عقل ِبیدار Aqal-e-Baydar

Rate this post

عقل ِبیدار Aqal-e-Baydar

قسط نمبر 3                                                                                       مترجم: سلطان محمد احسن علی سروری قادری

ابیات:

چہار بودم سہ شدم اکنون دویم
و از دوئی بگذشتم و یکتا شدم

ترجمہ: پہلے میں چار تھا، پھر تین ہوا اور پھر دو۔ اور جب میں دوئی سے بھی گزر گیا تو یکتا ہو گیا۔

ہر کہ یکتا گشت فی اللہ شد مقام
فیض فضلش این بود فقرش تمام

ترجمہ: جو یکتا ہو جائے وہ فنا فی اللہ کے مقام پر ہوتا ہے اور فیض و فضل کی بدولت فقر کی تمامیت پر پہنچ جاتا ہے۔

حدیث ِمبارکہ ہے:
اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ
ترجمہ: جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے پس وہیں اللہ ہے۔

جب طالب فقر میں کامل ہو جائے تو اس کا وجود سمندر کی مثل ہو جاتا ہے اور وہ نورِ توحید میں غرق دائمی حضوری میں رہتا ہے۔ یہ عارف فقیر کے مراتب ہیں۔ اے عالم! علم پر مغرور نہ ہو۔ اے زاہد! بہشت کی خاطر مزدوری کرنے والے! دھوکہ مت کھائو۔

ابیات:

نفس مارا در قبر شد زیر خاک
روح مارا برد رحمت گشت پاک

ترجمہ: میرا نفس (وجود) زیر ِ خاک قبر میں ہے جبکہ میری روح مجھے اللہ کی رحمت تک لے گئی اور پاک ہو گئی۔

قلب مارا قرب دائم با حضور
ہر کہ یکتا گشت فی اللہ ذات نور

ترجمہ: میرا قلب اللہ کے دائمی قرب اور حضوری میں رہتا ہے۔ جو یکتا ہو جائے وہ نورِ ذات تک پہنچ کر فنا فی اللہ ہو جاتا ہے۔

فقر را گم قبر گم با جثہ جان
جثہ را با خود برد در لامکان

ترجمہ: صاحبِ فقر (فقیر) کی قبر بھی گمنام ہوتی ہے اور اس کا وجود بھی کیونکہ وہ اپنے وجود کو لامکان میں لے جاتا ہے۔

ہر کہ گوید اولیا را مردہ
عقل آن را نیست دل افسردہ

ترجمہ: اولیا اللہ کو مردہ کہنے والا بے عقل ہے جس کا دل افسردہ رہتا ہے۔ 

باھوؒ این راہ نما بہر از خدا
زندگی دائم بہمدم مصطفیؐ

ترجمہ: اے باھوؒ! خدا کی خاطر راستہ دکھا تاکہ ابدی زندگی اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحبت نصیب ہو۔

فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ ط بَلْ اَحْیَآئٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ۔ (سورۃ البقرہ۔154)
ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہو کہ وہ مردہ ہیں، (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیں۔ 

قطعہ:

معرفت راہی دگر علمی دگر
با مطالعہ زو نیارند جان نگر

ترجمہ: معرفت کی راہ علم کی راہ سے علیحدہ ہے جو مطالعہ سے حاصل نہیں ہوتی اس لیے نگاہ اپنی جان پر رکھ۔

ناظران را نظر باشد با خدا
این مراتب یافتم از مصطفیؐ

ترجمہ: صاحبانِ دیدار کی نظر اللہ پر ہوتی ہے۔ میں نے یہ مراتب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (کی صحبت) سے حاصل کیے ہیں۔

محبتِ خاص اور مشاہدہ و لقائے الٰہی معراج ہیں اور یہ اپنے مقررہ وقت پر حاصل ہوتے ہیں اگرچہ طالب حضرت معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ کی صفات کا حامل ہو۔ جو طالب ابتدا میں ہی اسمِ اللہ ذات کی مشق مرقومِ وجودیہ کو بنیاد بنا لے وہ وصال پا لیتا ہے جس پر اس کی ابتدا اور انتہا ایک ہو جاتی ہے۔ بعض کو (وجود کے اندر ذات) ظاہر ہونے پر باطن میں حضوری حاصل ہوتی ہے اور بعض کا باطن معمور ہو جاتا ہے جس کے متعلق بعض جانتے ہیں اور بعض نہیں جانتے۔ بہتر وہ ہیں جو اسے جانتے ہیں لیکن دعویٰ نہیں کرتے۔ جب طالب مکمل ہو جائے تو اس کے تمام غم ختم ہو جاتے ہیں۔ علم جس کسی کے نفس پر اثر انداز ہوکر اسے لذت اور خواہشات میں مبتلا کردے تو ایسا عالم سانپ کی مثل ہوتا ہے اور جس کے قلب و روح پر علم اثر انداز ہو وہ باعمل عالم بن جاتا ہے۔ ایسا طالب ہوشیار اور لائقِ دیدار ہوتا ہے۔ فنا فی اللہ اور ولی اللہ عالم باللہ جب مراتبِ علم سے گزرتا ہے تو فقیر ولی اللہ کا خطاب پاتا ہے اور حضرت بایزید رحمتہ اللہ علیہ کی مثل اسمِاللہ ذات کے ذریعے توحید میں غرق رہتا ہے۔ جو اسمِ اللہ ذات اور اسمِ محمد کا منکر ہو وہ ابوجہل ثانی ہوتا ہے یا پھر فرعون۔ تو خود کو کس گروہ میں خیال کرتا ہے؟ جس طرح کافر کے لیے کلمہ طیب لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ  پڑھنا دشوار ہے اسی طرح مردہ دل شخص کے لیے علمِ تصوف پڑھنا دشوار ہے کیونکہ یہ علم نفس کو شرمندہ، قلب کو زندہ اور روح کو دیدار سے مشرف کر دیتا ہے۔ علمِ تصوف اللہ کی طرف لے جاتا ہے جس سے طالب بے حجاب دیدار کر کے تصدیق کا مرتبہ پا لیتا ہے اور نفس کی لذات و خواہشات سے بیزار ہو جاتا ہے۔ محض مطالعہ کرنے سے حجابات دور نہیں ہوتے اور نہ ہی واصل ہوا جا سکتا ہے۔ ناقص مرشد ذکر، فکر، ورد وظائف، چلہ کشی اور ریاضت کی تکلیف میں مشغول رکھتا ہے جبکہ کامل مرشد روزِ اوّل معرفت اور حضوری کے تمام خزانوں پر تصرف بخش دیتا ہے۔ 

بیت:

با حضوری معرفت دل زندگی
بی حضوری روسیاہ شرمندگی

ترجمہ: معرفت اور حضوری میں ہی دل کی زندگی ہے جبکہ حضوری کے بغیر زندگی روسیاہی اور شرمندگی ہے۔

مرشد ہونا آسان کام نہیں کیونکہ مست ہاتھی کی مثل طالب کو اپنے زانوؤں کے ساتھ باندھے رکھنا بہت ہی مشکل اور دشوار ہے۔ اس کے لیے مرشد کو فیل بان کی مثل باتوفیق اور طاقتور ہونا چاہیے تاکہ جس طرح مناسب سمجھے اسی طرف مست ہاتھی کی مثل طالب کو موڑ لے۔ اگر طالب لومڑی کی مثل اور مرشد گیدڑ کی مثل ہو تو دونوں کی نشانی یہ ہے کہ دونوں کو مردار (دنیا) کی عروج اور وصال ہوتا ہے۔ اگر طالب شیر کی مثل اور مرشد شیربان کی مثل ہو تو وہ زندہ شکار کھاتے ہیں اور مردار کی طرف رُخ نہیں کرتے۔ اگر مرشد شہباز کی مثل اور طالب چیل کی مثل ہو تو ان دونوں کو ایک دوسرے کی مجلس پسند نہیں آتی۔ سن! احمق کو نصیحت کرنا محض ذلت کے سوا کچھ نہیں۔ مرشد کامل عالم باللہ ہوتا ہے جو اسمِاللہ ذات کے ذریعے علم کے اسرار کھول کر عین دکھاتاہے اور وجود کے طلسمات توڑ کر خزانوں پر تصرف عطا کرتا ہے۔ یہ مرتبہ ایمان کی رمز ہے جو فقرا، عارفین اور اولیا اللہ کو نصیب ہوتا ہے۔ مرشد کامل کی توجہ کے بغیر طالب کسی بھی منزل و مقام تک ہرگز نہیں پہنچ سکتا اگرچہ عمر بھر ریاضت کے پتھر سے سر پھوڑتا رہے یا کثرت سے چلہ کشی کرے لیکن کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ جان لو کہ آدمی نور کی صورت ہے۔ جس کے وجود میں نورِ الٰہی ظاہر ہو جائے اس کا ہر سخن اللہ تعالیٰ کی حضوری سے ادا ہوتا ہے۔ یہ وہ مرتبہ ہے جس کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
لِسَانَ الْفُقَرَآئِ سَیْفُ الرَّحْمٰنِ
ترجمہ: فقرا کی زبان رحمن کی تلوار ہے۔

جس کے وجود میں نورِ محمدی ظاہر ہو جائے اس کا ہر سخن نورِ محمدی سے ادا ہوتا ہے۔ یہ فنا فی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مراتب ہیں۔ جس کے وجود میں پیر و مرشد کا نور ظاہر ہو جائے اس کا ہر سخن اس کے پیر و مرشد کی طرف سے ہوتا ہے۔ یہ فنا فی الشیخ کے مراتب ہیں۔ یہ وہ علم ہے جو صرف عارفوں، عاشقوں اور واصلوں کو نصیب ہوتا ہے۔ ظاہری (علم کے) عالم و فاضل اس علم سے بے خبر ہیں کیونکہ وہ محض مطالعہ حروف یعنی مسائل ِفقہ اور ان کی حقیقت جاننے میں ہی مشغول رہتے ہیں۔ معرفتِ الٰہی فقر سے حاصل ہوتی ہے جو کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فخر ہے۔ جو دنیا پر فخر کرتا ہے اس کی تمام صفات فرعون کی سی ہوتی ہیں۔ تو نے کن صفات کو اختیار کیا ہے؟ نفس سانپ کی مثل ہے جو منتر پڑھنے سے (اپنے بل میں سے) باہر آجاتا ہے اور قید کر لیا جاتا ہے۔ خلافِ نفس یہ ہے کہ انصاف کے ساتھ اس کا محاسبہ کیا جائے۔ جو یہ منتر پڑھنا نہیں جانتا اور پھر بھی سانپ پر ہاتھ ڈالتا ہے وہ احمق ہے۔ نفس کے سانپ کا ڈسا ہوا صحت یاب نہیں ہوتا کیونکہ اس کا زہر لاعلاج ہے جو طالب کی جان لے لیتا ہے۔

ان لوگوں پر حیرت ہے جن کی زبان پر آیاتِ قرآن و حدیث اور تفسیر ہوتی ہے لیکن ان کے اندر نفس کا خبیث جن ہوتا ہے۔ یہ خبیث تب تک دفع نہیں ہوتا جب تک فقیر و عالم فاضل مرشد کامل تلقین نہ کرے کیونکہ عالم فاضل طالب ہی فقیر بنتا ہے اور عالم فقیر تمام جہان پر حکمران ہوتا ہے۔ فقیر کی انتہا کیا ہے؟ فقیر جو بھی کلام کرتا ہے وہ ہر بات میں اللہ سے، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اور انبیا و اولیا اللہ اور فرشتوں سے ہمکلام ہوتا ہے اور اسی طرح فقیر مخلوقِ خدا سے ہمسخن ہوتا ہے۔ اس پر حیران مت ہو اور نہ ہی اس بات کا انکار کر کیونکہ سلطان بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ’’میں تیس (۳۰) سال اللہ سے ہمکلام رہا اور مخلوق یہی سمجھتی رہی کہ میں ان سے ہمکلام ہوں۔‘‘ اسم ِاللہ ذات کا تصور اور مشق مرقومِ وجودیہ پہلے ہی روز طالب کے وجود کے ہفت اندام کو اس طرح پاک و صاف کر دیتے ہیں کہ اُسے تمام عمر چلہ کشی اور ریاضت کی ضرورت نہیں رہتی۔ طالب کی ریاضت اس کی آزمائش کے لیے ہے۔ کامل مرشد روزِ اوّل اللہ کا قرب و مشاہدہ اور اس کا راز بخشتا ہے اور جمعیت و آسائش کی فراوانی کرتا ہے۔ 

بیت: 

چشم شد عینک کہ بنماید خدا
این مراتب شد نصیب اولیا

ترجمہ: آنکھ اس عینک کی مثل ہونی چاہیے جس کے ذریعے اللہ کا دیدار حاصل ہو۔ یہ مراتب اولیا کو نصیب ہوتے ہیں۔

چار چیزوں کو چھوڑ دو جو کہ نفس کی چار حالتوں سے متعلق ہیں اور نفس کی لذات و خواہشات سے بیزار ہو جاؤ۔ بیت:

خندہ بر سینہ صافان میکنی ہشیار باش
ہر کہ بر آئینہ خندد خویش خندی می کند

ترجمہ: تو باصفا دل والوں پر ہنستا ہے! خبردار اور ہوشیار رہ کیونکہ جو آئینہ پر ہنستا ہے درحقیقت وہ خود پر ہنستا ہے۔

فقیر کا دشمن تین حکمتوں سے خالی نہیں ہوتا: یا تو وہ حاسد عالم ہوتا ہے جس کا دل مردہ لیکن زبان زندہ ہوتی ہے اور وہ تصدیق سے بے خبر، جہالت میں غرق ہوتا ہے۔ یا پھر وہ منافق ، کاذب اور کافر ہوتا ہے یا پھر بدصورت دنیادار جو جنت میں ایک بالشت جگہ بھی نہیں پاتا۔ فقیر ِکامل وہ ہے جو ایک ساعت بلکہ لمحہ بھر کے لیے بھی مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے جدا نہ ہو۔ جسے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری حاصل نہ ہو اُسے فقیر کہا جا سکتا ہے نہ درویش۔ درویش کن مراتب کا حامل ہوتا ہے؟ وہ لوحِ محفوظ اور علمِ باطن کے دائمی مطالعہ میں مشغول رہتا ہے۔ علمِ ظاہر کے حامل علما جو وارث الانبیا ہیں، ان کی کیا نشانی ہے؟ علم ان کے لیے ایسا وسیلہ بن جاتا ہے جس کی بدولت وہ ہر شب یا پھر شبِ جمعہ یا پھر مہینے میں ایک بار، یا سال میں ایک بار حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دیدار سے مشرف ہوتے ہیں اور پھر خاص وصال پا لیتے ہیں۔ جو عالم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دیدار، حضوری اور وصال سے مشرف نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ علم نے اس کے وجود میں تاثیر نہیں کی اور نہ ہی اُسے فائدہ دیا ہے۔ ایسا عالم گدھے کی مثل ہوتا ہے جس نے علم کا صرف بوجھ اٹھایا ہو۔ وہ لوگوں کی آنکھوں میں کانٹے کی مثل تکلیف دیتا ہے کیونکہ وہ رشوت خور اور ظالم ہوتا ہے۔ اگر زیر زمین مردہ اور زمین کے اوپر موجود زندہ تمام علما، فقہا، محدثین، مفسرین، زاہد، عابد، متقی، حکمت کے عامل و کامل حکیم اور جن و انس کو جمع کر لیا جائے تو بھی ایک صاحبِ تفکر فقیر ولی اللہ کے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس کا تفکر اسے ناخن کی پشت پر دونوں جہان کا نظارہ دکھاتا ہے۔ حدیث:
  تَفَکَّرُ السَّاعَۃِ خَیْرٌ مِّنْ عِبَادَۃِ الثَّقَلَیْنِ 
ترجمہ: ایک ساعت کا تفکر دونوں جہان کی عبادت سے بہتر ہے۔

اس حدیثِ مبارکہ میں بیان کردہ تفکر کا ذریعہ صحیح طریقہ سے ذکرِاللہ کی تسبیح ہے۔ وہ ذکر جس کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
ذِکْرُ اللّٰہِ فَرْضٌ مِنْ قَبْلِ کُلِّ فَرْضٍ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
ترجمہ: ہر فرض سے قبل ذکرِ اللہ فرض ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔

لیکن ذکر خفیہ طریقے سے ہونا چاہیے جو مشاہدئہ حضوری اور قربِ الٰہی بخشتا ہے۔ اس ذکر کا تعلق راز سے ہے نہ کہ آواز سے۔ ذکر ِخفیہ اُسے نصیب ہوتا ہے جسے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں محبوبیت کا درجہ حاصل ہو اور اس کا مرتبہ غریب و مسکین فقیر کا ہو۔ مسکین اُسے کہتے ہیں جس کے پاس اگر ایک یوم کی غذا ہو تو وہ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کر دے۔ غریب اُسے کہتے ہیں جس کے وجود میں غضب، غصہ اور غلاظت باقی نہ رہے۔ فقیر وہ ہے جو ہمیشہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نظر میں رہے اور درج ذیل آیت کے موافق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا معشوق ہو:
 وَ اصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰکَ عَنْھُمْ ج تُرِیْدُ زِیْنَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَ اتَّبَعَ ھَوٰہُ وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرَطًا۔ (سورۃ الکہف۔28)
ترجمہ: (اے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم!) اور آپ اپنے آپ کو ان لوگوں کی سنگت میں جمائے رکھیں جو صبح و شام اپنے ربّ کو یاد کرتے ہیں اور اس کی رضا کے طلبگار رہتے ہیں۔ آپ (کی محبت اور توجہ) کی نگاہیں ان سے نہ ہٹیں۔ کیا آپ (ان فقرا سے دھیان ہٹا کر) دنیوی زندگی کی آرائش چاہتے ہیں۔ اور اس شخص کی پیروی نہ کریں جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے اور وہ خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتا ہے اور اس کا حال حد سے گزر گیا ہے۔  

وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗط مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِھِمْ مِّنْ شَیْئٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِکَ عَلِیْھِمْ مِّنْ شَیْئٍ فَتَطْرُدَھُمْ فَتَکُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ۔ (سورۃ الانعام۔52)
ترجمہ: اور (اے محبوبؐ) آپ ان (شکستہ دل) لوگوں کو (اپنی صحبت و قربت سے) دور نہ کیجئے جو صبح و شام اپنے ربّ کو صرف اس کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے ہیں۔ ان کے (عمل و جزا کے) حساب میں سے آپ پر کوئی چیز (واجب) نہیں اور نہ آپ کے حساب میں سے کوئی چیز ان پر (واجب) ہے (اگر) پھر بھی آپ انہیں (اپنے لطف و کرم سے) دور کر دیں تو آپ حق تلفی کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ 

فقرا کے قلوب زندہ ہوتے ہیں، وہ اللہ قادر کے حکم سے کونین پر قدرت رکھتے ہیں اور اپنے نفس پر غالب ہوتے ہیں۔ اس کے متعلق درج ذیل آیت مبارکہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اِذْ قَالَ  اِبْرَاہِیْمُ  رَبِّ  اَرِنِیْ  کَیْفَ  تُحْیٖ  الْمَوْتٰی ط قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ ط قَالَ بَلٰی وَ لٰکِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْط قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَۃً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْھُنَّ اِلَیْکَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنْھُنَّ جُزْئًا ثُمَّ ادْعُھُنَّ یَاْتِیْنَکَ سَعْیًاط وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔ (سورۃ البقرہ۔260)
ترجمہ: اور جب ابراہیم ؑ نے عرض کی اے ربّ! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: کیا تمہیں اس بات پر یقین نہیں؟ (ابراہیم ؑ نے) عرض کی: کیوں نہیں لیکن میں صرف اپنے اطمینانِ قلب کے لیے ایسا چاہتا ہوں۔ (اللہ نے) فرمایا:چار پرندے لو اور انہیں خود سے مانوس کرو اور پھر (انہیں ذبح کر کے) ان کا ایک ایک ٹکڑا ایک ایک پہاڑ پر رکھ دو اور انہیں بلائو پس وہ دوڑتے ہوئے تمہارے پاس آئیں گے اور جان لو کہ بے شک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے۔

تو نہیں جانتا کہ چار پرندوں ( مراد شہوت کا مرغ، خواہشاتِ نفس کا کبوتر، زینت کا مور اور حرص کا کوا ہیں۔)  کو ذبح کرنے والے کا قلب زندہ ہوتا ہے اور وہ دائمی حضوری میں رہتا ہے۔ ایسا ذاکر فقیر تصدیق ِقلب کا حامل اور علم ِتفسیر کا عالم ہوتا ہے۔ یہ فقرِمحمدیؐ ہے جس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فخر فرمایا۔ حدیث مبارکہ ہے:
اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ وَ الْفَقْرُ مِنِّیْ
ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔

بیت:

فقر دانی چیست گنج کان کرم
ہر کہ بیند روئے فقرش نیست غم

ترجمہ: کیا تو جانتا ہے کہ فقر کیا ہے؟ فقر کرم کا منبع اور خزانہ ہے۔ جو کوئی فقر کا چہرہ دیکھ لیتا ہے اسے کوئی غم نہیں رہتا۔

فقر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پیغام وصول کرنے اور پیغام دینے کو کہتے ہیں۔ طالب جس وقت چاہتا ہے تصور اسمِاللہ ذات کی راہِ باطن یا ارواحِ قبور پر تصرف کی بدولت حضوری میں پہنچ جاتا ہے۔ فقیر پر فقر کا اثبات کس طرح ہوتا ہے؟ جب وہ اسمِاللہ ذات کی بدولت فنا فی اللہ ہو کر مرتبہ فقر پر پہنچتا ہے۔ پھر وہ مردہ قلوب کو روزِ قیامت تک حیات بخشتا ہے اور زندہ قلوب کو کبیرہ و صغیرہ گناہوں سے نجات دلاتا ہے۔ جس کا قلب زندہ ہو اس سے ہرگز گناہ سرزد نہیں ہوتا ورنہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے متعلق کہا گیا ہے:
خُلِقَتِ الْحِمَارَ بِصُوْرَۃِ الْبَشَرِ
ترجمہ:وہ انسانوں کی صورت میں گدھے ہیں۔

فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا (سورۃ الجمعہ۔5)
ترجمہ: وہ گدھے کی مثل ہیں جو پیٹھ پر بڑی بڑی کتابیں لادے ہوئے ہو۔

(جاری ہے)

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں