاوجود نور سے پرُ ہوتا ہے نہ کہ عام لوگوں کے وجود کی طرح جو چار عناصر (آگ، ہوا، پانی، مٹی) سے بنا ہوا ہے۔
٭ فقیر کاوجود ایک لطیف شے ہے جو عشق سے پیدا ہوا ہے اور جسے ذاتِ معشوق کے سوا کسی کے ساتھ قرار نہیں ملتا۔
٭ فقیروں کا جذب اور غضب اللہ تعالیٰ کا قہر ہے۔
٭ فقیر وہ ہے جو طمع نہ کرے، اگر کوئی کچھ دے تو منع نہ کرے اور اگر کچھ ملے توجمع نہ کرے۔
٭ مرد فقیر وہ ہے جو نفس کو کسی بھی حال میں اطاعت سے فارغ نہ رہنے دے اور جو کچھ نفس مانگے اسے ہرگز نہ دے اور ہمیشہ اس کے خلاف کرے۔
٭ اہل ِ اللہ فقرا مظلوم ہیں جو اپنے نفس کے ظلم سے عاجز آ گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ ( سے اس کے خلاف مدد مانگنے) میں مگن رہتے ہیں۔
٭ فقرا سے ڈرو کہ فقرا حالت ِ شہوت میں بھی باشعور اور فنا فی اللہ حضور ہوتے ہیں اس لیے وہ اللہ کی نظر میں منظور ہیں۔
٭ اگر درویش نہ ہوتے تو سب شہر اور مقام تباہ وبرباد ہو جاتے۔ عرش سے لے کر تحت الثرٰی تک جہاں بھی آبادی ہے درویشوں کی دعا کی برکت اور ان کے مبارک قدموں کی وجہ سے قائم ہے۔
٭ اللہ تعالیٰ سے یگانہ فقیر وہ ہے جو تمام غیر ماسویٰ اللہ سے بیگانہ ہے۔
٭ علما طالب ِ علم ہیں اور فقراء طالب ِ مولیٰ ہیں۔ علما کی نظر ورق، سطور اور حروف پر رہتی ہے جبکہ صاحب ِ معرفت فقیر کی نظر معروف (اللہ تعالیٰ کی ذات) پر ہوتی ہے۔
٭ فقیر عشق میں مبتلا ہوکر بے قرار اور بے چین رہتا ہے۔
٭ فقیر اللہ تعالیٰ کو دلیل اور حجت کے بغیر پہچانتا ہے۔
٭ فقیر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے قلب کو زندہ کرنے کا طریقہ جانتا ہے۔
٭ علما کہتے ہیںکہ آخرت میں جنت کتنی خوبصورت جگہ ہے۔ فقیر کہتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیدار کے سوا سب کچھ بدصورت اور ذلیل و خوار ہے۔
٭ علما کہتے ہیں کہ فقیر کتنا احمق، مجنوں اور دیوانہ ہے۔ فقیر کہتاہے کہ علماء اللہ تعالیٰ سے بیگانے ہیں۔
٭ عالم کی نظر دنیاکی لذتوں اور نعمتوں پر ہوتی ہے اور فقیر کی نظر روزِ قیامت کے خوف پر ہوتی ہے۔
٭ علما کہتے ہیں کہ علم حاصل کرکے ہر چیز کے معنی اور منطق کو سمجھنا بہت اچھا ہے۔فقیر کہتا ہے کہ اللہ کی یاد کے بغیر علم حاصل کرنا سراسر نادانی اور عمر کی بربادی ہے۔
٭ علما روزی روٹی کمانے کی خاطر مال و دولت کے انتظار میں رہتے ہیں جبکہ فقیر دنیا اور اہل ِ دنیا سے بیزار رہتا ہے۔
٭ فقیر کہتا ہے کہ راہِ توکل اختیار کر کے صرف اللہ کے قرب پر راضی ہو جاؤ۔
٭ فقیر کہتا ہے کہ اے جاہل! علم کو بھول جا اور فنا فی اللہ ہو کر (ذاتِ حق میں) غرق ہو جا۔
٭ فقیر کہتا ہے کہ تمام علم صرف ایک حرف (اسم اللہ) میں ہے جس کے ذریعے علم ِ لدّنی حاصل کرنا بہت آسان ہے۔
٭ فقیر دنیا اور دنیاداروں کی طرف ہرگز میلان نہیں رکھتا اور نہ ہی اسے غیر ماسویٰ اللہ کا کوئی لالچ ہوتا ہے کیونکہ فقر کو کوئی حاجت نہیں۔
٭ فقیرکی زبان تلوار کی طرح ہوتی ہے، وہ صاحب ِ لفظ ہوتا ہے، جو بھی خواہش وہ کرتاہے اللہ اسے فوراً پورا کر دیتاہے پھر بھی وہ کوئی خواہش نہیں کرتا کیونکہ فقر کو کوئی حاجت نہیں۔
٭ فقیر مرتبہ ٔ محمدیa پر پہنچا ہوا ہوتا ہے جو ’فقر کو کوئی حاجت نہیں‘ ہے۔
٭ فقیرکو چاہیے کہ اگر وہ جاہل ہے تو علم حاصل کرے، اگر عالم ہے تو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کو جانے اور پہچانے۔
٭ فقیر کو تزکیہ ٔنفس، تصفیہ ٔقلب اور تجلیہ ٔروح کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
٭ فقیر کا دل اسم ِاللہ سے جمعیت حاصل کر کے غنی ہو جاتا ہے کیونکہ فقر کو کوئی حاجت نہیں۔
٭ فقیری میںدومرتبے ہیں:علم پڑھ کر اسم ِاللہ کا عالم اور قاری بن جائے یا اللہ کو پہچان کر صاحب ِ مسمّٰی ہو جائے۔
٭ فقیر اپنا تمام مال اللہ کی راہ میں صَرف کر دیتا ہے اور ترکِ دنیا کے بعد پھر کبھی دنیا کی طلب نہیں کرتا کیونکہ فقر کو کوئی حاجت نہیں۔
٭ پس درویش فقیر وہ ہے جو اپنی روزی کو بھی دوسروں کے نصیب کر دیتا ہے۔
٭ درویش فقیر اسے کہتے ہیں جسے دنیا میں ہدیے یا کسی اور صورت میںجو کچھ بھی عطا ہو وہ اسے اللہ کے لیے خرچ کر دے۔
٭ اگر فقیر کو دن کو کچھ عطا ہو تو وہ رات کے لیے ایک پیسہ بھی بچا کر نہ رکھے اور اگر رات کو عطاہو تو دن کے لیے کچھ بچا کر نہ رکھے بلکہ اللہ کی راہ میںصَرف کر دے۔
٭ فقیر درویش کو صاحب ِ تصرف ہونا چاہیے۔
٭ عالم فقیر کا محتاج ہے لیکن فقیر عالم کامحتاج نہیں کیونکہ اس کے پاس علم ِ فیض ہوتا ہے۔
٭ فقیر درویش اللہ تعالیٰ کے ساتھ اسی طرح یکتا ہوتا ہے جس طرح وہ ازل میں تھا۔
٭ فقیر ذکر اور فکر سے اللہ تعالیٰ کی ذات میں مشغول ہوکر وحدانیت میں غرق رہتا ہے اور علم ِ باطن کے ذریعے اسے تمام علوم حاصل ہوتے ہیں۔
٭ فقیری پُردرد مشقت ہے، یہ ماںیاخالہ کے گھرکا پکا ہوا حلوہ یانرم و لذیذ خوراک کا نوالہ کھانے جیسا (آسان) نہیںبلکہ یہ تو دن رات درد میں جلنا ہے۔
٭ فقیر کے گھر میںفاقہ ہوتا ہے پھر بھی وہ کسی سے کچھ طلب نہیں کرتا کیونکہ فقر کو کوئی حاجت نہیں۔
٭ فقیر کے پاس کیمیائی نظر ہوتی ہے پھر بھی وہ اپنی ذات کے لیے اس کا فائدہ نہیں اُٹھاتا کیونکہ فقر کو کوئی حاجت نہیں۔
٭ (تقدیریں لکھنے کے بعد) اللہ تعالیٰ کے قلم کی نوک پرجو سیاہی باقی بچی وہ فقرا کی زبان پر لگادی گئی۔
٭ فقرا کی زبان پر موجود یہ سیاہی ان کی پیشانیوں پر اس قدر چمکتی ہے کہ دونوں جہان ان کے سامنے روسیاہ ہوتے ہیں۔
٭ فقیر وہ ہے جس کے دل میں دو جہان کے تمام اسرار ہوں۔
٭ فقیر وہ ہے جو ان دونوں (دنیا اور جنت) میں سے کسی کو بھی اختیار نہ کرے اور وہ دنیا اور جنت دونوں کو ٹھکرا دیتا ہے۔
٭ جب دن نکلتاہے تو فقیراسے روزِ محشر سمجھتاہے۔ اٹھارہ ہزار عالم کو نیکی اور بدی کا حساب دینے کی حالت میں دیکھتا ہے اور خدا کو قاضی جان کر اپنے نفس کا خود محاسبہ کرتا ہے۔ اور جب رات ہوتی ہے تو اس کو اپنی قبر سمجھتاہے جس میںوہ تنہا اور بے خواب ہے۔
٭ فقیر اُسے کہتے ہیں جو خدا کا دیا ہوا اورخدا کا دلوایا ہوا خدا کو ہی وا پس لوٹا دے۔
٭ راہنما (مرشد) کو ایسا مرد ہونا چاہیے جو فنا فی اللہ فقر اور صاحب ِ درد ہو۔
٭ فقیر کون ہے؟ جو طمع نہ کرے، اگر کوئی کچھ دے تو منع نہ کرے اور اگر کچھ ملے تو جمع نہ کرے۔
٭ فقیر کے لیے سب سے زیادہ خوشی کا وقت موت کا وقت ہے جب اسے کامل وصال نصیب ہوتاہے۔
٭ حضرت موسیٰؑ کوہِ طورپر اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوتے تھے جب کہ ہم حضرت محمد رسول اللہ a کی اُمت کے اہل ِ فقر اپنے پہلو (باطن) میں ہی حق کی حضوری میں رہتے ہیں۔
٭ فقیر اللہ تعالیٰ کے ہم نشین ہوتے ہیں۔
٭ فقرا کی مجالس میں اللہ تعالیٰ سے کلام، اللہ کا ذکر، انبیاء کا ذکر اور اہل ِ اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔
٭ اگر فقیر اللہ کے سوا کسی کا محتاج ہوتا ہے تو اس کی فقیری باطل، جھوٹ اور استدراج ہے۔
٭ محبت اور اخلاص کی راہ میںفقیر ِ کو صادق، ثابت قدم اور اللہ تعالیٰ سے سچا اعتقاد رکھنے والا ہونا چاہیے۔
٭ کامل فقرا اپنے کام کو محبت اور عشق سے پایۂ تکمیل تک پہنچاتے ہیں جس سے ان کا سینہ اللہ کے نور کی تجلیات سے مالا مال ہو جاتا ہے۔
٭ خاص فقیر وہ ہے جو ہمیشہ اپنے ربّ سے ڈرتا ہے۔
عالم باللہ فقیر
٭ عالم، جاہل اور فقیر میں فرق یہ ہے کہ جاہل عام ہے، عالم خاص ہے اور فقیر عارف باللہ خاص الخاص ہے۔
٭ مرشد کو عالم ہونا چاہیے اور طالب مولیٰ کو طالب علم ہونا چاہیے، جاہل کی (راہِ فقرمیں) کوئی گنجائش نہیں ہے۔
٭ (حقیقی) علما وہ ہیںجو انبیا کے وارث ہوں، جن میں حضرت محمد رسول اللہ a کی نشانیاں پائی جائیں اور جو امانت ِ الٰہیہ کے امین ہوں۔
٭ انبیا کے وراث صرف وہ علماء ہیں جو انبیا کی متابعت کرتے ہیں۔ ان میں فسق وفجور دھوکہ دہی، جھوٹ، حسد، تکبر اور حرص نہیں ہوتے بلکہ وہ مکمل طور پر حق ہی حق اور صراط ِ مستقیم پر چلانے والے رہنما ہیں۔
٭ علما پوچھتے ہیں کہ فقیرکو وارداتِ غیبی کا علم کہاں سے حاصل ہوتا ہے؟ فقیر کہتا ہے کہ میرا استاد حَیُّ قَیُّوْم اللہ ہے۔
جہالت
٭ سن! جاہل کا لباس جہالت ہے اور جہالت شیطان کا لباس ہے۔
٭ جاہل وہ ہے جو دنیا کی محبت کا طالب ہو، حر ص میں مبتلا خواہشاتِ نفس کا طالب ہو، علماء اور اللہ کے کلام کا دشمن ہو، پس وہ کافر ہے۔
٭ اگر تاریکی اور ظلمت ہے تو جہالت میں ہے۔
٭ جس میں (علم حاصل کرنے سے) عمل، اطاعت اور خوفِ خدا نہیں بڑھتا اس میں جہالت بڑھتی ہے۔
٭ اگر اللہ کا فضل جہالت میں ہوتا تو ابو جہل کو اس کی جہالت راہِ حق دکھا دیتی۔ اللہ کی راہ نہ علم میں ہے اور نہ جہالت میں بلکہ اللہ کی خالص محبت میں ہے۔
٭ جاہل جب بدعت اور گمراہی میں گرفتار ہوتاہے تو وہ ابوجہل کی طرح ہوتا ہے جو جہالت سے باز نہ آرہا ہو۔
٭ جہالت سے صرف ایک صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ وہ
حضرت محمد رسولؐ اللہ کی اتباع کرے۔
علم
٭ ایسا علم جو اللہ کے لیے اور نیک اعمال سیکھنے کی خاطر حاصل کیا جائے حضرت محمد رسولؐ اللہ کے مرتبہ تک پہنچاتا ہے اور جو علم دنیا کمانے کے لیے حاصل کیا جائے ابوجہل کا ہم نشین بناتا ہے۔
٭ اگر کسی کو علم اور فضیلت سے حق حاصل ہوتا تو بلعم باعور کو ہوتا کہ اس کے مدرسے میںہر وقت بارہ ہزار دواتیں اور قلم قاف سے قاف تک (تمام علوم) کی زیر و زبر کی حقیقت لکھنے میں مصروف رہتے تھے۔
٭ جس علم کو توُ پڑھتا ہے وہ سراسر جہالت ہے۔ اس علم سے تجھے صرف دنیا کی فانی عزت و حکومت مل سکتی ہے لہٰذا ایسا علم حاصل کرنا نادانی ہے۔
٭ اے دوست! علم پر عمل کرنا چاہیے ورنہ یہ محض ایک بوجھ ہے۔
٭ جو اپنے علم پر عمل نہیں کرتا اس کا علم اس کے لیے وبال ہے۔
٭ علم ِ رحمانی وہ علم ہے جو اہل ِ اطاعت کے لیے ہے اور ترک ِ دنیا کا علم ہے۔
٭ علم ِ شیطانی وہ علم ہے جو اہل ِ بدعت کے لیے ہے اور حُبِّ دنیا، حرص، حسد اور کبر کا علم ہے۔
٭ عالم وہ ہے جو سب سے پہلے دنیاکو تین طلاقیں دے، پھر حضرت محمد رسولؐ اللہ کی سب سے بڑی سنت ادا کرے یعنی اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار خرچ کر دے، تیسرے خُلقِ محمدی a اختیار کرے یعنی بے طمع اور بے ریا ہوکر اللہ کی اطاعت کا طالب، خدا پرست اور خوفِ خدا رکھنے والا بن جائے۔
٭ معرفت کے بغیر علم ایسے ہے کہ جیسے نمک کے بغیر کھانا۔
٭ اہل ِ علم اللہ تعالیٰ کو چون و چراسے مانتے ہیں۔
٭ علم میں صرف چون و چرا ہی ہے۔
٭ اگر نور ہے تو علم میں ہے۔
٭ اگر چہ تجھے ملامت اور رسوائی ہی کیوں نہ اٹھانی پڑے تو وہ علم حاصل کر جو تجھے اللہ تعالیٰ کا وصال عطاکردے۔
٭ بے علم زاہد (اللہ کی ذات سے) بے خبری کی وجہ سے دوزخ کا ایندھن ہے۔
٭ جو (حقیقی) علم کی راہ جانتا ہے وہ فقر کو مکمل سمجھ جاتا ہے۔ جو خود پر نگاہ رکھتا ہے وہ گمراہ ہو جاتا ہے۔ جو نہ (حقیقی) علم کی راہ جانتا ہے نہ فقر سے آگاہ ہے اس کا (ظاہری) علم اس کے لیے وبال اور سو گناہ کے برابر ہے۔
٭ علما انسانی وجود میں نفس کے مقامات سے بے خبر ہیں کیونکہ انہوںنے معرفت،عشق اور محبت کی راہ اختیار نہیں کی بلکہ حرص،حسد اور کبر کی راہ اختیار کی ہے۔
٭ عمل کے بغیر علم دیوانگی ہے۔
٭ اگر عمل کے بغیر علم سے فضل حاصل ہوتاتو ابلیس کو ہوتا اور وہ گمراہی میں مبتلا نہ ہوتا۔
٭ جو شخص علم حاصل کرنے کے باوجود بدعت میں پڑ جاتاہے وہ شیطان کی طرح خبیث جن ہے، اس پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔
٭ باطنی علم و دانش طلب کر۔
٭ علم عمل سے بڑھتا ہے۔
٭ عقل وہ ہے جو اللہ تک پہنچائے اور علم وہ ہے جو وحدت کی معرفت دے کر معلوم تک پہنچائے۔
٭ اہل ِ علم اہل ِخوشبو ہیں۔
٭ وہ کون سی چیز ہے جودونوں جہانوں سے افضل اور سونے چاندی کے زیورات سے زیادہ قیمتی ہے لیکن عام لوگ اس سے بے خبر ہیں؟ وہ علم ہے جس پر عمل کیا جائے۔
٭ علم بہت زیادہ ہے اور عمربہت تھوڑی ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ وہ کام (ذکر و تصور اسم اللہ ذات) سرانجام دیا جائے جو سب سے ضروری ہے۔
٭ جب تو فقر کے علم کے متعلق گفتگو کرے تو اللہ کے سوا جو بھی جانتا ہے اسے اپنے دل سے مٹا دے۔
(جاری ہے)