معجزۂ نسل ِرسولؐ امام زین العابدینؓ کی صورت میں زندہ نشانی Mojza-e-Nasal-e-Rasool Imam Zain-ul-Abideen ki Soorat mein Zinda Nishani

Rate this post

معجزۂ نسلِ رسولؐ  امام زین العابدینؓ کی صورت میں زندہ نشانی

 Mojza-e-Nasal-e-Rasool Imam Zain-ul-Abideen ki Soorat mein Zinda Nishani

تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری

 واقعۂ کربلا کے باب پر جب بھی روشنی ڈالی جائے تو عقلِ انسانی ایک عظیم الشان معجزے کے سامنے سرنگوں ہو جاتی ہے جس نے کامیابی و ناکامی کے مروجہ فیصلوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ کربلا کی تپتی ریت پر آلِ رسول ؐ کا پاکیزہ خون بہایا جا رہا تھا تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جبر و استبداد اور باطل قوتوں کو فتح حاصل ہو گئی ہے مگر مشیتِ الٰہی کا فیصلہ کچھ اور ہی تھا۔ وہاں ایک طرف تخت تھا ، اقتدار تھا اور لشکر ِکثیر تھا جبکہ دوسری طرف حق کی آوا ز تھی جسے رہتی دنیاتک انسانیت کا عنوان بننا تھا ۔

کیا تاریخ نے کبھی ایسا منظردیکھا ہے کہ بہتر (72) نفوس جن میں بچے، عورتیں، بیمار سب شامل ہیں جو جنگ کے ارادے سے گھر سے نہیں نکلے لیکن ان کے مدِمقابل لاکھوں کی فوج جمع کر لی جائے، دھوکہ دہی سے کام لیا جائے ، پانی بند کر دیا جائے اور پھر بھی ان بہتر نفوس کے حوصلے بلند رہے ، انہوں نے جامِ شہادت نوش کرنا تو پسند کیا لیکن باطل کے سامنے جھکنا پسند نہ کیا۔ 

اہلِ بیتِؓاطہار کے تمام مرد بے دردی سے شہید کر دیے جاتے ہیں صرف ایک جان چھوڑ دی جاتی ہے جو اس وقت بیمار تھے۔ کیا ہی معجزہ ہے کہ اس ایک پاکیزہ جان سے نسلِ کثیر جاری ہوتی ہے اور وہ قومِ یزید جو اُس وقت بظاہر فاتح تھی آج اس کا نام و نشان باقی نہیں رہا۔ آج کون ہے جو کہنا پسند کرے کہ وہ نسلِ یزید سے ہے جبکہ سادات بکثرت ہیں۔

’’ سید‘‘ پاکیزگی اور عزت کی علامت ہے جبکہ یزیدیت ظلم و جبر کا استعارہ ۔تاریخ کے باب اٹھا کر دیکھ لیا جائے نسلیں پروان چڑھتی ہیں، مٹ جاتی ہیں، کئی نئی نسلوں کی افزائش ہوتی ہے لیکن آلِ رسولؐ کی پاکیزہ نسل کو وہ برکت اور خیر ِکثیر حاصل ہے جو رہتی دنیا تک کے لیے معجزہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت امام زین العابدینؓ کے وجودِ مبارک سے آلِ رسولؐ کا نام جاری رکھا ۔باقی تمام خاندانِ اہلِ بیتؓ ؓکو شہید کر دیا گیا تھا۔ صرف یہی نہیںبلکہ واقعہ کربلا میں پیش آنے والے حقائق کو آلِ رسولؐ یعنی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کے فرزند امام زین العابدینؓ اور حضرت امام حسین ؓ کی ہمشیرہ حضرت بی بی زینب ؓ نے تمام نسلِ انسانی تک پہنچایا۔اس قدر درد اورغم سے اس عظیم داستان کو لوگوں تک پہنچایا کہ آج بھی دل اس پر اَشک بار ہو جاتا ہے ۔اس کے متعلق سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اپنی تصنیفِ مبارکہ ’’حضرت امام حسین ؓاور یزیدیت ‘‘ میں رقمطراز ہیں:

 اب وہ وقت آیا کہ جاں نثار ایک ایک کر کے رخصت ہو چکے اور حضرت امامِ عالی مقام ؓ پر جانیں قربان کر گئے ۔ اب تنہا حضرت امامِ عالی مقام ؓ ہیں اور ایک فرزند حضرت امام زین العابدین ؓ،وہ بھی بیمار و نحیف ۔ باوجود اس نحیف اور نا طاقتی کے خیمہ سے باہر آئے اور حضرت امام عالی مقامؓ کو تنہا دیکھ کر میدانِ کارزار میں جانے اور اپنی جان نثار کرنے کے لئے نیزہ دستِ مبارک میں لیا لیکن بیماری ، سفر کی کوفت، بھوک ، پیاس، متواتر فاقوں اور پانی کی کمی سے ضعف اس قدر ترقی کر گیا تھا کہ کھڑے ہونے سے بدن مبارک لرزتا تھا باوجود اس کے ہمتِ مردانہ کا یہ حال تھا کہ میدان کا عزم کر لیا۔ 

حضرت امامِ عالی مقامؓ نے فرمایا: جانِ پدر لوٹ آؤ ،میدان میں جانے کا قصد نہ کرو۔ کنبہ، عزیز و اصحاب، خدام جو ہمراہ تھے راہِ حق میں جان نثار کر چکے اور الحمد للہ کہ ان مصائب کو اپنے جد کریم کے صدقہ میں صبر وتحمل کے ساتھ برداشت کیا۔ اب اپنا ناچیز ہدیۂ سر راہِ خدامیں نذر کرنے کے لئے حاضر ہے ۔ تمہاری ذات سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں، بیکسانِ اہلِ بیتؓ کو کون وطن تک پہنچائے گا، بیبیوں کی نگہداشت کون کرے گا، میرے بعد امانتِ الٰہیہ کون سنبھالے گا، جد و پدر کی جو امانتیں میرے پاس ہیں کس کے سپرد کی جائیں گی، قرآنِ کریم کی محافظت اور حقائقِ عرفانیہ کی تبلیغ کا فرض کس کے سر پر رکھا جائے گا ، میری نسل کس سے چلے گی ،حسینی سیدوں کا سلسلہ کس سے جاری ہو گا۔ یہ سب توقعات تمہاری ذات سے وابستہ ہیں، رسالت و نبوت کے آخری چراغ تم ہی تو ہو، تمہارے نور سے دنیا مستفید ہو گی ۔مصطفیؐ کے دلدادگانِ حسن تمہارے اسی روئے تاباں سے حبیبِ حق کے انوار و تجلیات کی زیارت کریں گے۔ اے نورِ نظر، لختِ جگر یہ تمام کام تمہارے ذمہ کئے جاتے ہیں میرے بعد تم ہی میرے جانشین ہو گے ، تمہیں میدان میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ (سید الشہدا حضرت امام حسین ؓ اور یزیدیت )

حضرت علیؓ کی اولاد آلِ رسولؐ ہے:
یہاں ایک تنقید کا جواب دینا ضروری ہے کہ اکثر لوگوں کا سوال ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسل مبارک کس سے چلی جبکہ آپؐ کا کوئی بیٹاحیات نہیں رہا تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسلِ مبارک حضرت بی بی فاطمہ ؓ سے تھی۔ قرآنِ کریم کی سورۃ کوثر اس کی روشن دلیل ہے کیونکہ جب ہم اس سورۃ کا شانِ نزول پڑھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ یہ سورۃ اس وقت نازل ہوئی جب کفار و مشرکین نے آپؐ کا کوئی بیٹا حیات نہ رہنے پر طعنہ دیا کہ نعوذ باللہ آپ ؐ کی نسل کٹ گئی اور آپؐ کی کوئی نرینہ اولاد نہیں ہے۔ اس لیے جب تک آپ ؐزندہ ہیں تب تک آپؐ کا نام اور دعوت و تبلیغ کا کام جاری رہے گا۔ آپؐ کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ (تفسیر ابنِ کثیر)

اس پر قرآنِ کریم کی سورۃ کوثر نازل ہوئی۔ کوثر کثرت سے ہے ۔ ہر علمی و مذہبی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ’’کوثر ‘‘سے اپنے فہم کے مطابق مطلب اخد کرتے ہیں ۔ صوفیا کرام ’’کو ثر‘‘ سے حضرت بی بی فاطمہ ؓ مراد لیتے ہیں کیونکہ ان کے بطن مبارک سے آپؐ کی نسل، ذکر، شان و رفعت میں کثرت نصیب ہوئی جس کا فیض تا قیامت جاری و ساری رہے گا۔ سورۃ کوثر میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ ۔ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انْحَرْ ۔ اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الْاَبْتَرُ ۔
ترجمہ: بے شک ہم نے آپؐ کو (ہر خیر و فضیلت میں ) بے انتہا کثرت بخشی ہے۔ پس آپؐ اپنے ربّ کے لیے نماز پڑھا کریں اور قربانی دیا کریں ۔ بیشک آپؐ کا دشمن ہی بے نسل اور بے نام و نشان ہو گا ۔ 

سبحان اللہ !واقعہ کربلا اس آیتِ قرآن کی زندہ مثال اور معجزہ ہے کہ کیسے اللہ پاک نے آپؐ کی نسل مبارک کوکثرت بخشی اور آپؐ کے دشمن یزید کو بے نسل اور بے نام و نشان رکھا۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسل مبارک کے متعلق حدیثِ مبارکہ میں ارشاد ہوا ہے :

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر نبی کی ذرّیت اس کی صلب سے جاری فرمائی اور میری ذرّیت حضرت علیؓ بن ابی طالب کی صلب سے چلے گی ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی ، 44:3، ح: 2630)

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں :
قدرت کا اصول ہے کہ ہر شخص کی اولاد یا نسل اسی شخص کی پشت میں رکھی جاتی ہے لیکن حضرت علیؓ کو یہ خاص الخاص فضیلت حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آلِ رسولؐ کو آپؓ کی پشت میں رکھا ۔ حضرت فاطمہؓ سے آپ ؓ کی اولاد آلِ رسولؐہے۔(تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین )

حضرت امام حسین ؓ کی اولادِ مطہرہ: 

۱۔ علی بن حسین ؓ (امام زین العابدینؓ ) جن کی کنیت ابو محمد ہے۔
۲۔ حضرت علی اکبرؓ جو اپنے والد کے ساتھ میدانِ کربلا میں شہید ہوئے ۔
۳۔ جعفر بن حسینؓ ان کی کو ئی اولاد نہیں اور آپ حضرت امام حسین ؓ کی زندگی ہی میں فوت ہو گئے تھے۔
۴۔ عبد اللہ بن حسین ؓ (علی اصغر ) صغیر سنی میں اپنے والد کے ساتھ شہید ہوئے۔ وہ اپنے والد کی گود میں تھے کہ تیر آیااور انہیں شہید کر گیا۔
۵۔ سکینہ بنت حسینؓ
۶ ۔ فاطمہ بنت حسینؓ 

شہدا بنی ہاشم در کربلا:

میدانِ کربلا میں حضرت امام حسینؓ کے خاندان سے شہید ہونے والے افراد کے اسما درج ذیل ہیں جن کی تعداد بائیس ہے اور تئیسویں خود حضرت امام حسین ؓ ہیں ۔
۱۔ حضرت عباسؓ   ۲۔ حضرت عبداللہؓ  ۳۔ حضرت جعفر ؓ  ۴۔حضرت عثمانؓ
(یہ چاروں حضرات امیرا لمومنین حضرت علیؓ کے فرزند ہیں ان کی مادر گرامی ام البنین ؓ ہیں ۔)

۵۔ حضرت محمدؓ    ۶ ۔ حضرت ابو بکرؓ
(یہ دونوں بھی امیر المومنین حضرت علیؓ کے صاحب زادے ہیں ان کی والدہ لیلیٰ بنت ِمسعود ثقفیہ ہیں۔ )

۷۔ حضرت قاسمؓ    ۸۔ حضرت ابو بکرؓ     ۹۔ حضرت عبد اللہؓ  ۱۰۔حضرت عمرؓ
(یہ حضرات امام حسن ؓ بن علیؓ کے فرزند ہیں ۔)

۱۱ ۔ حضرت علی اکبرؓ    ۱۲ ۔ حضرت عبداللہؓ   ۱۳۔ حضرت علی اصغرؓ
(یہ حضرت امام حسینؓ کے فرزند ہیں ۔)

۱۴۔ محمدؓ    ۱۵۔ عونؓ
(یہ دونوں جناب عبدا للہ بن جعفر بن ابو طالبؓ کے فرزند ہیں ۔)

۱۶۔جعفرؓ   ۱۷ ۔ عبد الرحمنؓ   ۱۸۔عبد اللہؓ بن مسلم بن عقیل  ۱۹۔محمد بن ابوسعید بن عقیلؓ   ۲۰۔مسلم بن عقیلؓ  ۲۱۔ محمد بن مسلم بن عقیلؓ  ۲۲۔ابراہیم بن مسلم بن عقیلؓ   (یہ آلِ عقیل ؓ بن ابو طالب ہیں۔)

حضرت امام زین العابدین کا واقعہ کربلا میں کردار :

امام علی بن حسینؓ (امام زین العابدین)نبوت کے گھر اور وحی کے مقام نزول میں پلے ۔ اس گھر میں جس کو اللہ کی راہ میں سخت ترین رنج ، مشقت اور مصیبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ آپ بچپن میں اپنے عظیم دادا حضرت علی المرتضیٰ ؓکے غمِ شہادت سے دوچار ہوئے جو مسجد کوفہ میں اپنے خون میں لت پت ہو گئے تھے۔ جب شباب کی طرف بڑھ رہے تھے تو اپنے تایا امام حسن ؓ کی شہادت کا غم اٹھانا پڑا ۔ پھر جوانی میں جبکہ آپ ایک ایسے مرض میں مبتلا تھے جو آپ کے جسم کو گھلائے دے رہا تھا، آپ ؓنے اپنے والد بزرگوار، چچاؤں اور بھائیوں کا شہید ہونا دیکھا۔ آپؓ کے تمام اہلِ خاندان اور اصحابِ حسین ؓ کے سر نیزوں پر بلند کیے ہوئے ساتھ ساتھ تھے اور آپؓ کے والد ماجد کا سر مبارک سب سے آگے تھا۔ نیز آپ نے عبید اللہ بن زیاد اور یزید بن معاویہ کو دیکھاکہ وہ عداوت سے آپؓ کے والد بزرگوار کے دندان مبارک کو اپنی چھڑی سے مارتے تھے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے خود آپ پر بھی تلوار اٹھائی لیکن مشیتِ الٰہی نے ان کے ارادوں کو پورا نہیں ہونے دیا ۔ 

امام زین العابدینؓ نے کربلا کی مقابلہ آزمائیوں کے بہت سے واقعات بیان کئے ہیں۔ اسی طرح آپؓ نے اپنے والد ماجد کا وہ خطبہ بھی روایت کیا جو انہوں نے اپنی شہادت سے قبل اہلِ کوفہ کے سامنے دیا تھا۔ امام زین العابدین ؓ(امام سجاد) ہی نے اپنے والدِ گرامی امام حسین ؓ، اپنے بھائیوں اور خاندان کے افراد کو دفن کیا جیسا کہ بیشتر روایات میں آتا ہے ۔ 

جب آپ ؓ اور آپ کی پھوپھیاں کو فہ داخل ہوئیں تو لوگ جمع ہو گئے۔ ان سب کو اس واقعہ نے ششدر کر دیااور وہ رونے اور نوحہ کرنے لگے ۔ اگرچہ اس وقت آپ بیمار تھے لیکن پھر بھی آپ نے لوگوں کو خاموش ہو جانے کا اشارہ کیا اور کمزوری کے باوجود آپ نے کھڑے ہوکر اللہ کی حمدبیان کی،نبی اکرم ؐ کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد کہا :
’’اے لوگو! جو مجھ کو پہچانتا ہے وہ تو پہچانتا ہے ۔ جو نہیں پہچانتا اس کو خود بتائے دیتا ہوں ۔ میں حسین ؓ بن علیؓ بن ابی طالب ہوں۔ میں اس کا بیٹا ہوں جس کی حرمت ضائع کی گئی ، کھانا پینا بندرکھا گیا، بے جرم مار ڈالا گیا، مال لوٹا گیا اور اس کے اہل وعیال کو قیدی بنا لیا گیا۔ میں اس کا بیٹا ہوں جس کو فرات کے کنارے ذبح کر ڈالا گیا۔ میں اس کا بیٹا ہوں جس کو دھوکے سے کوفہ بلا کر شہید کیا گیا ہے اور یہی قربانی فخر کے لیے کافی ہے ۔ اس کے بعد آپؓ نے اہلِ کوفہ کو ان کے کریہہ جرائم یاد دلائے ۔۔۔امام حسین ؓ کو خطوط بھیجنا، ان سے جھوٹے وعدہ کرنا یہاں تک کہ راوی کے بقول وہ لوگ زور زور سے رونے اور چلانے لگے۔

اہلِ بیتؓ کو یزید کے دربارمیں لایا گیا۔اس وقت بھی امام زین العابدینؓ نے انتہائی شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ یزید نے امام زین العابدینؓ کی طرف متوجہ ہو کر کہا: تمہارے باپ نے میری قرابت کا خیال نہ کیا۔ میرے حق کو نظر انداز کیا اور میری حکومت کے معاملے پر مجھ سے جھگڑا کیا۔ اب تم نے دیکھ لیا کہ اللہ نے ان کا کیا حال کیا ۔ امام زین العابدین ؓنے قرآن کی آیت سے جواب دیا:
مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَہَا ط اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ۔  لِّکَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰکُمْ ط  وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِ۔ (سورہ الحدید۔22-23)

ترجمہ: کوئی بھی مصیبت نہ تو زمین میں پہنچتی ہے اور نہ تمہاری زندگیوں میں مگر وہ ایک کتاب میں (یعنی لوحِ محفوظ میں جو اللہ کے علمِ قدیم کا مرتبہ ہے) اس سے قبل کہ ہم اسے پیدا کریں (موجود) ہوتی ہے، بیشک یہ (علم محیط و کامل) اللہ پر بہت ہی آسان ہے۔تاکہ تم اس چیز پر غم نہ کرو جو تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی اور اس چیز پر نہ اِتراؤ جو اس نے تمہیں عطا کی، اور اللہ کسی تکبر کرنے والے، فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔

یزید نے اپنے بیٹے خالد سے کہا کہ وہ امامؓ کو جواب دے لیکن وہ کوئی جواب نہ دے سکا۔تب یزید نے اس سے کہا کہ تم ان سے یہ کہو:
وَ مَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ (سورۃالشوریٰ۔30)
ترجمہ:اور جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے تو اُس (بد اعمالی) کے سبب سے ہی (پہنچتی ہے) جو تمہارے ہاتھوں نے کمائی ہوتی ہے حالانکہ بہت سی(کوتاہیوں) سے تو وہ درگزر بھی فرما دیتا ہے۔

اس پر امام زین العابدینؓ نے فرمایا :
اے یزید ، اے معاویہ، ہندہ اور ضحر کے بیٹے ! میرے باپ دادا کے پاس نبوت اور حکومت اس وقت رہی ہے جب تو پیدا بھی نہ ہوا تھا۔ بدر ، احد اور احزاب کی جنگوں میں میرے داد ا علیؓ بن ابی طالب کے ہاتھ میں رسول اکرم ؐ کا علم ہوتا تھا اور تیرے باپ اور دادا کے ہاتھ میں کفار کا۔ وائے ہو تجھ پر اے یزید کہ اگر تجھ کو معلوم ہوتا تو نے میرے باپ اور ان کے خاندان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے تو پھر توُ پہاڑوں میں بھاگ جاتا، مٹی پر لیٹتا اور چیختا پکارتا رہتا ۔ بس اب تو سمجھ لے کہ قیامت کے روز تجھ کو لوگوں کے اجتماع میں ذلت اور ندامت کا سامنا ہو گا۔ 

اسی طرح ایک اور موقع پر آپ ؓ نے فرمایا :
اے لوگو !ہم کو چھ چیزیں عطا کی گئی ہیں اور ہماری سات بزرگیاں ہیں : ہم کو دیا گیا ہے علم ، حلم ، سخاوت ، فصاحت ، شجاعت  اور مو منوں کے قلب میں محبت۔ ہماری بزرگیاں یہ ہیں : کہ اللہ کے منتخب نبی ؐ ہم میں سے ہیں، صدیق ہم میں سے ہیں، طیار (ملائکہ کی مانند اڑنے والے) ہم میں سے ہیں اور اسدِرسول ؐہم میں سے ہیں، عاملین کی عورتوں کی سردار ہم میں سے ہیں اور اس امت میں رسول ؐ کے دو نواسے بھی ہم میں سے ہیں۔ 

اس کے بعد فرمایا :
اے لوگو! جو مجھ کو پہچانتا ہے ، وہ تو پہچانتا ہے ، جو نہیں پہچانتا میں اس کو اپنا حسب نسب بتلاتا ہوں۔ میں مکہ و منیٰ کا فرزند ہوں ۔ میں زمزم و صفا کا فرزند ہوں۔ میں اس کا فرزند ہوں جس نے غریبوں کے لیے زکوٰۃ وصول کی۔ میں چادر اوڑھنے والوں اور لباس پہننے والوںمیں بہترین فرد کا فرزند ہوں۔ میں طواف اور سعی کرنے والوں میں بہترین شخص کا فرزند ہوں۔ میں بیت اللہ کا حج کرنے والوں اور لبیک کہنے والوں میں بہترین شخص کا فرزند ہوں۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کو براق پر ہوا میں لے جایا گیا۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کو راتوں رات مسجد حرام (خانہ کعبہ ) سے مسجد اقصیٰ تک لے جایا گیا۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کے ساتھ جبرائیل سدرۃ المنتہیٰ تک گئے۔ میں اس کا فرزند ہوں جو تجلیات سے اس قدر قریب ہوئے کہ دو کمانوں یا اس سے بھی کم فاصلہ پر پہنچ گئے۔ میں فرزند ہوں محمد مصطفی ؐاور علی المرتضیٰ ؓ کا۔ میں اس کا فرزند ہوں جس نے لوگوں کی ناکوں کو نیچا کیا یہاں تک وہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہنے لگے۔ میں اس کا فرزند ہوں جس نے رسولؐ اللہ کی حفاظت کے لیے دو تلواروں سے جنگ کی، جس نے دو نیزوں سے حملے کیے، جس نے دو مرتبہ ہجرت کی، جو بدروحنین میں لڑا اور جس نے ایک لمحہ کے لیے بھی کفر اختیار نہ کیا ۔ آپؓ اسی طرح بولتے رہے اور مجمع آپؓ کے سامنے اپنے بزرگوں، رسولِ اکرمؐ ، علی مرتضیٰ ؓ اور اپنے والد بزرگوار ابو عبد اللہ بن حسین ؓ کے کارنامے گناتے اور جو کچھ کربلا میں ہوا بیان فرماتے رہے یہاں تک کہ لوگ رونے اور چیخنے لگے۔اس وقت راوی کہتے ہیں، یزید کو خوف ہوا کہ اہلِ شام اس پر ٹوٹ پڑیں گے چنانچہ اس نے مؤذن کو حکم دیا کہ وہ اذان شروع کر دے تاکہ آپؓ کی تقریر کا سلسلہ بند ہو جائے ۔ پس جب مؤذن نے کہا : اللہ اکبر تو آپ ؓ نے فرمایا : یقینا اللہ سے بڑا کوئی نہیں ۔ جب اس نے کہا:  اشھد ان لا الٰہ اِلَّا اللّٰہ توامام ؓ نے فرمایا : خون ، گوشت اور میرے بال بھی اس کی گواہی دیتے ہیں ۔جب اس نے کہا : اشھد انّ محمّد رّسول اللّٰہ تب امام زین العابدینؓ نے یزید بن معاویہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : یہ محمد ؐ میرے نانا ہیں یا تیرے ۔ اگر تو یہ مانتا ہے کہ وہ میرے نانا ہیں تو پھر تو نے ان کی عطرت کو کس لیے قتل کیا؟

راوی نے امام زین العابدینؓ اور یزید بن معاویہ کے مابین اس گفتگو کو بیان کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ تب یزید کے دربار میں ایک یہودی عالم بھی موجود تھا ۔ اس نے یزید سے پوچھا: یہ لڑکا کون ہے؟ اس نے کہا : یہ علی بن حسینؓ ہیں ۔ تب یہودی نے آپ کے دادا ، باپ اور ماں کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے آپ کو آپ کے نسب کے متعلق بتلایا یہاں تک کہ بات رسولِ اکرمؐ تک پہنچی ۔ تب یہودی بولا:’’ سبحان اللہ! تم نے اتنی جلدی اپنے نبی کی بیٹی کے بیٹے کو قتل کر ڈالا ۔ تم نے ان کے بعد ان کی ذرّیت کے ساتھ بہت ہی برا سلوک کیا ۔ بخدا ! اگر موسیٰؑ بن عمران ہمارے درمیان اپنا ایک نواسہ چھوڑ جاتے تو ہمارا خیال ہے کہ ہم اللہ کی بجائے اس کی عبادت کرنے لگتے۔ مگر تم وہ ہو کہ ابھی کل تمہارے نبی ؐ تم سے جدا ہوئے ہیں اور تم ان کے بیٹے پر جھپٹ پڑے اور اس کو قتل کر ڈالا۔ کیسی بری امت ہو تم لوگ‘‘۔(سیرۃ آئمہ اہلِ بیتؓ ) ،(چشم و چراغِ کربلا ) 

جب حضرت امام زین العابدینؓ مدینہ تشریف لے گئے تو وہاں بھی  ان کی تقریروں نے رنج و غم کی لہر دوڑا دی۔ مسلمانوں نے اس شدید صدمے کی تلخی محسوس کی جس نے اسلامی معاشرے کو ہلا ڈالا تھا۔ اس نے اہلِ مدینہ کو اپنی اس عظمت کے دفاع کی خاطر، جس پر ہر طرف سے خطرے گھیراڈال رہے تھے ، سے مقابلہ کرنے کے لیے ان کی رگوں میں نئی لہریں ، ان کے ضمیروں میں نئی چنگاریاں پیدا کر کے ان میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اب ہر مسلمان کے ضمیر میں احساسِ گناہ پیدا ہوا اور اس نے سوچا کہ جب امام حسین ؓ نے ہم سے مدد طلب فرمائی تھی تو ہم نے آپ کی مدد نہ کی ، آپ کی پکار کو سنا اور اس پر لبیک نہ کہا ۔ 

حلیۃ الاولیا میں بہ سند ابو حمزہ ثمالی امام جعفر صادق ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : علی بن حسین ؓ سے آپ کی کثرتِ گریہ کے متعلق پوچھا گیا توآپ نے فرمایا : مجھ کو کچھ نہ کہا کرو کیونکہ یعقوب ؑ پیغمبر کی اولاد میں سے صرف یوسف ؑہی آنکھوں سے اوجھل ہو گئے تھے۔ اس پر وہ اس قدر روئے کہ ان کی آنکھیں سفید ہو گئیں جبکہ میں نے کربلا کی ریت پر اپنے گھر کے افراد کو قتل ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔کیا تم سمجھتے ہو ان کا غم میرے دل سے مٹ سکتا ہے؟ (سیرتِ آئمۂ اہلِ بیتؓ)

حاصلِ کلام :

واقعہ کربلا میں ہمارے پیارے نبی ؐ کی آل کا خون بہایا گیا اور دشمنوں نے آپؐ کے خاندان کو مٹانے کی سازش کی لیکن اللہ نے ساری امتِ مسلمہ کو دکھا یاکہ نہ اللہ اور ا س کے رسول ؐ کا نام مٹایا جا سکتا ہے ، نہ نسلِ آلِ رسولؐ کا سلسلہ ختم ہو سکتا ہے۔ اللہ نے سورۃ کوثر کی آیات میں جو وعدہ فرمایا اسے حضرت امام زین العابدینؓ کی صورت میں سچ کر دکھایا ۔ نسلِ آلِ رسولؐ یعنی حسینی سید کا سلسلہ آپؓ سے جاری ہوا۔ واقعہ کربلا میں جو ظلم کی داستان رقم کی گئی تھی دشمنوں کا گمان تھا کہ وہ کربلا کی ریت میں دب جائے گی مگر اللہ نے آلِ رسول ؐ کے دشمنوں کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیا اور خاندانِ اہلِ بیتؓ نے اپنے ساتھ ہوئے اس سانحہ کو اس طرح دنیا تک پہنچایاکہ آج بھی ہر دل اس درد کو محسوس کرتا ہے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں میں اہلِ بیت ؓ کی سچی محبت اور عشق پیدا فرمائے۔

استفادہ کتب :
۱۔تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین
۲۔سید الشہدا حضرت امام حسین ؓ اور یزیدیت: تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
۳۔تفسیر ابنِ کثیر
۴۔سیرۃ آئمہ اہل بیتؓ، جلد دوم ، ہاشم معروف حسنی (لبنان)، ترجمہ: سید علی رضا
چشم چراغِ کربلا(حضرت امام زین العابدین کے فضائل و سوانح )؛ پروفیسر مرزا حید ر عباس
تذکرۃ الاطہار ، مؤلف : آیت اللہ علامہ شیخ مفید ؒ، ترجمہ: مولانا سید صفدر حسین نجفیؒ

 

اپنا تبصرہ بھیجیں