بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین) Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen

Rate this post

بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین)
    Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen

قسط نمبر   17                             مرتب: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری

عشق کا جذبہ

فرمایا: اللہ حدیثِ قدسی میں فرماتا ہے: کُنْتُ کَنْزًا مَخْفِیًا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ یعنیـــ’’ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں، پس میں نے مخلوق کو پیدا کیا۔‘‘

’’میں نے چاہا‘‘یہ بڑی شدت کی بات ہے۔ صوفیا، اللہ کے اس چاہنے کو’’عشق‘‘سے ملاتے ہیں۔ اللہ نے جس شدت سے چاہا ہے وہ عشق ہی ہے۔ 

موت کے بعد تربیت

بات چل نکلی کہ اگر انسان کا تزکیہ مکمل نہ ہو اور اسے موت آ جائے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا: جس کا تزکیہ اِدھر (دنیا میں) مکمل نہ ہو اور اس کی تربیت مکمل نہ ہو تو اس کی تربیت موت کے بعد کی جاتی ہے۔ اللہ اس کی ذمہ داری کسی ولی اللہ کو دیتا ہے اور وہ اس کی تربیت کرتا ہے۔ اگر تو اس کا مرشد کامل ہو تو وہ تربیت کرتا ہے اور اگر کامل نہیں تو اللہ کسی اور کامل کو مقرر کرتا ہے۔ 

طالب کی تربیت

ایک بار آپ مدظلہ الاقدس نے تمام حاضرین سے سوال کیا: جب مرشد کامل پردہ کر جاتا ہے تو پھر طالب کی تربیت کیسے ہوتی ہے؟

سب خاموش رہے تو فرمایا: تب مرشد زیادہ آسانی سے تربیت کرتا ہے کیونکہ اس وقت شریعت کی پابندی نہیں ہوتی۔ 

عشق اور رضا

عشق کے متعلق بات ہوئی تو آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا: اللہ کا عشق نہیں بلکہ اللہ کی رضا مانگنی چاہیے۔ 

بات چلی کہ طالب اپنے مرشد کے اشاروںکنایوں کو مکمل سمجھتا ہے۔ آپ نے فرمایا: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ آقاپاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ہر بات اور اشارے کو سمجھتے تھے۔ حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں ایک مرتبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خطبہ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا اور آخرت کے رہنے میں اختیار دیا (کہ وہ جس کو چاہے اختیار کرے)، بندے نے وہ پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے یعنی آخرت۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ رونے لگے۔ حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں ’’میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر خدا نے اپنے کسی بندے کو دنیا اور آخرت میں سے کسی کو اختیار کرنے کو کہا اور اس بندے نے آخرت پسند کر لی تو اس میں ان کے رونے کی کیا وجہ ہے؟‘‘ لیکن بات یہ تھی کہ بندے سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی تھے اور ابوبکرؓ ہم سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ (بخاری 466)

عاشق  

عشق پر بات چل نکلی تو آپ نے فرمایا: عاشق کے لیے سب کچھ یار ہی ہے۔

ظاہر باطن کے تابع ہے

ایک مرتبہ آپ کے ایک مرید نے آپ سے ظاہری طور پر کوئی حکم لینا چاہا تو آپ نے فرمایا ہم ظاہری حکم نہیں دیتے بلکہ باطن کو تبدیل کرتے ہیں تو ظاہر خود تبدیل ہو جاتا ہے۔ ظاہر اور باطن کا ایک ہو جانا ہی اصل کامیابی ہے۔ 

استقامت کیا ہے؟

ایک روز آپ کے خلفا آپ کے پاس بیٹھے تھے تو آپ نے استقامت کے متعلق فرمایا: استقامت یہ ہے کہ نور مکمل ہونے تک بندہ راہ ِخدا پر چلتا رہے۔ 

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے ایک بار اپنے مرشد سے بھی عرض کی تھی کہ زمانہ بہت آگے نکل گیا ہے ہمیں بھی نظام تبدیل کرنا چاہیے تو انہوں نے فرمایا:

ہم نے تو ایسے ہی چلنا ہے آنے والا (امامِ سلسلہ) خود کر لے گا۔

ذکر اور تصور

ایک مرتبہ کسی نے ذکر اور تصور کے متعلق پوچھا تو سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے فرمایا: ایک ذکر ہے، ایک تصور ہے اور ایک مشق مرقومِ وجودیہ ہے۔ ذکر اس طرح کرنا ہے کہ سانس اندر جائیں یا باہر آئیں تو ہونٹ نہ حرکت کریں۔یہ وضو یا بغیر وضو چلتے پھرتے کرتے رہنا ہے۔ ابتدائے حال میں جب طالب بھول جایا کرے تو یاد آنے پر کر لیا کرے۔ جب تک طالب کا قلب جاری نہیں ہو جاتا اس وقت تک یہ ذکر یاد آنے پر کرنا پڑتا ہے۔ پھر جب قلب جاری ہو جائے تو پھر خود کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

 تصور کا طریقہ یہ ہے کہ آپ باوضو ہوں جیسا کہ قرآنِ پاک کو ہم زبانی بغیر وضو کے پڑھ سکتے ہیں لیکن جب ہاتھ میں پکڑنا ہو تو وضو کرنا ضروری ہے۔ دونوں ہاتھ میں تختی کو پکڑیں اور اس میں اسمِ اللہ ذات پر نگاہ جما دیں اور ذکر بھی ساتھ جاری رہے۔جب نگاہ جمائیں تو دماغ اور دل میں یہ تصور کریں کہ میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں کیونکہ اللہ پاک وحدہٗ لا شریک ہے، وہ اپنے اسم میں اور اپنی ذات میں وحدہٗ لا شریک ہے۔ نہ اس کا اسم اس سے جدا ہے نہ اس کی ذات اس سے جدا ہے۔ اس کو اسمِ برزخ بھی کہتے ہیں۔ برزخ کہتے ہیں پردے کو۔ یہ اسم ذات کے درمیان پردہ ہے۔ جب آپ اس طریقے سے تصور کریں گے تو پھر کچھ دیر بعد دل پر دیکھیں۔ یہ نہ سوچیں کہ دل پہ اسمِ اللہ ذات لکھا جائے۔ بلکہ یہ ذہن میں رکھنا ہے کہ میں دل پر بھی اللہ کو دیکھ رہا ہوں اور سامنے بھی اللہ کو دیکھ رہا ہوں۔ یاد رہے کہ یہ تصور کرنا ہے کہ اللہ کو دیکھ رہا ہوں اسم کو نہیں دیکھ رہا۔

 اللہ پاک فرماتا ہے کہ انسان میرے بارے میں جیسا گمان رکھتا ہے میں اس کے ساتھ ویسے ہی ہو جاتا ہوں۔جب کوئی طالب اس کو اسم کے طور پر دیکھے گا تو ساری زندگی اسم پر رہے گا، ذات تک نہ پہنچ پائے گا۔ حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں کہ اسمِ اللہ ذات عین ذات پاک است یعنی اسمِ اللہ عین اللہ کی ذات ہے۔ منصور حلاجؒ نے طواسین میں لکھا ہے کہ اللہ کے اسم کو اس کی ذات سے جدا مت سمجھ کیونکہ وہ مخلوق نہیں ہے۔آپ دیکھیں کہ اللہ کو دیکھ رہا ہوں۔ اس طرح سے باطن کا راستہ کھلے گا، اسم ہٹ جائے گا اور کچھ نظر آئے گا۔ جب وہ نظر آئے پھر اگلا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ 

راہ ِفقر میں مشکل کام

ایک مرتبہ آپ سے کسی نے عرض کی کہ راہِ فقر میں سب سے مشکل کیا ہے ؟آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا: سب سے مشکل فنا فی مرشد ہونا ہے، اگر یہ منزل طے ہو جائے تو باقی آسان ہے۔ 

روحِ قدسی کی صورت

آپ مدظلہ الاقدس سے پوچھا گیا کہ روحِ قدسی عالمِ لاھوت میں واحد ہے۔ یہ گنتی کے لحاظ سے بھی ہے یا حقیقت کے لحاظ سے وحدت ہے؟ آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا گنتی کے لحاظ سے بھی وحدت ہے۔ عالم ِلاھوت میں روحِ قدسی کی وہی صورت ہوتی ہے جو امامِ وقت (قطب الاقطاب) کی صورت ہوتی ہے۔ 

حضرت جبرائیل ؑاور سدرۃ المنتہیٰ

کسی نے دریافت فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کیوں سدرۃ المنتہیٰ سے آگے نہ جا سکے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا اگر جان لیتے کہ کہہ کون رہا ہے تو ان کے پر نہ جلتے۔ اگر ایک کتا اصحابِ کہف کی وجہ سے آخرت میں انسان بن کر اُٹھے گا تو جس کو حضور فرمائیں کہ آگے چلو، اس کے پر کیسے جل سکتے ہیں!

قرآن، سنت اور اہلِ بیتؓ

کسی نے پوچھا کہ خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’میں تمہارے درمیان قرآن اور اپنی سنت چھوڑے جا رہا ہوں، ان پکڑے رکھنا کبھی گمراہ نہ ہو گے۔‘‘ جبکہ غدیر خم کے موقع پر فرمایا ’’میں تمہارے درمیان قرآن اور اپنے اہلِ بیتؓ چھوڑ کر جا رہاہوں، ان کو پکڑے رکھنا کبھی گمراہ نہ ہو گے۔‘‘ یہ دو اعلانات مختلف کیوں ہیں؟

آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا:خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر جو فرمایا وہ ظاہری خلافت کے لیے تھا اور جو غدیر خم کے موقع پر فرمایا وہ باطنی خلافت کے متعلق تھا۔ 

نفس کو ذلیل کرنے سے مراد

ایک مرتبہ آپ کے سامنے حضرت بایزید بسطامی ؒکا ذکر ہوا کہ وہ نفس کو ذلیل کرتے تھے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا کہ نفس کو ذلیل کرنے سے کیا مراد ہے؟ سب خاموش رہے۔ پھر آپ نے فرمایا اس کا مطلب ہے کہ نفس کی خواہشات پوری نہ کرنا۔ 

حضرت سرمد کاشانیؒ

آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا: حضرت سرمد کاشانیؒ مغل بادشاہ شاہجہان کے آخری عہد میں دہلی آئے تھے۔ انہوں نے جامع مسجد کے مشرقی دروازے کی سیڑھیوں کے پاس اپنا مسکن بنایا تھا۔ وہ اپنے وقت کے بہت مقبول صوفی تھے۔ آخری وقت میں وہ کلمہ صرف ’لا الہ‘ تک ہی پڑھتے تھے۔ ان کو کہا جاتا کہ اس سے آگے بھی پڑھیں لیکن وہ کہتے تھے کہ میں ابھی اتنا ہی جانتا ہوں۔ ابھی نفی میں مستغرق ہوں، مرتبہ اثبات تک نہیں پہنچا۔ درباری علما نے فتوے دئیے کہ اگر یہ آگے کلمہ نہیں پڑھتے تو ان کو قتل کر دیا جائے۔ اس طرح حضرت سرمدؒ کو واجب القتل قرار دیا گیا۔ جامع مسجد کی سیڑھیوں کے نیچے، چبوترے پر ان کا سر قلم کر دیا گیا تھا۔ کہتے ہیں کہ حضرت سرمد شہیدؒ کی شہادت کے بعد آپ کے سر سے تین بار لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی آواز سنائی دی۔ جب آپ کی گردن کاٹی جانے لگی تو فرمایا جس طرح سیڑھیاں خستہ ہیں اسی طرح تمہاری اولاد ہو گی۔

دوستی ایمان کی پہچان ہے

ایک بار سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس سے دوستی کے بارے میں دریافت کیا گیا۔ آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا حدیثِ مبارکہ ہے ’’انسان کا ایمان اس کے دوست کے ایمان پر ہوتا ہے۔‘‘ اس لیے اچھے دوست بناؤ۔ 

مانگنے کا طریقہ آنا چاہیے

ایک بار آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا سوال کا بھی طریقہ ہوتا ہے۔ حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہٗ کے پاس گئے اور ان سے بصد ادب و احترام عرض کی کہ آپ آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں، تلقین آپ پر فرض کی گئی ہے، اس لیے مجھے بھی تلقین فرمائیں۔ پھر آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا:یاد رکھو آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کبھی گمراہ نہیں کرتی۔ 

کسی کو اپنے سے چھوٹا نہ سمجھیں

ایک بار آپ مدظلہ الاقدس خانقاہ سلطان العاشقین میں تشریف فرما تھے۔ ایک مرید نے حضرت امام مہدیؑ کے متعلق دریافت فرمایا۔ آپ نے فرمایا:’’مہدیــ‘‘ کا مطلب ہے ہدایت یافتہ۔ امام مہدیؑ پہلے عام انسان کی طرح زندگی بسر کر رہے ہوں گے۔ توبہ تائب ہوں گے اور پھر امام مہدی کے طور پر ظہور ہو گا۔ اس لیے کبھی بھی کسی کو اپنے سے کم نہ سمجھیں کچھ پتا نہیں کہ وہی امام مہدی ہو۔

خرقہ فقر

ایک مرتبہ آپ نے فرمایا سیر الاقطاب، شریف التواریخ اور آئینہ تواریخ تصوف میں منقول ہے کہ ایک روز رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محفلِ اقدس میں چاروں اصحابِ کبار رضی اللہ عنہم بیٹھے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہٗ سے فرمایا کہ ہم کو شبِ معراج میں جو خرقہ فقر جنابِ ربانی سے عطا ہوا، اگر تم کو پہنایا جائے تو اس کا حق کس طرح ادا کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا ’’حضورؐ! میں صدق اختیار کروں گا‘‘ پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ سے بھی یہی پوچھا انہوں نے عرض کیا ’’میں عدل اختیار کروں گا۔‘‘پھر یہی سوال حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ سے پوچھا تو انہوں نے کہا ’’میں حیا اور سخاوت اختیار کروں گا۔‘‘پھر جناب علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے یہی سوال پوچھا تو آپ نے عرض کیا’’ اگر خرقۂ فقر مجھے عطا ہو تو میں شکریہ میں پردہ پوشی اختیار کروں گا، لوگوں کے عیب ڈھانپوں گا اور ان کی تقاصیر سے درگزر کروں گا۔‘‘ اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نہایت خوش ہو کر فرمایا ’’اے علیؓ! جس طرح رضائے مولیٰ اور رضائے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) تھی اسی طرح آپ نے جواب دیا ہے پس یہ خرقۂ فقر آپ کا ہی حق ہے۔‘‘ اسی وقت آپ کو خرقہ فقر پہنایا اور بشارت دی آپ شہنشاہِ ولایت ہیں اور میری تمام اُمت کے پیشوا ہیں۔

خانقاہ کدھر ہوتی ہے؟

ایک مرتبہ آپ مدظلہ الاقدس اپنے کسی مرید کے گھر گئے۔ وہاں ایک بے ادب نے کسی سے اونچی آواز میں بات کی تو آپ نے فرمایا لوگوں کو یہ پتا نہیں کہ جدھر مرشد بیٹھا ہو وہی خانقاہ ہوتی ہے۔ 

انسان اپنی مشکلات خود پیدا کرتا ہے

ایک مرتبہ مشکلات کے متعلق بات چل نکلی تو آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا کہ انسان مشکلات آنے پر غور نہیں کرتا، کیونکہ اکثر مشکلات انسان کی اپنی کمائی ہوئی ہوتی ہیں جیسا کہ اللہ فرماتا ہے:

وَ مَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ (سورۃ شوریٰ۔30)

ترجمہ:اور جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے تو اُس (بد اعمالی) کے سبب سے ہی (پہنچتی ہے) جو تمہارے ہاتھوں نے کمائی ہوتی ہے۔ 

مزید فرمایا: اللہ کی راہ میں جو مشکلات آتی ہیں اگر ان میں لذت آنا شروع ہو جائے تو سمجھ لو کہ آزمائش میں کامیاب ہو۔ 

مرشد کسوٹی ہے

مرشد کسوٹی ہے جو صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط قرار دیتا ہے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کو جو بھی چھوڑ کر گیا اس کا باطن جب ظاہر ہوا تو فسق و فجور پر تھا۔ ایک شخص آیا، حضور سے بیعت کی۔کہنے لگاجو سکون بیعت سے آیا پوری زندگی نہ آیا۔ مرشد کے دَر پر دوبارہ آنے کی مشکل نہ اٹھائی اور آہستہ آہستہ دور ہو گیا۔ بیعت سے باغی ہو گیا۔ انجام کار ملحد ہوا۔

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے ایک بار فرمایا کہ جو مرشد کو چھوڑ کر جاتا ہے در اصل وہ اندر سے پہلے ہی گمراہ ہوتا ہے بس ظاہر ہو جاتا ہے۔ 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 

بَلْ بَدَا لَہُمْ مَّا کَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ (سورۃ الانعام۔ 28)

ترجمہ:(اس اقرار میں کوئی سچائی نہیں) بلکہ ان پر وہ (سب کچھ) ظاہر ہوگیا ہے جو وہ پہلے چھپایا کرتے تھے۔

مومنوں کی مدد کا کہا ہے

کسی نے پوچھا کہ آج مسلمان ہر جگہ ذلیل کیوں ہو رہے ہیں جبکہ اللہ ان کے ساتھ ہے؟ فرمایا: اللہ نے قرآن میں جدھر بھی مدد کا فرمایا ہے مومنوں کی مدد کا وعدہ فرمایا ہے، مسلمان کا نہیں۔

ہر چیز نظروں کے سامنے گھوم جائے گی

بات ظاہری علم کی طرف چل نکلی تو فرمایا کہ علم حاصل کرو، ایک وقت آئے گا کہ سب کچھ نظروں کے سامنے گھوم جائے گا۔ طالب کو ہر چیز یاد آ جاتی ہے یہاں تک کہ عہدِالست بھی یاد آ جاتا ہے۔ 

دکان کا پتا اس کے سودے سے چلتا ہے

ایک مرتبہ کسی مرید نے کہا کہ اس کا دوست بیعت کرنا چاہتا ہے، اللہ کی تلاش میں ہے لیکن ڈرتا ہے کہ غلط ہاتھ نہ لگ جائے تو فرمایا: دکان کا پتا اس کے سودے سے ہی چلتا ہے۔ سودا خریدے گا تو تبھی پتا لگے گا۔ باہر سے اندازے لگاتے رہنے سے کچھ نہ ہو گا۔ 

سچا مرید

فرمایا اگر مرید سچا ہو اور وہ کسی جعلی پیر کے پاس بھی چلا جائے تو اللہ اسے اپنی راہ ضرور دکھا دیتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص کے دل میں اللہ کی طلب پیدا ہوئی، وہ سارا کچھ بیچ کر مرشد کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ اسی تلاش کے دوران اس کا واسطہ ایک ڈاکو سے پڑ گیا۔ ڈاکو کو جب پتا چلا کہ یہ ولی کی تلاش میں ہے تو خود ولی ہونے کا ڈھونگ رچانے لگا۔ سادہ لوح شخص نے سمجھا یہ وہی مرشد ہے جس کی مجھے تلاش ہے۔ ڈاکونے اس شخص کو اپنا مرید بنا لیا اور اس کو ایک جگہ بٹھا دیا اور کہا کہ جب تک میں نہ کہوں اٹھنا نہیں۔ وہ ڈاکو سامان لے کر بھاگ کیا۔ وہ شخص ادھر ہی بیٹھا رہا۔ لوگ اسے آ آ کر اٹھاتے لیکن وہ اٹھا نہیں۔ اس نے کہا کہ میرا مرشد آئے گااور حکم دے گا تو میں اٹھوں گا ورنہ نہیں۔ اللہ پاک نے جب اس کی سچی طلب دیکھی تو حضرت خضر ؑکو حکم دیا کہ اس کی رہنمائی کرو۔ حضرت خضر ؑاس کی رہنمائی کے لیے تشریف لے گئے لیکن اس نے حضرت خضر ؑکو بھی وہی جواب دیا کہ وہی میرا مرشد ہے۔ اللہ نے جب یہ دیکھا تو اپنے بندے کی رہنمائی کے لیے حضور غوث پاکؓ کو حکم دیا۔ حضور غوث پاکؓ نے اس ڈاکو پر نگاہ فرمائی تو وہ ولی بن گیا۔ پھر اس کو حضور غوث پاکؓ نے حکم دیا کہ اپنے مرید کی رہنمائی کرو۔ پھر وہ واپس آیا اور اس شخص کو نوازا۔ اس لیے اگر طالب کی طلب سچی ہو تو اللہ ضرور اسے اپنی راہ دکھاتا ہے۔ 

دجال کون ہے؟ 

کسی نے دریافت کیا کہ کیا دجال سے مراد امریکہ ہے؟آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا: دجال سے مراد امریکہ نہیں ہے، امریکہ تو سائنس کی بنیاد پر ترقی کر رہا ہے۔ اس کو کون خدا مانے گا؟ بلکہ دجال کو اللہ قوت دے گا۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی کے پاس اتنی قوت ہو کہ وہ خدائی دعویٰ کرے۔ بھلا یہ کیا بات ہوئی۔ اللہ طاقت دینے والا ہے ،دے دے گا دجال کو بھی۔ 

پھر کسی نے دریافت کیا کہ پہلے کس کا ظہور ہو گا۔ آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا پہلے دجال نکلے گا، پھر امام مہدی ظاہر ہوں گے اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہو گا۔ حضرت عیسیٰؑ دجال کا مقابلہ کریں گے اور اس کا قلع قمع کریں گے۔ 

کسی نے دریافت کیا کہ دجال کا ظہور کہاں سے ہو گا؟ آپ نے فرمایا اسرائیل سے۔ کیونکہ ان کی کتاب میں حضرت عیسیٰؑ کے آنے کا لکھا ہوا ہے اور یہودیوں کا یہ نظریہ ہے کہ ابھی تک حضرت عیسیٰؑ دنیا میں تشریف نہیں لائے بلکہ انہوں نے ابھی پیدا ہونا ہے۔ پھر جب دجال آئے گا تو اس کا نام مسیح ہو گا، یہودی یہ سمجھیں گے کہ (معاذاللہ) حضرت عیسیٰؑ آ گئے ہیں۔ 

5نومبر 2022

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے فرمایا کہ سید عبداللہ شاہ مدنی جیلانیؒکے پہلے عرس کے بعد سارا نظام یعنی سسٹم تبدیل کردیا یعنی جدید نظام اور تمام کتب و ویب سائٹس کی منظوری ہوئی۔

حضرت عیسیٰؑ کی عمر لمبی ہونے کی وجہ

بات چل نکلی کہ حضرت عیسیٰؑ ابھی بھی زندہ ہیں۔ فرمایا: ان کی عمر لمبی ہونے کی وجہ یہ بھی ہے ان میں اللہ نے خود روح پھونکی تھی۔

امام کے ساتھ بلایا جائے گا

ایک بار قیامت کی بات چل نکلی تو فرمایا: اللہ فرماتا ہے کہ:

یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِہِمْ (سورۃ بنی اسرائیل۔71)

ترجمہ: وہ دن (یاد کریں) جب ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔ 

مولوی کہتے ہیں کہ امام سے مراد انبیا ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اللہ نے نبی کا لفظ تو استعمال نہیں کیا۔ اگر نبی کے ساتھ ہی بلانا ہوتا تو اللہ نبی کا لفظ استعمال کر لیتا۔ کیا اللہ کے لیے مشکل تھا کہ’’نبی‘‘کا لفظ استعمال کرے؟ اس سے مراد ہر دور کا انسانِ کامل ہے۔ 

جانچنے کا معیار

ایک بار سیاست کی بات چل نکلی تو فرمایا: جس کو جس بھی کام کے لیے منتخب کیا جاتا ہے اس کی پرفارمنس اس کے کام سے دیکھی جاتی ہے نہ کہ اس کی ذاتی زندگی سے۔ ایک حکمران اگر منتخب کیا جاتا ہے تو دیکھنا چاہیے کہ وہ ملک کے لیے کیا کر رہا ہے نہ کہ اس کے ذاتی فعل دیکھنے شروع کر دئیے جائیں۔ جیسے ایک کرکٹر کو دیکھنا ہو تو اس کے کرکٹ کھیلنے کو دیکھنا چاہیے۔ 

مرشد سے جدائی

ایک بارآپ مدظلہ الاقدس کے مرشد کا ذکر چل نکلا تو فرمایا: اب ہمارے لیے ان کے بغیر جینا مشکل ہو گیا ہے۔ بہت جدائی برداشت کر لی ہے۔ اب برداشت نہیں ہو رہی۔ 

عزت دار کون ہے؟

بات چل نکلی کہ فلاں دنیا دار اپنے آپ کو بڑا عزت دار سمجھتا ہے تو فرمایا: اللہ تو فرماتا ہے:

وَ لِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَ لِرَسُوْلِہٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ (سورۃ المنافقون۔ 8)

ترجمہ:عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں ہی کی ہے۔ 

11مئی 2025ء

مومن جنگ کی خواہش نہیں کرتا

مومن جنگ کی خواہش نہیں کرتا لیکن جب اس پر مسلط کر دی جائے تو وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتا ہے۔ ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا تھا’’دشمن کے ساتھ جنگ کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ سے عافیت کی دعا کرو۔ البتہ جب دشمن سے مقابلہ ہو ہی جائے تو پھر صبر و استقامت کا ثبوت دو۔‘‘ (بخاری 2966)

قرآن میں اللہ فرماتا ہے: 

اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ  (سورۃ الصف ۔4)

ترجمہ:بے شک اللہ ان لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو (ظلم کے خاتمے اور حق کی مدد کے لیے) اُس کی راہ میں (یوں) صف بستہ ہوکر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔

28ستمبر 2022

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس سے کسی مرید نے پوچھا کہ آپ پریشان لگ رہے تھے، کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ خانقاہ کی تعمیر میں بہت سی رکاوٹیں، مشکلات اورپریشانیاں آرہی ہیں اور اب گورنمنٹ کی طرف سے بھی رکاوٹ آ گئی ہے؟

آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا: بات یہ ہے کہ نہ تو زمین کے مسائل سے ہمیں کوئی پریشانی ہے اور نہ ہمیں اس سے کوئی غرض ہے۔ ہمیں  کہیں بھی دفن کر دیا جائے، ہمیں کوئی پرواہ نہیں۔ لیکن خانقاہ کی ڈیوٹی میں ہمارے تمام ساتھیوں کو آزمایا جائے گا ظاہر اور باطن سے۔ ہمیں پریشانی ان کی ہے۔ ہم پریشان صرف اس وجہ سے ہیں  کہ کہیں ہم کچھ ساتھی نہ کھو بیٹھیں اور ان کے ظاہر باطن یکسانیت سے محروم نہ ہو جائیں۔جو بھی ساتھی ماضی میں بگڑے ہیں ہمارے جمال سے بگڑے ہیں اور جو گئے ہیں ،جمال سے گئے ہیں اور وہ جمال سے گرے ہیں کیونکہ ان کو پتہ تھاجوبھی کر لیں ہمارے مرشد نے تو کچھ کہنا نہیں اورجتنا نقصان کر لیں معاف تو ہو ہی جانا ہے۔ لیکن اب ہم پر چند دنوں سے جلال کی کیفیت طاری ہو چکی ہے جو ہمارے بس میں نہیں اور شاید اللہ چاہ رہا ہو کہ جلال کی وجہ سے سب ٹھیک ہو جائیں اور ہر کام کو آسان نہ لیں۔ جمال اور محبت کی وجہ سے اکثر طالب بگڑ گئے ہیں کیونکہ آج کل لوگ محبت اور نرمی کی وجہ سے کسی چیز کو سنجیدہ نہیں لیتے اور رجعت کھا کر تباہ ہو جاتے ہیں   جبکہ جلال سے تزکیۂ نفس جلد ہوتا ہے۔ جلال سے یا تو صحیح ہو جاتے ہیں یا بھاگ جاتے ہیں۔جلال سے چار آدمی تو درست ہو گئے ہیں لیکن جلال سے صرف طالبِ مولیٰ ہی ثابت قدم رہتے اور استقامت سے کھڑے رہتے ہیں، دو نمبر بھاگ جاتے ہیں۔ اور باقی یہ زمین کا معاملہ ہے تو آہستہ آہستہ حل ہو جائے گا کیونکہ ہمارا کوئی بھی مسئلہ آسانی سے حل نہیں ہوتا۔ رکاوٹیں،پریشانیاں اور مشکلات تو ہماری ساتھی ہیں۔

23 مئی 2020ء

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے فرمایا کوٹ مٹھن شریف میں ایک مجذوب تھا جو ہر آتے جاتے سے ایک ہی سوال پوچھتا رہتا کہ ’’عید کڈاں؟‘‘ (یعنی عید کب ہو گی؟)

کچھ لوگ اس مجذوب کی بات اَن سنی کر دیتے اور کچھ سن کر مذاق اُڑاتے گزر جاتے۔ایک دن حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ اس جگہ سے گزرے تو اُس مجذوب نے اپنا وہی سوال دہرایا:عید کڈاں؟

آپ اُس کا سوال سن کر مسکرائے اور کہا:یار ملے جڈاں(یعنی جب محبوب ملے وہی دن عید کا دن ہو گا)۔

یہ الفاظ سنتے ہی مجذوب رونے لگا اور پوچھا:سرکار! یار ملے کڈاں؟ (یعنی محبوب کب ملے گا؟)۔

خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:میں مرے جڈاں (یعنی جب ’’میں ‘‘ مرے گی)۔

بس یہ فرمانا تھا کہ مجذوب نے کپکپاتے ہوئے عرض کیا :حضور! میں مرے کڈاں؟ (یعنی میں کب مرے گی؟)

سرکار رحمتہ اللہ علیہ مسکرائے، اُسے پیار سے تھپکی دیتے ہوئے یہ کہتے چل دئیے:یار تکے جڈاں (یعنی جب محبوب دیکھے گا)۔

(جاری ہے)

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں