Alif | الف
خیر اور شر ۔۔۔ اللہ ہی کی طرف سے ہیں
اللہ تعالیٰ کی ذات لامحدود، لافانی اور ہر قسم کے ادراک سے مبرا و منزہ ہے۔ وہ نہ صرف ذات بلکہ صفات میں بھی لا محدود اور لا شریک ہے۔ ہر خیر اور ہر شر اللہ تعالیٰ کا تخلیق کردہ ہے۔ جہاں وہ رحمان، رحیم اور کریم ہے تو جبار اور قہار بھی اُسی کی صفات ہیں۔ اگر ہم محض جمال کا ذکر کریں اور جلال کو بھول جائیں تو بھی غلط ہے اور اگر جلال کی بنا پر ہر وقت اس کے قہر، عذاب اور غضب سے ڈرتے رہیں، اس کی رحمت اور بخشش کو پیش ِ نظر نہ رکھیں تو بھی درست نہیں۔ الغرض جہاں اللہ پاک جمال کی صفات میں وحدہٗ لا شریک ہے تو وہیں ان کی ضد یعنی جلال میں بھی کوئی اُس کا ثانی نہیں۔ لہٰذا خیر اور شر دونوں اللہ ربّ العزت کی تخلیق ہیں اوراس بات پر یقین ِ کامل ہونا چاہئے کہ دونوں صورتوں میںاللہ پاک ہی مسبب الاسباب ہے، وہی مشکل کشا اور وہی قادرِ مطلق ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی شے بے مقصد تخلیق نہیں فرمائی خواہ بظاہر وہ انتہائی معمولی سی چیز ہی کیوں نہ ہو لیکن اس کی تخلیق کا اصل مقصد تو خالق ہی جانتا ہے۔تاہم بسا اوقات انسان سمجھتا ہے کہ نظامِ قدرت میں چھیڑ چھاڑ کرکے وہ ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے دیگا، برائی کو جڑ سے ختم کردے گا۔ یہ محض خام خیالی ہے، وقتی تسکین اور نظر کا دھوکہ ہے۔ کائنات کا توازن برقرار رکھنے کے لیے اللہ پاک نے منفی اور مثبت دونوں طرح کی قوتیں بنائیں جو نظامِ زندگی کو آگے بڑھانے میں رواں دواں ہیں۔ اگر برائی کو کسی ایک شکل سے ختم کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ کسی دوسرے روپ میں معاشرے میں پھیل جائے گی جس کے اثرات فوری طور پر مرتب نہیں ہوتے لیکن جب تک انسان کی ناقص عقل اس کا ادراک کرنے کے قابل ہوتی ہے، بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ لہٰذایہ کائنات، اس کا نظام، اس کا ایک ایک شعبہ، انسانوں کی اس کے متعلق رغبت و دلچسپی محض ایک اتفاق یا کوئی حادثاتی واقعہ نہیں بلکہ مشیت ِ الٰہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اچھائی اور برائی، خیر اور شر اپنی اپنی جگہ اپنے اپنے روپ میں موجود ہیں۔ جب ہم مصنوعی اور زبردستی انداز میں خیر کو شر اور شر کو خیر میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے نتائج بہت بھیانک اور غیر متوقع ہوتے ہیں۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اس امر کو حضرت سلیمان علیہ السلام کے تصرف کی مثال کے ذریعے سمجھایا۔ آپ مدظلہ الاقدس فرماتے ہیںروایت ہے کہ جب اللہ نے حضرت سلیمانؑ کو ہر چیز کا تصرف عطافرمایا تو انہوں نے اللہ سے عرض کی کہ شیطان کو بھی میرے حوالے کر دیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اس معاملے سے دور ہی رہیں تو بہتر ہے۔ جب دوبارہ دعا کی تو پھر اللہ نے شیطان کو باندھ کر حضرت سلیمانؑ کے حوالے کر دیا۔ کچھ دن بعد حضرت سلیمانؑ نے دیکھا کہ تمام کاروبارِ زندگی رُک گیاہے اور لوگ ہمہ وقت صرف تسبیح میں مشغول ہیں۔ یہ دیکھ کر پریشان ہو گئے کہ ایسے تو نظامِ زندگی دَرہم برہم ہو جائے گا، سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ تب اللہ نے فرمایا کہ میں نہ کہتا تھا کہ اس معاملے سے دور ہی رہو۔ شیطان جو معاملات پیدا کرتا ہے ان کو سلجھانے کے لیے انسان تگ ودو کرتا ہے، جو پریشانیاں شیطان پیدا کرتا ہے ان کو دور کرنے کے لیے انسان دوڑ دھوپ کرتا ہے۔
لہٰذا ایک مومن کا یقین ِ کامل بھی یہی ہونا چاہئے کہ ہر خیر اور ہر شر اللہ کی طرف سے ہے۔