Alif | الف
سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی اہلِ بیتؓ سے محبت و عقیدت
سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اہلِ بیت رضی اللہ عنہم اور اصحابِ کبار رضی اللہ عنہم کے عشق سے سرشار اور اولیا و فقرائے کاملین سے شدید محبت و عقیدت رکھتے ہیں۔ راہ ِحق پر آپ مدظلہ الاقدس ان ہستیوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ یہ آپ مدظلہ الاقدس کی محبت و عقیدت کا ہی ثبوت ہے کہ آپ نے نہ صرف ان پاکیزہ ہستیوں کی شان میں کتب تحریر کی ہیں بلکہ اپنے مریدین کی تربیت کے لیے اپنی گفتگو میں بھی ان کی حیاتِ طیبہ سے اکثر حوالہ دیتے ہیں۔ دینِ حقیقی کی تبلیغ و اشاعت کے لیے ان کی کوششوں کو سراہتے اور مانتے بھی ہیں اور منواتے بھی ہیں۔ نہایت محنت اور عرق ریزی سے آپ مدظلہ الاقدس نے ان ہستیوں کی تعلیمات اکٹھی کیں اور انہیں کتب کی صورت میں شائع کروا کر آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ فرمایا۔ آپ مد ظلہ الاقدس کی انہی کاوشوں کی وجہ سے آپ کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے شانِ فقر اور آفتابِ فقر جیسے القابات سے نوازا گیا۔
یہاں اہلِ بیتؓ کے متعلق سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے چند فرمودات قارئین کے لیے درج ہیں:
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، حضرت فاطمتہ الزہر ارضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ، امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہم اہل بیتؓ ہیں۔
اے اہلِ ایمان !یا در کھواہل ِبیت رضی اللہ عنہم سے محبت ایمان کی نشانی ہے۔
اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے رجس سے پاک و طاہر فرما دیا ہے اور وہ سفینہ نوح کی مانند ہیں، جو ان سے وابستہ ہوا فلاح پا گیا۔
جو اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے بغض رکھتا ہے وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بغض رکھتا ہے اور جو آپؐ سے بغض رکھتا ہے وہ اللہ سے بغض رکھتا ہے اور جو اللہ سے بغض رکھتا ہے وہ مردود، ملعون لعنتی، خارجی اور دوزخی ہے۔
حدیثِ پاک ’’حسنؓ اور حسینؓ مجھ سے ہیں‘‘ ان دونوں گراں قدر ہستیوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ظاہری و باطنی شباہت کی گواہی ہے۔ یعنی دونوں ہی آپؐ کی تعلیم کے جسمانی وروحانی وارث ہیں۔ فقر کی وراثت میں سے جو حصہ حضرت امام حسینؓ کو ملا وہی حضرت امام حسنؓ کو بھی ملا کیونکہ دونوں کو ہی آپؐ نے خود سے قرار دیا، جیسا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو قراردیا۔
برصغیر پاک و ہند میں اہلِ بیتؓ کی محبت اگر قائم ہے تو صوفیا کرام کی وجہ سے ہے۔
یہ ظلم کی انتہا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے کو صرف پچاس سال ہی گزرے تھے کہ ان کے ایک نواسے کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا اور دوسرے کا ساتھ صرف بہتر (72) لوگوں نے دیا حالانکہ اس وقت جید لوگ موجود تھے۔