بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین) Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen

Rate this post

بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین)  

  Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen

قسط نمبر   19                                                                         مرتب: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری

مشیت

9فروری 2026ئ: بات مشیت کی طرف چل نکلی تو فرمایا: جو جس  چیز کا مالک ہوتا ہے اس چیز پر اسی کا حکم چلتا ہے۔ کائنات اللہ کی ہے  اس میں حکم بھی اللہ کا ہی چلتا ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ مشیت کا مطلب ہے ارادہ۔اگر آپ ایک کام کرنے کے لیے پورا زور لگا دیں لیکن وہ نہ ہو تو سمجھ جائیں وہ (اللہ)نہیں چاہتا یہ کام ہو۔
فقیر حضورؐ کے قدمِ مبارک پر ہوتا ہے
کسی نے سورۃ والضحیٰ کے متعلق پوچھا تو فرمایا:   
’’والضحٰی ‘‘سے مراد حضورؐ کا چہرۂ اقدس ہے ۔
’’و الیل ‘‘سے قسم حضورؐ کی زلفوں کی قسم ہے۔

اللہ نے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لیے انعامات رکھے ہیں اس میں آپؐ کی امت کے فقرا کاملین کو بھی عطا فرماتا ہے۔ فقیر حضورؐ کے قدم پر ہوتا ہے، جو حضورؐ نے کیا وہ کرتا ہے، حضورؐ کی طرح ہجرت کرتا ہے۔ فقیر تنگدست ہوتا ہے اللہ اسے غنی کر دیتا ہے، فقیر یتیم ہوتا ہے یعنی فقیر کچھ بھی نہیں ہوتا تواللہ اسے سب کچھ عطا کر دیتا ہے۔ فقیر کا ہر آنے والا وقت پہلے سے بہتر ہوتا ہے۔ 

توحید

فرمایا: ایران کے آتش پرستوں کے دو خدا ہوتے تھے، ایک نیکی کا اور ایک بدی کا۔ آج کے مسلمانوں کے بھی دو خدا ہیں، ایک اللہ اور دوسرا شیطان۔ جو اچھا ہوتا ہے اس کو اللہ کی طرف سے اور جو برا ہوتا ہے وہ شیطان کی طرف سے۔ اگر اللہ نہ چاہے تو کیا کوئی گناہ کر سکتا ہے؟ آج کے ملائوں کے مطابق آدھی دنیا شیطان چلا رہا ہے جبکہ قرآن میں تواللہ فرماتاہے کہ وہی ہدایت دیتاہے وہی گمراہ کرتا ہے۔ اگر اتنا کچھ شیطان کر رہا ہے تو پھراللہ کی رضا کے مطابق تو نہ ہوا۔ 

آج کے نام نہاد توحید پرست یہ توکہتے ہیں کہ گمراہ شیطان نے کردیا لیکن جب ان کے سامنے کہا جائے کہ خیر حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عطا ہوتی ہے توکہتے ہیں یہ شرک ہے۔ 

حضرت سلیمانؑ کا تصرف

فرمایا: جب اللہ نے حضرت سلیمانؑ کو ہر چیز کا تصرف عطافرمایا تو انہوں نے اللہ سے عرض کی کہ شیطان کو بھی میرے حوالے کر دیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اس معاملے سے دور ہی رہیں تو بہتر ہے۔ جب دوبارہ دعا کی تو پھر اللہ نے شیطان کو باندھ کر حضرت سلیمانؑ کے حوالے کر دیا۔ کچھ دن بعد حضرت سلیمانؑ نے دیکھا کہ تمام کاروبارِ زندگی رُک گیاہے اور لوگ صرف تسبیح کر رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر پریشان ہو گئے کہ ایسے تو نظامِ زندگی دَرہم برہم ہو جائے گا، سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ تب اللہ نے فرمایا کہ میں نہ کہتا تھا کہ اس معاملے سے دور ہی رہو۔ شیطان جو معاملات پیدا کرتا ہے ان کو سلجھانے کے لیے انسان تگ ودو کرتا ہے، جو پریشانیاں شیطان پیدا کرتا ہے ان کو دور کرنے کے لیے انسان دوڑ دھوپ کرتا ہے۔ 

اللہ کا وعدہ

فرمایا: معاش کے لیے انسان کدھر کدھر پہنچ جاتا ہے، کسی اور چیز کے لیے انسان اس طرح دنیا میں نہیں گھومتا جیسے روزی کمانے کے لیے گھومتا ہے۔ اس کے لیے دن رات پریشان ہوتا ہے، جبکہ اللہ نے  پیٹ بھرنے کا وعدہ فرمایا ہے، اللہ نے کسی اور چیز کا وعدہ نہیں فرمایا۔ اور انسان صرف اسی کے لیے پریشان ہے جس کا اللہ نے وعدہ فرمایا ہے۔ بندے کو اللہ پر یقین ہونا چاہیے، صرف امید کافی نہیں، امید تو ٹوٹ جاتی ہے جبکہ یقین نہیں ٹوٹتا۔

کمانے کے لیے جدوجہد

فرمایا: ہمارے مرشد کریم سلطان الفقرششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ جب اللہ نے رزق کا وعدہ کر دیا ہے تو پھر محنت کیوں کریں؟ تو انہو ں فرمایا ’’ایک بندے نے یہ ٹھان لی کہ میں کوئی محنت نہیں کروں گا، اگر اللہ نے کھلانا ہوا تو کھلا دے گا۔ وہ ایک دُور دراز جھاڑی میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ وہاں سے ایک بوڑھی خاتون کا گزر ہوا تو اس نے اس آدمی کو دیکھا تو اسے لگا یہ بھوکا ہے۔ خاتون کے پاس لڈو تھے، اس خاتون نے کہا کہ لڈو کھا لو۔ اس نے جواب دیا میں نے نہیں کھانے اگر اللہ نے کھلانے ہوئے تو کھِلالے گا۔ وہ خاتون لڈو اس کے پاس رکھ کر چلی گئی کہ جب بھوک لگے گی تو کھا لے گا۔رات ہوئی تو وہاں ڈاکو آگئے اور جھاڑی کے پاس بیٹھ کر لوٹا ہوا مال تقسیم کرنے لگے۔ اتنے میں ان کی نظر اس بندے پر پڑی۔ انہوں سوچا یہ کون ہے جو ہمارے ڈیرے پر بیٹھا ہوا ہے اور پاس لڈو پڑے ہیں۔ انہوں نے سوچا یہ ضرورمخبرہے جو ہمیں زہریلے لڈو کھلانا چاہتا ہے۔ ڈاکوئوں نے اس کو کہا کہ لڈو کھائو۔ اس نے انکار کیا تو زبردستی مکے مار کر اسے کھلائے۔ اس طرح اسے لڈو کھانے پڑے۔ اللہ نے اس بندے سے کہا کہ میں تو ایسے کھلاتا ہوں اگر آسانی سے کھانے ہیں تو محنت کرو۔ 

توکل

فرمایا: لوگ سب کچھ چھوڑ کر کہتے ہیں کہ ہم توکل پر ہیں۔ توکل کا مقام ایسے حاصل نہیں ہو جاتا، اس کے لیے بہت قربانیاں دینی پڑتی ہیں، بہت مصیبتیں جھیلنی پڑتی ہیں تب جا کر توکل حاصل ہوتا ہے۔

بابا بلھے شاہؒ

فرمایا: بابا بلھے شاہ ؒ بہت ضدی تھے۔ بابا بلھے شاہؒ کا نام سید محمد عبداللہ  تھا۔ ان کو کسی نے مرشد سے روکتے ہوئے کہا کہ بلھیا ایسے نہ کر۔ آپ ؒ نے اپنا نام ہی بلھا رکھ لیا۔ گھر والوں نے ان کو اُن کے مرشد کے پاس جانے سے روکا جو آرائیں تھے کہ ہم سید ہیں، یہ ہمارے لیے ذلت کا مقام ہے کہ کسی اور کے پاس جائیں۔ تو آپؒ نے جواباً گھنگرو پہن لیے اور سارے شہر میں گھومے۔

دعا یا رضا؟

10فروری 2026ء : کسی نے دریافت کیا کہ کب دعا کرنی چاہیے اور کب اللہ کی رضا پر راضی رہنا چاہیے؟فرمایا: اپنے معامالات میں اللہ پر راضی رہنا چاہیے لیکن دوسروں کے لیے ہمیشہ دعا کرنی چاہیے۔ رضا کا تعلق اپنی ذات سے ہے دوسروں سے نہیں۔ اللہ چاہتا ہے کہ اپنی مخلوق کا فائدہ دوسروں کی دعائوں سے کرائے۔ یہ قیامت کے دن پتا چلے گا کہ کس کی دعا کس کے حق میں قبول ہوئی۔ دعا کرنے کا تو حکم اللہ نے قرآن میں دیا ہے:
وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ   (سورۃ المومن ۔60)
ترجمہ: اور تمہارے ربّ نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔

سورۃ البقرہ میں بھی اللہ فرماتا ہے:
وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ ط اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ لا فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ الْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ ۔ (سورۃ البقرۃ۔186)
ترجمہ: اور (اے حبیبؐ!) جب میرے بندے آپ سے میری نسبت سوال کریں تو (بتا دیا کریں کہ) میں نزدیک ہوں، میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی وہ مجھے پکارتا ہے، پس انہیں چاہئے کہ میری فرمانبرداری اختیار کریں اور مجھ پر پختہ یقین رکھیں تاکہ وہ راہِ (مراد) پاجائیں۔
اللہ تو سیدھا راستہ بھی اسے دکھاتا ہے جو سیدھے راستے کی دعا کرتا ہے۔ اس سے جب مانگا جائے تو وہ دعا قبول کرتا ہے۔

اللہ کی معرفت انسانِ کامل کی معرفت میں پوشیدہ

کسی نے پوچھا کہ اللہ کی کامل معرفت انسانِ کامل کی معرفت میں ہے؟
فرمایا: توحید دو طرح کی ہوتی ہے؛ توحید تشبیہ اور تنزیہہ۔ توحید تشبیہ ساری مرشد کے متعلق ہے، مرشد پر یقین، مرشد کا مقام، مرشد کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہ کرنا۔ پھر یہی توحید تنزیہہ میں بدل جاتی ہے۔ اس لیے اللہ کی معرفت انسانِ کامل کی معرفت میں ہے۔ سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ سرالاسرار میں فرماتے ہیں کہ اس دنیا میں اللہ کا دیدار بالواسطہ ہوتا ہے اور آخرت میں بلاواسطہ ہو گا۔ ’’شمس الفقرا ‘‘ میں ہم نے لکھا ہے کہ وہ سورۃً اور لفظاً عالمِ صورت و الفاظ سے ہے جس کے معنی انسانِ کامل ہیں۔ 

جنت میں نیا جسم

فرمایا: انسان جب جنت میں جائے گا تو اللہ کون سا جسم عطا کرے گا اس کے متعلق علما میں اختلاف ہے۔ ایک گروہ کا کہنا ہے کہ اسی جسم کو اللہ جنت کے مطابق ریفائن کر دے گا کیونکہ یہ جسم تو اس دنیا کے لیے بنا ہے، معدہ اپنا کام کرتا ہے، کان میں میل آ جاتی ہے، ناک میں ریشہ آ جاتا ہے، پسینہ آتا ہے وغیرہ۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اللہ نیا جسم عطا کرے گا۔ اس طبقے کے سرخیل ابن عربیؒ ہیں۔ 

بات یہ ہے کہ جو بھی ہو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ہاں جو بھی ملے گا  اس کی شکل ملتی ہو گی، بے ریش جیسے 18 سال کا نوجوان ہوتا ہے۔ 

جنت ناسوت میں یا آسمانوں میں

کسی نے سوال کیا کہ جنت ناسوت میں ہی بنائی جائے گی یا جنت علیحدہ ہے؟ فرمایا: اس میں بھی اختلاف ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ اس دنیا کو دوبارہ جنت بنایا جائے گا کیونکہ اللہ نے یہ نہیں کہا کہ اس  دنیا کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر دے گا۔ یہ گروہ کہتا ہے کہ معراج کی رات جو جنت اور دوزخ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دکھائی گئی وہ عالمِ برزخ تھا۔ جبکہ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ جنت و دوزخ آسمانوں میں ہیں اور وہی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو معراج کی رات دکھائی گئیں۔

 جنت کیسی ہو گی؟

فرمایا: یہ دنیا مشقت کا جہان ہے اور جنت سکون کا جہان ہے۔ جنت میں بیماریاں نہیں، کمانا نہیں، ہر چیز ملے گی۔ کمانے کے لیے بھاگ دوڑ نہیں ہو گی۔ اللہ نے انسان کو اس کی نفسیات سے پکڑا ہے، جو چیزیں بندے کو پسند ہیں وہ جنت میں رکھ دیں۔

پنڈلی

فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ (سورۃ القلم۔42)
ترجمہ: جس دن پنڈلی کھولی جائے گی۔

ظاہری علما تو پنڈلی سے مراد قیامت کی سختی لیتے ہیں۔ یہ تب ہی پتا چلے گا جب اللہ پنڈلی کھولے گا۔ ہو سکتا ہے ہر دور میں اللہ کی پنڈلی  ہوتی ہو اور وہ ایک ہی ہو۔ ملا تو آپ کویہ نہیں بتا سکے گا، ان کے معانی ان کو کیا پتا۔ ان کو معانی میں اختلاف ہوتا ہے۔ 

نفس کا فنا ہونا

کسی نے پوچھاکہ حدیث ِ مبارکہ ہے ’’جس نے نفس کو فنا میں دیکھا اس نے اللہ کو بقا میں دیکھا‘‘ اس کا کیا مطلب ہے؟
فرمایا: سر سے پاؤں تک یہ جسم نفس ہے، اس کی خواہشات ہیں،  جب انسان سب کچھ چھوڑ کر یا فنا کر کے اللہ کی طلب کرتا ہے کہ کچھ اور ملے نہ ملے اللہ ملنا چاہیے تو اسے اللہ مل جاتا ہے، بقا حاصل ہو جاتی ہے۔ انسان جو سب کچھ چھوڑتا ہے وہ بھی مل جاتا ہے لیکن تب انسان کو وہ چاہیے نہیں ہوتا۔ جیسے اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فرمایا:
وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی۔ (سورۃ الضحیٰ۔5)
ترجمہ: اور عنقریب آپ کا ربّ آپ کو (اتنا کچھ) عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔

اللہ کے رنگ میں رنگا جانا

کسی نے پوچھا کہ اللہ کے رنگ میں رنگا جانے سے کیا مراد ہے؟
فرمایا: وہ رحیم ہے تم بھی رحیم بن جائو، وہ کریم ہے تم بھی کریم بن جائو، وہ سخی ہے تم بھی سخی بن جائو۔ اس کی صفات کو اپنا لو۔ حدیث ہے:
تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ
ترجمہ: اللہ کے اخلاق سے متخلق ہو جاؤ۔

جب انسان اس کی صفات کو اپنا لیتا ہے تو ذات بھی اندر آ جاتی ہے۔  یہی اللہ کا رنگ ہے۔ اور اللہ کے رنگ سے بہتر رنگ کس کا ہے؟
وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً (سورۃ البقرہ۔138)
ترجمہ: اور اللہ کے رنگ سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے؟
جب یہ ہوتاہے تو انسان اللہ کو بقا میں دیکھ لیتا ہے۔ جب انسان اللہ کے رنگ میں رنگا جائے تو پھر کیا حساب کتاب ہو گا؟ اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے بہت سے لوگ بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔یہ اعزاز صرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت کو حاصل ہے۔ 

علم حلم کے نتیجے میں

کسی نے پوچھا کہ کلید التوحید کلاں میں ہے’’ علم حلم کے نتیجے میں ملتا ہے۔‘‘ اس سے کیا مراد ہے؟
فرمایا: اس علم سے مراد علمِ لدنی ّہے، اس کو علمِ حضوری بھی کہتے ہیں۔ مولانا رومؒ فرماتے ہیں کہ عام لوگ مردہ سے علم حاصل کرتے ہیں ہم نے حیّ قیوم ذات سے علم حاصل کیا ہے۔ جو علم اللہ سے حاصل ہوتا ہے وہ حلم کے نیچے ہے۔ جتنی عاجزی زیادہ اتنا علم، جتنا نیچے جاتے ہیں اتنا علم حاصل ہوتا ہے۔ اکڑ والے کو کچھ نہیں ملتا۔ غرور و تکبر صرف اللہ کے لیے ہے، وہ اپنی اس صفت سے کسی کو متصف نہیں کرتا۔ ہاں چند خاص کو کرتا ہے وہ بھی آخر میں جا کر جو اس صفت کو سنبھال سکے۔ 

علم حجابِ اکبر ہے

کسی نے پوچھا کہ علم کیسے حجابِ اکبر ہے؟ فرمایا:ایسا علم ظاہری علما لیے پھرتے ہیں کہ (باطنی راہ کا) فوراًا نکار کر دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ علم صرف وہی ہے جو ہمارے پاس ہے، یہی حجابِ اکبر ہے۔ 

احسن تقویم

کسی نے احسن تقویم کے متعلق پوچھا کہ اللہ فرماتا ہے:
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍْ (سورۃ التین۔4)
ترجمہ: یقیناہم نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا۔

فرمایا:انسان کی پیدائش کے دو مرحلے ہیں، ایک روح اور دوسرا یہ جسم۔ اس روح کو صرف روح نہیں بلکہ اللہ نے جب حضرت آدمؑ میں روح پھونکی تو اس کو ’’اپنی روح‘‘ کہا۔ روح کی تفصیل کا تو اللہ نے ذکر نہیں کیا صرف یہ بتایا کہ امر ِربیّ ہے۔ اسی کو اقبالؒ نے خودی کا نام دیا ہے، صوفیا اس کو اپنی پہچان کہتے ہیں۔ امام غزالیؒ نے بھی  کیمیائے سعادت میں پہلے جسم کی بات کی ہے پھر روح کی بات کی ہے۔ یہ ظاہری جسم اتنا پیچیدہ ہے تو پھر سوچیں کہ روح کیا ہو گی۔  اتنی ترقی کے باوجود ابھی تک کچھ بیماریاں ہیں جن کا علاج ہی نہیں۔ کچھ بیماریاں اتنی پیچیدہ ہیں کہ ان کے ٹیسٹ اور علاج ہی صرف چند ترقی یافتہ ممالک میں ہوتے ہیں۔ روح کو سب مکتبہ فکر والے مانتے ہیں، عقل پرست بھی مانتے ہیں، علامہ ابنِ قیم نے روح پر ایک کتاب لکھی ہے ’’الروح‘‘ جن کا تعلق اسی مکتبہ فکر سے ہے۔ روح کا علم اسمِ اعظم سے ہی حاصل ہوتا ہے:

عِلموں بس کریں او یار
اِکو الف تیرے درکار

اللہ کو پانے کا بہترین طریقہ

فرمایا:اللہ کو پانے کی بہترین مثال وہی ہے کہ جب بابا بلھے شاہؒ اللہ کو پانے کی جستجو میں حضرت شاہ عنایتؒ کے پاس پہنچے تو وہ پنیری لگا رہے تھے۔ حضرت بابا بلھے شاہؒ نے پوچھا کہ اللہ کو کیسے پایا جا سکتا ہے انہوں نے فرمایا ’’اے پنیری ہار ہی اے، اِدھروں پٹنا اُدھر لانا‘‘

انسانی فطرت

فرمایا: دیکھ لیں کہ انسانی فطرت کیسی چیز ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ابھی جنازہ پڑا تھا کہ لوگ خلافت پر لڑ پڑے۔ جس معاملے کو پھر حضرت ابوبکرصدیقؓ نے سلجھایا۔ 

صفائی

11فروری 2026ئ:فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘۔ صفائی پچاس فیصد (50%)ایمان ہے۔ اللہ کو صفائی اور خوشبو پسند ہے۔ جدھر صفائی ہو اُدھر رحمتیں ہوتی ہیں۔ 

(جاری ہے)

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں