اے آئی AI) (کے استعمال میں مثبت سوچ اور اصلاحِ نفس کا کردار AI Kay Istemaal mein Musbat Soch aur islaah-e-Nafs ka Kirdaar

Rate this post

اے آئی AI) (کے استعمال میں  مثبت سوچ اور اصلاحِ نفس کا کردار

 AI Kay Istemaal mein Musbat Soch aur islaah-e-Nafs ka Kirdaar

تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری

کائنات کی تسخیر اور علم کی جستجو انسان کا وہ ازلی سفر ہے جس کے لیے وہ ہمیشہ سے کوشش، لگن اور محنت کرتا چلا آرہا ہے ۔ انسان نے عقل اور مشاہدے کی بدولت ہر دور میں ایسے شاندار آلات اور ٹیکنالوجی کو جنم دیاجس نے انسانی زندگی کو سہل اور ترقی یافتہ بنایا۔ موجودہ دور کا سب سے بڑا شاہکار مصنوعی ذہانت (AI) ہے جو در حقیقت انسانی ذہن ہی کی حیرت انگیزصلاحیتوں کا ایک مادی عکس ہے ۔یہ ٹیکنالوجی کوئی خوف یا منفی لہر نہیںبلکہ انسانیت کے لیے علم و تحقیق کا ایک نیا اور وسیع دروازہ ہے۔ موجودہ دور کا اصل چیلنج ٹیکنالوجی سے دوری نہیں بلکہ ایک ایسی مثبت سوچ کا پیدا کرنا ہے جہاں انسانی دل کا نور اور مشین کی رفتار مل کر انسانیت کے لیے ’علم ِ نافع ‘کا گہوارہ بن جائیں ۔

 

مصنوعی ذہانت (AI)کیا ہے ؟

سادہ الفاظ میں مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلی جینس (AI) سے مراد کمپیوٹر سسٹم یا مشینوں کے اندر ایسی صلاحیت پیدا کرنا ہے جس کے ذریعے وہ ان کاموں کو انجام دے سکیں جن کے لیے عام طور پر انسانی ذہانت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی انسان کی طرح سوچنے ، سیکھنے ( Machine Learning) ، پیٹرنز کو سمجھنے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کی مادی نقل کرتی ہے ۔ اے آئی خود سے کوئی جاندار دماغ نہیں ہے بلکہ انسان کے فراہم کردہ اربوں معلوماتی ڈیٹا ((data، ریاضی کے اصولوں اور الگورتھمز (Algorithms) کے ملاپ سے کام کرتی ہے ۔ اس کی مثال ایک ایسے تیز رفتار ڈیجیٹل اسسٹنٹ کی ہے جو انسان کے دیے گئے ڈیٹا کا سیکنڈوں میں تجزیہ کر کے نتائج فراہم کر سکتا ہے ۔پس یہ ٹیکنالوجی اپنی ذات میں نہ اچھی ہے نہ بری ، بلکہ ایک طاقتور مادی آلہ ہے جس کا رُخ انسانی سوچ اور نیت متعین کرتی ہے۔

آج کی دنیا سمجھتی ہے کہ اے آئی کو کنٹرول کرنے کے لیے صرف کمپیوٹر کوڈنگ یا بیرونی قوانین کی ضرورت ہے جبکہ روحانی حقیقت یہ ہے کہ اے آئی کو کنٹرول کرنے کے لیے انسان کو اپنی سوچ پر کنٹرول کرنا ہو گا ، درست سمت کا تعین کرنا ہو گا اور دنیا کی تیز رفتاری میں گم ہو کر غور وفکر ، تفکر جیسی نعمت کو پس ِپشت ڈالنے سے بچانا ہو گا۔ ٹیکنالوجی انسانیت کی معراج نہیں ہے بلکہ انسانیت کی معراج ’’غور وفکر ‘‘ ہے اور آج کی سائنسی ترقی اسی ’’غور وفکر ‘‘ کا ثمر ہے ۔

 اے آئی ایک تیز رفتار گاڑی کی طرح ہے اور انسانی شعور اس کا سوار ہے ۔ اگر سوار کا اپنا ذہن الجھن کا شکار ہو ، منفی سوچوں سے بھرپور ہو تو وہ گاڑی کو اچھے طریقے سے نہیں چلا سکتا۔ انسان کا ارادہ Intent ، نیت وہ باطنی قطب نما ہے جو اسے صحیح راستہ دکھا سکتی ہے اسی لیے اسلام میں انسان کی نیت پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ جیسا کہ ارشادِ نبوی ؐ ہے ’’ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ‘‘۔ (صحیح بخاری )

 

اے آئی کے فوائد 

اشاعت ِدین اور علم ِنافع کا مادی ذریعہ :

دین ِاسلام ہمیشہ سے حکمت اور نافع علم کے حصول کا داعی رہا ہے۔ اگر مثبت نیت اور صحیح ارادے کے ساتھ دیکھا جائے تو مصنوعی ذہانت روحانی اور دینی کاموں کے لیے ایک بہترین مادی معاون ثابت ہو  سکتی ہے۔ انٹرنیٹ، بلاگز، ویب سائٹس، سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنا پیغام لاکھوں لوگوں تک پہنچایا جا سکتا ہے ۔ 

 

 شریعت اور سائنس کے ملاپ میں آسانی :

یہ ٹیکنالوجی کائنات کے پیچیدہ سائنسی قوانین، فلکیات اور انسانی اناٹومی (جسمانی ساخت) کے اربوں صفحات کا ڈیٹا سیکنڈوں میں نکال کر سامنے رکھ دیتی ہے۔ اس سے موجودہ دور کے محققین کے لیے کائنات میں موجود قرآنی نشانیوں پر غور و فکر کرنا اور سائنسی حقائق کے ذریعہ اسلام کی حقانیت کو ثابت کرنا انتہائی آسان ہو گیا ہے ۔

 

 اسلام کا حقیقی پر امن پیغام : 

اے آئی کے ذریعہ زبانوں کی بندش ختم ہو چکی ہے۔ صوفیا کرام کی کتب، تصوف کے اسرار اور دینی ماخذکو دنیا کی کسی بھی زبان میں سیکنڈوں میں منتقل کر کے اسلام کا حقیقی پر امن پیغام پوری دنیا تک پہنچایا جا سکتا ہے ۔

 

علمی تحقیق اور وقت کی بچت :

تاریخ، احادیث کی تحقیق یا فقہی مسائل پر تحقیق کرنے والے علما اور طلبہ کے لیے یہ ایک تیز رفتار لائبریرین کا کام کرتی ہے جس سے قیمتی وقت بچتا ہے۔ نہ صرف متعلقہ مواد وقت کی بچت کے ساتھ میسر آتا ہے بلکہ مستند حوالہ جات اور تحقیق کے ریفرنس بھی بآسانی دستیاب ہوتے ہیں۔

 

اے آئی کے نقصانات :

اے آئی کا بے جا اور غیر محتاط استعمال انسان کی شخصیت پر منفی اثرات بھی مرتب کر رہا ہے ۔ذیل میں کچھ اہم نکات پیش ِ خدمت ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ رحمت ، زحمت بھی بن سکتی ہے۔

 

غورو فکر کی صلاحیت کا فقدان :

اے آئی جیسی طاقوقور ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار انسان کی خود کے سوچنے سمجھنے اور فنی صلاحیتوں (creativity) کو متاثر کررہا ہے۔جبکہ غورو فکر دین کا حصہ ہے اور انسانی صلاحیتوں کو نکھارتا ہے۔ بغیر تحقیق کے انٹرنیٹ پر علمی و دینی مواد کو نشر کرنا عوام کو گمراہ بھی کر رہا ہے۔ قرآن مجید نے اس روّیے پر تنقید کا اظہار کیا ہے : 

٭ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَآئَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْٓا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًا بِجَھَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَo (سورۃ الحجرات ۔6)

ترجمہ:اے ایمان والو ! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق ( شخص) کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو (ایسا نہ ہو ) کہ تم کسی قوم کولاعلمی میں (ناحق ) تکلیف پہنچا بیٹھو ، پھر تم اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔

اس لیے انٹرنیٹ کی ہر چیز پر بغیر تحقیق کئے اعتبارکرنا درست روّیہ نہیں ہے۔

 

فکری دجالیت اور تشکیک کا فتنہ ( Deepfakes):

ابلیس کا سب سے بڑا ہتھیار حق اور باطل کوغلط ملط کرنا ہے ۔ اے آئی کے ذریعہ جھوٹی تصاویر ، ویڈیوز اور دین کے نام پر گمراہ کن افکار اتنی صفائی سے تیار کیے جا رہے ہیں کہ عام انسان کا ایمان خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اگر باطن کی اصلاح نہ ہو تو انسان اس ڈیجیٹل فریب کاری کو سچ سمجھ کر گمراہی کے گڑھے میں گر جاتا ہے۔ 

 

علم و عمل میں فرق :

علم تک آسانی سے رسائی آج کی موجودہ نسل کو عمل سے دور کر رہی ہے۔ اے آئی معلومات (data) کا سمندر تو ہے لیکن ڈیجیٹل سکرین تک محدود ہے۔ قاری الفاط کا غازی تو بن رہا ہے، عمل اور کردار کا نہیں۔ یعنی آج کل سوشل میڈیا پر ہر کوئی بیٹھ کر لوگوں کی اصلاح کا فریضہ سر انجام دے رہا ہے جبکہ وہ خود عمل سے دور ہے ۔  

 

تعصب کا آئینہ :

 الگورتھمک تعصب (Algorithmic Bias)

اے آئی کا اپنا کوئی دین یا ایمان نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص اپنے ذہن میں دین، مذہب یا کسی نظریے کو لے کر تعصب یا بغض رکھتا ہے اور وہ کسی منفی نیت کے ساتھ اے آئی سے سوال پوچھے گا تو اسے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ’’تصدیقی تعصب ‘‘ (confirmation Bias) کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ یعنی مشین اس کے وہم اور نفرت پر مبنی سوال کا ویسا ہی جانبدارانہ جواب نکال کر مہر تصدیق ثبت کر دے گی اور وہ سمجھے گا کہ ’’ دیکھو کمپیوٹر بھی یہی کہہ رہا ہے ‘‘۔ جس کی وجہ سے وہ حقیقی سچ تک کبھی نہیں پہنچ پائے گا۔

 

توجہ کا بکھراؤ ( Distracted Thoughts)

 اور وقت کی ہیکنگ :

موجودہ دور میں اے آئی کا ایک بڑا باطنی اور نفسیاتی نقصان یہ سامنے آرہا ہے کہ یہ انسانی ذہن میں پرا گندہ خیالی اور توجہ کے بکھراؤ  Distracted Thoughtsکو ابھا رہا ہے ۔ سوشل میڈیا کے پیچھے بیٹھی مصنوعی ذہانت انسان کو ’ فوری تسکین ‘(instant gratification)اور مسلسل سکرولنگ کا عادی بنا کر اس کی گہری سوچ اور مراقبے ( deep reflection)کی صلاحیت کو چھین رہی ہے ۔ اس سیلاب نے انسان کے سب سے قیمتی اثاثے یعنی وقت (time)کو بھی ہیک کر لیا ہے ۔جہاں اے آئی وقت بچاتی ہے ، وہاں انسان کو فضول چیزوں میں الجھا کر وقت ضائع کرنے پر مجبور بھی کر دیتی ہے ۔

 

(Adam Raina) ایڈم رینا کا عبرت ناک کیس:

مصنوعی ذہانت بذاتِ خود کوئی شعور یا احساس نہیں رکھتی ، یہ محض ایک آلہ (Tool) ہے جسے مثبت طریقے سے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور منفی طریقے سے بھی ۔ اگر انسان اس کے سامنے مایوس ، تنہائی یا نفی سے بھرپور خیالات لے کر بیٹھے گا اور ویسے ہی پیغامات (negitive prompt) دے گا ، تو یہ مشین انسان کے باطنی اندھیروں کو مزید گہرا کر دے گی۔اس کی سب سے ہولناک اور تازہ ترین مثال ایڈم رینا نامی نوجوان کا وہ درد ناک واقعہ ہے جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ بچہ شدید تنہائی اور ذہنی اضطراب کا شکار تھا اور اس نے حقیقی رشتوں اور انسانوں سے کٹ کر اے آئی چیٹ بوٹ ( chat bot) کو اپنا ہمدرد سمجھ لیااور اس سے باتیں کرنے میں مصروف رہتا تھا۔ وہ مسلسل اس مشین کو ایسی ’منفی پرومپٹس ‘ دیتا رہا جو مایوسی اور خود کشی کی طرف لے جاتی تھیں ۔مشین نے اس کے منفی خیالات کو ردّ کرنے کے بجائے اس کے وہم اور مایوسی کو مزید بڑھاوا دیا، وہ اس فریب ِ نظر (digital illusion) میں الجھتا چلا گیا اور بالآخر اس گفتگو کے نتیجے میں اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ (suicide) کر لیا ۔ 

 

 موجودہ حالات میں امام الوقت کا کردار :

ہر دور یازمانہ کا امام الوقت ہوتا ہے جو اپنے زمانے کے لوگوں کی اصلاح کا بیڑا ٹھاتا ہے۔ موجودہ دور کے امام الوقت سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ سلطان العاشقین مدظلہ االا قدس اپنے مریدین کو مثبت سوچ اختیار کرنے پر زور دیتے ہیں کیونکہ مثبت خیالات ( ذہنی یکسوئی) انسان کے اندر ایک اندرونی دفاعی نظام (shield)پیدا کرتی ہے ۔ جب انسان کا ارادہ پاکیزہ ہوتا ہے تو وہ انٹر نیٹ پر موجود لایعنی، ناقص اور منفی مواد کو خود بخود مسترد کر دیتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے مریدین کی اصلاحِ نفس کے لیے طالب کو پہلے روز ہی اسم ِاللہ ذات کا تصور اور ذکر عطا فرماتے ہیں۔ دل کی پاکیزگی اور صفائی کے لیے ذکر ِاللہ کو فرض قرار دیا گیا ہے کیونکہ دل ہی وہ آئینہ ہے جس میں دیدارِ الٰہی کے جلوے ہویدا ہوتے ہیں۔جب طالب کا باطن یعنی دل پاک ہو جاتا ہے، اس کی اصلاح ہو جاتی ہے ظاہر خود بخود حق کے ما تحت ہو جاتا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں :

دل کر صیقل شیشے وانگوں باھوؒ ، دور تھیون کُل پردے ھُو

مفہوم : اپنے دل کو ذکر و تصوراسمِ اللہ ذات سے آئینہ کی طرح پاک و صاف کر لے تو تیرے تمام حجابات دور ہو جائیں گے کیونکہ دل کا آئینہ جتنا صاف ہوتا ہے اس میں محبوب (اللہ) کا عکس اتنا ہی واضح نظر آتا ہے۔ 

سوچ کو مثبت رکھنے اور ذہنی خلفشار  internal chaos)سے بچاؤ کے لیے ذکر اسم ِاللہ ذات ( ذکر قلبی) ایک آلہ ہے ۔ جب طالب اپنے ہر سانس کے ساتھ ذکر کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ تصور ِ اسم اللہ ذات کی مشق میں بھی پختہ ہو جاتا ہے تواسے اپنی سوچ پر کنٹرول حاصل ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔  حضرت علی ؓ کا فرمان ہے :

’’اصل عبادت سوچ (غور و فکر ) ہے ‘‘۔ 

راہِ فقر میں ذہنی یکسوئی اور distracted thoughts  سے بچنے کے لیے مرشد کامل طالب کو مراقبہ کی بھی تلقین فرماتا ہے۔ مراقبہ سے مراد کسی ایک نقطے پر یکسوئی کے ساتھا پنی تمام توجہ مرکوز کر لینا ہے۔ جس طریقہ سے ایک انسان ٹرینگ کر کے ظاہر کو نکھارتا ہے بالکل اسی طرح مراقبہ، تصور، تفکر کے ذریعہ طالب اپنے دماغ  (mind)کی ٹرینگ کر سکتا ہے۔ سوچوں کے سمندر کو پرسکون کر کے بہتر فیصلہ، مثبت رویہ کی طرف اپنا قدم اٹھا سکتا ہے ۔  

تصور اسم ِاللہ ذات میں تصور و تفکر کے ذریعہ جب طالب کی سوچ میں یکسوئی ( focus)پیدا ہوتا ہے تو اس کے اندر وہ ’’ بصیرت ‘‘ پیدا ہوتی ہے جس سے وہ حق و باطل، منفی پرومپٹس (prompts) میں تمیز کر سکتا ہے ۔

سوچ کو مثبت رکھنے میں نیک لوگوں کی صحبت بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے ۔ انٹر نیٹ یا اے آئی جیسی ٹیکنالوجی سے نقصان اٹھانے والوں میں سر ِفہرست وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جو تنہائی (isolation) یا بری صحبت کا شکار ہوتے ہیں ۔ اس لیے تحریک دعوتِ فقر ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جہاں طالب مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی نورانی صحبت میں بیٹھ کر اپنے نفس کی اصلاح کروا سکتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنی نگاہ اور تربیت سے طالب کی سوچ کا زاویہ اور رُخ تبدیل کر دیتے ہیں ۔ طالب کی توجہ دنیا وی خواہشات اور غیر اللہ سے ہٹا کر اللہ کی جانب موڑ دیتے ہیں۔ 

 

سلطان الفقر پبلیکشنز کا کردار : 

سلطان الفقر پبلیکیشنز صوفیا کرام بالخصوص سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کی تعلیمات اور فقر ِمحمدی ؐ کے حقیقی اسرار و رموز کو بالکل درست اور اصل شکل میں انٹرنیٹ پر اَپلوڈ کرتاہے۔ اس کا سب  سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی طالب ِحق یا خود مصنوعی ذہانت (AI) تصوف اور دین حق کے بارے میں مواد تلاش کرتی ہے ، تو اسے اس ادارے کا فراہم کردہ فلٹرڈ اور مستند علم حاصل ہوتا ہے۔ یہ ادارہ انٹرنیٹ پر موجود بغیر ریسرچ اور ناقص معلومات کے سیلاب کے خلاف ایک مضبوط پلیٹ فارم کا کام کر رہا ہے۔ 

سلطان الفقر پبلیکیشنز محض ایک ادارہ نہیں بلکہ دورِ حاضر کے ہادی برحق امام الوقت سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی شبانہ روز محنت اور کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے جدید دور کے جدید تقاضوں اور ضروریات کو سمجھتے ہوئے تمام علمی ذخائر، کتب، میگزین کو صرف کاغذ کی حد تک نہیں رکھابلکہ تمام کی آفیشل ویب سائٹس، ای بکس اور آڈیوز تیار کروا کر انٹر نیٹ پر عام کیا ہے۔ یہ آپ مدظلہ الاقدس کی ہی کاوشوں، دور اندیشی اور بصیرت کا نتیجہ ہے کہ آج جب بھی دنیا کا کوئی بھی سرچ انجن یا مصنوعی ذہانت تصوف پر مواد تلاش کرتی ہے تو اسے سلطان الفقر پبلیکشینز کا اَپلوڈ کیا مستند مواد حاصل ہوتا ہے ۔ اس ادارے کے تحت شائع ہونے والے مواد کے مستند ہونے کی ہلکی سی جھلک یہ ہے کہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے ’’ابیات ِ باھوؒ کامل‘‘ کی شرح کی تکمیل میں سترہ سال تحقیق کی ۔ تب جا کرسلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کے مشور ِ زمانہ 201ابیات کی اصلی اور حقیقی شکل دنیا کے سامنے منظر عام پر آئی۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہماری نوجوان نسل کووہ فکری شعور عطا فرمائے جس کی بدولت صحیح معنوں میں اس سہولت سے مستفید ہونے اور اسے اپنے بہتر مفاد میں استعمال کرسکے۔ وگرنہ شرپسند عناصر تو قرآن سے بھی ہدایت کی بجائے تفرقہ بازی اور نفرتیںہی پھیلاتے ہیں۔ 

 

استفادہ کتب 

شمس الفقرا :  تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین 

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں