سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن Sultan-ul-Faqr Haftam Sultan-ul-Ashiqeen Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman

Rate this post

سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

 Sultan-ul-Faqr Haftam Sultan-ul-Ashiqeen Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman

حصہ اوّل                              تحریر: مسز عظمیٰ شکیل سروری قادری

 ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 
٭ یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِہٖ یُؤْتِکُمْ کِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِہٖ وَ یَجْعَلْ لَّکُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِہٖ (سورۃ الحدید۔ 28) 
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسولؐ پر ایمان لاؤ، وہ تمہیں اپنی رحمت کا دگنا دے گااور تمہارے لیے ایک نور بنا دے گا جس کی روشنی سے تم چلو گے۔ 

مذکورہ بالا آیت ’’تمہارے لیے ایک نور بنا دے گا جس کی روشنی سے تم چلو گے‘‘ میں ایسے نور کی جانب اشارہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ظاہری طور پر موجود نہیں بھی ہوں گے تو تب بھی آپؐ کی باطنی اور روحانی صورت اسی روشنی کی صورت میں موجود ہو گی جس کی بدولت تمام انسانوں کے لیے ہدایت کے راستے کھلے ہوں گے۔ 

اس سے مراد وہ انسانِ کامل ہے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نائب اور امامِ زمانہ ہوتا ہے۔ وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ورثہ فقر کا وارث اور مرشدکامل اکمل ہوتا ہے۔

حدیث ِمبارکہ ہے: 
٭ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اللہ اس اُمت کے لیے ہر صدی کے شروع یا آخر میں ایک ایسے شخص کو مبعوث فرماتا رہے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔ (سنن ابوداؤد۔4291) 

دین کی تجدید کرنے والے یا وارثین ِمصطفیؐ وہی ہیں جو آپؐ کے روحانی ورثہ فقر کے وارث اور ان کے طریقہ کے حامل ہوں اور اللہ کے طالبوں کی اس طرح تربیت کر سکتے ہوں جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے اصحاب کی تربیت کی اور انہیں معراج و مستقیم کی راہ دکھائی۔ (اقتباس: سلطان العاشقین )  

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اذن کے بغیر کسی انسان کو امانت ِ الٰہیہ (فقر) منتقل نہیں ہو سکتی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے خزانہ فقر خاتونِ جنت حضرت فاطمتہ الزہراؓ کو منتقل ہوا اور آپؓ اس امت ِمحمدیہ میں فقر کی پہلی سلطان (سلطان الفقر اوّل) ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضورؐ سے فقر کی وراثت پائی اوران سے ہی فقر امت کی طرف منتقل ہوا اس لیے آپؓ امامِ فقر ہیں۔ پھر یہ منتقل در منتقل ہوتا ہوا شہسوارِ فقر سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ تک پہنچا۔ اب جب بھی امانت ِالٰہیہ منتقل ہوتی ہے تو آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اُس انسان کو سیّدناغوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اور پھر وہاں سے اسے امانت ِالٰہیہ یاخزانہ فقر کیلئے حضرت سخی سلطان باھوؒ کی بارگاہ میں حاضر ہونا پڑتا ہے۔ وہاں سے زمانہ کے انسانِ کامل مرشد کامل کی بارگاہ میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ قیامت تک یہ خزانہ اس کے مختارِ کل صاحب ِلولاک کی اجازت اور مہر سے اسی ترتیب سے منتقل ہوگا۔ (بحوالہ کتاب سلطان العاشقین)  

جیسا کہ قارئین کے گوش گزار کیا جا چکاہے کہ خزانہ فقر یا امانت ِالٰہیہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اِذن سے منتقل ہوتی ہے، سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کو امانت ِالٰہیہ کیسے منتقل ہوئی اور آپ کا معاملہ دیگر مریدین سے منفرد اور جداگانہ کیوں تھا، اس بات پر روشنی ڈالنے کی غرض سے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کے ایک مرید کا خواب بیان کیا جا رہا ہے۔

٭ حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی mکے ایک مرید  ساجد حسین جن کا تعلق دینہ سے ہے اور لاہور میں مقیم ہیں ، انہوں نے ایک خواب اگست2003ء سے نومبر2003ء تک تین مرتبہ دیکھا اور اس کا ذکر انہوں نے دورانِ سفر اور اکثر ملاقاتوں میں کیا۔ خواب کچھ اس طرح تھا:

’’دیکھتا ہوں حضور مرشد پاک کی محفل لگی ہوئی ہے اور بہت سے لوگ اس میں موجود ہیں۔ حضور مرشد پاک ایک پلنگ پر تشریف فرما ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں ’’ہم نے اپنی پوری سنگت میں بتیس یا تینتیس (تعدادان کو یاد نہیں رہی) ساتھیوں کاا نتخاب کیا ہے جو ہمارے معیار پر پورے اترے ہیں۔‘‘ اتنے میں نجیب صاحب کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حضور مرشد پاک ان کی طرف دیکھ کر فرماتے ہیں ’بھائی نجیب الرحمن! تم ان لوگوں میں شامل نہیں ہو، تمہارا معاملہ ان لوگوں سے علیحدہ اور خاص ہے۔‘‘ (مجتبیٰ آخر زمانی)

اب وہ معاملہ خاص اور علیحدہ کس طرح ہے اس پر مختصراً عرض ہے کہ جب سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒنے امانت کے وارث کو اچھی طرح پرکھ لیا تو حج کا ارادہ فرمایا اور 28 فروری 2001ء بروز بدھ آپ ؒنو منتخب طالبانِ مولیٰ اور تین خواتین کے ہمراہ حج کے لیے تشریف لے گئے۔ حج کے بعد 18مارچ 2001 کو مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ 21 مارچ 2001ء روضۂ رسولؐ پر حاضری کے بعد بابِ جبرائیل کے قریب قیام پر سلطان الفقر ششمؒ نے  سلطان الفقر ہفتم حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور فرمایا ’’ہمیں تو دل کا محرم مل گیا۔‘‘

دل کا محرم کون ہوتا ہے؟  

تمام سلاسل کی اتفاقِ رائے یہ ہے کہ دل کا محرم وہ طالب یا مرید ہوتا ہے جس کو مرشد اپنے بعد سلسلہ کا سربراہ یا امام منتخب کرتا ہے۔ یاد رہے یہاںروحانی ورثہ کی منتقلی کی بات ہو رہی ہے خلافت یا سجادہ نشینی ایک ظاہری ذمہ داری ہے مگر دل کے محرم سے مراد خالصتاً روحانی ورثہ ہے اور سروری قادری مرشد چونکہ امانت ِالٰہیہ کا حامل ہوتا ہے اس لیے اس سلسلہ کا مرشد جس مرید کو امانت ِالٰہیہ یا فقر منتقل کرتا ہے اسی کو دل کا محرم قرار دیتا ہے۔ پس اسی حج کے موقع پر سلطان العاشقین مدظلہ الا قدس کو باطن میں امانت ِالٰہیہ منتقل ہو چکی تھی۔ پس سرکارِ دو عالمؐ کے اذن سے خزانہ فقر یا امانت ِالٰہیہ سلطان الفقر ہفتم مدظلہ الا قدس کو منتقل ہوئی۔

 آپ مدظلہ الاقدس کوان کی دین ِ محمدی کو حیات ِنو عطا کرنے اور فقر حقیقی کو دنیا بھر میں عام کرنے کی کاوشوں کے اعزاز کے طور پر ’’شبیہ ِ غوث الاعظم‘‘کا لقب مجلس ِمحمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عطا کیا گیا اور اس بات کا انکشاف 2016ء میں سیدعبد اللہ شاہ مدنی جیلانیؒ کے عرس کے موقع پر آپ مدظلہ الاقدس کے مریدین کو باطنی طور پر مشاہدات کی صورت ہوا۔(اقتباس:سلطان العاشقین )  

لقب ’’شبیہ ِغوث الاعظم‘‘کا ملنا اس بات کی سند ہے کہ جنہیں یہ لقب ملاوہ فقر کے امام اور حقیقی جانشین ہونے کے ساتھ ساتھ سیّدنا غوث الاعظمؓ کی طرح اعلیٰ وارفع مقام کے حامل بھی ہیں۔ یہ اعلیٰ مقام بلاشبہ سیّدنا غوث الاعظمؓ کی نسبت سے ہے اور آپ مدظلہ الاقدس کو مجلس ِمحمدیؐ سے شبیہ ِغوث الاعظم کا لقب ملنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس کی باطنی بصیرت بھی پیر دستگیر سیّدنا غوث الاعظمؓ کے عین ہے۔  

کامِ خدا مکمل ہوا، راز دل میں چھپا ہوا
جو بھید سینے میں سمٹ گیا، وہ نگاہِ عالم سے بچا ہوا
نہ تول اسے ظاہر کی آنکھ سے، یہ رازِ فقر ہے
یہ امانتِ ذاتِ الٰہیہ ، جو باطن ِ خاص کو ہی عطا ہوا
تحریر کی سیاہی میں اتارنا ہے کٹھن اسکو
پھر بھی عرضِ بیکساںہے کہ بارگاہ میں قبول ہوا
نورِ بصیرت غیب سے جو پردہ اٹھے تو راز کھلے
ورنہ ہر رازِ کن فکاں پردوں میں ہی پنہاں ہوا 

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس اس بلند روحانی مرتبہ پر فائز ہیں جہاں آپ مدظلہ الاقدس کو دونوں جہانوں پر کامل تصرف عطا کیا گیا ہے، آپ تسلیم و رضا کا پیکر ہیں، نگاہِ کامل کے حامل ہیں، صاحب ِلوح و قلم ہیں، نورِ محمدیؐ کے وارث ہیں، سلطان الفقر ہفتم ہیں اور فقیر ِکامل ہیں۔

سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کامل فقیر اور اس کے تصرف کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:
٭ جب بندے کا دل اپنے پروردگار کی طرف پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو مخلوق سے بے نیاز کر دیتا ہے اور اپنا قرب عطا کر دیتا ہے اور اس کو صاحب ِاختیار بادشاہ بنا دیتا ہے اور اس سے ارشاد فرماتا ہے کہ تو میرے نزدیک قدرت والا اور امانت دار ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو ایک ملک اور ایک حکم اور اپنے ملک کے انتظام و اسباب میں اپنا خلیفہ بنا دیتا ہے اور اس کو اپنے خزائن کا امین بنا دیتا ہے۔ اسی طرح جب دل صحیح ہو جاتا ہے تو اس کی شرافت اور طہارت ماسوائے اللہ سے ظاہر ہو جاتی ہے تواللہ تعالیٰ اس کو اپنی مخلوق کے دلوں پر قبضہ دے دیتا ہے اور اس کو اپنی سلطنت یعنی دنیا اور آخرت میں حکومت بخشتا ہے۔ پس وہ اپنے مریدین و قاصدین کا کعبہ بن جاتا ہے تو  سب اسی طرف جوق در جوق کھنچے چلے آتے ہیں۔ (الفتح الربانی ۔ مجلس 22)  

پس فقیر ِکامل کی شان اور مرتبہ سب سے بلند اور منفرد ہوتا ہے۔ وہ فنا فی اللہ بقا باللہ کے مرتبہ کا حامل صاحب ِتصرف فقیر مالک الملکی ہوتا ہے جس کے تصرف میں اللہ تعالیٰ کے تمام خزانے ہوتے ہیں۔ کل و جز اورزیروزبر کی ہر شے اور ہر مخلوق اس کے تابع فرماں ہوتی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سیّدنا غوث الاعظمؓ سے باطنی معراج کے دوران فرمایا: 
٭ اے غوثِ الاعظمؓ! میرے نزدیک فقیر وہ نہیں جس کے پاس کچھ نہیں بلکہ فقیر وہ ہے جس کا امر ہر شے پر نافذ ہو اور جب وہ کسی شے کے لیے کہے ہو جا تو وہ ہو جائے۔ (الرسالۃ الغوثیہ)  

سلطان العاشقین تسلیم و رضا کا پیکر ہیں

 فرمان ِ باری تعالیٰ ہے: 
٭   وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلّٰہِ وَ ہُوَ مُحْسِنٌ  (سورۃ النسائ۔ 125) 
ترجمہ: اور اس شخص سے بہتر کون ہو سکتا ہے جس نے اپنا سر اللہ کی رضا میں جھکا دیا وہ محسن (اللہ کا دیدار کرنے والا) ہے۔ 

مزید فرمایا:
٭ مَنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلّٰہِ وَ ہُوَ مُحْسِنٌ فَلَہٗٓ اَجْرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ ص وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ٭ (سورۃ البقرۃ۔ 112) 
 ترجمہ: ہاں جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے سامنے سر ِتسلیم خم کر دیا وہ محسن ہے (مرتبہ احسان تک پہنچنے والاہے یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے والا ہے) اور اس کے لیے اپنے ربّ کی طرف سے اجر ہے اور اس کے لیے نہ کچھ خوف ہے اور نہ کوئی غم۔  

تسلیم و رضا انبیا کرام کی سنت ہے۔ جیسا کہ اللہ کی رضا کی خاطر حضرت ابراہیم ؑاپنے محبوب بیٹے کو ذبح کرنے پر آمادہ ہوئے اور تسلیم و رضا کی اعلیٰ مثال حبیب ِخدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نواسے نے میدانِ کربلا میں قائم کی۔ پس اسی طرح فقرائے کاملین اپنے تصرف میں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی عاجزی اختیار کرتے ہیں جیسا کہ انبیائے کرام کے تصرف میں سب کچھ ہوتے ہوئے انہوں نے عاجزی کی اور یہ عاجزی بھی امامِ زمانہ کو اسی لیے حاصل ہوتی ہے کہ یہ مقام و مرتبہ جو ایک فقیر کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ورثہ میں عطاہوتاہے تو تسلیم و رضا کا معاملہ بھی وراثت میں ہی عطا ہوتا ہے۔سیدنا غوث الاعظمؓ فرماتے ہیں :
 جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی قدر اور قضا پر راضی ہو کر صبر اختیار کرتا ہے اس کے لیے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار مدد ہے اور آخرت میں بے شمار نعمت۔(الفتح الربانی)  

حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں: 
٭ خود پرستوں کو کبھی خدا نہیں ملتا کہ ان کا خدا توان کا نفس ہوتا ہے، خدا انہیں ملتا ہے جو رضائے الٰہی کی خاطر اپنی جان پر کھیل کر نفس کو قابو میں رکھتے ہیں۔ (نور الہدیٰ کلاں)  

 سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ خود اپنے بارے میں فرماتے ہیں: 
٭ ہم نے اللہ تعالیٰ سے کبھی اس کے دیدار اور رضا کے سواکچھ نہیں مانگا۔ (مجتبیٰ آخر زمانی)  

آپؒ نے ایک مرتبہ اپنے وارثِ حقیقی کے متعلق فرمایا ’’نجیب بھائی کی مثال تو ایسے ہے کہ سر ِتسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے۔‘‘ 

عاشقی چیست؟ بگو بندہ جاناں بودن
دل بدست دِگرے دادن و حیران بودن 

ترجمہ: عاشقی کیا ہے؟ کہو کہ محبوب کا غلام بن جانا۔ دل کسی اور کے ہاتھ میں دے کر خود حیران و پریشان ہونا۔  

علامہ محمد اقبالؒ فرماتے ہیں:  

فقر ذوق و شوق و تسلیم و رضاست
ما امینیم ایں متاعِ مصطفیؐ است 

ترجمہ: فقر ذوق و شوق اور تسلیم و رضا کی کیفیت کانام ہے، یہ محمد مصطفیؐ کی متاع ہے اور ہم اس کے امانت دار ہیں۔  

تلاشِ حق کی سختیاں ہوں، طالب ِمولیٰ کی آزمائشیں ہوں یا مسند ِتلقین و ارشاد کی بھاری امانت (فقر)، آپ مدظلہ الاقدس کے چہرہ مبارک پر کبھی پریشانی کے آثار نمودار نہیں ہوئے۔ آپ مدظلہ الاقدس ہمیشہ صدقِ دل سے اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے۔ بے شک اللہ پاک ایسے صاحب ِکمال وارثانِ فقر کے متعلق ارشاد فرماتا ہے: 
٭ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ (سورۃ المائدۃ۔119) 
 ترجمہ: اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ۔ 

٭ وَ اللّٰہُ  یُحِبُّ  الصّٰبِرِیْنَ  (سورۃ آل عمران۔ 146) 
ترجمہ: اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ 

آپ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے مریدین کا مشاہدہ ہے کہ باطنی قوتوں کے باوجود آپ مدظلہ الاقدس اللہ ربّ العزت کی مرضی و منشا کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اور اس کی تلقین بھی فرماتے ہیں اور تلقین و ارشاد کے ساتھ باطنی نگاہ سے مرید کے قلب پر اس طرح نگاہ فرماتے ہیں کہ مرید کے لیے ہر تکلیف پر صبر کرنا شکر میں تبدیل ہو جاتاہے۔  

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ ایسے فقیر کے متعلق اپنے پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:  

توڑے تنگ پرانے ہووَن، گجھے نہ رہندے تازی ھُو
مار نقارہ دَل وچ وڑیا، کھیڈ گیا اک بازی ھُو
مار دلاں نوں جول دتونیں، جدوں تکے نیں نیازی ھُو
اُنہاں نال کیہہ ہویا باھوؒ، جنہاں یار نہ کیتا راضی ھُو

مفہوم:ظاہری اسباب کتنے ہی تنگ کیوں نہ ہوں اور حالات کتنے ہی تکلیف دہ اور کشیدہ کیوں نہ ہوں، طالبانِ مولیٰ اصلی نسل کے گھوڑوں کے شہسواروں کی طرح پوشیدہ نہیں رہتے بلکہ وہ بڑے جانبازانہ انداز میں میدانِ عشق میں داخل ہوتے ہیں اور عشق کی بازی کھیل جاتے ہیں۔ یعنی اپنی ہر چیز داؤ پر لگا کر گوہر حاصل کر لیتے ہیں۔ان کی شانِ محبوبیت یہ ہوتی ہے کہ جدھر نگاہ اٹھاتے ہیں ہلچل مچ جاتی ہے۔ آخری مصرعہ میں آپؒ ان لوگوں کی حالت ِزار پر افسوس کرتے ہیں جو اپنے مرشد کو راضی نہیں رکھ سکتے اور مرشد کو ناراض کر کے خوار ہوتے ہیں اور وصالِ حق تعالیٰ سے محروم رہ جاتے ہیں۔  (دوسرا اور آخری حصہ اگلے شمارے میں)

٭٭٭٭

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں