مجتبیٰ آخر زمانی Mujtaba Akhar Zamani

Rate this post

مجتبیٰ آخر زمانی Mujtaba Akhar Zamani

(تصنیف ِ لطیف: سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن)

قسط نمبر   4                                           باب اوّل ۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ

آپ رحمتہ اللہ علیہ  فرماتے ہیں ’’میں نے حضرت امام حسن h اور حضرت امام حسینh کے قدم چومے اور اپنے گلے میں ان کی غلامی کا حلقہ پہنا تو نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’مخلوق ِخدا کو خالق ِکائنات کی جانب بلائو اور انہیں تلقین و ہدایت کرو۔ تمہارا درجہ دن بدن بلکہ گھڑی بہ گھڑی ترقی پر ہوگا اور ابدالآباد تک ایسا ہوتا رہے گا کیونکہ یہ حکم ِ سروری و سرمدی ہے۔‘‘ بعدازاں آپm کو آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے غوث الاعظم محبوبِ سبحانی پیر دستگیر شیخ عبدالقادر جیلانی h کے سپرد فرمایا۔ حضرت دستگیرh نے آپm کو باطنی فیض سے مالامال کرنے کے بعد خلقت کو تلقین و ارشاد کا حکم دیا۔ آپm  فرماتے ہیں’’جب فقر کے شاہسوار نے مجھ پر کرم کی نگاہ ڈالی تو ازل سے ابد تک کا تمام راستہ میں نے طے کرلیا۔‘‘

آپ m حضورِاکرم C کی بارگاہِ عالیہ میں حاضری کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’جو کچھ میں نے دیکھا ان ظاہری آنکھوں سے دیکھا اور اس ظاہری بدن کے ساتھ دیکھا اور مشرف ہوا۔‘‘

رسالہ روحی شریف میں آپm فرماتے ہیں:

دست بیعت کرد مارا مصطفیؐ

خواندہ است فرزند مارا مجتبیٰؐ

شد اجازت باھوؒ را از مصطفیؐ

خلق را تلقین بکن بہر خدا

ترجمہ: مجھے مصطفی Cنے دست ِبیعت فرمایا، حضرت مجتبیٰC نے مجھے اپنا فرزندبنایا ہے۔ فقیر باھُو کو مصطفی C  سے یہ اجازت ملی ہے کہ خلقت ِ خدا کو محض اللہ کی خاطر تلقین کروں۔

’عقل ِبیدار‘ میں آپ m فرماتے ہیں :

خواندہ فرزند من زان فاطمہؓ

معرفتِ فقر است برمن خاتمہ

ترجمہ: حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا نے مجھے اپنا فرزند بنایا ہے اس لیے معرفت ِ فقر کی مجھ پر انتہا ہوگئی۔

اس باطنی مہربانی کے بعد جب آپm  واپس گھر پہنچے تو والدہ محترمہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور پورا ماجرا آپ رحمتہ اللہ علیہا کے گوش گزار کیا ۔آپ رحمتہ اللہ علیہا نے سارا ماجرا سن کر فرمایا ’’اب تمہیں کسی مرشد کامل سے ظاہری دست ِ بیعت کرلینی چاہیے۔‘‘ ’’ بیعت تو میں کرچکا ہوں‘‘ آپ mنے جواب دیا ’’اویسی طریقہ کے مطابق مجھے حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے براہ ِراست فیضان حاصل ہوا ہے، سیّدنا غوث الاعظم h نے مجھے باطنی فیض سے مالا مال کیا ہے اور تلقین وارشاد کی اجازت بھی عطا فرمائی ہے‘‘ ۔لیکن آپm کی والدہ محترمہ نے فرمایا کہ یہ باطنی بیعت ہے راہ ِفقر میں ظاہری بیعت ضروری ہے اور اس کیلئے مرشد ِکامل تلاش کرو۔ آپ m  نے فرمایا ’’ تلاش کرنے کی کیا ضرورت ہے آپ ہی میری مرشد ہیں ‘‘۔ آپm کی والدہ محترمہ نے جواب دیا ’’ بیٹا عورتوں کو بیعت اور تلقین کرنے کا حکم نہیں کیونکہ حضرت فاطمتہ الزہر ا رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا نے بیعت و تلقین نہیںکی۔‘‘ حضرت سخی سلطان باھُو m  نے عرض کیا ’’کہاں تلاش کروں؟‘‘ فرمایا! ’’روئے زمین پر ڈھونڈو‘‘اور اشارہ مشرق کی طرف فرمایا۔ یوں آپm مرشد ِ کامل کی تلاش میں ایک بار پھر گھر سے نکل پڑے۔ آپ m  تجسس کی مسافت کے راستوں کو طے کرتے مختلف درویشوں اور فقیروں سے ملے لیکن کوئی بھی آپ m  کی طلب پوری نہ کرپارہا تھا۔ آپ mنے لا تعداد فقرا سے گڑھ بغداد (میاں چنوں ضلع خانیوال) راوی کے کنارے ایک گائوں میں رہائش پذیر شاہ حبیب اللہ قادری (شاہ حبیب اللہ قادریؒ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کی اولاد پاک سے تھے اور شاہجہان کے دور میں ہندوستان تشریف لاکر سیّد عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دست ِ مبارک پر بیعت کی ۔  سِرّ الحبیب کے مطابق شاہ حبیب اللہ قادری ؒ کا شجرہ نسب اس طرح سے ہے:  شاہ حبیب اللہ قادریؒ بن سیّد فتح اللہ بن عبد الغنی بن عطا اللہ بن جہاں عالم بن احمد ابدال الحق بن اسحاق بن حضرت محبوب گنج اسرار بن محمدبن سلطان رحمن بن حضرت تاج الدین بن حضرت سیّد موسیٰ بن سیّد اسمٰعیل بن شہاب الدین بن حضرت محی الدین دائود بن ابو نصر موسیٰ بن سیّد عبد الرزاقؒ بن سیّد شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ ۔
 سیّد حبیب اللہ قادریؒ کے بارے میں بیلی (Beale)نےOriental Biographical Dictionaryمیں لکھا ہے کہ اس نام کے دو اشخاص ملتے ہیں ایک آگرہ کے شاعر اور دوسرے عربی کتاب بحر المنطق کے مصنف۔Bealeکی یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں۔ ہندوستانی مصنفین کی کتب ’’آثارِ دہلی‘‘، ’’راہنمائے مزاراتِ دہلی‘‘ اور’’تاریخ مشائخ ِ قادریہ جلد سوم‘‘ کے مطابق سیّد حبیب اللہ قادریؒ دہلی میں سلسلہ قادریہ کے ایک مشہور بزرگ کا نام بھی تھا۔ 14شوال 1068ھ (1656ئ) میں ان کا وصال ہوا۔ کٹرہ عاقل شاہ جو کہ کٹر ہ گل شاہ (دہلی) کے نام سے مشہور ہے، میں مدفون ہوئے اور وہیں ان کا مزار ہے۔’’راہنمائے مزاراتِ دہلی‘‘ کے مصنف کے مطابق ان سیّد حبیب اللہ قادری ؒ کا سلسلہ نسب حضرت امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ سے ملتا ہے اور آپm کے پیرو مرشد کانام سیّد شاہ عبد اللطیف قادری لاہوری ہے۔ لاہور میں رہ کر ہی آپ mنے اپنے پیرو مرشد سے روحانی فیض حاصل کیا اور مرتبہ کمال کو پہنچے۔ 14شوال المکرم کو آپ رحمتہ اللہ علیہ کا عرس ہوتا ہے آپ کا مزار کٹرہ گل شاہ بازار سیتا رام دہلی6 میں ہے۔ البتہ یہ سیّد حبیب اللہ قادریm وہ نہیں ہیں جن سے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوm کی ملاقات ہوئی تھی۔ اُن سیّد حبیب اللہ قادریؒ کا ذکر اوپر تفصیل سے ہو چکا ہے اور ان کا مزار دریائے راوی کے کنارے گڑھ بغداد عبد الحکیم میاں چنوں ضلع خانیوال پاکستان میں ہے۔ )  کا شہر ہ سنا تو ان سے ملاقات کی خواہش دل میں پیدا ہوئی ۔ چنانچہ حضرت شاہ حبیب اللہ قادری mسے ملاقات کیلئے آپ گڑھ بغداد تشریف لے گئے۔ جیسے ہی خانقاہ میں داخل ہوئے تو دیکھا خانقاہ درویشوں ‘ فقیروں اور خدام سے پُر ہے ۔ لوگ جوق درجوق ایک جانب آگ پر رکھی پانی سے بھری دیگ میں ہاتھ ڈالتے جاتے ہیں اورمرادیں پاتے جاتے ہیں۔ آپmنے خاموشی سے یہ منظر دیکھا اورچپ چاپ ایک طرف بیٹھ گئے ۔ دفعتاً شاہ حبیب اللہ قادریm کی نظر آپm  پر پڑی تو انہوں نے حضرت سلطان باھو mسے کہا ’’ تیری ظاہری حالت سے تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تو طویل مسافت طے کرکے یہاں تک پہنچا ہے پھر اب خاموش اور علیحدہ کیوں بیٹھا ہے؟اُٹھ تو بھی دیگ میں ہاتھ ڈال کر اپنی مراد پا۔‘‘ فقر کے شہسوار حضرت سلطان باھوmنے خاموشی سے ان کی بات سنی اور ادب سے بولے ’’ مجھے کشف وکرامت کے یہ کھلونے متاثر نہیں کرتے اور نہ میری مراد ایسی ہے جو اس طرح بر آئے‘‘ ۔ حضرت شاہ حبیب اللہ قادریm نے چونک کر آپm پر نظر ڈالی اور کہا ’’بے شک تمہاری مراد اور طلب بلند تر ہے لیکن تو یہ بھی جانتا ہے کہ بلند آرزو کی تکمیل کیلئے کٹھن مراحل طے کرنا پڑتے ہیں۔‘‘ حضرت سلطان باھُوm نے جواب دیا ’’بیشک! اور میں نے یہ طویل مسافت بے سبب طے نہیں کی، آپ حکم دیجیے ٔ۔‘‘ شاہ حبیب اللہm کچھ دیر آپm کے چہرہ مبارک پر نظریں جمائے آپm کو دیکھتے رہے پھر بولے ’’اچھا فی الحال تو حوض میں پانی بھر ۔ ‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے ایک خادم کو بلایا جس نے ایک مشکیزہ لا کر آپm کے حوالے کردیا۔ حضرت سلطان باھُو m نے وہ مشکیزہ اٹھایا، اسے پانی سے بھرا اور لے جاکر حوض میں ڈالا، حوض ایک ہی مشکیزہ پانی سے لبالب بھر گیا ۔ شاہ حبیب اللہm سمیت تمام حاضرین نے حیرت سے آپmکو دیکھا ۔ پھر شاہ حبیب اللہm حضرت سخی سلطان باھُوm سے مخاطب ہوئے:

’’ کیا تو آزمائش کیلئے خود کو آمادہ پاتا ہے؟‘‘ آپm نے فوراً آمادگی ظاہر کی ۔ شاہ حبیب اللہ  m نے پوچھا ’’تیرے پاس کوئی دنیاوی مال واسباب بھی ہے۔ ‘‘ آپ mنے اثبات میں سر ہلایا۔ شاہ حبیب اللہm برجستہ بولے ’’ درویش اور دنیاوی مال کا آپس میں کیا تعلق ؟ایک میان میں دو تلوار یں کیسے رکھی جاسکتی ہیں ۔ تو ایک دل میں دو محبتیں جمع کرنا چاہتا ہے ۔ ‘‘

یہ سن کر حضرت سلطان باھُو m فوراً گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ گھر جا کر انہوں نے تمام مال اکٹھا کیا اور باہر پھینک دیا حتیٰ کہ پنگوڑے میں سوئے ہوئے اپنے شیر خوار بچے کی انگلی سے سونے کی انگوٹھی بھی اتار کر باہر اچھال دی۔ اگلی صبح طویل مسافت طے کرکے گڑھ بغداد پہنچے اور سیدھے شاہ حبیب اللہm کے سامنے پیش ہوگئے ۔ شاہ حبیب اللہm نے انہیں دیکھتے ہی اُٹھ کر ان کا استقبال کیا اوربولے ’’ بے شک تو نے دنیاوی مال سے تو نجات حاصل کرلی مگر ابھی عورتوں سے آزادی حاصل نہیں کرپائے ۔ دونوں میں سے کس کا حق ادا کرنے کا ارادہ ہے ؟ خدا کا یا بیویوں کا؟‘‘

یہ سننا تھا کہ حضرت سخی سلطان باھُو m کچھ کہے اور کچھ آرام کیے بغیر ایک بار پھر طویل سفر کیلئے تیارہوگئے۔ ایک بار پھر گھر جا پہنچے ۔ آپm کی والدہ ماجدہ الہاماً جانتی تھیں کہ آج بیٹا کس غرض سے گھر واپس آیا ہے مگر انجان بنتے ہوئے بولیں ’’کیوں باھوm بیٹے اب کیسے آنا ہو ا ؟‘‘ آپm نے نرمی سے سرجھکا کر مقصد بیان کیا۔ آپm کی والدہ حضرت بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا نے آپm کو اپنے قریب بٹھایا اور آہستگی سے مخاطب ہوئیں ’’ اے بیٹا باھو(m)! تمہاری بیویوں کے جو حقوق تم پر ہیں آج سے تم ان سے آزاد ہو اور تمہارے جو حقوق بیویوں کے ذمے ہیں وہ بدستور قائم رہیں گے۔ اگر تم حقیقی معرفت کے حصول میں کامیاب ہوگئے تو بہتر ہے لیکن محض بیویوں کے حقوق پورے کرنے کی خاطر گھر آنے کی ضرورت نہیں۔ لہٰذا اب طلاق کا خیال بھی دل میں نہ لانا ۔ ‘‘ 

والدہ محترمہ کی یہ قابل ِ قبول تجویز سن کر آپm پُرسکون اور مطمئن انداز میں دوبارہ شاہ حبیب اللہm  کے پاس جا پہنچے۔شاہ حبیب اللہ m نے آپm کا پُرتپاک استقبال کیا اور نظر سے ان پر توجہ کی پھر پوچھا ’’اے باھوؒ مطمئن بھی ہو کچھ مشاہدہ بھی کیا؟‘‘ آپm نے ادب سے سر جھکا کر کہا ’’شیخ جو کچھ آج مجھ پرمنکشف ہوا اس سے تو میں پنگوڑے میں ہی آشنا ہوگیا تھا میری تمنا اس سے زیادہ کی ہے۔‘‘شاہ حبیب اللہm نے جواب تو نہ دیا البتہ بیٹھے بیٹھے ان کی نظروں سے اوجھل ہوگئے ۔ آپm بھی خوب سمجھتے تھے کہ اس عمل کا مقصد امتحان ہی ہے ۔ چنانچہ آپm بھی جھٹ ان کے تعاقب میں پہنچے اور ایک کھیت میں ضعیف کاشتکار کی شکل میں شاہ حبیب اللہ mکو محنت مشقت کرتے پایا ۔ آپmنے نزدیک جاکر فرمایا ’’ ضعیفی اور یہ مشقت؟ آپ آرام کریں میں کام کرتا ہوں۔ ‘‘ شاہ حبیب اللہm اپنے اصل روپ میں آئے اورہنس کر انہیں ساتھ لیا اور آگے بڑھے مگر چند قدم چلنے کے بعد پھر غائب ہوگئے ۔ آپm نے بھی ان کا تعاقب نہ چھوڑا اور اب کی مرتبہ انہیں ایک آبادی میں ایک بوڑھے برہمن پنڈت کی شکل میں لوگوں کو تلک لگاتے پایا۔ سلطان باھوm مسکرا کر نوجوان کی شکل میں ان کے سامنے جا کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے ’’ بابا میرا ماتھا تو خالی ہے کیا یہ میرے بھاگ میں نہیں کہ میرے ماتھے پر بھی آپ تِلک لگائیں ۔‘‘ دوسرے لمحے شاہ حبیب اللہm  پھر اپنی اصلی شکل میں حضرت سلطان باھوm  کے سامنے کھڑے مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے حضرت سلطان باھوm  کا ہاتھ تھاما اور آگے بڑھ گئے مگر تیسری مرتبہ پھر وہی عمل کیا یعنی نگاہوں سے اوجھل ہوگئے لیکن حضرت سلطان باھوmکہاں پیچھا چھوڑنے والے تھے ۔ ان کے پیچھے لپکے اور ایک مسجد میں انہیں جا ڈھونڈا جہاں شاہ حبیب اللہm ایک معمر امام مسجد کے روپ میں بچوں کو قرآن کی تعلیم دے رہے تھے۔ 

چنانچہ سلطان باھوmبھی جھٹ ایک بچے کے روپ میں قاعدہ پکڑے ان کے سامنے جا بیٹھے اور ایک حرف پر انگلی رکھتے ہوئے معصومیت سے پوچھنے لگے ’’بابا یہ کیا ہے؟ ‘‘ اس بار شاہ حبیب اللہm کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔ انہوں نے آب دیدہ ہوکر حضرت سلطان باھو m کو گلے سے لگالیا اور کہنے لگے ’’ بس باھوؒ بہت ہوچکا‘‘ لیکن سلطان باھو mنے اپنی حالت نہ بدلی۔ آپ بدستور اسی حرف پر انگلی جمائے پوچھنے لگے ’’بابا بتائو یہ کیا ہے؟‘‘ شاہ حبیب اللہ m  بیچارگی سے بولے ’’باھُو میں تجھے کیا بتائوںیہ تو میرے بس کا کام نہیں۔تمہارا نصیب حضرت شیخ عبدالرحمن جیلانی قادریm  کے پاس ہے جو دہلی میں ہیں ۔‘‘

ایک اور روایت کے مطابق غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی h نے حضرت سخی سلطان باھُوm کو باطنی تربیت کی تکمیل کے بعد سیّد عبدالرحمن جیلانی دہلوی m کی دست ِبیعت کا حکم دیا۔ سلطان العارفین m حکم ملتے ہی فوراً دہلی کی طرف روانہ ہوگئے ۔ ابھی آپm دہلی سے دور ہی تھے کہ ایک شخص دوڑتا ہوا آپm کے پاس آیا اور آگے بڑھ کر حضرت سلطان باھُوm کے پائوں عزت سے چھونے کے بعد عرض کیا کہ اس کو شیخ سیّد عبدالرحمن قادری m نے ان کے استقبال کیلئے روانہ کیا ہے۔ 29ذیقعد1078ھ (11مئی1668ئ) بروز جمعتہ المبارک آپ m حضرت شیخ سیّد عبدالرحمن جیلانی قادریm کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ جیسے ہی آپm حضرت شیخ سیّد عبدالرحمن قادری mکی بارگاہ میں پہنچے، وہ آپm کو پکڑ کر خلوت میں لے گئے ۔ پس آپm نے مرشد کامل سے اپنا ازلی نصیبہ اسم ِj ذات کی صورت میں ایک قدم میںہی ایک دم میں پا لیا ۔ جو چاہتے تھے مل گیا اور اسی وقت آپm کو رخصت کیا گیا ۔ آپm الستی فیض سے مستفیض، نعمت سے پُر اور فیض رسانی کے جذبات سے لبریز تھے ۔ ہر خاص وعام پر توجہ کرنے لگے۔ خَلقِ خدا کیلئے آپ نے فیض عام کردیا اورآپm کے اردگرد خلقت کا اس قدر ہجوم ہوگیا کہ راستے بند ہوگئے، شہر میں شور مچ گیا۔ حتیٰ کہ یہ معاملہ حضرت شیخ سیّدعبدالرحمن قادریm کی بارگاہ میں پہنچا ۔ آپm کو بلایا گیا ۔ حضرت شیخ سیّد عبدالرحمن قادریm نے جواب طلبی فرمائی ’’ ہم نے تجھے یہ خاص نعمت عنایت کی اور تو نے عام کردی ۔‘‘ عرض کیا ’’ یا پیرو مرشد! جب بڑھیا عورت روٹی پکانے کا توا بازارسے خریدتی ہے تو اسے ٹھونک بجا کر دیکھتی ہے کہ کیسا کام دے گا، آیا درست ہے یا نہیں اور جب ایک لڑکا لکڑی کی کمان خریدتا ہے تو اسے کھینچ کر دیکھتا ہے کہ اس میں لچک کافی ہے کہ نہیں ۔ پس آپ سے جو نعمت ِعظمیٰ حاصل کی میں نے بھی اس نعمت کی آزمائش کی کہ مجھے آپm سے کس قدر نعمت حاصل ہوئی ہے۔ پس حضرت سیّد المرسلین احمد ِ مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حضور سے مجھے حکم ہوا ہے کہ خلق ِخدا کو تلقین کروںاور فیض کو عام کروں۔ انشاء اللہ قیامت تک یہ نعمت ترقی پر ہوگی ۔‘‘ حضرت شیخ سیّد عبدالرحمن قادری m  یہ دلیل سن کر مسکرااُٹھے اور کہنے لگے ’’ باھو(m) میں تجھے منع نہیں کرتا مگر اس کا خیال رکھا کر کہ ہر شخص اس کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ ‘‘ اس کے بعد آپm  دہلی کی جامع مسجد میں تشریف لے گئے ۔ اورنگ زیب ارکانِ حکومت سمیت جمعہ کی نماز کی ادائیگی میں مشغول تھا ۔ مسجد میں اس قدر بھیڑ تھی کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی اس لئے حضرت سخی سلطان باھوm سب سے پیچھے جہاں جوتیاں رکھتے ہیں، کھڑے ہوگئے اور جب آپm نے توجہ کی تو تمام مسجد میں شور اور وجد برپا ہوگیا ۔ یہاں تک کہ صرف تین آدمی اورنگ زیب، قاضی اور کوتوال جذبہ کی تاثیر اور نگاہ کے اثر سے محجوب رہے۔ جیسے ہی حضرت سلطان باھوm نے توجہ منقطع کی اور مجمع اپنی حالت میں واپس آیا تو وہ تینوں حضرت سخی سلطان باھوm  کے پاس آئے اور پوچھنے لگے ’’ہمیں کیو ںنعمت سے محروم رکھا گیا ؟‘‘ آپ mنے فرمایا ’’ ہم نے توجہ یکساں کی تھی ۔ تم پر اس واسطے اثر نہیں ہوا کہ تمہارے دل سخت تھے ۔ ‘‘ انہوں نے دست بستہ ہو کر فیض کیلئے التجا کی تو آپm نے فرمایا ’’ اس کیلئے یہ شرائط ہیں کہ تم اور تمہاری اولاد، ہماری اولاد اورپس ماندگان کیلئے دنیاوی مال ومتاع سے مروّت نہ کریں اورہمارے مکان اور گھر نہ آئیں تاکہ تمہارے دنیاوی امور کے سبب ہمارے عیال اور اولاد میں دنیاوی جھگڑے اور فساد نہ پڑ جائیں ۔‘‘ 

آپ m نے اورنگ زیب سے یہ اقرار لیکر اس پر توجہ کی اور خاص فیض تک پہنچایا۔ بعد ازاں جب وہاں سے روانگی کا ارادہ کیا تو اورنگ زیب نے آپm سے یادگار کیلئے التجا کی تو آپ mنے وہیں کھڑے کھڑے کتاب ’’اورنگ شاہی ‘‘ تصنیف فرمائی جسے شاہی محرروں نے اسی وقت تحریر کرلیا۔ 

 

اورنگ زیب عالمگیر سے ملاقاتیں

حضرت سخی سلطان باھُوm کی اورنگ زیب عالمگیر سے یہ تیسری ملاقات تھی جو 1078 ھ میں سلطان العارفین m کی ظاہری دست ِ بیعت کے بعد دہلی کی جامع مسجد میں ہوئی۔

تذکرہ اولیائے جھنگ اور تاریخ ِ جھنگ کے مصنف کے مطابق اس سے قبل حضرت سخی سلطان باھوmکی دو دفعہ گڑھ مہاراجہ میں شہزادہ اورنگ زیب عالمگیر سے ملاقات ہوئی۔ پہلی ملاقات تقریباً 1059ھ میں ہوئی جب شہزادہ عالمگیر قندھار کی جنگ سے لوٹ چکا تھا اور شاہجہان نے ملتان، سندھ ، بھکر اور سیوستان۱؎  کی حکومت شہزادہ اورنگ زیب عالمگیر کے حوالے کی ہوئی تھی۔ دوسری ملاقات تقریباً 1062ھ میں ہوئی جب شہزادہ عالمگیر قندھار فتح کرنے کے لیے گیا تو واپسی پر دریائے چناب سے گزرا۔ یہ دونوں ملاقاتیں شہزادہ عالم گیر کی تخت نشینی سے قبل شاہجہان کے دورِ حکومت میں ہوئیں۔ یہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوm کی عمر مبارک کے وہ ایام ہیں جب آپm تلاشِ حق کے لیے سیر و سیاحت اور دعوتِ قبور میں مصروف رہا کرتے تھے۔

سیّد عبد الرحمن جیلانی دہلوی ؒ

کی سوانح حیات پر تحقیق

سیّد عبد الرحمن جیلانی دہلوی m سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو m کے ظاہری مرشد ہیں۔ آپ غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی h کی اولاد پاک میں سے ہیں۔ آپm کی ذات پاک پر اَسرار کے وہی پردے پڑے ہوئے ہیں جو سروری قادری مشائخ کا خاصہ ہیں یعنی دنیا سے مخفی اور پوشیدہ رہنا۔صاحب ِ مناقب ِ سلطانی کے مطابق’’ سیّد عبد الرحمن دہلویm سلطنت ِ دہلی میں منصب دار تھے اور شاہی خزانہ کے امانت دار اور کلید دار تھے جس کے باعث محفوظ اور مناسب عمارت کے ساتھ کئی مسلح پہرہ داروں کا انتظام آپm کو حاصل تھا۔ آپ m جب مریدین سے ملاقات کے لیے تشریف لاتے تو چہرہ مبارک پر ایک نقاب ڈال لیتے تھے کیونکہ آپmکے چہرہ مبارک پر جو جلال و جمالِ الٰہی کے انوار تاباں تھے لوگ اِن کو دیکھنے کی تاب نہ رکھتے تھے۔ گویا آپm فقر کے ساتھ ساتھ اعلیٰ دنیاوی منصب پر بھی فائز تھے۔‘‘

(جاری ہے)

 

 

 
 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں