مجتبیٰ آخر زمانی Mujtaba Akhar Zamani

Rate this post

مجتبیٰ آخر زمانی Mujtaba Akhar Zamani

باب اوّل ۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ

قسط نمبر   1                                             (تصنیف ِ لطیف: سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن)

سلطان الفقر، سید الکونین، سلطان العارفین، برہان الواصلین، حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فقیر مالک الملکی اور مرشد کامل اکمل جامع نورالہدیٰ ہیں۔

 آپ ؒ فرماتے ہیں:

اکملم کامل مکمل جامع ہم نور الہدیٰ
مالک الملکی مراتب فقیر فی اللہ باخدا

ترجمہ: میں کامل اکمل مکمل و جامع نور الہدیٰ فقیر ہوں اور مالک الملکی فقیر فنا فی اللہ کے مرتبے پر فائز ہوں۔ (نور الہدیٰ کلاں)

فقرا میں ’’فقیر مالک الملکی‘‘ سب سے اعلیٰ مرتبہ ہے اور صاحبانِ تلقین و ارشاد میں مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ سب سے آخری مرتبہ ہے اور انسانِ کامل کا یہ اعلیٰ ترین مرتبہ ہے ۔ یہ مرتبہ سب مراتب کا جامع ہے اس کے بعد کوئی مرتبہ نہیں ہے۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ عارفین کے سلطان ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا سب سے بڑا کار نامہ یہ ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے سلسلہ قادری کو سلسلہ سروری قادری کے نام سے منظم کیا اور اس کے لیے تاقیامت اپنی کتب کی صورت میں فکری اثاثہ مہیا کیا اور یوں حق تعالیٰ کے متلاشی طالبانِ مولیٰ کے لیے راہِ حق کو آسان سے آسان تر بنا دیا۔

فقیر ِکامل کی زندگی اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر حجت ہوتی ہے۔ فقیر جہاں بھی زندگی گزارتا ہے جامع صفاتِ الٰہی ہونے کی وجہ سے نورِ حق سے معاشرے کو منور کرتا ہے۔ اسی طرح فقیر ِ کامل کی خانقاہ حیات بخش مرکز ہوا کرتی ہے جہاں سے لوگوںکا تزکیۂ نفس اور تصفیۂ قلب ہوتا ہے اور علم و عرفان کی ندیاںمعاشرے کو سیراب کرتی ہیں۔ انسان دنیا اور حبِّ دنیا میں مبتلا ہو کر سینکڑوں حجابات میں غرق ہو کر حق تعالیٰ کے نور سے محروم ہو جاتا ہے۔ فقیرِ کامل کی خانقاہ اور حلقہ اُن کے زنگ آلودہ قلوب کو نورِ حق سے منور کرتا ہے اور اس طرح تزکیۂ نفس سے قربِ الٰہی نصیب ہوتا ہے۔ طالب اور سالک کی روح کی غذا فقیرِ کامل کی صحبت اور قرب ہوا کرتی ہے۔

انسانیت کے لیے فقیر مالک الملکی اور مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی خدمات بے مثل اور بے مثال ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ تمام زندگی سفر اور سیاحت میں رہ کر لوگوں کے دِلوں کو معرفتِ حق تعالیٰ اور عشقِ الٰہی سے زندگی بخشتے رہے ۔سفر کے دوران آپ نے جہاں بھی قیام فرمایا وہاں رشدو ہدایت کا مرکز قائم ہو گیا۔

 آپ رحمتہ اللہ علیہ کے فیض کا سلسلہ وصال کے بعد بھی جاری چلا آ رہا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا دربار مرکز تجلیاتِ الٰہی ہے۔ کتب، شاعری اور سلسلہ سروری قادری کی صورت میں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک عظیم ورثہ چھوڑا ہے جو قیامت تک طالبانِ حق کے لیے راہنمائی کا کام کرتا رہے گا۔

سلسلہ نسب سلطان باھوؒ

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو  رحمتہ اللہ علیہ  اعوان قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیںاور اعوانوں کاشجرہ نسب حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔ اعوان حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی غیر فاطمی اولاد ہیں۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ  رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے دور کے دوسرے مصنفین کی طرح یہ طریقہ اختیار کیا کہ اپنی تصانیف کے شروع میں پیش لفظ کے طور پر اپنے متعلق صرف تعارفی سطور تحریر فرماتے ہیں اور پھر کتاب یا رسالے کی غرضِ تصنیف پر روشنی ڈالتے ہیں۔ انہوں نے جہاں کہیں بھی کسی تصنیف کے پیش لفظ میں اپنا ذکر فرمایا ہے وہاں اپنے نام کے ساتھ اعوان ضرور لکھا ہے۔ جیسے نور الہدیٰ کلاں میں آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔

’’سچ کہتا ہے مصنفِ تصنیف سروری قادری فقیر باھوؒ ، فنا فی ھوُ ولدبازیدؒ محمد عرف اعوان ساکن قلعہ شور (اللہ تعالیٰ اسے ہرقسم کے فتنوں اور ظلم و ستم سے محفوظ رکھے)۔‘‘

اسی طرح کی عبارت تھوڑی سی ردّوبدل کے ساتھ آپ رحمتہ اللہ علیہکی ہر تصنیف کے آغاز میں ملتی ہے جس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا تعلق اعوان قبیلہ ہی سے تھا۔ اعوان کون ہیں؟ اور کہاں سے آئے ہیں؟ اس سلسلہ میں سلطان حامد علی مصنف’ مناقبِ سلطانی‘ رقم طراز ہیں کہ اعوان حضرت علیؓ کی نسلِ پاک سے ہیں۔ جب ساداتِ عظام نے مختلف مصیبتوں اور پریشانیوں کی وجہ سے وطن چھوڑا اور ایران اور ترکستان کے مختلف حصوں میں بودوباش اختیار کی‘  قبیلہ اعوان چونکہ سادات کرام کا قریبی اور نسبتی تھا اس لیے اس مصیبت اور کٹھن دور میں وہ سادات کے رفیق و معاون بنے اس وجہ سے ان کی نسبت اعوان میں تبدیل ہوگئی یعنی سادات بنی فاطمہ کی مدد کرنے والے۔ علویت اور ہاشمیت کا لقب بدل کر اعوان بن گیا۔ سادات عجم میں آکر بدستور یادِ الٰہی میں مشغول رہے لیکن قبیلہ اعوان نے جنگ و جدل اور معرکہ آرائی جاری رکھی اور ہرات پر قبضہ کرلیا اور قطب شاہ نے ہرات کے تخت پر ہی وفات پائی۔ شاہ کا لقب سادات اور قریش کے ناموں کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے لیکن اعوان بھی اپنے نام کے ساتھ شاہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ جب سادات خراسان سے بسبب تفرقہ‘ مصیبت اور پریشانی ہجرت کر کے ہندوستان میںداخل ہوئے تو قبیلہ اعوان اس سفر اور ہجرت میں ان کے رفیقِ سفر بنے اور کالاباغ کے پہاڑوں‘ دریائے اٹک یا دریائے سندھ کے راستے پنجاب میں داخل ہوئے۔ سادات کرام حسبِ معمول دنیاوی جاہ و حشمت کو چھوڑ کر عبادتِ الٰہی میں مشغول ہوگئے اور گوشہ نشینی اختیار کی چنانچہ اوچ شریف میں بخاری، بھوٹ مبارک میں گیلانی، چوآسیدن شاہ میں شیرازی اور دنداشاہ بلاول میں ہمدانی سادات خلقِ خدا کی رہبری اورفیض رسانی کا ذریعہ بنے۔ لیکن اعوان قبیلہ نے کالاباغ پر قبضہ کرکے دریائے اٹک کے مشرقی کنارہ کے راستہ سے جلد ہی ہندوئوں کے مضبوط قلعوں، ملک دھنی و پوٹھوہار، کوہ پکھڑو، وادی سون سکیسر، کوہ پتائو، کوہ تاواہ، کوہ کھون وغیرہ پر قبضہ کرلیا اور ان علاقوں میں آباد ہوگئے۔ یہاں کے ہندوئوں نے اعوان قبیلہ کے غلبہ اور اسلام کے زور کی وجہ سے اسلام قبول کرلیا۔ آج اعوان ان علاقوں میں کثرت سے آباد ہیں۔

 احمد سعیدہمدانی لکھتے ہیں:
سلطان محمود غزنوی جب سومنات پر حملہ کرنے کے لیے ہندوستان روانہ ہوا تو اس کے ساتھ علویوں کے ایک دستے نے ہمراہی کی اجازت چاہی جس کی قیادت میرقطب شاہ یا میر قطب حیدر کر رہے تھے۔ سلطان محمود غزنوی نے بخوشی اجازت دے دی اور اس دستے کو ’’اعوان‘‘ کا خطاب د یا بعدازاں اس قبیلے کے لوگ اسی لقب سے موسوم ہوئے۔

اعوانوں نے سومنات کی لڑائی میں بہادری کے جوہر دکھائے اور سلطان محمود غزنوی ان سے بہت خوش ہوا۔ جب لشکر واپس ہونے لگا تو میرقطب شاہ یا میر قطب حیدر نے سلطان سے درخواست کی کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو ملک کے دوسرے علاقوں میں حکمران راجپوت سرداروں اور جاگیرداروں کی سرکوبی کے لیے مامور کیا جائے۔ سلطان نے یہ درخواست قبول کی۔ چنانچہ میرقطب حیدر اعوانوں کے لشکر کو لے کر موجودہ پوٹھوہار کے گرد ونواح اور کوہستان نمک کے علاقوں میں برسرِاقتدار جنجوعہ اور چوہان راجپوتوں پر حملہ آور ہوئے اور ان کو پسپا کر کے انہیں پہاڑوں سے نیچے دھکیل دیا اور اعوان قبائل ان پہاڑوں کی خوبصورت وادیوں پر قابض ہو کر ان میں آباد ہوگئے۔ اب یہ قطب شاہی اعوان کہلائے۔ (احوال و مقاماتِ سلطان باھوؒ)

میرقطب شاہ

میر قطب شاہ وہی ہستی ہیں جن کی سرپرستی میں اعوان سلطان محمود غزنوی کی فوج میں شامل ہوئے اور وادی سون سکیسر اور پوٹھوہار میں قیام پذیر ہوئے۔ احمدسعید ہمدانی لکھتے ہیں’’میرقطب شاہ کا شجرہ نسب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے صاحبزادے حضرت امام محمدبن حنفیہؓ سے ملتا ہے۔ ان کے آبائو اجداد سادات فاطمی کی حمایت میں حکمرانوں سے لڑتے ہوئے اور سادات کو اپنی حفاظت میں لیے ہوئے افغانستان چلے آئے تھے اور ہرات میں آباد ہوئے بعدازاں سلطان محمود غزنوی کے زمانے میں اس کے لشکر میں شامل ہوگئے۔ پوٹھوہار کے علاقے میں میرقطب شاہ کی اولاد خوب پھلی پھولی اور انہوں نے شکست خوردہ راجائوں کی بیٹیوں سے شادیاں بھی کیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ان سے اولادیں بھی ہوئیں۔ میر قطب شاہ کے ساتھ آنے والے قبائل اور نو مسلم باشندوں کے درمیان ددھیال‘ ننھیال کے لحاظ سے مناکحت اور اولاد کا باہمی سلسلہ شروع ہوا تو بالآخر چونکہ ان کی معروف نسبی پہچان کے لیے میر قطب شاہ ہی مقتدر اور مشہور شخصیت تھے لہٰذا انہی سے منسوب ہوئے۔ اب بھی یہ لوگ کہیں بھی ہوں خود کو قطب شاہی اعوان ہی کہتے ہیں۔ لیکن یہ بات قابلِ غور ہے کہ جناب قطب شاہ وادی سون (انگہ ) میں اقامت پذیر رہے البتہ جائے قیام اور عرصہ قیام، وفات، آمد کا سن، وفات کا سن اور مزار یا قبر کے بارے میں تذکرہ نویس خاموش ہیں۔‘‘ (احوال ومقامات سلطان باھوؒ) 

سلطان حامد علی رحمتہ اللہ علیہ  نے مناقبِ سلطانی میں کالاباغ کے اعوان رئیسوں کے کتب خانہ میں کسی کتاب سے حاصل کردہ حوالہ کی رو سے حضرت سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے خاندان کا شجرہ نسب نقل کیا ہے جو کہ درج ذیل ہے:
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ بن حضرت بازید محمدؒبن شیخ سلطان فتح محمدؒبن شیخ اللہ دتہ بن شیخ محمد تمیم بن شیخ محمد منان بن شیخ محمد موغلا بن شیخ محمد پیدابن شیخ محمد سگھرا بن شیخ محمد انون بن شیخ محمدسلابن شیخ محمد بہاری بن شیخ محمد جیمون بن شیخ محمد ہر گن بن شیخ انور شاہ بن شیخ امیر شاہ بن شیخ قطب شاہ بن حضرت امان شاہ بن حضرت سلطان حسین شاہ بن حضرت فیروز شاہ بن حضرت محمود شاہ بن حضرت شیخ فرطک شاہ بن حضرت شیخ نواب شاہ بن حضرت شیخ دراب شاہ بن حضرت ادھم شاہ بن حضرت شیخ عبیق شاہ بن حضرت شیخ سکندر شاہ بن حضرت شیخ احمدؒ شاہ بن حضرت حجرؒ شاہ بن حضرت امیر ز بیرؓ بن اسد اللہ الغالب امام امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم بن ابی طالبؓ۔(مناقبِ سلطانی)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کا شجرہ نسب میر قطب شاہ تک بالکل درست اور صحیح ہے ۔میر قطب شاہ یا میر قطب حیدر کے بعد اعوانوں کے نسب نامہ میں اختلاف شروع ہوتے ہیں جیسا کہ قبیلہ اعوان کا ایک نسب نامہ اور بھی دستیاب ہے جو کہ کالاباغ خاندان کے ہی ایک فرد ملک شیر محمد نے اپنی کتاب ’’تاریخ الاعوان‘‘ میں درج کیا ہے۔ مناقب ِسلطانی کے بیان کردہ نسب نامے اورتاریخ الاعوان کے مصنف ملک شیر محمد کے بیان کردہ نسب نامے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ سلطان حامد کے نزدیک حضرت علی کرم اللہ وجہہ تک نسب کا سلسلہ ان کے بیٹے امیر زبیرؓ کے ذریعے پہنچتا ہے جبکہ ملک شیر محمد کے نزدیک سلسلہ نسب حضرت علی کرم اللہ وجہہ تک ان کے بیٹے محمد بن حنفیہؓ کے ذریعے پہنچتا ہے۔ ملک شیر محمد ’’تاریخ الاعوان‘‘ کا شجرہ نسب ملاحظہ ہو:
میر قطب شاہ بن شاہ عطاء اللہ غازی بن شاہ طاہر بن شاہ طیب غازی بن شاہ محمد غازی بن شاہ عمر غازی بن شاہ ملک آصف غازی بن شاہ بطل غازی بن عبدالمنان غازی بن محمد بن حنفیہؓ بن علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ بن ابی طالب ؓ۔

’’مناقبِ سلطانی‘‘ کے مصنف سلطان حامد رحمتہ اللہ علیہ نے جو شجرہ نسب دیا ہے اس میں لکھا ہے کہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ  اٹھائیس واسطوں سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے فرزند امیرزبیر رضی اللہ عنہٗ کی اولاد سے تھے اور امیر زبیر رضی اللہ عنہٗ کی والدہ کا نام میمنہ درج کیا ہے جو رستم پہلوان کی اولاد سے تھیں۔ مگر حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے زبیر نام کے کسی بیٹے کا ذکرنسب کی کسی مشہور کتاب (معارف ابن ِ قتیبہ، تاریخ ِ طبری وغیرہ) میں نہیں کیا گیا اور نہ ہی حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے کسی پوتے کا نام ’’حجر شاہ ‘‘ منقول ہے۔ بعض لوگوں نے اس مشکل کو یوں حل کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کے علم کے مطابق حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہٗ کی کنیت ابو زبیر تھی۔ اس لیے صرف زبیر بھی لکھ دیا گیا۔صرف ’’انیس الواعظین‘‘ کے مصنف شیخ ابوبکر سندھی نے حضرت امیر زبیر رضی اللہ عنہٗ کا مختصراً ذکر کیا ہے وہ لکھتے ہیں: ’’حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے لشکر سے امیر زبیر رضی اللہ عنہٗ باہر آئے۔ اس وقت امیر المومنین حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کے ساتھ تین بھائی موجود تھے زبیر علیؓ، طلحہ علیؓ، جعفر علیؓ، جبکہ یہ زبیررضی اللہ عنہٗ ماں کے اکلوتے فرزند تھے۔ جب باہر آئے تو امیر المومنین حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا! ’اے بھائی! تو ماں کا دل مت جلا کیونکہ اس کا تو کوئی فرزند ہی نہیں ہے‘۔ ماں نے وہاں سے ہی زور دار آواز دی اور کہا ! ’اے حسین (رضی اللہ عنہٗ)! یہ بات مت کہو، میری جان اور میرے بیٹے کی جان آپ (رضی اللہ عنہٗ) پر قربان ہو جائے۔ آپ (رضی اللہ عنہٗ) کے بغیر ہماری زندگی کس کام کی‘۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ نے زبیر رضی اللہ عنہٗ کو سینے سے لگایا اور زارو قطار رونے لگے‘‘۔ صاحبِ انیس الو ا عظین لکھتے ہیں کہ اس کے بعد زبیر رضی اللہ عنہٗ نے زور دار حملہ کیا اور شہید ہو گئے۔ 

محمد سرور خان اعوان ان دونوں شجروں سے اختلاف کرتے ہوئے ’’وادی سون سکیسر (تاریخ، تہذیب، ثقافت)‘‘ میں لکھتے ہیں:
یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ اعوان قوم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد ہیں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ تک ان کا سلسلہ نسب آپؓ کے فرزند حضرت عباس علمدار رضی اللہ عنہٗ کی وساطت سے ملتا ہے۔ بعض مؤرخین یا تذکرہ نویسوں نے ان تاریخی شواہد کو نظرانداز کرتے ہوئے محض ظن و تخمین سے کام لے کر اعوانوں کو حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہٗ کی اولاد ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جس سے(اعوانوں کی) قومی تاریخ پر شکوک و شبہات کے سائے پڑ گئے ہیں۔ ذیل میں ان حوالہ جات کا ذکر کیا جاتا ہے جن سے ثابت ہوگا کہ اعوان قوم حضرت عباس رضی اللہ عنہٗ کی اولاد ہیں اوراس کے مورثِ اعلیٰ قطب شاہ بغدادی ہیں نہ کہ ملک قطب حیدر۔

مورخین کی تصریحات کے مطابق حضرت علیؓ کے صرف پانچ بیٹوں سے نسل چلی ہے باقی فرزند یا تو لاولد فوت ہوئے یا شادی سے پہلے فوت یا کسی معرکہ میں شہید ہوگئے تھے۔ چنانچہ کتاب روضۃ الشہداء (فارسی، مطبوعہ نول کشور) فصل ’ماتم‘ کے صفحہ 377پر مرقوم ہے ’’از پنج پسران امیر عقب ماند حسنؓ و حسینؓ و محمد اکبر کہ محمد حنفیہ ؓ گویندوعباسؓ شہید و عمر اطرفؓ انتھی‘‘۔

مناقب المحبوبین (فارسی، مطبوعہ محمدی) ذکر حضرت علیؓ (صفحہ 11)پر ہے ’’وامانسل علی المرتضیٰؓ از پنج پسران باقی ماند یعنی امام حسنؓ و حسین ؓو محمدبن حنفیہ ؓ و محمد ابوالفضل عباس وعمر اطرفؓ۔‘‘

3 ۔ کتاب نسب الاقوام (عربی، مطبوعہ ایران) و کتاب ذکر العباس اورکتاب مراۃ الاسرار کے مطابق حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ان پانچ فرزندوں سے نسل چلی: امام حسنؓ و حسینؓ ، عباس علمدارؓ، محمد بن حنفیہ ؓ اور عمر اطرفؓ۔

مندرجہ بالا حوالہ جات کے مطابق حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ان پانچ صاحبزادوں سے اولاد چلی ہے اور کتاب التخفید کے مطابق آپ رضی اللہ عنہٗ کے پانچوں فرزندوں کی اولاد کو علوی کہا جاتا ہے تاہم دیارِ ہند میں ایک امتیاز ہے کہ حسنین کریمینؓ کی اولاد کو سید اور باقی فرزندوں کی اولاد کو علوی کہا جاتا ہے۔

کتاب میزان ہاشمی و میزان قطبی و خلاصۃ الانساب کے مطابق اعوانوں کے مورثِ اعلیٰ قطب شاہ اولادِ عباسؓ بن علیؓ ہیں۔ چنانچہ کتب مذکورہ کی اصل عبارت اس طرح ہے:

ومن العلویین الاعوان و شجرتھم  ھذا’’عون بن علی بن حمزہ بن طیار بن قاسم بن علی بن جعفر بن حمزہ بن حسن بن عبداللّٰہ بن عباس بن علی بن ابی طالب ہاشم القریشی‘‘ و عون بن علی المشہور علی بن قاسم و عبدالعلی و عبدالرحمن و ابراہیم و قطب شاہ کال من البغداد مافرالی الھند و قام فصاد اولادہ اکثر ھم المشہورون بالعلویین و لبقیتم بالاعوان۔

ترجمہ: علویوں سے اعوان ہیں اور ان کاشجرہ نسب اس طرح ہے: عون بن علی بن حمزہ بن طیار بن قاسم بن علی بن جعفر بن حمزہ بن حسن بن عبداللہ بن عباسؓ بن علیؓ بن ابو طالب ؓہاشم قریشی۔ عون بن علی جو علی بن قاسم‘ عبدالعلی‘ عبدالرحمن‘ ابراہیم اور قطب شاہ کے نام سے بھی معروف ہیں، بغداد کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے اور ان کی اولاد نے یہاں سے ہند کا سفر کیا اور وہاں پر کچھ عرصہ قیام کیا۔ ان کی اولاد میں کچھ لوگ علوی اور کچھ اعوان مشہور ہوگئے۔ (وادی سون سکیسر۔ تاریخ، تہذیب، ثقافت)

  (جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں