فرمودات سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو (اقتباس: تیغ ِ برہنہ)
Farmoodaat Sultan-ul-Arifeen – Taig-e-Barhana
قسط نمبر 1 مترجم: سلطان محمد احسن علی سروری قادری
تیغِ برہنہ
اس رسالہ کا نام تیغِ برہنہ رکھا گیا ہے۔ اسے موذی نفس کو قتل کرنے والی اور کافروں سے جنگ کرنے والی ذوالفقار کا خطاب دیا گیا ہے۔
اسمِ اللہ ذات
جان لو کہ اس تصنیف کے اوراق پر لکھے الفاظ پڑھنے میں تو جز (مختصر) ہیں لیکن عالم باللہ فقیر ولی اللہ کے لیے کسوٹی اور کل (مفصل) ہیں کیونکہ اس میں ظاہری خزائنِ الٰہی اور معرفتِ حضوری کے تمام باطنی خزائنِ الٰہی موجود ہیں جن کے احوال یہ ہے کہ یہ خواص و عوام کے وجود کے طلسم کو اسمِ اللہ ذات کی برکت سے توڑنے کے لیے حکمت کی کلید ہیں۔
اسمِ اللہ ذات کے ذکر کی بدولت وجود میں آتش سے تیز تر نور پیدا ہوتا ہے جو کبھی سرد نہیں ہوتا۔ اس نور کی بدولت شیطان جل جاتا ہے یا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کی برکت سے بھاگ جاتا ہے۔
شیطان جاہل نہیں بلکہ عالم ہے جو جان کنی کے وقت تیرا ایمان سلب کرنے کے لیے تجھ سے مقابلہ کرتا ہے۔ اُس وقت علمِ عین کی مدد سے ہی انجام بخیر ہوتا ہے جو تصور اسمِ اللہ ذات سے حاصل ہوتا ہے۔
اے عالم! منکر نکیر قبر میں تجھ سے کتابوں کے مطالعہ اور علم کے متعلق نہیں پوچھیں گے بلکہ اسمِ اللہ ذات، اسمِ محمدؐ اور دینِ اسلام کے بارے میں سوال کریں گے۔
جو علم بھی حاصل کرنا ہے اسمِ اللہ ذات سے حاصل کر کیونکہ اسمِ اللہ ذات ہمیشہ تیرے ساتھ رہے گا۔
اللہ (اسمِ اللہ ذات) سے اللہ کا علمِ حق حاصل کر۔ اس کی بدولت وجود ہر طرح کے گناہ سے پاک ہو جاتا ہے۔
تصور اسمِ اللہ ذات سے علم کے ہزاروں درجات کھلتے ہیں۔
تصور اسمِ اللہ ذات کی راہ سے دونوں جہان کا نظارہ آنکھوں کے سامنے بے حجاب دکھائی دیتا ہے۔
جو مرشد اسمِ اللہ ذات کے تصور کی توفیق جانتا ہے وہ طالب کو اس کے اعمال کے اعتبار سے جس جگہ اور مقام پر وہ پہنچنا چاہے، پہنچا سکتا ہے۔
جاننا چاہیے کہ نفس ظاہری عبادت، ذکر و فکر، مراقبہ و مکاشفہ، کشف و کرامات، ورد و وظائف اور تلاوتِ قرآن کو تو قبول کرتا ہے کیونکہ اس طرح کے تمام نیک اعمال ثواب کا باعث ہیں لیکن نفس تصور اسمِ اللہ ذات کو قبول نہیں کرتا کیونکہ اس میں اللہ کی معرفت، قرب اور وصال ہے۔
نفس کو مارنے اور قتل کرنے کی تلوار اسمِ اللہ ذات کا تصور ہے۔
تصور اسمِ اللہ ذات سے نفس فنا ہوتا ہے اور روح انبیا، اصفیا، مرسلین اور اولیا کی مجلس میں دائمی طور پر حاضر رہتی ہے۔
میں جس طرف بھی دیکھتا ہوں اسمِ ذات ہی دکھائی دیتا ہے۔ یہ سب شش جہات سے آزاد ہو کر لاھوت تک پہنچنے پر ممکن ہوتا ہے۔
جو طالب تصور اسمِ اللہ ذات سے ہر ولایت کو اپنے تصرف و طے میں لے آئے اُسے اس طے میں دونوں جہان مچھر کے پر کے برابر نظر آتے ہیں۔
مرشد کامل صاحبِ توحید جو مقام بھی کھولتا ہے وہ اسمِ اللہ ذات کی طے سے کھولتا ہے۔
وہ سلک سلوک کونسا ہے جو بے نصیب کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نصیب کر دے؟ وہ یہی تصور اسمِ اللہ ذات کی راہ ہے۔
تصوراسمِ اللہ ذات کی کلید کو اگر ’کن فیکون‘ کے قفل میں ڈالا جائے تو جتنے بھی کل و جز مراتب ہیں، وہ بغیر ریاضت اور تکلیف کے کھل جاتے ہیں۔
تصوراسمِ اللہ ذات سے دنیا، عقبیٰ اور معرفتِ الٰہی کے خزانوں پر تصرف حاصل ہو جاتا ہے۔
فقر
فقر یقین کی راہ ہے جو سالکوں کو (ان کے یقین کی بنا پر) تحقیق کا صحیح راستہ دکھاتی ہے۔
فقر معرفت سے بھی آگے کا مرتبہ اور دار الامن ہے۔
فقر حضوری اور دیدار کی راہ ہے۔
فقر میں نگاہِ مرشد سے آگاہی حاصل ہوتی ہے اور طالب یکبارگی اللہ کی معرفت اور قرب حاصل کر لیتا ہے۔
فقر اور ہدایت عطا کرنے کی قوت اور توفیق سلسلہ (سروری) قادری میں ہے۔
فقر کافی ہے۔ فقر کی بدولت ہی تمامیت تک پہنچا جا سکتا ہے۔
ہزاروں میں سے کوئی ایک ہی ہوتا ہے جو فقر کی انتہا تک پہنچتا ہے۔
فقر کو اللہ تعالیٰ نے فخر عطا کیا ہے۔ فقر کو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری حاصل ہے۔
فقر ذاتِ حق کا نور ہے اور نورِ ذات سے ہے۔ تمام تر مخلوقات اسی سے ظاہر ہوئیں اور اسی کی بدولت حیات ہیں۔
سلسلہ سروری قادری
جان لو کہ ہر سلسلہ و خانوادہ کا سالک اگرچہ تمام عمر خلوت میں چلے کرتا رہے، ذکر و فکر میں مشغول رہ کر ریاضت کے پتھر سے سر ٹکراتا رہے پھر بھی اس کی انتہا سلسلہ (سروری) قادری کی ابتدا کو نہیں پہنچ سکتی کیونکہ سلسلہ (سروری) قادری آفتاب کی مثل ہے اور دیگر تمام سلاسل چراغ کی مثل۔ چراغ کی کیا مجال کہ آفتاب کے سامنے روشن ہو سکے۔
قربِ حق کے اعلیٰ مراتب صرف سلسلہ (سروری) قادری میں ہی حاصل ہوتے ہیں۔
سلسلہ (سروری) قادری کا مرشد کامل ہوتا ہے جو طالب کو دست ِبیعت کرتے ہی توجہ و نظر سے کامل فقر کی معرفت عطا کرتا اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں داخل کر دیتا ہے۔
(سروری) قادری عارف کو قربِ حق عطا ہوتا ہے۔
(سروری) قادری کی روح لقائے الٰہی سے مشرف ہوتی ہے۔
جان لو کہ سلسلہ (سروری) قادری کے طالب ہمیشہ حق کے طلبگار رہتے ہیں اگرچہ انہیں معرفت اور حضوری نہ بھی نصیب ہو۔ اگر طالب بے نصیب ہو تو بھی اسے سلسلہ (سروری) قادری میں شامل ہونا چاہیے کیونکہ سلسلہ (سروری) قادری معرفت کا بحرِعمیق ہے۔ جو سلسلہ (سروری) قادری میں داخل ہو کر معرفت کے سمندر میں غوطہ لگاتا ہے وہ پاک ہو کر عارف باللہ بن جاتا ہے۔ لیکن اگر قادری طالب کسی اور سلسلہ کی طرف رجوع کرے تو بانصیب ہوتے ہوئے بھی بے نصیب اور مردود ہو جاتا ہے کیونکہ (سروری) قادری طالب کو (سروری) قادری سلسلہ میں ہی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
(سروری) قادری طالب صاحبِ قرب اور عارف باللہ ہوتا ہے جو ہمیشہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر رہتا ہے۔
(سروری) قادری طالب نر شیر کی مانند ہوتاہے جو لومڑی کی طرف ایک نظر بھی نہیں دیکھتا۔
(سروری) قادری طالب شہباز کی مثل ہے جو کوہ ِقاف کے عنقا اور ہما کی مانند بلند پرواز ہوتا ہے اس لیے مکھیوں اور چیلوں پر نظر نہیں ڈالتا۔
جان لو کہ ہر سلسلہ میں طالب و مرید ریاضت و مجاہدہ کے رنج اٹھاتے ہیں لیکن کامل سلسلہ (سروری) قادری میں مشاہدہ و حضوری کے گنج عطا ہوتے ہیں۔
سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدا لقادر جیلانیؓ
قربِ حق کے اعلیٰ مراتب شاہ محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہُ العزیز کی مدد کی برکت سے حاصل ہوتے ہیں۔
شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے طالب و مرید باصفا باطن کے حامل ہوتے ہیں اور ان کا شمار اولیا کے دفتر میں سرفہرست ہے۔
مردہ دل والے (ناقص) پیر زیر زمین خاک ہو جاتے ہیں لیکن تو پاکیزہ روح کے حامل محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کو زندہ دیکھے گا۔
محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کی روح لقائے الٰہی سے مشرف اور قلب مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں رہتا ہے۔ آپؓ کا قدم تمام اولیا کی گردن پر ہے۔
محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ شاہ سوار کی مثل شاہِ ولایت اور ماہر سوار ہیں۔ تمام غوث و قطب آپؓ کی سواری اور آپ کے ماتحت ہیں۔
محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کبھی جاودانی وجود کے ساتھ طیر سیر میں مشغول رہتے ہیں اور کبھی آپ کا وجود لامکان میں نور میں مستغرق رہتا ہے۔
باھوؒ جو کچھ بھی کہتا ہے حساب سے کہتا ہے نہ کہ حسد کے باعث۔سیدنا غوث الاعظمؓ مرتبہ لانہایت کے حامل ہیں جس کا کوئی شمار نہیں۔
سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ سے ہی ہر سلسلہ کے طالبوں نے ولایت کے منصب پائے۔
سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ اللہ کی طرف راہنمائی فرماتے ہیں۔
سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضرت امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہم کے نورِ چشم ہیں۔
حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی ولایت کے والی اور سردار سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ ہیں۔
سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ یومِ حشر سب اولیا کے پیشوا ہونگے۔
اولیائے کاملین
تمام اولیا، اللہ کے دوست ہیں۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے: اللہ مومنین کا دوست ہے۔ وہ انہیں ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لے آتا ہے۔(سورۃ البقرہ۔257)
ولی اللہ اسے کہتے ہیں جو چار قسم کی ظلمات سے نجات پا لے، ظلماتِ مخلوق، ظلماتِ دنیا، ظلماتِ نفس اور ظلماتِ شیطان۔ ظلمات سے نکل کر چار قسم کے نور حاصل کر لے؛ نورِ علم، نورِ ذکر، نورِ الہام اور قربِ حضور میں حاصل ہونے والا نورِ معرفت جو اسے نورِ ذات میں غرق کر کے بقا عطا کرتا ہے۔
مرشد کامل اکمل
مرشد کامل پہلے ہی روز طالب ِمولیٰ کو تمام باطل ظلمات اور خواہشاتِ نفس سے باہر نکال لیتا ہے اور وحدانیت ِنورِ ذات کے عمیق سمندر میں اس طرح غرق کر دیتا ہے کہ طالب لقائے الٰہی میں فنا ہو جاتا ہے۔
مرشد عارف باللہ فقیر تصور اور تصرف سے اسم کا معمّٰی کھولتا ہے اور اس کے مسمّٰی یعنی اللہ تک پہنچاتا ہے۔
طالب کو اپنے ہر دینی و دنیوی کام اور ہر درپیش مشکل کے لیے چاہیے کہ اسی وقت مدد کے لیے اپنے مرشد کو یاد کرے۔
مرشد کی ایک بار کی توجہ طالب کے لیے زندگی و موت میں رفیق و نگہبان اور مددگار ہوتی ہے اور ہزاروں لشکروں سے بہتر ہے۔
کامل مرشد جس طرف بھی توجہ کرتا ہے اس کی توجہ عین قدرتِ الٰہی بن جاتی ہے خواہ توجہ جذب و غضب کی ہو یا لطف و احسان کی۔
(سروری) قادری مرشد کے ابتدائی مراتب یہ ہیں کہ اپنے طالبوں کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور وحدت و لقائے الٰہی تک پہنچا دیتا ہے۔
(سروری) قادری مرشد کو ھو کی جانب سے ایسی قوت حاصل ہوتی ہے جو آگاہی بخشتی ہے۔
(سروری) قادری مرشد عارف باللہ ہوتاہے جو نگاہ سے دیدار عطا کر سکتا ہے۔
کامل (سروری) قادری مرشد خود کو مرتبہ احتیاج پر شمار کرتا ہے اور اپنے طالب و مرید کو مرتبہ لایحتاج بخش دیتا ہے۔
کامل (سروری) قادری مرشد خود تکلیف اٹھاتا ہے لیکن اپنے طالب و مرید کو دیدارِ نور کے خزانے بخشتا ہے۔
(سروری) قادری طالب کا دل غنی ہوتا ہے اور وہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری سے مشرف ہوتا ہے۔
ناقص مرشد
وہ مرشد ناقص ہے جو باطن میں معرفتِ الٰہی سے بے خبر اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ناآشنا ہے۔
اپنی ظاہری آنکھیں بند کرو اور چشمِ دل پر عینک لگا کر دیکھو تاکہ اس مٹی سے بنے جسم میں ہی اللہ کے دیدار سے مشرف ہو سکو۔
اگر مرشد جاہل ہو تو شیطان کی مثل ہے۔ شیطان کے پیروکار حق کا وصال نہیں پا سکتے۔
جاہل مرشد خبیثوں میں سے ہے جو قرآن و حدیث سے ناواقف ہے۔
جاہل مرشد شیطان کا مرید ہوتا ہے جبکہ عالم مرشد بایزیدؒ کی مثل ہے۔
حضورِ حق تعالیٰ
جو تصور کے ذریعے نورِ ذات کا مشاہدہ کرتا ہے وہ قربِ وحدت اور حضورِ حق کے مراتب کے طفیل کرتا ہے۔
حقیقی علم وہ ہے جو ذات سے حاصل ہو اور اصل ذکر وہ ہے جو نورِ ذات تک پہنچا دے۔ یہ خاص علم اور ذکر طالب کو حضورِ حق میں لے جاتے ہیں۔
اللہ (کو پانے) کی فکر اس کا فیض ہے اور اس کا ذکر لازوال۔اللہ کا ذکر اور اس کے بارے میں فکر ہی وصال تک پہنچاتے ہیں۔
توحید جڑ (بنیاد) ہے اور دیگر تمام مراتب اس کی شاخیں۔
میں غیر ماسویٰ اللہ کی طرف ہرگز نہیں دیکھتا کیونکہ دنیا و عقبیٰ سراسر خواہشاتِ نفس پر مبنی ہیں۔
دیدار سے مشرف طالبوں کی نگاہ ہمیشہ اللہ پر ہوتی ہے۔ وہ دنیا کے مال اور عز و جاہ پر لعنت بھیجتے ہیں۔
فقیر ولی اللہ اور عارف باللہ صاحبِ تصور اسمِ اللہ ذات کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قربِ حضوری سے توفیق،اسمِ اللہ ذات کے تصور اور تصرف کی بدولت تحقیق، اسمِ اللہ ذات میں تفکر سے وحدت کے عمیق سمندر میں استغراق اور اسمِ اللہ ذات سے توجہ کی ایسی قوت حاصل ہوتی ہے کہ دونوں جہان ہمیشہ کے لیے اس کی قید و قبضہ اور حکم و تصرف میں آ جاتے ہیں۔
دائمی طور پر غرق فی التوحید ہونا اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں دیدار سے مشرف رہنا بہت ہی مشکل اور دشوار ہے۔
علم
جان لو کہ کتب کے ذریعے ظاہری علم سیکھنے اور کامل فضیلت کے درجہ تک پہنچنے کے لیے محنت اور مطالعہ کے تیس سال درکار ہیں اور یہ محض سردَردی ہے۔
علمِ باطن میں فضیلت، فیضِ الٰہی، معرفت، فقر اور حضوری حاضراتِ اسمِ اللہ ذات اور مرشد کامل کی توجہ سے ایک رات اور دن میں یا ایک ساعت میں یا ایک دم میں یا پلک جھپکنے میں حاصل ہو جاتی ہے۔
ظاہری علم اور ظاہری ذکر کو فراموش کر دو اور وحدتِ الٰہی میں غرق ہو جاؤ۔
خاص علم اور ذکر طالب کو حضورِ حق میں لے جاتے ہیں۔ تاہم مغرور ذاکر اس مرتبہ پر نہیں پہنچ سکتے۔
قلم ماسویٰ اللہ ہر شے کو قلم (فنا) کرنے کے لیے ہے تاکہ نفس میں خواہشات کی قوت باقی نہ رہے۔
وحدت میں غرق عارف ہر لمحہ اسرارِ الٰہی سے مشرف ہوتے ہیں۔ ان پر معرفت کی انتہا ہو جاتی ہے۔
(جاری ہے)