اقبالؒ کا مردِ مومن اور دورِ حاضر Iqbal ka Mard e Momin aur Daur e Hazir

Rate this post

 اقبالؒ  کا مردِ مومن اور دورِ حاضر
 Iqbal ka Mard e Momin aur Daur e Hazir

تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری (لاہور)

علامہ محمد اقبالؒ نامور صوفی بزرگ، شاعر، فلسفی، عارف، مفکر اور عاشقِ رسولؐ تھے۔ عارف کا کلام صاحبِ معرفت کے قلب پر ہی اپنے حقیقی معنوں اور رنگ کے ساتھ آشکار ہوتا ہے۔ اس ضمن میں حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:

عارف دی گل عارف جانے، کیا جانے نفسانی ھوُ

علامہ اقبالؒ کا کلام آفاقی ہے۔ ہر دور اور ہر زمانے کے لوگ اپنی باطنی استعداد کے مطابق اس سے معنی اخذ کرتے ہیں۔ اس بات کی عین وضاحت یہی ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی علامہ اقبالؒ کے کلام پر ہر روز نئی ریسرچ منظرِعام پر آرہی ہے۔ ان کا یہ آفاقی شعر ملاحظہ کیجیے:

بمصطفیٰؐ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست

اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است

ترجمہ: تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک خود کو پہنچا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ  والسلام کی ذات ہی مکمل دین ہے۔ اگر تو ان تک نہیں پہنچتا تو تیرا سارا دین ابو لہب کا دین ہے۔  

علامہ اقبالؒ نے کئی موضو عات کو اپنے کلام کا حصہ بنایا لیکن ایک نقطہ جس کے گرد ان کا تمام کلام گردش کرتا نظر آتا ہے وہ عشقِ مصطفیؐ ہے اور یہ کہ ان کی تمام فکر قرآنِ کریم اور سنتِ نبویؐ کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ علامہ اقبالؒ کی فکر کا ایک موضوع ’مردِ مومن‘ ہے اس کو بھی آپ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان فرمایاہے۔ ڈاکٹر محمد طاہر القادری لکھتے ہیں:

علامہ اقبالؒ نے اپنے کلا م میں ’مردِ مومن‘ کا نظریہ پیش کیا ہے وہ قرآنِ کریم کی اصطلاح ’القوی الامین‘ کی ترجمانی کرتا ہے۔ (اقبال کا مردِ مومن)

مردِ مومن کے لیے دیگر صوفیا و فقرا نے ’انسانِ کامل‘ اور ’فقیرِکامل‘ کی اصطلاحات بھی استعمال کی ہیں۔ فقر کی اصطلاح میں مردِ مومن، انسانِ کامل، فقیرِکامل، مردِ قلندر سے مراد وہ ہستی ہے جو تمام صفاتِ الٰہیہ سے متصف ہو اور اس میں جلوۂ حق منورہو جائے، نائبِ رسولؐ ہو اور نیابتِ الٰہی کے فرائض سر انجام دیتے ہوئے لوگوں کو دینِ حق اور صراطِ مستقیم سے ہمکنار کرے۔ مرتبہ انسانِ کامل فقر میں سب سے اعلیٰ و ارفع مقام ہے۔ اس سے بلند مرتبہ اور کوئی نہیں۔ اگر یوں کہا جائے کہ یہی مرتبہ تمام مراتب کا جامع ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ تمام انسانوں میں سب سے کامل و اکمل انسان، انسانِ کامل حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام ہیں۔ آپؐ کے بعد آپؐ کے نائبین کو یہ مرتبہ آپؐ کے وسیلہ سے حاصل ہوتا ہے۔  

موجودہ دور کے انسانِ کامل ا ور مردِ مومن سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ علامہ اقبال ؒ نے مردِ مومن کی جو صفات قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان فرمائی ہیں وہ تمام آپ مدظلہ الاقدس کی شخصیت کا خاصہ ہیں۔ آپ نفس کا تزکیہ اور قلب کا تصفیہ کرتے ہیں۔ دل کو زندہ اور اور روح کو بیدار کر کے ’’محرومِ تماشہ کو دیدۂ بینا‘‘ جیسی نعمت سے سرفراز فرمانے والے بھی آپ ہیں۔ آپ ہی بھٹکے ہوؤں کو سوئے حرم لے جانے والے ہیں، آپ ہی قلب کو وسعتِ صحرا دینے والے، دلِ ویراں میں شورشِ محشر برپا کرنے والے، موجودہ دور کی ظلمت میں ہر قلبِ پریشان کو دردِ محبت سے آشنا کرنے والے، خوداریٔ ساحل دینے والے، آزادیٔ دریا دینے والے، بے لوث محبت و بیباک صداقت عطا کر کے سینوں میں اجالا کرنے والے، اِمروز کی شورش میں اندیشۂ فردا دینے والے ہیں۔ الغرض آپ ہی ہر محتاج کے داتا ہیں۔ 

 

صفاتِ مردِ مومن اور دورِ حاضر

علامہ اقبالؒ نے مردِ مومن کی جو صفات بیان کی ہیں ان میں سے چند کا ذکر یہاں کیا جارہا ہے۔ اقبالؒ فرماتے ہیں:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں ’دیدہ ور‘ پیدا

یہ اللہ کا احسان ہے کہ 19 اگست9 195ء کو سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس اس عالمِ ناسوت میں جلوہ افروزہوئے اور اس چمن کا ’دیدہ وَر‘ بن کر ہر دکھی دل کا مداوا اور فقرِحقیقی کی نعمت سے باطن کو منور کیا ہے۔ 

عمرہا در کعبہ و بت خانہ می نالد حیات

تا ز بزمِ عشق یک دانائے راز آید بروں

ترجمہ: برسوں زندگی کبھی کعبہ میں کبھی بت خانہ میں روتی ہے تب جا کر عشق کے پردے سے ایک دانائے راز (انسانِ کامل) باہر نکلتا ہے۔

عاشقوں کے امام سلطان العاشقین ہی دانائے راز ہیں جو عشقِ حقیقی کی کنہ سے واقف ہیں اور فقر کی نعمت سے عوام الناس کو مالا مال فرما رہے ہیں۔ 

 

تسخیرِحیات و تسخیر ِکائنات:

بقول اقبالؒ:

مردِ میدان زندہ از اللہ ھوُ است

زیر پائے او جہانِ چار سو است 

ترجمہ: مردِ میدان (انسانِ کامل) اللہ ھوُ (اسمِ ذات) سے زندہ ہے اور یہ جہانِ چار سو اس کے قدموں کے نیچے ہے۔

یہ انسانِ کامل کی صفت ہے کہ وہ تسخیر ِکائنات و حیات کی قوت رکھنے والا امام الوقت ہوتا ہے۔ زمانے کی باگ ڈور اس کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ وہ نئی دنیا پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ 

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا!

نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشد پاک سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کے اس ظاہری دنیا سے پردہ کرنے کے بعد 26 دسمبر 2003ء کو سلسلہ سروری قادری کی مسندِتلقین و ارشاد سنبھالی اور 14اگست 2005ء کو طالبانِ مولیٰ کو بیعت کرنے کا آغاز فرمایا۔ دینِ حنیف کے احیا اور فقر ِحقیقی کی طرف امتِ محمدیہ کو دعوت دینے کے لیے آپ مدظلہ الاقدس نے جو اقدامات اٹھائے ہیں انہوں نے فقر کی تاریخ میں انقلاپ برپا کر دیا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس سروری قادری مرشد کامل اکمل ہیں۔ سروری قادری مرشد جامع و مجمل صفاتِ الٰہیہ کا مرکز ہوتا ہے، تسخیرِ کائنات اور تسخیرِحیات کی نعمت سے بہرہ مند ہوتاہے۔ سروری قادری مرشد کے متعلق حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:

عارف کامل قادری بہر قدرتے قادر و بہر مقام حاضر

ترجمہ: عارف کامل قادری (صاحبِ مسمی مرشد کامل سروری قادری) ہر قدرت پر قادر اور ہر مقام پر حاضر ہوتا ہے۔ 

 

جذبۂ عشق:

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر 

تسخیرِکائنات اور حیات کی قوت عاشقان کو ہی نصیب ہوتی ہے۔  خدائے بزرگ و برتر نے جذبۂ عشق میں ہی یہ نعمت پوشیدہ رکھی ہے۔ جو جذبۂ عشق سے سرشار ہو کر ’من و تو‘ کا فر ق مٹا دیتا ہے اور محبوبِ حقیقی کی خاطرجان کی بازی لگا دیتا ہے وہی قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کرتا ہے، اسی کے وجود سے دہر میں اسمِ محمدؐ سے اجالا ہوتا ہے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس عاشقوں کے سلطان ہیں۔ راہِ عشق میں آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشد پاک کی خدمت و اطاعت اور راہِ فقر کو دنیا بھر میں عام فرمانے کے لیے جو ظاہری و باطنی قربانیاں دی ہیں وہ طالبانِ مولیٰ کے لیے مثال ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کے جذبۂ عشق کو دیکھتے ہوئے آپ کے مرشد پاک سلطان الفقر ششمؒ نے فرمایا’’نجیب بھائی کا تو یہ حال ہے سرِتسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے۔‘‘   

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشد کی عطا کی گئی ہر دیوٹی کو انتہائی خوش اسلوبی سے سر انجام دیا اور کبھی کسی جانی و مالی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ زندگی بھر کی جمع پونجی اپنے مرشد کے قدموں پر نچھاور کر دی اور آج بھی آپ مدظلہ الاقدس اپنے مرشد کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے ہر وقت مصروفِ عمل ہیں۔ علامہ اقبالؒ کے روحانی مرشد و پیشوا مولانا رومؒ ہیں۔ آپؒ نے بھی عشق کو ہی راہِ فقر کی کلید قرار دیا ہے۔ عشق کے بغیرکسی معرکہ میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ عشقِ حقیقی ہی معرفتِ حق تعالیٰ کے لازوال سفر کی جانب رہنمائی کرتا ہے۔ جذبۂ عشق کے بغیر زندگی اور موت برابر ہیں۔ جذبۂ عشق کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔ علامہ اقبالؒ عشقِ حقیقی کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی

نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق

عقل و دل و نگاہ کا مرشدِ اولیں ہے عشق

عشق نہ ہو تو شرع و دیں بت کدہِ تصورات

علامہ اقبالؒ نے مردِ مومن کی جو صفات بیان کی ہیں ان میں جذبۂ عشق سے سرشاری اس کی نمایاں صفت ہے۔ مردِ مومن عشقِ حقیقی کا پیکر ہوتا ہے۔ عشق ہی اس کا دین، عشق ہی اس کی حیات، عشق ہی اس کا شعار ہوتا ہے۔  

صدقِ خلیل بھی ہے عشق، صبرِحسینؓ بھی ہے عشق

معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق

توڑ دیتا ہے بت ہستی کو ابراہیمِ عشق

ہوش کا دارو ہے گویا مستی تسنیم عشق

 

اخلاقِ حسنہ کا پیکر:

مردِ مومن اخلاقِ حسنہ کا نمونہ ہوتا ہے۔ ’جلال و جمال‘ ربِ ذوالجلال کی صفات ہیں اور جو جس قدر اللہ کے قرب اور معرفت کے نور کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اسی قدر اس میں یہ صفات نمایاں ہوتی جاتی ہیں۔ اقبالؒ فرماتے ہیں:

 

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

مردِ مومن کی نشانی ہے کہ جب وہ اہلِ دل حضرات یا دوستوں کی محفل میں ہوتا ہے تو اس کا اخلاق دیدنی ہوتا ہے گویا ریشم کی طرح نرم ہوتا ہے اور اگر دشمن اس کے مدِمقابل ہو تو ان پر قہر بن کر ٹوٹتا ہے۔ حق و باطل کے معرکہ میں اس کی مثال مضبوط چٹان کی ہے جو بہادری و استقلال اور شجاعت کے ساتھ اپنے مقصد پر قائم رہتا ہے اور ہمیشہ دین ِحق کو سر بلند رکھنے کے لیے تگ و دو کرتا رہتا ہے۔ اس کی تلوار حق کا منہ بولتا ثبوت ہوتی ہے جس سے وہ دشمنوں کو نیست و نابود کر دیتا ہے۔ ایسے بلند و بالا اور شجاعت و بہادری کے پیکر کو سلام۔

ان کی ہر ہر ادا سنتِ مصطفیؐ

ایسے پیر طریقت پہ لاکھوں سلام  

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس حسنِ اخلاق کے اعلیٰ ترین مرتبہ پر فائز ہیں۔ تصنیف ’سلطان العاشقین‘ میں بڑے خوبصورت انداز میں آپ مدظلہ الاقدس کی شخصیت کا خاکہ کھینچا گیا ہے: 

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے اوصاف اخلاقِ نبویؐ کا عین نمونہ و عکس ہیں اور اس حقیقت کے غماز ہیں کہ آپ مدظلہ الاقدس مکمل طور پر قدمِ محمدؐ پر ہیں۔ راست بازی، تحمل و بردباری، عجز و انکساری، صبر و استقامت، ایفائے عہد، ادب و حیا، فہم و فراست، اعلیٰ ظرفی، بلند حوصلگی اور قوتِ برداشت آپ مدظلہ الاقدس کے نمایاں اوصاف ہیں۔ ’کرم‘ آپ مدظلہ الاقدس کی نگاہ کا دوسرا نام ہے، ’شفقت‘ کا لفظ آپ کے حسنِ عمل کوبیان کرنے کے لیے ناکافی ہے اور ’احسان‘ آپ کے حسنِ اخلاق کی حقیقت ہے۔ سرتاپا حسن و خوبی اور سرتاپا لطف و کرم آپ مدظلہ الاقدس ہی کی بابرکت ذات ہے۔ (بحوالہ کتاب سلطان العاشقین)

آپ مدظلہ الاقدس کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ بلاشبہ مردِ مومن کی ہی ہو سکتی ہیں۔ درحقیقت آپ مدظلہ الاقدس علامہ اقبالؒ کی اس نظم کی مکمل تفسیر ہیں:

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن

گفتار میں، کردار میں، اللہ کی برہان

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن

قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو، وہ شبنم

دریائوں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان 

 

تقویٰ اور عاجزی:

مردِ مومن کا وصف تقویٰ اور عاجزی ہے۔ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ  (سورۃ الحجرات۔ 13)

ترجمہ: بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سے عزت والا وہ ہے جو تقویٰ رکھتا ہے۔

 مردِ مومن کی اس صفت کو سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی شخصیت میں بخوبی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس تقویٰ و بزرگی کی اعلیٰ مثال ہیں۔ انتہائی بلند مرتبہ و مقام رکھنے کے باوجود آپ نے ہمیشہ عاجزی و انکساری کو اپنا شعار بنایا۔ عاجزی و انکساری کا یہ عالم ہے کہ مرتبہ سلطانی کے شرف سے مشرف ہونے کے باوجود اپنے مرشد کریم سے عشق اور ان کی بارگاہ میں عاجزی کے اظہار کے لیے خود ’’خادم سلطان الفقر‘‘ کا لقب اپنے نام کا حصہ بنایا۔ یہ لقب آپ مدظلہ الاقدس کے مرشد حضرت سخی سلطان محمد اصغرعلیؒ کے وصال کے تقریباً تیرہ سال تک آپ کے نام کا حصہ رہا۔ آپ کے جذبۂ عشق کو دیکھتے ہوئے مجلسِ محمدی ؐسے آپ کو ستمبر 2012ء میں ’’سلطان العاشقین‘‘ کا لقب عطا کیا گیا ہے اور اب یہی لقب آپ کے نام کا حصہ ہے۔

 

مردِ مومن کا باطن:

مردِ مومن کا باطن آئینۂ رحمن ہوتا ہے۔حدیثِ مبارکہ ہے:

اَلْمُوْمِنُ مِرْاٰۃُ الرَّحْمٰنِ

ترجمہ: مومن رحمن کا آئینہ ہے۔

اس حقیقت کی تصدیق آپ مدظلہ الاقدس کا ہر وہ طالب کر سکتا ہے جو طلبِ مولیٰ میں مخلص اور صادق ہوتا ہے۔ مرشد کا باطن آئینہ کی مثل ہوتا ہے جس میں طالب خود اپنی حقیقت کو دیکھتا ہے۔ علا مہ اقبالؒ نے مردِ مومن کی حقیقت کے متعلق کیا خوب کہا ہے: 

خاکی و نوری نہاد، بندہ مولا صفات

ہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیاز 

 

مردِ مومن کا ظاہر:

جس طرح مردِ مومن کا باطن نور ہے اسی طرح اس کا ظاہر بھی نور ہی ہوتا ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

نُوْرٌ عَلٰی نُوْرِِ ط یَھْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ یَّشَآئُ  (سورۃ النور۔35)

ترجمہ: نور پر نور ہے۔ اللہ اپنے نور کی طرف اسے ہی ہدایت دیتا ہے جسے وہ چاہتا ہے۔

’’نور پر نور ہے‘‘ سبحان اللہ بے شک آپ مدظلہ الاقدس کا پاک وجود اس آیت کے مصداق ہے۔

علامہ اقبالؒفرماتے ہیں:

تیرا جوہر ہے ’نوری‘ پاک ہے تو

فروغِ دیدۂ افلاک ہے تو

تیرے صید زبوں افرشتہ و حور

کہ شاہین شہِ لولاکؐ ہے تو 

ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں:

ہاتھ ہے اللہ کا، بندۂ مومن کا ہاتھ

غالب و کار آفریں، کار کشا کارساز

اس شعر میں علامہ اقبالؒ نے جو مردِ مومن کی صفت بیان کی ہے اسے اس مذکورہ حدیثِ قدسی کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے:

میرا بندہ جب زائد نوافل کے ذریعہ میرے قریب ہو جاتا ہے تو میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پس میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے، میں اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پائوں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ (بخاری 6502 )

 

مردِ مومن کا عمل: 

مرد ِ مومن کا ہر عمل صرف رضائے الٰہی کے لیے ہوتا ہے۔ 

مردِ  حر   از  لَآ   اِلٰہَ    روشن  ضمیر

می نہ گردد بندۂ سلطان و میر 

ترجمہ: مردِ حر (انسانِ کامل)  لَآ   اِلٰہَ پر کامل ایمان اور عمل کے باعث سراپا توحید ہوتا ہے۔ وہ کسی سلطان اور امیر کا غلام نہیں بنتا۔ 

یعنی اس کا ایمان اور توکل اللہ پر اس قدر مضبوط ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے سوائے کسی کے سامنے اپنا سر نہیں جھکاتا۔ آپ مدظلہ الاقدس بھی اپنے ہر طالب کو اسی عظیم سبق کی تلقین کرتے ہیں بلکہ انہیں تزکیہ اور نفس کے مراحل سے گزار کرتوکل الی اللہ کی لازوال منزل پر پہنچا دیتے ہیں۔ ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:

قُلْ اِنَّ صَلاَتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ ربِّ الْعٰلِمِیْنَ  (سورۃ الانعام۔162)

ترجمہ: آپ فرما دیں کہ بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو تمام عالموں کا ربّ ہے۔

 

طائرِلاھوتی:

اے طائرِلاھوتی اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

مردِ مومن کی روح مرتبہ ٔناسوت، ملکوت اور جبروت سے پرواز کر کے عالمِ لاھوت میں جا پہنچتی ہے۔ بلکہ اس کا مقام اس سے بھی بلند و بالا ہے۔ مردِ مومن کی ایک نشانی جو علامہ اقبالؒ اپنی فکر میں بیان کرتے ہیں وہ یہ کہ مردِ مومن کا مرتبہ خاص الخاص ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود لوگوں میں عام انسانوں کی طرح رہتا ہے۔ اگرچہ لوگوں کے ساتھ مخاطب ہوتا ہے لیکن دل و قلب ہمہ وقت ذکرِالٰہی میں مشغول رہتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اس کی اسی صفت کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّخِیْفَۃً وَّ دُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِا لْغُدُوِّ وَّ الْاٰصَالِ وَلَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ (سورۃ الاعراف۔ 205)

ترجمہ: اور اپنے ربّ کا ذکر کرو اپنے دل میں، عاجزی اور خوف کے ساتھ، بغیر بلند آواز نکالے، صبح و شام اور غافلین میں سے مت بنو۔

ذکر روح کی خوراک ہے۔ سب سے آخری اور انتہائی ذکر ھوُ کا ذکر ہے جسے سلطان الاذکار کہتے ہیں یعنی تمام ذکروں کا سلطان۔ اسی ذکر کی بلندی روح کو مقامِ لامکان تک پہنچا دیتی ہے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس اپنے طالبوں کو بیعت کے فوراً بعد ذکرِ اسم اللہ ذات کا آخری اور اعلیٰ ترین ذکر سلطان الاذکار ’’ھو‘‘ عطا فرماتے ہیں۔علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:

می نگنجد آں کہ گفت اللہ ھوُ

در حدودِ این نظام چار سو

ترجمہ: جو کوئی ذکرِاللہ ھوُ کرتا ہے وہ زمان و مکان کی حدود میں نہیں سما سکتا۔

آپ مدظلہ الاقدس کا ایک لقب ’’سلطان الذاکرین‘‘ بھی ہے جس کا مطلب ’ذاکرین کا سلطان‘ ہے۔ 

 

 مرکزِفقر:

مردِ مومن کو مرکزِفقر کا رتبہ و مقام حاصل ہوتا ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ فرماتے ہیں:

فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہ

فقر ہے میروں کا میر، فقر ہے شاہوں کا شاہ

صاحبِ فقر کو ہی مرکزِفقر کہا جاتا ہے جسے بھی فقر کا خزانہ عطا کرنا ہوتا ہے اسے اسی مرکز سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم و اجازت سے عطا ہوتا ہے۔ مرکز ِفقر وہی ذات ہوتی ہے جو مخلوقِ خدا میں فیضِ فقر کو تقسیم کرتی ہے۔ بلاشبہ آپ مدظلہ الاقدس ہی موجودہ دور میں مرکزِفقر ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی زیرِنگرانی فقر کے پیغام کو دنیا بھر میں عام کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فورمز، ای بکس (e-books)،  میگزین اوراس کے علاوہ حضرت سخی سلطان باھوؒ کی فارسی کتب کا اردو اور انگلش میں ترجمہ شائع کیا جا رہا ہے۔ 

باطنی و روحانی لحاظ سے دیکھاجائے تو آپ مدظلہ الاقدس ہی فقر کے مرکز ہیں۔ اس کے علاوہ آپ مدظلہ الاقدس کو مجلسِ محمدیؐ سے فقر کا ظاہری مرکز تعمیرفرمانے کا بھی حکم ہوا جس سلسلہ میں آپ مدظلہ الاقدس نے براستہ رنگیل پور سندر اڈا ملتان روڈ لاہور میں ’’مسجدِزہراؓ اور اس سے ملحقہ خانقاہ سلطان العاشقین‘‘ تعمیر فرمائی ہے جو کہ آنے والی کئی صدیوں کے مسلمانوں کے لیے فیوض و برکات کا سبب اور مرکزِفقر ہوگا۔  

کہتا ہے زمانے سے یہ درویشِ جواں مرد

جاتا ہے جدھر ’بندہ حق‘ تو بھی ادھر جا

 

مردِ مومن کی شان:    

ہر زماں اندر تنش جانی دگر

ہر زماں او را چو حق شانی دگر

ترجمہ: ہر لمحہ اس (انسانِ کامل) کے بدن میں ایک نئی جان ہوتی ہے اور ہر لحظہ اس کی ایک نئی شان ہوتی ہے۔ 

 

تعلیم: 

اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔

ہے وہی تیرے زمانے کا ’امامِ برحق‘

جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے 

آپ مدظلہ الاقدس اپنے طالبوں کو اقبالؒ کے اس شعر کے مطابق تلقین فرماتے ہیں: 

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا

ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں 

 

صاحبِ قرآن:

علامہ اقبالؒ مردِ مومن کی ایک اور نشانی کی جانب نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ صاحبِ قرآن ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم کے تمام اسرار و رموز اس کے قلب پر منکشف ہوتے ہیں۔ اسی سے متعلق علامہ اقبالؒ کا ایک واقعہ کتاب ’’اقبال اور قرآن‘‘ میں درج ہے کہ:

جب اقبال سیالکوٹ میں ابھی زیرِتعلیم تھے تو وہ صبح کی نماز کے بعد قرآنِ پاک کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ ایک دن اسی دوران میں ان کے والد محترم ان کے پاس آئے اور فرمایا ’’جب تک تم یہ نہ سمجھو کہ قرآن تمہارے قلب پر بھی اترتا ہے جیسا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قلبِ اقدس پر نازل ہوا تھا، تلاوت کا مزہ نہیں۔‘‘

اس نصیحت کے مفہوم اور اس کی صداقت کو علامہ اقبالؒ نے ’بالِ جبریل‘ میں اس طرح بیان کیا ہے:

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب

گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشاف

مردِ مومن کی صفات میں چاہے وہ اس کا اخلاق ہو، اس کا مقام، شان، شعار، اصول یا تعلیم ہو یا قرآن کی روح قلبِ اقدس پر نازل کرنے کی بات ہو، یہ تمام خصوصیات سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی شخصیت میں اس طرح موجود ہیں جیسے گویا آپ ہی ان کی عین تصویر ہوں۔ آپ مدظلہ الاقدس طالب کی روحانی تربیت کر کے اس کی خودی کو مستحکم کر دیتے ہیں اور اس میں ’شاہین‘ کی صفات کو اجاگر کر دیتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی نگاہ طالبوں کے لیے ’’از خوابِ گراں خیز‘‘ (گہری نیند سے جاگ) کی مانند ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی رہنمائی میں طالب اپنی حقیقی منزل کوپہنچ جاتا ہے۔ 

 

مردِ مومن کی پہچان کس طرح کی جا سکتی ہے؟

ہر دور میں ایک ایسا مردِ مومن موجود ہوتا ہے جس کا قدم، قدمِ محمدؐ پر ہوتا ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وسیلہ سے اسے انسانِ کامل کا مرتبہ حاصل ہوتا ہے۔ موجودہ دور کے مردِ مومن کی پہچان کے لیے ضروری ہے کہ بندہ سب سے پہلے طلبِ مولیٰ میں مخلص ہو۔ جو طالبِ مولیٰ اخلاصِ نیت کے ساتھ صراطِ مستقیم طلب کرتا ہے اللہ اسے مردِ مومن کی رہنمائی عطا کر کے صراطِ مستقیم جیسی عظیم راہ کی جانب گامزن کر دیتا ہے۔ موجودہ دور کے مردِ مومن سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ آپ بیعت کے پہلے ہی روز طالب کو اسمِ اللہ ذات عطا فرماتے ہیں جس کی مشق سے طالب کا نفس مردہ اور قلب زندہ ہوجاتا ہے اور طالب کو اس کے ذریعہ دورِ حاضر کے انسانِ کامل کی پہچان نصیب ہوجاتی ہے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں موجودہ دور کے مردِ مومن سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سے وفا اور اخلاص کے ساتھ منسلک رہنے کی توفیق عطا کرے۔ (آمین)

استفادہ کتب:

۱۔فقرِاقبال: تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

۲۔سلطان العاشقین: ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز

۳۔انسانِ کامل: تصنیف سیدّ عبد الکریم بن ابراہیم الجیلیؒ

۴۔اقبال کا مردِ مومن:تصنیف ڈاکٹر محمد طاہر القادری

۵۔قرآن اور اقبال: ڈاکٹر غلام مصطفی خان

۶۔ کلیاتِ اقبال  

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں