Insani-Damagh

انسانی دماغ–Insani Dimag

انسانی دماغ

تحریر: مسزعبنرین میغیث سروری قادری  ایم۔اے۔ابلاغیات

اللہ تعالیٰ خالقِ کمال ہے۔ اس کی تخلیق کردہ ہر شے اس کے حیرت انگیز کمالِ قدرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انسانی روح اگر اللہ کی بہترین باطنی تخلیق ہے تو انسانی دماغ سب سے زیادہ حیرت انگیز ظاہری تخلیق۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے جسموں اور ان کے اندر موجود باطنی قوتوں کو آپس میں اس طرح مربوط کر رکھا ہے کہ باطنی قوت دکھائی دیئے بغیر ظاہری جسم کو ہر کام کرنے کے لائق بناتی ہے، اسی طرح انسانی روح کو بھی تمام جسم خصوصاً اس کے دِل اور دماغ سے مربوط رکھا ہے۔ اور موت اس ربط کے ٹوٹنے کا نام ہے ۔
دماغ انسان کی تخلیقی قوتوں کا مرکز اور غورو تفکر کا مقام ہے۔ اسی دماغ کی ہمت سے انسان اللہ کے سر بستہ رازوں تک پہنچ سکتا ہے اور اس دماغ کی قوتوں کو اگر انسان اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں اور توفیق کے مطابق ، اللہ ہی کے لیے اللہ کے قریب پہنچنے کی خاطر استعمال کرے تو یہ اس کا بے پناہ مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ اللہ سے محبت قلب سے کی جاتی ہے اور اس کے بارے میں غور و تفکر دماغ سے کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’انسان میرا راز ہے اور میں انسان کا راز ہوں۔‘‘ اور اس راز کو دماغ کے صحیح استعمال سے ہی پایا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں انسانوں کو اپنی نشانیوں پر غور کرنے کی بار بار دعوت دیتا ہے کیونکہ یہ نشانیاں اسے اللہ کی پہچان حاصل کرنے اور اللہ کے راز تک پہنچنے میں مدد کرتی ہیں۔ ’غور‘ کی دعوت ثابت کرتی ہے کہ دماغ لازماً اللہ کی پہچان حاصل کرنے اور اللہ کے راز تک پہنچنے میں مدد گارثابت ہو سکتا ہے کیونکہ غور کرنا، سوچنا سمجھنا اسی کاکام ہے۔
سائنسدانوں کی انسانی دماغ کی ہیئت اور کام کرنے کے طریقے پر تحقیق سے معلوم ہوا کہ انسان کا دماغ دو حصوں پر مشتمل ہے‘ بایاں حصہLeft Hemisphereاور دایاں حصہ Hemisphere Right ۔بالکل سننے، سونگھنے اور دیکھنے کے اعضاء کی طرح۔ جس طرح دونوں آنکھیں ، دونوں کان، دونوں ہاتھ یا ٹانگیں، آپس میں مل جل کر بھی کام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی قوت میں اضافے کا باعث بننے کے علاوہ اپنے اپنے حصے کا کام علیحدہ علیحدہ بھی سر انجام دیتے ہیں اسی طرح دما غ کے دونوں حصوں کے علیحدہ علیحدہ کام ہیں لیکن یہ ایک دوسرے کے مدد گار بھی ہیں۔دماغ کے بائیں حصے کا تعلق ہماری باہر کی دنیا سے ہے اور دائیں کا تعلق اند رکی دنیا سے۔ بائیں حصے کی مدد سے ہم چیزوں کو دیکھتے ، گنتے، حساب کرتے، چیزوں کی ہیئت کے متعلق اندازہ لگاتے ہیں، یہ حصہ ہمیں روز مرہ کے کاموں ، اُٹھنے بیٹھنے، بات چیت کرنے، کھانے، دفتری کام یا خرید و فروخت وغیرہ میں مدد دیتا ہے۔ اسی حصے میں ہمارے روزمرہ معمول کے احساسات جن کا تعلق ظاہری دنیا سے ہے مثلاً خوشی ،غم، غصہ، پسند و ناپسند محبت، نفرت وغیرہ بھی پیدا ہوتے ہیں۔ جبکہ دائیں حصے کا تعلق ہماری باطنی قوتوں سے ہے۔ مثلاً تخلیق کی قوت جیسے مصوری، شاعر ی،ادب، حقیقی عشق کی قوت ، جس کے تحت انسان بڑے بڑے مصائب سے ٹکرانے کا حوصلہ پاسکتا ہے، وجدان کی قوت جس کے ذریعے باطنی اسرار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے وغیرہ۔
بایاں حصہ ذرا سخت اور جابر واقع ہوا ہے جبکہ دایاں حصہ لطیف اور نرم ہے۔ بایاں حصہ حکمرانی کرنا چاہتا ہے جبکہ دایاں دوستی۔ بایاں حصہ آپ کی قوتیں آپ سے لے لیتا ہے جبکہ دایاں آپ کو قوت فراہم کرتا ہے۔ بایاں حصہ وقت اور چار جہتوں میں قید ہے جبکہ دایاں زمان و مکان سے آزاد۔ بایاں حصہ تنگ نظر مگر تیز نظر ہوتا ہے۔ یعنی یہ چیزوں کی گہرائی میں جاکر ان کی حقیقت دکھانے کی اہلیت نہیں رکھتا اور اس کی نظر صرف اس دنیا اور اس کی اشیاء کے ظاہرتک محدود ہے۔ چھوٹے دائرے میں کم چیزیں دکھاتا ہے، جو بالکل واضح ہوتی ہیں ۔اسی کی وجہ سے ہم روز مرہ کے کاموں میں مستعد رہتے ہیں اور ٹھیک کار کردگی دکھاتے ہیں۔ جبکہ دایاں حصہ وسیع نظر ہوتا ہے اس کا دائرہ ازل و ابد تک وسیع ہے لیکن یہ حصہ ارادہ اور اختیار نہیں رکھتا، اسے کام کرنے یا اپنے پر کھولنے کے لیے بائیں کی طرف سے حکم یا کوئی بیرونی تحریک درکار ہوتی ہے۔ جب یہ اپنی پرواز شروع کرتا ہے تو ایسے ایسے گوشوں سے پردے اٹھاتا ہے کہ عقل کی رسائی وہاں تک ممکن ہی نہیں۔دائیں حصے کے مثبت استعمال سے بڑے بڑے شاہکار تخلیق ہوتے ہیں، انسان اور اللہ کی دوستی ہوتی ہے، باطنی قوتیں حاصل ہوتی ہیں ،ازل سے ابد تک کا ہر علم حاصل ہوتا ہے۔ اور منفی استعمال سے جادو کی قوت، دوسروں کو اپنے زیرِ تصرف لانے کی قوت وغیرہ حاصل ہوتی ہے۔
انسانوں کی کثیر تعداد صرف بائیں حصے کی حکمرانی میں زندگی گزار دیتی ہے اور قوتوں سے مالا مال دائیں حصے کی طرف کبھی توجہ ہی نہیں دیتی۔ روزمرہ مشینی زندگی میں اس طرح الجھے رہتے ہیں کہ تخلیق یا خالق کی طرف دھیان ہی نہیں جانے پاتا یہاں تک کہ عبادت کے دوران بھی بائیں حصے کے تحت رہتے ہیں، روبوٹ کی طرح اس کے اشاروں پر اٹھتے بیٹھتے ،رکوع اور قیام و سجدہ کرتے ہیں اور دائیں حصے کو استعمال نہ کرکے اپنے اندر موجود اپنے خالق ومالک سے کوئی تعلق نہیں جوڑتے۔ اگر غور کیا جائے تو سمجھ یہ ہی آتا ہے کہ اللہ نے انسان کے دماغ کے دوحصے اس لیے بنائے تھے کہ بائیں کے ذریعے باہر کی دنیا کے کام احسن طریقے سے سر انجام دئیے جاسکیں اور دائیں کے ذریعے اپنے اللہ سے تعلق جوڑ لیا جائے اور اس کی تمام مخلوق بشمول اپنی یعنی انسان کی حقیقت کو سمجھ پائیں۔
دماغ کے دونوں حصے ہی ایک مکمل اور بھرپور زندگی کیلئے لازم ہیں۔ اللہ نے ان کے ذریعے ہماری دنیاوی اور اخروی زندگی کی بہتری کاتمام سامان کر دیا ہے۔ دنیا اور دین میں توازن پیدا کرنے اور ان کی حقیقت سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم دماغ کے ان دونوں حصوں کو صحیح طریقہ سے استعمال کریں۔ دنیا کے ظاہر کے لیے بایاں حصہ، اور دین و آخرت کی حقیقت و باطن کوسمجھنے کے لیے دایاں حصہ۔ لیکن ہم ان سب کے لیے صرف اپنابایاں حصہ استعمال کرتے ہیں اور آدھے دماغ سے حاصل ہونے والی معلومات کو پورا سمجھ لیتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر دین و دنیا کے بارے میں تصور قائم کر لیتے ہیں جو بالکل خام اور ناقص ہوتا ہے۔ا سی لیے ہم اشیاء کی ،ان کے باطنی وجودکی، ان کی حقیقی قوت کی سمجھ کبھی حاصل نہیں کر پاتے اور نہ ہی اپنی ،اپنے اللہ کی اور دین کی حقیقت کو جان پاتے ہیں۔
دائیں حصے کو ٹھیک طرح سے استعمال کرنے اور اس کے ذریعے اللہ سے رابطہ قائم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم بائیں حصے کی غلامی سے نجات حاصل کریں۔ جب انسان دماغ کے بائیں حصے میں مسلسل تنے ہوئے دنیا کی مسائل، دنیا کی ضرورتوں اور خواہشوں کے جال سے آزاد ہو کر یکسو ہو کر اپنا تمام تر دھیان صرف دائیں حصے کے تحت کر دیتا ہے تو ہی د ما غ کا یہ حصہ کھل کر کام کرتا ہے اور پرواز کرتے ہوئے اپنے ساتھ انسان کو بھی اس دنیا کے ناسوتی مقام سے آگے لاھوت لامکاں میں اپنے ربّ تک لے جاتا ہے،اور صحیح معنوں میں اس سے تعلق جوڑتا ہے ۔
مادیت پر ست انسان نے اگر دائیں حصے کو استعمال کیا بھی تو اپنے مادی مقاصد کے لیے۔ اللہ کے دئیے ہوئے اس قوتوں سے مالا مال خزانے کی مدد سے بڑے بڑے شاہکار تخلیق کیے۔ حیرت انگیز کارنامے سرانجام دئیے لیکن صرف دنیاوی فوائد کے لیے۔ بعض اوقات تو یہ انتہائی مذموم مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا گیا، کبھی دماغی قوتوں سے لوگوں کو اپنے بس میں کرنے کے لیے ، تو کبھی جادوئی قوتوں سے دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے۔ صرف اللہ کے سچے دوستوں نے اس کا ٹھیک استعمال کرکے اس کے ذریعے اپنے اندر غور و تفکر کرکے اللہ کی ،دنیا و آخرت کی، قرآن اور دیگر الہامی کتابوں کی اصل معنوں میں بالکل ٹھیک ٹھیک سمجھ حاصل کی۔ اللہ کی بنائی ہوئی ہر شے اور انسا ن کو دی گئی ہر ظاہری و باطنی نعمت اسے اللہ کے قریب کرنے میں مددگار ہوتی ہے بشرطیکہ انسان اللہ کا قرب حاصل کرنے کی سچی اور پُر خلوص خواہش کرے اور ان نعمتوں کو اس طرح استعمال کرے جس طرح اللہ نے چاہا تھا کہ انسان اس کو استعمال کرتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں