Alif | الف

Rate this post

Alif |  الف

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغرعلی رحمتہ اللہ علیہ
(یومِ وصال۔ 2ذیقعد 1424 ھ )

حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ سلطان الفقر ششم کے مرتبہ پر فائز ہیں۔ آپؒ کی تعلیمات اور حیاتِ طیبہ موجودہ زمانے میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وارثِ فقر کی بنیاد ہے۔ آپؒ کی روحِ معظم عالمِ وحدت سے 14 اگست 1947ء (27 رمضان المبارک 1366ھ) کو عالمِ ناسوت میں جلوہ افروز ہوئی اور 26 دسمبر 2003 ء بمطابق 2ذیقعد 1424 ھ تک عالمِ بشریت میں جلوہ گر رہی۔آپؒ نے سلسلہ سروری قادری کے تیسویں (30) امام کے مرتبہ پر فائز ہو کر مسندِتلقین و ارشاد سنبھالی اور دعوتِ فقر کے مشن کا آغاز فرمایا۔ آپؒ نے ظلمت و گمراہی کے دور میں اسمِ اللہ ذات کے فیض کو عام فرمایااور اپنی صحبت اور نگاہِ کامل کی تاثیر سے لوگوں کے زنگ آلود قلوب کو نورِ الٰہی سے منور فرمایا۔آپؒ بے حد شفیق، رقیق القلب، شگفتہ رو، فراخ دست، وسیع العلم، بلند اخلاق اور عالی نسب تھے۔ آپؒ کی پرُ کشش اور اعلیٰ و ارفع شخصیت کوآپؒ کے مریدِ خاص اور خلیفۂ اکبر سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے حسن ِبیان نے دوبالا کر دیا۔ آپ مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
  آپؒ اللہ تعالیٰ کا راز ہیں اورآپؒ کی حقیقت سے وہی آگاہ ہوتا ہے جس پر آپؒ اصل میں اپنی حقیقت کو کھولتے اور اسکو محرم راز بنا لیتے ہیں۔ جو آپؒ کا محرم راز ہوگا وہ ہر قسم کے خوف اور غم سے بے نیاز ہو گا۔ 
  آپؒ اہلِ تقویٰ کے امام ہیں۔
  آپؒ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی محبت ایمان اور جن سے بغض کفر ہے۔ 
  آپؒ کی شخصیت اتنی پُر کشش اور مسحور کن تھی کہ اسکو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔آپؒ کے چہرۂ مبارک کی زیارت سے اللہ تعالیٰ کی یاد آتی تھی۔اِذَ رَاہٰ ذَکَرَ اللّٰہ۔ آپؒ کی زیارت کرنے والے کو نور ہی نور محسوس ہوتا گویا آپؒ کی صورت پر اللہ تعالیٰ کا رنگ چڑھا ہوا ہے فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ’’اللہ کا رنگ ہے ،بھلا اللہ کے رنگ سے کس کا رنگ بہتر ہے۔(سورۃ البقرۃ۔138)‘‘

 آپؒ کے جلوؤں کے نور سے ظلمت اس طرح بھاگی جیسے سورج طلوع ہونے سے سارے اندھیرے چھٹ جاتے ہیں۔

 جو ایک بار آپؒ کو دیکھ لیتا وہ دوبارہ دید کی تمنا کرتا۔ جو آپؒ کے پاس بیٹھ جاتا اسکا آپؒ کے پاس سے اٹھنے کو دل ہی نہ کرتا۔ طالب کی یہی تمنا ہوتی کہ زندگی یہیں بیٹھے بیٹھے تمام ہوجائے۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کو پہچاننے والے اس حقیقت سے واقف ہیں کہ آپ مدظلہ الاقدس اور سلطان الفقر ششم ؒ ایک ہی حقیقت کے دو روپ اور حدیث ِقدسی ’’مومن مومن کا آئینہ ہے‘‘ کے مصداق ہیں جن میں نظر آنے والا عکس ایک ہی ہے۔ پس ہم نے سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کو ان کے ظاہری وصال کے بعد کھویا نہیں بلکہ ان کے فنا فی الذات محبوب طالب سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے روپ میں پایا ہے۔ آپؒ لازوال حقیقت کے مالک اور حیاتِ جاودانی سے سرفراز ہیں اور اب اس حیات کی صورت کا نام ’’سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس‘‘ ہے۔

 

اپنا تبصرہ بھیجیں