فرمودات سلطان العارفین Farmoodaat Sultan-ul-Arifeen

Rate this post

فرمودات سلطان العارفین Farmoodaat Sultan-ul-Arifeen

منتخب از محبت الاسرار (طرفتہ العین)

حصہ دوم                                               تصنیف ِ لطیف: سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ

فقیر ِ کامل

٭ فقیر کسے کہتے ہیں؟ فقیر وہ ہے جو اپنے طالبوں کو غیر سے دور کر دے اور دریائے وحدت میں اس طرح دھوئے جس طرح دھوبی ناپاک و پلید کپڑے کو پاک کرتا ہے۔ 

٭ فقیر کے کان کلامِ الٰہی سنتے ہیں۔ 

٭ فقیر کی آنکھ کو عین الیقین حاصل ہوتا ہے۔ 

٭ فقیر کا دل بیت المعمور میں دائمی حاضر رہنے والا مدینۃ القلب ہوتا ہے۔ 

٭ فقیر کا سینہ علومِ لدنیّ سے پُر مقامِ سدرۃ المنتہیٰ ہوتا ہے۔

٭ فقیر کا قدم عرش پر ہوتا ہے۔

٭ فقیر کا مطالعہ درج ذیل آیت ہوتی ہے:

وَکَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیْبًا (سورۃ الاحزاب۔39)

ترجمہ: اور اللہ حساب لینے والا کافی ہے۔

٭ فقیر ایسا عاشق ہوتا ہے گویا سولی پر لٹکایا ہو اور اس کی لاش اس پر سوار ہو۔ 

٭ فقیر کی ابتدا روزِ ازل ہے اور فقیر کی نظر ابد پر ہوتی ہے۔ 

٭ فقیر دنیا کو فانی دیکھتا ہے اور اللہ کو باقی جانتا ہے اس لیے اپنے ہاتھ دونوں جہانوں سے جھاڑ لیتا ہے۔ 

٭ فقیر اگر ہر در پر سوال کرتا ہے تو اُسے حقارت سے مت دیکھو درحقیقت وہ سب سے زیادہ غنی اور لایحتاج ہوتا ہے اور محض اپنے نفس کو رسوا کرنے کے لیے گدائی کرتا ہے۔ اس کا سوال کرنا درحقیقت سوال نہیں بلکہ مستی ٔعشق اور کمالِ محبت ہے۔ 

٭ فقیر کا سوال کرنا ہجر سے پریشان طالبوں کو وصال عطا کرنے کے لیے ہے۔ 

٭ فقیر کے لیے بس یہی کرامت کافی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ملاقات کا شرف بخشا جس کی بدولت ازل تا ابد ہر چیز سے باخبر اور باطنی طور پر بیدار و ہوشیار ہو گیا۔ 

٭ فقیر اللہ کے سوا کسی کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ ہر شے اس کی محتاج ہوتی ہے۔ 

٭ فقرا کے لیے کسی قسم کا کوئی عذاب اور حساب نہیں۔ نہ موت کا، نہ قبر کا، نہ منکر و نکیر کا، نہ میدانِ حشر کا، نہ اعمالنامہ و پل صراط کا اور نہ ہی دوزخ کا۔ نہ ہی ان کے لیے بہشت کا اجر ہے۔

٭ فقیر حلال و حرام مال کی طلب میں نہیں ہوتا بلکہ اس کی طلب صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے۔ 

٭ جان لو کہ جب قیامت کے روز جنت میں دیدار کا حکم ہوگا تو سب لوگ نظر کی ایک ہی تجلی سے ہزاروں سال (مدہوش) پڑے رہیں گے۔ نہ ان میں دیدار کی طاقت ہوگی نہ سر اٹھانے کی ہمت۔ لیکن سوختگانِ عشق و محبت اور اٹھارہ ہزار عالموں کے فقیر اور درویش حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی معیت میں دیدار میں محو ہوں گے۔ 

٭ فقیر اللہ کے سوا کسی دوسرے سے کوئی امید نہیں رکھتا اور نہ ہی اللہ کے سوا کسی سے ڈرتا ہے۔ 

٭ بہشت فقرا کے لیے مردار کی مانند ہوگی کیونکہ دنیا و آخرت میں دیدار کی لذت کے برابر کوئی لذت نہیں۔ 

٭ فقیر اللہ کے عشق اور محبت میں مسرور رہتا ہے۔ 

٭ فقیر کی قبر درحقیقت قبر نہیں بلکہ خلوت گاہ ہوتی ہے جہاں وہ اللہ کے ساتھ مشغول رہتا ہے۔ 

صاحب ِ قلب اور ذکر ِ قلب

٭ صاحب ِقلب کو اللہ کے سوا کسی کی طلب نہیں ہوتی۔

٭ صاحب ِقلب کے پاس اللہ کی قبا ہوتی ہے۔ 

٭ صاحب ِقلب کے دل میں خطرات اور وساوس نہیں آتے کیونکہ اس کے قلب سے خناس و خرطوم نکل چکے ہوتے ہیں۔ 

٭ ذکر ِقلب کرنے والا اللہ سے یگانہ اور غیر ماسویٰ اللہ سے بیگانہ ہوتا ہے۔ 

٭ صاحب ِزندہ قلب کی کوئی بھی شب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام، انبیا کرامؑ، اصحابِ رسولؐ، فقرا اور اولیا کی صحبت کے بغیر نہیں گزرتی۔ 

٭ صاحب ِقلب اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا مشغول ہوتا ہے کہ لذاتِ نفسانی، معصیت ِشیطانی اور طلب ِدنیا فانی مکمل طور پر بھول جاتا ہے۔ 

٭ اہل ِقلب ہمیشہ حضورِ حق میں رہتے ہیں اور مرتبہ ٔمحمدی کے حامل ہوتے ہیں۔ 

٭ اہل ِقلب فقیر اولیا اللہ کو کہتے ہیں اور فقیر اولیا اللہ انہیں کہتے ہیں جو لایحتاج ہوں۔

٭ کیا تم جانتے ہو کہ ذکر ِقلب کیا ہے، قلب کسے کہتے ہیں اور قلب کی کیا نشانی ہے؟ جو طالب ذکر ِقلب کرتا ہو اس کا باطن باصفا ہو جاتا ہے اور اس کا آئینہ قلب حلب کے شیشے کی مانند دیدار کراتا ہے۔ 

٭ حبس ِدم کرنا اور دل کو جنبش دینا ذکر ِقلب نہیں ہے بلکہ یہ اہل ِکلب یعنی کتّوں کا کام ہے۔ 

٭ اگر ذکر ِقلب کرنے والے ذاکر کے خون کا ایک قطرہ زمین پر گر جائے تو وہ قطرئہ خون زمین پر اسم ِاللہ کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ 

٭ ہر شے فقیر کی محتاج ہوتی ہے۔ جو شخص خود کو اہل ِقلب کہتا ہو لیکن معاش کے لیے بادشاہ سے سونا و چاندی اور مال و دولت کا خواہشمند ہو وہ جھوٹا اور اہل ِسلب ہے۔ 

٭ صادق طالب حقیقت جان جاتا ہے کہ وہ (مردار دنیا کا طالب) کتا ہے۔ 

٭ ذاکر ِقلب مرتبہ سلطانی کا حامل ہوتا ہے کیونکہ وہ روحانی طور پر اللہ سے وصال پا چکا ہوتا ہے۔ 

٭ ذاکر ِقلبی اسے کہتے ہیں جس کے قلب میں مرنے کے بعد بھی ذکر ِاللہ جاری رہے۔ 

اسم ِاللہ ذات

٭ ذاکر کا تمام وجود اسم ِاللہ بن جاتا ہے۔

٭ فقیر میں اسم ِاللہ ذات اس طرح جاری ہوتا ہے کہ خناس و خرطوم، شیطانی وساوس و خطرات اور شیاطین باقی نہیں رہتے اور وہ مقامِ پاکی حاصل کر لیتا ہے۔ 

٭ فقیر جو کچھ بھی دیکھتا ہے اسے اسم ِاللہ ذات ہی دکھائی دیتا ہے۔

٭ فقیر کے مغز و پوست میں اسم ِاللہ اور ذکر ِاللہ جاری ہوتا ہے۔

٭ فقیر کی ہڈیوں میں اسم ِاللہ اور ذکر ِاللہ جاری ہوتا ہے۔

٭ فقیر کے خون میں اسم ِاللہ اور ذکر ِاللہ جاری ہو جاتا ہے۔ 

٭ فقیر کی ہر رگ میں، آنکھوں پر، کھال پر، زبان پر، کانوں پر اسم ِاللہ اور ذکر ِاللہ جاری ہوتا ہے۔ 

٭ جو اسم ِاللہ ذات، اسم ِمحمدؐ اور ذکر ِجہر کو پسند نہیں کرتا وہ منافق ہے کیونکہ وہ اللہ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نام سے دلگیر ہوتا ہے۔ 

٭ جو اسم ِاللہ ذات، اسم ِمحمدؐ اور ذکر ِجہر کو پسند نہیں کرتا وہ شیطان کے نام اور دنیا کے مال و دولت سے بہت خوش ہوتا ہے۔ 

٭ جو اسم ِاللہ ذات، اسم ِمحمدؐ اور ذکر ِجہر کو پسند نہیں کرتا وہ باطن میں کافر ہوتا ہے کیونکہ وہ راہِ محمدیؐ سے برگشتہ ہو چکا ہوتا ہے۔ میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ 

٭ اکثر علما کو اسم ِاعظم جو کہ قرآنِ مجید میں پوشیدہ ہے، نہیں ملتا کیونکہ ان کا وجود مکمل طور پر بے اعظم ہے۔ اسم ِاعظم بے اعظم وجود پر تاثیر نہیں کرتا اگرچہ وہ اسے جانتے بھی ہوں اور پڑھتے بھی رہیں۔ 

٭ اسم ِاللہ ذات پلید وجود میں تاثیر نہیں کرتا۔ 

فقر ِ محمدیؐ

٭ فقر کیا ہے؟ لازوال بادشاہ۔ 

٭ یہ فقیر باھُوؒ کہتا ہے کہ اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ  ترجمہ: ’’جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے پس وہیں اللہ ہے۔‘‘کا مرتبہ جب حاصل ہو جائے تو فقیر اٹھارہ ہزار عالم کا نظارہ دیکھتا ہے۔

٭ یہ فقیر باھُوؒ کہتا ہے کہ اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ  ترجمہ: ’’جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے پس وہیں اللہ ہے۔‘‘کا مرتبہ جب حاصل ہو جائے تو فقیر کا سینہ تیس ہزار اسرار کا خزینہ بن جاتا ہے۔

٭ یہ فقیر باھُوؒ کہتا ہے کہ اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ  ترجمہ: ’’جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے پس وہیں اللہ ہے۔‘‘کا مرتبہ جب حاصل ہو جائے تو فقیر کی مستی ہوشیاری اور نیند بیداری کی مثل ہوتی ہے۔

٭ یہ فقیر باھُوؒ کہتا ہے کہ اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ  ترجمہ: ’’جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے پس وہیں اللہ ہے۔‘‘کا مرتبہ جب حاصل ہو جائے تو اگر آسمان چکی کی مثل اس کے سر پر گر جائے تب بھی فقیر رضائے الٰہی سے سر نہیں پھیرتا۔ 

٭ جان لو کہ راہِ فقر ورد وظائف اور تسبیحات میں ہے نہ صحیح مسائل ِفقہ سیکھنے میں۔ 

٭ فقر کیا ہے؟ فقر ایک صورت ہے جو بہت ہی خوبصورت، ملیح اور صحیح نسخہ ہے۔ یہ صورتِ فقرغیر ماسویٰ اللہ سے پاک ہے۔ دونوں جہان اس صورت کے دیدار کے مشتاق ہیں۔ جو اس صورت کا دیدار کر لے وہ حق تک پہنچ جاتا ہے کیونکہ سرِّ فقیر سرِّ خدا ہے۔ 

٭ علم ِظاہر قیل و قال پر مبنی اور محض سردردی ہے جبکہ فقر کا تعلق احوال کے اسرار سے ہے۔

شریعت ِ محمدیؐ

٭ اے دوست! شریعت پر مضبوطی سے ڈٹے رہو کیونکہ اس میں استدراج نہیں۔ 

٭ شریعت کے ساتھ وابستہ رہو لیکن اس کے ساتھ ساتھ روزِ الست کی طرح مست رہو جس طرح اونٹ کانٹے دار جھاڑیاں کھاتا ہے اور بارِ گراں بھی اٹھاتا ہے۔

 ٭ بدعت اللہ کے قہر اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ناراضی کا باعث ہے۔

نفس

٭ جس کا نفس کفار اور اہل ِزنار کی خصلتیں رکھتا ہو وہ دنیا اور کفار کے ساتھ مخلص ہوتا ہے۔ یہ نفس ِامارہ ہے جو راہزن ہے۔ 

٭ جس کا نفس منافقت کی خصلت رکھتا ہو وہ منافقوں کے ساتھ ہی مخلص ہوتا ہے، یہ نفس ِلوامہ ہے۔ 

٭ جس کا نفس ظالم دنیاداروں کی خصلت رکھتا ہو وہ نفس ِملہمہ ہے۔

٭ جس کا نفس علم ِشریعت، علمائے عامل، فقرائے کامل ، خدا پرست اور خشیت ِالٰہی رکھنے والوں سے دوستی رکھتا ہو، ذکر ِالٰہی میں مستغرق، عبودیت اور ربوبیت میں کامل ہو وہ نفس مطمئنہ ہے اور یہ نفس انبیا اور اولیا کا ہوتا ہے۔ 

٭ نفس کے فنا ہونے کے بعد جو معاملہ پیش آتا ہے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ج لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ O (سورۃ المومن۔16)

ترجمہ: (قیامت کے دن جب ہر چیز فنا ہو جائے گی، اللہ پوچھے گا) آج کے دن کس کی بادشاہی ہے۔ (پھر اللہ خود ہی ارشاد فرمائے گا) اللہ کی جو واحد قہار ہے۔

٭ سن! نفس کافر کی مثل ہے۔ اگر کسی کافر کی ہم نشینی میں زہد و تقویٰ اختیار کیا جائے، نماز و روزہ کی پابندی کی جائے اور تلاوتِ قرآن کی جائے تو بھی اس کافر کو ہرگز عاجز نہیں کیا جا سکتا البتہ جب کوئی اس کافر کے نزدیک کلمہ طیب پڑھے یا ذکر ِجہر کرے تو کافر عاجز ہو جاتا ہے بلکہ اکثر مقامات پر اس سے دور بھی ہو جاتا ہے۔ 

٭ نفس کو مکمل طور پر مارنے کے لیے لازم ہے کہ لاحول اور درود کثرت سے پڑھا جائے۔ 

علما اور فقرا میں فرق

٭ علما ظاہری منزل و مقام حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں یعنی بہشت۔ 

٭ علما قل (قیل و قال) میں مشغول رہتے ہیں اور فقرا کُل (اللہ) کے ساتھ مشغول رہتے ہیں۔

٭ علما اہل ِ کتاب ہیں اور فقرا قطب الاقطاب ہیں۔ 

٭ علما کی عقل کتاب کے باب و فصل میں الجھی رہتی ہے جبکہ فقرا کو توحید سے وصل حاصل ہوتا ہے۔ 

٭ علما اوراق پرلکھے حروف و سطور کے مطالعہ میں مصروف رہتے ہیں جبکہ فقرا عشق اور وحدانیت میں غرق فنا فی اللہ ہوتے ہیں۔ 

٭ علما کو اسباب سے امید ہوتی ہے جبکہ فقرا مسبب سے امید رکھتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ مَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ (سورۃ الطلاق۔3)

ترجمہ: اور جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے پس وہ (اللہ) اس کے لیے کافی ہے۔

٭ علما کہتے ہیں کہ فقرا بے عقل اور بے شعور ہیں لیکن یہ علما جانتے نہیں کہ فقرا کا دل اسم ِاللہ ذات کے ساتھ پیوستہ رہتا ہے اور وہ صاحب ِدرد (عاشق) ہیں۔

فقرا کا دشمن

٭ فقرا کا دشمن درحقیقت اللہ کا دشمن اور دنیا کا محبوب ہوتا ہے۔ دنیا کا محبوب ریاکار ہے۔ 

٭ اللہ کے قہر اور فقرا کے غضب سے بچ جائو ورنہ قارون کی مانند تحت الثریٰ میں پہنچ جائو گے۔ 

دنیا و متاعِ دنیا

٭ فقیر کے پاس نذرانے میں جتنے بھی سکے (یعنی مال و دولت) رات کے وقت آتے ہیں وہ انہیں دن کے لیے بچا کر نہیں رکھتا اور جو نذرانے دن میں آتے ہیں انہیں رات کے لیے بچا کر نہیں رکھتا بلکہ سب کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا ہے۔ 

٭ دنیا ابوجہل اور یزید کی طرح ہے نہ کہ رابعہ بصریؒ اور بایزید بسطامیؒ کی طرح۔ 

٭ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ابوجہل نے جنگ نہیں کی تھی بلکہ اصل وجہ دنیوی مال تھا۔اگر ابوجہل کے پاس دنیوی مال و دولت نہ ہوتی تو وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی متابعت کرتا۔ 

٭ امامین پاک حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کے ساتھ یزید نے جنگ نہیں کی بلکہ دنیا نے کی۔ اگر یزید پلید کے پاس دنیا نہ ہوتی تو وہ حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کی اطاعت کرتا۔ 

٭ جو فریب کا طالب ہو وہ اللہ سے دوری کے مرتبہ پر ہوتا ہے۔ 

٭ دنیا کو سوائے منافق کے کوئی پسند نہیں کرتا کیونکہ دنیا کذب ہے اور اس کے طالب کذاب ہیں۔ 

٭ علما اگرچہ فرشتہ صفت ہوں لیکن اگر وہ دنیا کو پسند کرتے ہیں تو ان سے دور رہو کیونکہ دنیاداروں کے ساتھ میل جول سے طالب دنیادار بن جاتا ہے اور دنیاداروں سے دین کا کوئی نفع حاصل نہیں ہوتا۔ 

٭ دنیا کو پسند کرنے والا فقیر دشمن ِ خدا ہے۔ 

٭ بادشاہ اور امرا کا واقف کار فقیر دشمن ِخدا ہے۔ 

٭ سن! جو مرشد خود مردار دنیا کا طالب ہو حیوان کی مثل ہے۔ 

علم

٭ جان لو کہ علم ایک حرف میں ہے اور وہ حرف تیرے لیے دونوں جہان میں کافی ہے کیونکہ اس حرف کو خاص شرف حاصل ہے۔ وہ حرف کونسا ہے؟ جان لو کہ ’’اللہ‘‘ کے نام کے علاوہ غیر کا نام لینا حرام ہے۔ 

٭ علم وہ حاصل کرنا چاہیے جو اعمال کی طرف مائل کرے نہ کہ وہ جو وبالِ جان بن جائے۔ 

٭ وہ علم حاصل کرنا چاہیے جو کمال کو پہنچا دے نہ کہ وہ جو جہالت میں غرق رکھے۔ 

٭ علم وہ حاصل کرنا چاہیے جو وصال تک پہنچا دے نہ کہ وہ جو بدخصلتیں پیدا کرے۔ 

٭ تو علم ِصرف و نحو جانتا ہو یا علم ِاصول پڑھتا ہو، لیکن اللہ کے وصال کے بغیر یہ سب جہالت اور غفلت ہیں۔

٭ جان لو کہ فقیر کو حق کی جانب سے علم حاصل ہوتا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآئَ کُلَّھَا (سورۃ البقرہ۔31)

ترجمہ: اور اللہ نے آدم ؑکو تمام اسما کا علم سکھایا۔

٭ اے باھُوؒ! اگرچہ ہمارے پاس علم ِظاہر نہیں ہے لیکن علم ِباطن کی بدولت ہماری جان پاک ہو چکی ہے۔

معرفت و دیدار ِالٰہی

٭ جس فقیر کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو وہ جو کچھ بھی طلب کرتا ہے اللہ سے کرتا ہے۔ 

٭ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے والا فقیر لایحتاج ہوتا ہے۔ 

٭ جان لو کہ مندرجہ ذیل آیت کے مطابق نفس بالکل مردہ ہو جاتا ہے اور اللہ کا دیدار نصیب ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍO وَّ یَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلَالِ وَ الْاِکْرَامِO (سورۃ الرحمن۔26-27)

ترجمہ: جو کچھ کائنات میں ہے فنا ہونے والا ہے۔اور صرف تیرے ربّ کے چہرے کو بقا ہے جو صاحب ِجلال و اکرام ہے۔ 

٭ فقرا ازل تا ابد احرام باندھے ہوتے ہیں اور اللہ کے دیدار کی فرحت سے ہی ان کا حج مکمل ہوتا ہے۔ 

٭ ذکر ِمعرفت کیا ہے؟ دونوں جہان میں ہمراہ رہنے والا زادِ راہ۔ 

٭ طالبانِ مولیٰ اور دیدار کے درمیان میلوں کی مسافت نہیں نہ ہی پتھروں سے بنی دیوارِ سکندری ہے۔ طالبانِ مولیٰ اور دیدار کے درمیان خبیث نفس ِامارہ کا حجاب ہے جو کہ ابلیس کا یار یگانہ ہے۔ 

٭ جسے دیدارِ الٰہی حاصل ہو جائے وہ عارف بن جاتا ہے اور اس کا شمار اولیا میں ہوتا ہے۔

٭ جسے دیدار حاصل ہو جائے اس کا باطن باصفا ہو جاتا ہے اور وہ صاحب ِرضا بن جاتا ہے۔ 

٭ جسے حضور علیہ الصلوٰ ۃوالسلام دیدارِ الٰہی کروائیں وہ (نفسانی بیماریوں سے) شفا پا لیتا ہے۔

٭ طالب وسیع حوصلہ کا حامل ہونا چاہیے تاکہ دیدارِ الٰہی کا بارِ گرانی برداشت کر سکے۔ 

٭ دیدارِ الٰہی انسانِ کامل کا نصیب ہے جسے بشر کا شرف حاصل ہو نہ کہ وہ انسان جو مرتبہ حیوان پر ہو۔ 

٭ نورِ ذات کے دیدار کا ذریعہ بھی نور ہے۔ 

٭ جسے دیدارِ الٰہی حاصل ہو جائے وہ دائمی حیات پا لیتا ہے۔

٭ بے حجاب دیدار کرنے والے طالب بنو جو کہ فقیر عارف و عالم باللہ درویش ہوتے ہیں۔ 

٭ اہل ِدیدار کی نظر کیمیا اکسیر ہوتی ہے۔ 

 
 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں