شرح.. اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ—

شرح ۔اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ

تحریر:فائزہ گلزار سروری قادری۔ لاہور

کوئی شخص جب سفر کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی ایک متعین منزل اور مقام ہوتا ہے جس کی طرف وہ بڑھتا ہے اور کسی دوسری جانب رُخ نہیں کرتا اسی طرح جب ایک طالبِ مولیٰ راہِ فقر پر قدم رکھتا ہے تو اس کا مطلوب اللہ پاک کی ذات کی معرفت اور قرب و وِصال ہوتا ہے اور اس راہ کی آخری منزلاِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ ہے یعنی جہاں فقر مکمل ہوتا ہے وہیں اللہ ہوتا ہے۔ حدیثِ قدسی ہے:
ترجمہ:’’ جو میری طلب کرتا ہے وہ مجھے پا لیتا ہے اور جو مجھے پالیتا ہے وہ میری معرفت حاصل کر لیتا ہے اور جو میری معرفت حاصل کر لیتا ہے اسے مجھ سے محبت ہوجاتی ہیں اور جو مجھ سے محبت کرتا ہے اسے میرے ساتھ عشق ہوجاتا ہے اور جسے میرے ساتھ عشق ہو جاتا ہے میں اسے قتل کر دیتا ہوں اور جسے میں قتل کرتا ہوں اس کی دیت مجھ پر لازم ہوتی ہے اور اس کی دیت میں خود ہوں۔ (عین الفقر)
حدیثِ مبارکہ اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ (جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے وہیں اللہ ہوتا ہے) میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
* ’’جب طالب فقر کی انتہا پر پہنچ جاتا ہے تو جملہ صفاتِ الٰہی سے متصف ہو کر انسانِ کامل کے مرتبہ پر فائز ہو تا ہے۔ اس مرتبہ پر صاحبِ فقر کی اپنی ہستی ختم ہو جاتی ہے یہ وہ مقام ہے جہاں میں اور تو کا فرق مٹ جاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے یکتائی کے اس مرتبہ پر فائز ہو جاتا ہے جہاں دوئی نہیں ہوتی۔‘‘
اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ کے مقام کو اس طرح بیان کرنا کہ کوئی تشنگی نہ رہے‘ آسان نہیں ہے۔ یہ وہ مقام ہے جس کی ابتدا تو ہے لیکن انتہا نہیں ہے ۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:

* گر بگویم فقرش را تمام
احتیاجی نیست فقرش را مقام
ترجمہ: اگر میں فقر کی مکمل شرح بیان کروں تو وہ یوں ہے کہ فقر کو کسی مقام و منزل کی حاجت ہی نہیں۔ (نورالہدیٰ)
انتہائے فقر تک پہنچنے کے تمام مراتب آپ ؒ یوں بیان فرماتے ہیں:
* ’’سن اے طالبِ جاں فدا،سن اے مرشد فیضِ فقر نما کہ ایک فرمان کے مطابق فقر کی انتہا صبر اور رضا میں ہے لیکن اس پر بھی غرور نہ کر بلکہ اس سے آگے نکل جا۔فقر کی انتہا کیا ہے؟ فقر کے چار مراتب ہیں اوّل یہ کہ فقیر ہمیشہ تصور اسم اللہ ذات میں غرق رہتا ہے، دونوں جہان اس کے زیرِ قدم ہوتے ہیں اور جملہ فرشتے اس کے تابع فرمان غلام ہوتے ہیں۔ یہ بہت بڑا درجہ ہے لیکن یہ بھی خام مرتبہ ہے اس پر مغرورنہیں ہونا چاہیے بلکہ اس سے آگے بڑھنا ضروری اور فرضِ عین ہے ۔فقر کا ایک درجہ یہ بھی ہے کہ فقیر ایک ہی نظر میں عرش سے تحت الثریٰ تک تمام مقامات طے کر جاتا ہے، ایک ہی نگاہ سے قبروں کے مردوں کو زندہ کر سکتا ہے، لوحِ محفوظ کو ہمیشہ اپنے زیر مطالعہ رکھتا ہے اور لوگوں کو ان کے نیک وبد احوال سے آگاہ کر سکتا ہے،ہمیشہ نمازِپنج گانہ حرمِ کعبہ میں ادا کرتا ہے، حلال کھاتا ہے اور حرام سے بچتا ہے۔ یہ بھی فقر کا بہت بڑا درجہ ہے لیکن ہے یہ بھی خام‘اس پر بھی مغرور نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس سے آگے بڑھنا ضروری اور فرضِ عین ہے کہ یہ تمام مراتب ناسوتی ہیں۔ اس درجہ کا فقیر محتاج ہوتا ہے جب کہ کامل فقیر لایحتاج ہوتاہے اور لایحتاج فقیر وہ ہے جسے سات خزانے اور سات معراج کا مشاہدہ حاصل ہو۔ حضور علیہ الصلوٰہ والسلام کا فرمان ہے: ’’اَلْفَقْرُ لَا یحْتَاجُ اِلَّا اِلَی اللّٰہِ‘‘ (ترجمہ: فقر سوائے اللہ کے کسی کا محتاج نہیں)۔
سات خزانوں کا تعلق سات معراجوں سے ہے۔اوّل معراجِ علم، دوم معراجِ حلم، سوم معراجِ صحبت، چہارم معراجِ معرفت، پنجم معراجِ مشاہدہ قربِ حضور، ششم معراجِ مجلسِ انبیا و اولیا اللہ، ہفتم معراجِ فقر، یہ ہیں مراتبِ فقر کہ جس کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے :
*اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ
ترجمہ: ’’جب فقر کی تکمیل ہوتی ہے وہیں اللہ ہوتا ہے۔‘‘
اس مرتبے پر کوئی صرف اپنی کوشش کی بنا پر نہیں پہنچ سکتا بلکہ سب سے پہلے یہ فضلِ الٰہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی طالب کو اپنی طرف آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ نور الہدیٰ میں فرماتے ہیں:
باھوؒ فقر را دریافتہ از مصطفیؐ
واقفِ اسرار شد فضل از اِلٰہ
مفہوم: باھوؒ نے نعمتِ فقر کو بارگاہِ مصطفی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پایا اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے محرمِ اسرارہوا۔‘‘
فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
ترجمہ:’’ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ عظیم فضل کا مالک ہے۔‘‘
ہزاروں ہزار و بے حد و بے شمار لوگ فقر کے نام سے واقف ہوئے لیکن ہزاروں میں سے کوئی ایک ہی فقر کے کمال تک پہنچا ، فقر کو حاصل کیا، فقر کو دیکھا اور فقر کی لذت سے لطف اندوز ہوا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے: جب فقر کی تکمیل ہوتی ہے وہیں اللہ ہوتا ہے۔ (نورالہدیٰ)
فضلِ الٰہی کے ساتھ جو کام نہایت اہم ہے وہ ذکرو تصوراسمِ اللہ ذات ہے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
* اسم اللہ جس کی روح میں اتر جاتا ہے وہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتا ہے اور کبھی نہیں مرتا ۔ اس کے لیے فرمایاگیا ہے:’’ بے شک اولیا اللہ ہرگز نہیں مرتے۔‘‘ وہ رہتا اِس جہان میں ہے اور کام اُس جہان کے کرتا ہے۔ اسم اللہ جس کے سرّ میں جاری ہو جاتا ہے اسے خلوت کی حاجت نہیں رہتی کہ وہ اسرارِ الٰہی کی خلعت اپنے تن پر سجا لیتا ہے یعنی ظاہر و باطن میں اسم اللہ اس کے سر سے قدم تک اس طرح لپٹ جاتا ہے کہ ایسے فقیر کے بارے میں فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ’’بے شک میرے وہ اولیا بھی ہیں جو میری قبا میں چھپے رہتے ہیں انہیں میرے علاوہ او ر کوئی نہیں جانتا۔‘‘ اس مرتبے پر وہ آدمی پہنچتا ہے جس پر اسم اللہ کی برکت سے فیض و فضلِ اللہ کھل جائے ، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اسے دستِ بیعت فرمالیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عطا سے اسے قبا ئے الٰہی میں پوشیدگی کا مرتبہ نصیب ہو جائے اور وہ فقر کے مرتبہ کمال پر پہنچ جائے۔ ایسے فقیر کا تمام وجود نور ہو جاتا ہے پھر اس کے وجود میں غیر داخل نہیں ہوسکتا اور وہ لوگوں کا ہم مجلس ہونے کے باوجود خضرؑ کی طرح ان کی نظروں سے پوشیدہ رہتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)
لیکن یہ مرتبہ ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتا اس مقام تک پہنچنے کے لیے خلوص،عشق،استقامت،صبر،وفا،قربانی اور تسلیم و رضا جیسے اعلیٰ اوصاف کی ضرورت ہوتی ہے بندے کی قدم قدم پر دین و دنیا کی نعمتوں سے آزمائش ہوتی ہے اور کامیاب صرف وہی ہوتاہے جس کی نگاہ نہ بہکتی ہے اور نہ حد سے بڑھتی ہے۔
حضرت سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
* فقیرِ محمدی ؐ راہِ فقر فنا فی اللہ میں استقامت و مضبوطی سے قدم رکھتا ہے کہ اس کے سر پر فقر کا نام ہے اور فقر کے سرپر اللہ کا نام (اسم اللہ ذات) ہے۔ یعنی فقر ا اسم اللہ ذات سے شہباز بنتے ہیں راہِ فقر میں اگر کوئی ثابت قدم رہتا ہے تو وہ صاحبِ رازِ حقیقی بن جاتا ہے۔ اگر کوئی فقر اور اسم اللہ ذات سے برگشتہ ہوتا ہے اور ہمت و استقامت کو چھوڑ کر دنیا و اہل دنیا کی طرف مراجعت کرتا ہے تو وہ مرتبہ شہبازئ فقر اور راز سے منہ موڑتا ہے وہ گویا چیل ہے جس کی نظر مردار پر اٹکی ہوئی ہے اس لیے وہ دونوں جہان میں ذلیل و خوار ہے۔ (نورالہدیٰ )
آپؒ ذکر و تصور اسم اللہ ذات کے ساتھ مرشد کامل اکمل کی غلامی کو لازم و ملزوم قرار دیتے ہیں ۔آپ ؒ فرماتے ہیں۔
* یہ راہِ فقر ہے جو نہایت ہی مشکل ہے لہٰذا اس کے لیے مشکل کشا مرشد ہونا چاہیے۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے: ’’اس راہ میں قدموں کے بجائے سر کے بل چلنا پڑتا ہے ۔‘‘ اے صاحبِ مجاہدہ! آنکھیں کھول اور خوابوں کی دنیا سے نکل کہ باطن میں دیدارِ حق کے لیے صاحبِ مشاہدہ کو بیداری دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ (محک الفقر کلاں)
’’ عقلِ بیدار‘‘ میں آپ ؒ فرماتے ہیں:
* مرشدِ کامل علم معرفتِ اللہ حضوری کا منصب اپنی توجہ سے سینہ بہ سینہ، نظر بنظر، قلب بقلب، روح بروح اور سِرّ بسِّر ، عطا کرتا ہے۔ اس کی ایسی تلقین بالیقین کی ایک ہی توجہ سے طالب روشن ضمیر ہو کر اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہِ کے مراتب پر پہنچ کر دونوں جہان کا امیر اور لا یحتاج فنا فی اللہ فقیر بن جاتا ہے۔
’’نور الہدیٰ ‘‘ میں آپ ؒ فرماتے ہیں:
* فقر کا یہ کمال مجاہدہ و ریاضت سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ نگاہِ محمدی ؐ سے اس شخص کو حاصل ہوتا ہے جسے مرشدِ کامل اپنی توجہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں پہنچا کر ان کی نگاہِ کرم سے یہ منصب و مرتبہ دلوا دیتا ہے۔
فقر کے اس انتہائی مرتبہ ’’اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ‘‘تک پہنچنا صرف سلسلہ سروری قادری میں ممکن ہے ۔ آپؒ فرماتے ہیں:
* ’’ یاد رہے کہ دوسرے ہر طریقے میں رنجِ ریاضت کی آفات ہیں لیکن طریقہ قادری میں تصور اسمِ اللہ ذات کے ذریعے پہلے ہی روز غرق فنا فی اللہ کا مرتبہ نصیب ہوتا ہے قادری طریقہ آفتاب کی مثل ہے اوردوسرے طریقے چراغ کی مثل ہیں۔‘‘
آپ ؒ نے ساتھ ہی اس بات کی وضاحت بھی فرمادی کہ تمام قادری کہلوانے والے اس مرتبہ کے مالک نہیں بنتے آپ ؒ فرماتے ہیں:
* ’’اکثر وساوسِ شیطانی اور خطراتِ نفسانی میں گھرے ہوئے جاسوس قسم کے طالب حیلے بہانے سے قادری طریقے کی خلافت حاصل کرلیتے ہیں جس سے وہ ظاہر میں بامقصد نظر آتے ہیں لیکن باطن میں مردود ہوتے ہیں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں ہر طریقہ کی خلافت حاصل ہے لیکن قادری کو ایسا دعویٰ کرنے سے صد حیا اور ہزارشرم آتی ہے۔ طریقہ قادری کا طالب مرید کسی دوسرے طریقے سے التجا کرتا ہے نہ کوئی غرض رکھتا ہے طریقہ قادری کا طالب مرید نَر شیر کی مثل ہوتا ہے وہ لومڑیوں کو ہرگز منہ نہیں لگاتا۔ طالب مرید قادری بلند پرواز شہبازِ قدس کی مثل ہوتا ہے وہ چیل کا ہم نشیں کبھی نہیں ہوتا ، طالب مرید قادری مست اونٹ کی مثل ہوتا ہے جو خار کھاتا ہے اور بار اٹھاتا ہے۔‘‘ (نور الہدیٰ)
ایک اور مقام پر آپؒ فرماتے ہیں:
* تمامیت فقر، کاملیت فقر، معرفتِ فقر، قرب حضورِ فقر اور مشاہدۂ انوارِ دیدارِ فقر طریقہ قادری میں پایا جاتا ہے اگر کوئی دوسرا طریقہ اس کا دعویٰ کرے تو وہ لاف زن ہے، جھوٹا ہے ، مردہ دل اور اہل حجاب ہے لیکن کامل قادری جہان میں بہت کم ہی ملتا ہے کامل قادری آفتاب کی طرح روشن و فیض بخش ہوتا ہے۔ کامل قادری کون ہوتا ہے اس کے متعلق آپؒ فرماتے ہیں:
’’ کامل قادری کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے طالب مرید کو محض زبانی تعلیم و تلقین و ارشاد نہیں بلکہ باطنی توجہ سے حاضراتِ اسم اللہ ذات اور کنہ کلمہ طیب’’ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ کے ذریعے مجلسِ نبویؐ میں داخل کرتا ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تعلیم و تلقین منصب و ہدایت و ولایت اور حکم و اجازت سے سرفراز کر ا دیتا ہے اور خود کو درمیان میں لائے بغیر اپنے طالب مرید کو خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سپر د کر دیتا ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے۔
’’میں نے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا ہے بے شک اللہ اپنے بندوں کی نگہبانی فرماتا ہے ۔‘‘ جو آدمی خود کو کامل قادری کہلواتا ہے لیکن باطن میں طالب مرید کو مجلسِ محمدی ؐ میں پہنچانے کا طریق با توفیق نہیں جانتا اور اسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فیض نہیں دلواسکتا تو وہ نہ تو کامل قادری کی راہ جانتاہے اور نہ ہی قربِ حقیقی سے واقف ہے۔ کامل کی تلقین سے طالب کا مطلب تمام ہوجاتا ہے لیکن ناقص سے تلقین حاصل کرنا طالبِ اللہ پر حرام ہے۔‘‘ (نورالہدیٰ)
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کامل قادری مرشد بہت نایاب ہوتے ہیں اور ان کے در تک صرف وہی پہنچ سکتے ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی طلب ہو ، مقدر کے دھنی ہوتے ہیں وہ لوگ جو کامل مرشد کے در تک پہنچ جاتے ہیں اور ان کی صحبت میں فقر کی منازل طے کرتے ہیں یقیناًاِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ کے مقام تک ہر طالب نہیں پہنچتا لیکن یہ رویہ بھی قطعاً درست نہیں کہ بندہ اللہ کی جانب سفر ہی نہ کرے۔ کامل سروری قادری مرشد کی یہ شان ہوتی ہے کہ اس کے در پر کوئی بدبخت اور شقی القلب بھی آجائے تو وہ اللہ کی بارگاہ سے اس کے لیے محبوبیت کا کوئی نہ کوئی درجہ ضرور دلوادیتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ طالب مرشد کے ساتھ خلوص اور وفا ثابت کرے۔
’’ اگر تو آئے تو دروازہ کھلا ورنہ حق بے نیاز ہے۔‘‘
فقرا کی بات قربِ حضوری سے امر کن کی بات ہوتی ہے یعنی فقیر اگر کسی کام کے لیے کہہ دے ہوجاتو اللہ کے حکم سے جلد یا بدیر وہ کام ہو کر رہتا ہے چاہے وہ اسی وقت ہو جائے یا قیام قیامت تک سالوں بعد ہو جائے کیونکہ فقیر کی بات ہر گز ردّ نہیں ہوتی۔ جو فقیر قربِ اللہ حضور میں فنا فی اللہ ہو کر کنہ کن کے لامحدود مرتبے پر پہنچ جائے اس کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے ’’فقرا کی زبان رحمن کی تلوار ہے‘‘۔ ایسے فقیر طریقہ قادری میں پائے جاتے ہیں کہ جن کا ظاہر محبوب ، باطن مجذوب ظاہر ہوشیار اور باطن مصروفِ دیدار ہوتا ہے۔
بندۂ مومن کی کامیابی اسی میں ہے کہ اگرمرشد کامل اکمل مل جائے تو اس کے در سے وابستہ ہو جائے اور ہر ممکن حد تک اتباع کی کوشش کرے۔اس مقام پر یقیناًہر طالب نہیں پہنچتا لیکن یہ سوچ بھی قطعاً درست نہیں کہ بندہ یہ سوچ کر سفر ہی ترک کر دے کہ اس منزل تک پہنچنا ممکن نہیں ہے ۔ہر روح کا ایک مقام متعین ہے اور ہر طالب پر فرض ہے کہ کم از کم اس مقام اور منزل تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
تیریؐ معراج کہ تو لوح و قلم تک پہنچا
میری معراج کہ میں تیرےؐ قدم تک پہنچا

اپنا تبصرہ بھیجیں