امیر الکونین | Ameer-ul-Konain

امیر الکونین

قسط نمبر16

تصور کے برزخ سے مشاہدات اور بے مثل و بے مثال‘ لازوال اور روحانی احوال کی شرح

جاننا چاہیے کہ تصور اسم اللہ ذات وحدت تک پہنچنے کا باتصرف برزخ ہے جو اگر توجہ اور اصل تفکر سے کیا جائے تو وصالِ الٰہی عطا کرتا ہے۔ تصور اسمِ اللہ ذات کا برزخ ذکر، فکر، مراقبہ اور ورد و وظائف جن کا تعلق عمل ِ نفس و شیطان اور عمل ِ دنیا کے وہم، خطرات اور واہمات سے ہے‘ کو دل سے علیحدہ کر کے منسوخ کر دیتا ہے اور صرف انوارِ دیدار کی تجلیات کے مشاہدات کو باقی رہنے دیتا ہے۔ تصور قربِ الٰہی اور دیدار کے غیب الغیب انوار کا مشاہدہ عطا کرتا ہے۔ تصور سے حاصل ہونے والے مشاہدات وحدت کی جانب سے ہوتے ہیں اور قربِ الٰہی کے تصور سے متعلق ہوتے ہیں۔ تصور سے حاصل ہونے والے مشاہدات کا تعلق تصورِ نور اور قربِ الٰہی سے ہے جو طالب کو اللہ کی نظر میں منظور بناتے ہیں۔ ذکر اسم اللہ ذات سے حاصل ہونے والے تصور، مشاہدات اور الہام نفس کو فنا اور روح کو بقا عطا کرتے ہیں ان کا تعلق حور و قصور کے مشاہدہ سے نہیں۔ ابیات:
در تصور شد تصور راز حق
میبراید در مطالعہ دل ورق
ترجمہ: جب صاحب ِ تصور اوراقِ دل کے مطالعہ میں مشغول ہو جاتا ہے تو تصورِ رازِ حق حاصل ہوتا ہے ۔
و ار دانی ہر علم شد راہنما
روزِ اوّل سبق خواند از خدا
ترجمہ: اگر تو چاہتا ہے کہ ہر علم اللہ کی طرف تیرا رہنما ہو تو اس کا سبق روزِ اوّل ہی پڑھنا شروع کر۔
خرمی خوشوقت گردد راز بین
عین را باعین بیند بالیقین
ترجمہ: طالب ِ مولیٰ جب اسرارِ الٰہی کا مشاہدہ کرنے والا بن جاتا ہے تو وہ مسرور ہو جاتا ہے اور یقین کے ساتھ عین ذات کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کرتا ہے۔
عالم و فاضل شود عارف کرم
از علم عین است عالم را چہ غم
ترجمہ:اللہ کے کرم سے علم ِ عین کے حصول کے بعد عارف عالم و فاضل بن جاتا ہے تب وہ تمام پریشانیوں سے نجات حاصل کرلیتا ہے۔
علم رسم و با رسوم مردگان
مردہ قالب زندہ قلب علم دان
ترجمہ: علم ِ رسم رسوم مردہ دل والے حاصل کرتے ہیں جبکہ علم ِ الٰہی کے جاننے والوں کے دل زندہ اور وجود مردہ ہوتے ہیں۔
جاننا چاہیے کہ لقائے الٰہی سے مشرف کرنے اور مقامِ کبریا تک پہنچانے کی راہ کا علم اسم ِاللہ ذات کے روحانی اثرات سے حاصل ہوتا ہے جبکہ کلمہ طیبہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کے ورد سے حاصل ہونے والی حضوری تمام مخلوقات کے احوال دکھاتی ہے۔ نورِ حضور کی یہ راہ ہزاروں میں سے صرف عامل عارف ہی جانتا ہے جو کہ فقیر ہے۔ جو اس راہ کو مکمل طور پر جانتا ہے وہ کونین پر امیر ہے اور جو اکمل طور پر اس راہ کو جانتا ہے وہ ہر مخلوق پر غالب اور قدیر ہوتا ہے۔ اس راہ کو مردہ دل کیا جانیں جو نفس کے اسیر اور قیدی ہیں۔ اور اگر کوئی چاہے کہ اس علم کو پڑھے بغیر عالم ِ ربانی کے برابر ہو جائے تو ممکن نہیں۔ یہ مراتب کلماتِ ربانی کو جاننے والے عالم کے ہیں۔ کلماتِ ربانی پڑھنے سے نفس مردہ اور قلب زندہ ہو کر بے حجاب اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے لگتا ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًا(الکہف۔109)
ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرما دیجیے کہ اگر کلماتِ ربانی لکھنے کے لیے تمام سمندر سیاہی بن جائیں تو کلماتِ ربانی کے مکمل لکھنے سے پہلے سمندر ختم ہو جائیںگے اگرچہ ان کی مثل مزید سمندر بھی آ جائیں۔

کی تواند اسم اللہ را شمار
اسم اللہ ذات را باخوش نگار
ترجمہ: اسم ِاللہ ذات کے فوائد کا شمار کیسے ہو سکتا ہے تو اسم اللہ ذات کو اپنے دل پر خوشخط لکھ۔
تصور اسم ِاللہ ذات سے صاحب ِ تصور کے تمام حجابات دور ہو جاتے ہیں اور وہ تمام مخلوقات کا ثواب دیکھتا ہے اور پھر (اسم اللہ ذات کے) انوار کی شدت سے دیدار سے مشرف ہو جاتا ہے۔ ان جباری و قہاری تجلیاتِ ربانی کا بارِ گرانی کامل انسان کا وجود ہی برداشت کر سکتا ہے جو (اس بارِ گرانی کو اٹھاتے ہوئے) کسی بھی حال میں پریشان نہیں ہوتا۔
مطلب یہ کہ جو طالب آوازِ روحانی کا محرم ہو جاتا ہے وہ قربِ ربانی سے الہام وصول کرتا ہے لیکن اگر اسے اسم اللہ ذات پر اعتبار نہ آئے اور نہ ہی وہ مرشد بزرگوار کے فرمان پر اعتبار کرے تو معلوم ہوا کہ وہ طالب خود پسند ہے جو ہوا و نفس کی قید میں ہے اور راہِ صفا نہیں پا رہا۔ ایسا طالب بے ادب و بے حیا بلکہ بے نصیب ہے جو معرفت ِ الٰہی سے محروم ہے۔ یہ مطالب توحید سے دور ہیں کیونکہ طالب اپنی طبیعت کے مطابق عمل کرتا ہے۔ اس سلسلے میں اگر مرشد طالب کے ظاہر و باطن پر توجہ نہ کرے اور توفیق ِ الٰہی سے طالب کا رفیق نہ ہو تو طالب کسی بھی مقام و مطالب تک نہیں پہنچ سکتا اگرچہ تمام عمر اخلاص سے مرشد کی صحبت میں رہے اور خواہ ریاضت میں سالہا سال تک گرمی و سردی اور خوف و رجا کے احوال برداشت کرتا رہے۔ نیز یہ مراتب خوف و رجا اور عقل و ہوشیاری سے تعلق رکھتے ہیں اور خود طالب کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ جو کوئی خودی سے نجات حاصل کر لیتا ہے اسم ِ اللہ ذات اس کا رہبر بن جاتا ہے اور طالب جس جگہ چاہتا ہے‘ پہنچ جاتا ہے۔ اُس طالب کی تمام مہمات توفیق ِ الٰہی سے تحقیق انجام پاتی ہیں جو مرشد سے اس طرح یکتا ہو جائے کہ طالب کا جسم، قلب، قالب، روح، نفس اور ساتوں اندام مرشد کے جسم، قلب، روح، نفس اور ساتوں اندام میں ڈھل جائیں۔ یہ مکمل فنا فی الشیخ کے مراتب ہیں کہ مرشد طالب کے مراتب کو اپنے مرتبہ عظیم اور قلب ِ سلیم سے تبدیل کر دیتا ہے۔ اس راہ کو اثباتِ قدم(ازلی ذات کی تحقیق) کہتے ہیں اور یہ راہ استقامت سے طے ہوتی ہے۔فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ۔ (ھود۔112)
ترجمہ: پس استقامت اختیار کرو جیسا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔

وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ۔ (الحجر۔99)
ترجمہ: اور اپنے ربّ کی عبادت کرتے رہے حتیٰ کے یقین تک پہنچ جائو۔
یہ مراتب اس عالم کے ہیں جو حق الیقین کے مراتب تک پہنچ گیا ہو۔ ابیات:
علم باعین است عالم باعیان
این چنین عالم بود عارف عیان
ترجمہ: ظاہری علم آنکھوں سے حاصل کیا جاتا ہے جبکہ (اللہ کے علم کا) عالم باعیاں ہوتا ہے جو (ہر شے کو) بے حجاب دیکھتا ہے۔ ایسا عالم عارفِ عیاں ہوتا ہے۔
مردہ دل عالم بود قہر از خدا
خون خورد آدم ز رشوت با ریا
ترجمہ: مردہ دل عالم قہر ِ خدا کی مثل ہے جو ریاکاری کر کے رشوت لیتا ہے اور لوگوں کا خون چوستا ہے۔
عالم آن باشد کہ باشد حق پسند
مسئلہ گوید مردمان از وعظ پند
ترجمہ: اصل عالم وہ ہے جو حق پسند ہو اور اپنے وعظ و نصیحت سے لوگوں کو دین کے مسائل کی تعلیم دیتا ہو۔
فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ۔(النحل۔125)
ترجمہ: اپنے ربّ کی راہ پر لوگوں کو حکمت اور مواعظ ِ حسنہ سے بلائو۔
اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔ ابیات:
ہر علم قرآن و حدیث آواز دل دان
ہر کہ عالم شد شدہ عارف عیان
ترجمہ: قرآن و حدیث کے ہر علم کو دل کی آواز سمجھ۔ جو کوئی اس علم کا عالم بن جاتا ہے وہ عارفِ عیاں ہو جاتا ہے۔
علم یک نکتہ است الف لام میم
ہرکہ خواند الف علم دل سلیم
ترجمہ: علم ایک نکتہ الٓمٓ میں ہے۔ جو کوئی علم ِ الف پڑھ لیتا ہے وہ قلب ِ سلیم والا ہو جاتا ہے۔
دال بہر از شد دلالت دم کرم
دال شکنندہ ز دل خطرہ صنم
ترجمہ: راہبر اللہ تعالیٰ کے کرم کی دلالت کرتے ہیں کیونکہ یہ دل سے خطرات کے بتوں کو توڑ دیتے ہیں۔
صورتے دل یافتن از علم دال
شد دلالت دال قرب و حق وصال
ترجمہ: راہبر کے علم سے دل کے احوال جانے جا سکتے ہیں اور یہ راہبر قرب و وِصالِ حق کی دلالت کرتے ہیں۔
دال دیدار از دہد وحدت لقا
دال دل را صیقل است بہر از صفا
ترجمہ: راہبر دیدار اور وحدتِ لقا عطا کرتا ہے اور دل کی صفائی کے لیے صیقل ہے۔

شرح عالم فقیر
عارف باللہ اولیا اللہ تلمیذ الرحمن( اللہ رحمن کا شاگرد ) نفس و شیطان پر غالب ہوتا ہے اور دنیا اس کے پیچھے سرگردان اور پریشان رہتی ہے۔ دنیا اگرچہ جتنی بھی عجز و انکساری سے عرض کرے عارف باللہ اسے قبول نہیں کرتے۔ ایسا فقیر اویسی ، سروری و سرمدی سلسلہ سے تعلق رکھتا ہے اور اہل ِ انوار، اہل ِ دیدار، اہلِ بقا،اہل ِ لقا، اہل ِ باطن صفا، اہل ِ حیا ہوتا ہے جو مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری سے مشرف اور فنا نفس والا ہوتا ہے۔ اے جانِ عزیز! جاننا چاہیے :

اَلصِّدْقُ یُنْجِیْ وَالْکِذْبُ یُہْلِکُ حَقَّا ثُمَّ حَقَّا۔
ترجمہ: بیشک صدق نجات دلاتا ہے اور کذب ہلاک کرتا ہے۔ پس یہی حقیقت ہے۔

خدا کی عزت کی قسم! فقیر جو کچھ بولتا ہے حکم ِ خدا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان کے مطابق بولتا ہے نہ کہ خواہشاتِ نفس سے۔ اللہ تعالیٰ نے جب مجھے اور ارواح کو قدرتِ ازلی سے پیدا فرمایا تو اس وقت کرم اور فیض و فضل سے نوازا اور اسی روز دیدارِ ربّ العالمین سے مشرف فرمایا اور تب سے میں ذاتِ الٰہی کے لقا کی طرف متوجہ و مشغول اور نور میں غرق ہوں۔ اور ہر لمحہ اور ساعت اس کے دیدار میں غرق رہا اور ایک دم کے لیے بھی اس سے جدا نہ ہوا اور ازل میں خدا کے دائمی لقا سے مشرف ہوا اور دنیا میں تمام عمر دائمی لقا سے مشرف رہوں گا اگرچہ ظاہر میں لوگوں سے ہم کلام رہوں لیکن باطن میں دائمی دیدار سے مشرف رہتا ہوں اور قبر میں بھی ہمیشہ دیدار سے مشرف رہوں گا اور حشرگاہِ قیامت میں بھی ہمیشہ دیدار میں مشغول رہوں گا اور جنت میں بھی ہمیشہ دیدار میں مشغول رہوں گا۔ حور و قصور کی جانب دیکھنا مجھ پر حرام ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:

خُلِقَتِ السَّادَاتُ مِنْ صُلْبِیْ وَخُلِقَتِ الْعُلَمَآئُ مِنْ صَدْرِیْ وَخُلِقَتِ الْفُقَرَآئُ مِنْ نُوْرِ اللّٰہِ تَعَالٰی۔
ترجمہ: سادات کو میری صلب سے پیدا کیا گیا، علما کو میرے سینے سے اور فقرا کو نورِ الٰہی سے پیدا کیا گیا۔

فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ ط یَھْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ یَّشَآءُ(النور۔35)
ترجمہ: نور پر نور ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی طرف ہدایت دیتا ہے۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
اَلْاٰنَ کَمَا کَانَ۔
ترجمہ: جیسا وہ تھا ویسا ہی اب بھی ہے۔
کُلُّ شَیْئٍ یَرْجِعُ اِلٰی اَصْلِہٖ
ترجمہ: ہر شے اپنی اصل کی طرف رجوع کرتی ہے۔
ابیات:
اصل من نور است بادیدار نور
وصل من شد دائم باحق حضور
ترجمہ: میری اصل نور ہے اور میں نورِ دیدار میں غرق رہتا ہوں اس لیے میں ہمیشہ اللہ کے ساتھ وصل کی حالت میں اس کی حضوری میں رہتا ہوں۔
ہر کہ منکر از اصل وصل از خدا
کاذبی مردود گردد سر ہوا
ترجمہ: جو کوئی خدا کے وصل اور اپنی اصل (نور) کا منکر ہے وہ جھوٹا ہے اور خواہشاتِ نفس کی بدولت مردود ہو جاتا ہے۔
تصور، حضورِ حق اور مغفرت کے تصرف کا نور میرے وجود کے ساتوں اندام میں اس طرح شامل ہے جس طرح دودھ پانی میں۔ اگر میں نورِ حضور کو چھوڑنا بھی چاہوں تو نورِ حضور مجھے نہیں چھوڑتا۔ اگر میں دیدارِ انوار و تجلیات کی سوزش اور گرمی سے عاجز ہو جائوں اور اس سے گریز کرتے ہوئے نفس کے مطالب کی طرف متوجہ ہو جائوں تو نورِ حضور مجھ پر غالب آجاتا ہے۔ (اور مجھے ایسا کرنے سے روک دیتا ہے)۔ بیت:
ہر طرف بینم دہد دیدار خویش
ہر طرف بینم نماید پیش پیش
ترجمہ: میں جس طرف بھی دیکھتا ہوں وہ (اللہ) مجھے اپنا دیدار عطا کرتا ہے اور ہمیشہ میرے سامنے ہی رہتا ہے۔
میں عالم ِ علم ِ دیدار ہوں اس لیے (ہر طرف) نور دیکھتا ہوں اور علم ِ دیدار کے علاوہ دیگر علم، ذکر، فکر اور مراقبہ نہ جانتا ہوں اور نہ ہی پڑھتا ہوں کیونکہ تمام علوم اللہ کی جانب سے اس کے دیدار کی خاطر ہیں۔ جہاں دیدار ہوتا ہے وہاں نہ صبح و شام ہے نہ منزل و مقام۔ وہ لاھوت لامکان ہے جہاں اس بے مثل و بے مثال ذات کی معرفت اور وصال ہے کہ اسم اللہ ذات کے حروف سے انوار و تجلیات پیدا ہوتی ہیں اور ان انوار و تجلیات میں طالب کو لقا و دیدار عطا ہوتا ہے۔ یہمُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا کا مرتبہ فقر ہے۔
میں مشرفِ دیدار کے لائق کوئی طالب نہیں دیکھتا جسے علم ِ دیدار سکھائوں اور معرفت و دیدار عطا کروں۔ میں علم ِ دیدار کا سبق ہی جانتا اور پڑھتا ہوں۔ مجھے یہ مراتب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رفاقت، ان کے صحابہ کی رفاقت اور پنجتن پاک کی رفاقت اور برکت سے حاصل ہوئے ہیں۔ ان کا دشمن ہمیشہ خراب و ہلاک ہوتا ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی۔ (الشوریٰ۔ 23)
ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرما دیں کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اپنے اقارب کی محبت کے۔

فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

 قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (آلِ عمران۔31)
ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرما دیں اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تم سے محبت کرے تو میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ بے شک اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

ابیات:
کوشش بپوشم نماندم باچشم
باعیان دیدار بینم و ز کرم
ترجمہ: میں کوشش کرتا ہوں کہ اپنی آنکھیں بند کروں لیکن نہیں کر سکتا اور اللہ کے کرم سے بے حجاب عیاں دیدار کرتا ہوں۔
درمیانش کس نگنجد ہیچ کس
طالبان اللہ را اللہ بس
ترجمہ: اللہ اور اس کے طالبوں کے درمیان کوئی نہیں آ سکتا کیونکہ طالبانِ مولیٰ کے لیے بس اللہ ہی کافی ہوتا ہے۔
انوارِ ذات کی روشنی میں ہی دیدار ہوتا ہے۔ اس کے انوار کی روشنی کے بغیر دیدار ممکن نہیں کیونکہ انوار بے مثل ہیں اور اس نور کی معرفت اللہ کا وصال عطا کرتی ہے۔ تجلیات کئی قسم کی ہیں بعض تجلیات نور اور بعض تجلیات نارِ شیطانی ہیں۔ ان انوار میں طالب کلمہ طیبہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ  اور سِرِّھُوْ سِرِّھُوْ سِرِّھُوْ ہُوَالْحَقُّ لَیْسَ فِی الدَّارَیْنِ اِلَّا ہُوْ کی آواز سنتا ہے جبکہ تجلیاتِ نار میں کافر اہل ِ زنار اور بت پرست ہیں جو شرک و کفر کو ظاہر کرتے ہیں اور معرفت ِ پروردگار سے محروم ہیں۔ بیت:

 

حق را بردار باطل را گذار
این وجود بود لائق شد دیدار
ترجمہ: حق کو اختیار کرو اور باطل کو ترک کر دو پھر یہ وجود لائق ِ دیدار ہوگا۔
ہر دمی گویم محمدؐ یا نبیؐ
این مراتب عارفان بر دین قوی
ترجمہ: میں ہر سانس کے ساتھ یا محمد یا نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پکارتا ہوں۔ یہ ان عارفین کے مراتب ہیں جو دین پر قوی ہیں۔
راہِ حضوری میں زبان سے کیے جانے والے ذکر اور فکر تکبر پیدا کرتے ہیں اور توحید ِ الٰہی کے تصور سے دور کر کے خواہشاتِ نفس میں مبتلا کرتے ہیں۔
از قبر باھُوؒ میبرآید ھُو آواز
راہِ حضوری را بود از اہل راز
ترجمہ: باھُوؒ کی قبر سے ذکر ِھُو کی آواز آتی ہے کیونکہ راہِ حضوری کے مراتب اہل ِ راز سے حاصل ہوتے ہیں۔
جو کوئی مدرسہ حضوری میں اللہ سے خفیہ طریقے سے علم پڑھتا ہے اسے ظاہری طور پر علم پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
مَنْ عَرَفَ رَبَّہٗ فَقَدْ کَلَّ لِسَانَہٗ
ترجمہ: جو اپنے ربّ کو پہچان لیتا ہے پس تحقیق اس کی زبان گونگی ہو جاتی ہے۔
سکوت میں کیے جانے والے تصور سے اللہ کے فیض و فضل کا نعم البدل حاصل ہوتا ہے جو طالب کو خطرات و خلل سے باہر نکال لیتا ہے۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔ جان لو کہ ذکر کے دو گواہ ہیں ایک یہ کہ ذکر کی تاثیر سے ذاکر روشن ضمیر ہو کر عیان دیدار کرتا ہے۔ ذکر کا دوسرا گواہ یہ ہے کہ ذاکر صاحب ِ نگاہ ہو جاتا ہے۔ فکر کے بھی دو گواہ ہیں۔ ایک یہ کہ فکر سے نفس فنا ہوتا ہے دوسرا یہ کہ تفکر کرنے والا مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں دائمی طور پر حاضر رہتا ہے۔ جو ذاکر ذکر کی تاثیر سے باعیاں ہو کر صاحب ِ نگاہ نہیں بنتا اور فکر سے مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر نہیں ہوتا اس کا ذکر زوال کے خطرات سے دوچار ہے اور ایسا فکر فتنہ نفس اور وہمات کا شکار ہے۔ ایسا طالب (اصل) ذکر فکر جو اللہ کی معرفت عطا کرے‘ سے بے خبر ہے۔ (جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں