عقل ِبیدار Aqal-e-Baydar

Rate this post

عقلِ بیدار Aqal-e-Baydar

قسط نمبر 1                                مترجم: سلطان محمد احسن علی سروری قادری

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔

٭ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  (سورۃ الفاتحہ۔1)

ترجمہ: سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔

٭ ھُوَ الْحَیُّ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ فَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ  ط اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَO (سورۃ المومن۔65)

ترجمہ: وہی زندہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس تم اس کی عبادت اس کے لیے طاعت و بندگی کو خالص رکھتے ہوئے کیا کرو۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

٭ ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰی لَھُمْ O (سورۃ محمد۔11)

ترجمہ: یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ مومنین کا ولی و مددگار ہے اور بیشک کافروں کے لیے کوئی ولی و مددگار نہیں۔ 

٭ وَ الْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ  (سورۃ الاعراف۔128)

ترجمہ: اور عاقبت متقین کے لیے ہے۔

٭ وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُO  (سورۃ الحجر۔99)

ترجمہ: اور تم اپنے ربّ کی عبادت (اس حد تک) کرو کہ یقین حاصل کر لو۔

تمام تر تعریفیں و تبرکات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے ہیں جو حیات ہیں (ان کے بارے میں اللہ نے فرمایا:)

٭ ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ  رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ  (سورۃ التوبہ۔33)

ترجمہ: وہی (اللہ) ہے جس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کو ہدایت اور دین ِحق کے ساتھ بھیجا ۔

٭ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ  

ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔

٭ وَجَآئَھُمْ رَسُوْلٌ کَرِیْمٌ O اَنْ اَدُّوْٓا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰہِ ط اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌO (سورۃ الدخان 17-18)

ترجمہ: اور ان کے پاس بزرگی والے رسولؐ آئے۔ (انہوں نے کہا) کہ تم بندگانِ خدا کو میرے حوالے کر دو، بیشک میں تمہاری قیادت و رہبری کے لیے امانتدار رسولؐ ہوں۔ 

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان قابَ قوسین کا عظیم مقام ہے، آپؐ لامکان کے مکین اور فنا فی اللہ ہیں، آپؐ کا جوہر نورِ حضور ہے۔ درود ہو احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر، آپ کے اصحاب اور اہل ِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین پر۔

اما بعد! اس تصنیف ِ بے تالیف کا مصنف کہتا ہے کہ اس تصنیف میں دنیا بھر کے سونا و چاندی کی کیمیاگری پر تصرف کے خزانے موجود ہیں جو مکمل طور پر لایحتاج بنا دیتے ہیں۔ اس تصنیف میں اللہ کے قرب، مشاہدہ، جمعیت اور باتحقیق معراج کی توفیق موجود ہے جو اللہ کے دیدارِ پُرانوار اور مجلس ِمحمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری سے مشرف کرتی ہے اور اس خاص راہ کا مغز ہے۔ اس مجلس میں طالب تمام انبیا و اولیا اللہ اور اصفیا و مرسلین کی ارواح سے دائمی طور پر ہم صحبت ہونے کا شرف حاصل کرتا ہے اور وہ سب راہِ ہدایت پر اس کے رفیق بن کر راہنمائی کرتے ہیں۔ جو اس میں شک کرے اور معرفت ِ الٰہی کا منکر ہو وہ کاذب و زندیق گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔

یہ مراتب اُن اہل ِسلوک کو حاصل ہوتے ہیں جو صاحب ِطریقت اور غالب الاولیا ہوں اورمعرفت و حقیقت میں ایسے کامل ہوں کہ ایک دم اور ایک قدم میں کل و جز کے تمام مقامات اسم ِاللہ ذات کی حضوری اور علم ِ واردات کی قوت سے پلک جھپکنے میں لامحدود حد تک طے کر لیں اور انتہا تک پہنچ جائیں۔ ان کا مرتبہ وہم و فہم میں نہیں آ سکتا۔ ان کے متعلق فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

٭ رَضِیَ اللّٰہ عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ (سورۃ المائدہ۔119)

ترجمہ: اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اس سے راضی ہیں۔

ان کا راز اللہ کا راز، ان کی حقیقت اللہ کی حقیقت اور ان کی رضا اللہ کی رضا ہے جیسے اسم کے ساتھ مسمّٰی کا معمہ۔ لوحِ محفوظ کا علم اسم ِاللہ ذات کے مطالعہ سے کھلتا ہے اور کل و جز تمام علوم لوحِ محفوظ کے مطالعہ سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔ طریقہ قادری میں مبتدی طالب کا یہ پہلے روز کا ابتدائی سبق ہے کہ اسے اسم ِاللہ ذات سے لوحِ محفوظ کا مطالعہ حاصل ہو جاتا ہے جس کے بعد اسے ظاہری و رسمی علوم پڑھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہ اُس عاشق طالب کا مرتبہ ہے جسے معرفت ِِالَّا اللّٰہ حاصل ہو کیونکہ فنا فی اللہ عاشق مرتبہ ٔمعشوق پر فائز ہوتا ہے۔ وہ جو کچھ بھی دیکھتا ہے غیر مخلوق مشاہدئہ انوارِ دیدار ہوتا ہے۔ یہ اسم ِاللہ ذات کی مشق مرقومِ وجودیہ کا طریق ہے، البتہ یہ آزمائش کا راستہ ہے۔ اس مشق کی بدولت روزِ اوّل ہی وصالِ توحید اور قربِ معبود حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ مراتب کاملین اپنی نظر و نگاہ سے عطا کرتے ہیں۔ اگر وہ چاہیں تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم اور اجازت سے بادشاہ کو مفلس و گدا بنا دیں اور گدا کو بادشاہی بخش دیں۔

اس کتاب کے مصنف کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شفاعت اور وسیلہ سے تلقین و ارشاد فرمائی اور وہ حضرت پیر دستگیر شاہ محی الدین عبدالقادر جیلانی قدس سرّہُ العزیز کا قوی مرید ہے۔ جو کوئی اس میں شک کرے وہ بدبخت ہے۔

جان لو کہ کامل ولی اللہ کی تصنیف کا مطالعہ کرنے والے طالب کے وجود میں بغیر کسی تکلیف کے ایسی تاثیر پیدا ہو کر نفع دیتی ہے کہ وہ روشن ضمیر بن کر خودبخود حضوری میں پہنچ جاتا ہے جبکہ ناقص کی تصنیف کا مطالعہ کرنے سے کوئی بھی مرتبہ حاصل نہیں ہوتا۔ یہ تصنیف عین رحمت نما ہے جو طالبانِ مولیٰ کو اللہ کا فیض و فضل بخشتی ہے کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ کی طرف ہی لے جاتی ہے۔فرد:

فردا امروز است بنماید لقا

کی ببیند کور چشمی بے حیا

ترجمہ: جسے آج (اس دنیا میں) لقا حاصل ہوگا اسے ہی کل (بروز قیامت) لقا نصیب ہوگا۔ کور چشم تو بے حیا ہیں وہ کیسے اللہ کو دیکھ سکتے ہیں! 

فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

٭ وَمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖٓ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی (سورۃ بنی اسرائیل۔72)

ترجمہ: اور جو اس دنیا میں (دیدار کرنے سے) اندھا رہا پس وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا۔

ہر کہ می بیند شناسد حق بدان

جثہ این جا است جانم لامکان

ترجمہ: جان لو کہ جسے دیدار حاصل ہو وہ حق کو پہچان لیتا ہے۔ لہٰذا میرا وجود اس دنیا میں جبکہ جان لامکان میں ہے۔

اس تصنیف کے مصنف کا موضوعِ سخن علم ِ تصوف ہے۔ 

٭ اَلتَّصَوَّفُ صَیْفُ الْقَلْبِ لَا سِوَی اللّٰہِ 

ترجمہ: تصوف قلب کو ماسویٰ اللہ سے صاف کر دیتا ہے۔

جو حق تعالیٰ کے تصور میں مشغول ہو اُسے حضوری اور ارواحِ قبور پر تصرف عطا ہوتا ہے، اللہ کے قرب کی بدولت توجہ کی توفیق، فنا فی اللہ کی تحقیق اور تفکر، جامع جمعیت کی بدولت حق کی رفاقت نصیب ہوتی ہے اور طالب سلک سلوک کی تمام آفات سے نجات پا لیتا ہے۔ اس راہ کی ابتدا لاھوت کی معرفت سے ہوتی ہے۔ طالب اللہ کے ساتھ بذریعہ الہام ہم کلام ہوتا ہے تو اس کا بے حجاب دیدار کرنے والا عارف بن جاتا ہے اور ہمیشہ مجلس ِمحمدیؐ کی حضوری میں خانہ زاد غلام کی مانند حاضر رہتا ہے۔ باھُوؒ بھی قادری طالب مرید ہے اور اس کے وجود پر موجود ہر بال کی زبان پر ذکر ِیاھُو جاری رہتا ہے۔ وہ قبض و بسط اورسکر و صحو کے احوال اور لغو و لہو سے پاک ہو کر فنا فی اللہ ہو جاتا ہے اور ھُو میں مستغرق رہتا ہے۔ اس کے قلب کا سودا سویدا روشن اور ظاہر ہو جاتا ہے اور قلب کے درمیان موجود لطیفہ بیدار ہو جاتا ہے، غیب الغیب سے تجلیاتِ انوارِ پروردگار اس قلب پر وارد ہوتی ہیں جس کی بدولت وہ دیدارِ الٰہی کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ یہ علم ِنعم البدل ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

٭ کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ (سورۃ الرحمن۔29)

ترجمہ: ہر روز ھُو کی ایک نئی شان ہوتی ہے۔

باھوؒ روزِ ازل سے فنا فی اللہ ہے لہٰذا عارفین کو فیض و فضل عطا کرنے والا اور راہ دکھانے والا ہے۔ اس تصنیف کا مصنف فقیر باھُوؒ ولد محمد بازیدؒ عرف اعوان ہے جو قلعہ شورکوٹ کا رہنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے آفات اور تکالیف سے اپنی پناہ میں رکھے۔ وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خاکِ پا سے مشرف ہونے کی بدولت تقلید کے بغیر بحر ِتوحید کا نظارہ کرنے والا اور غوطہ لگا کر موتی نکالنے والا ہے۔ 

عاقل وہ ہے جو سب سے پہلے اللہ کا طالب اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مرید ہو۔ قرآن اور رحمن کی موافقت اور دنیا، نفس اور شیطان کی مخالفت کرنے والا ہو۔ اپنا ہر مسئلہ شریعت کے سامنے پیش کرے۔ جس چیز کا شریعت حکم دے اُسے حق سمجھ کر اختیار کر لے اور جس چیز سے شریعت منع کرے اُسے باطل سمجھ کر چھوڑ دے۔ شریعت کس چیز کا حکم دیتی ہے؟ معرفت کی طرف آئو اور اللہ کے دیدار اور قرب سے اس کی ذات میں فنا ہو جائو۔ دنیا کو ترک کر دو اور مخلوق سے جدا ہو کر اللہ کی ذات میں غرق ہو جائو۔ جو اللہ کی طرف بڑھتا ہے وہ نفس اور اس کی خواہشات سے باز رہتا ہے۔ اپنے دل کی آنکھیں کھولو اور انوارِ پروردگار کا مشاہدہ کرو۔ 

یہ عظیم کتابوں میں سے ایک کتاب ہے جس کا نام عقل ِبیدار رکھا گیا ہے،اسے صاحب ِمطالعہ کے تمام غم ختم کر کے لایحتاج ولی اللہ بنانے والی اور شمس العاشقین کا خطاب دیا گیا ہے۔ اس کتاب کو فیض رسانی کا نسخہ بھی کہتے ہیں جو ہر طبقے کے لوگوں کو بارانِ رحمت ِ رحیم اور منبع ِکرم کریم کی مثل فضل سے نوازتی ہے۔ یہ کتاب فتوحاتِ غیب الغیب اور وارداتِ لاریب عطا کرتی ہے جس کی بدولت گنج ِغنایت، کیمیائے اکسیر ِ ہدایت، کیمیائے اکسیر ِنظر کے ساتھ ساتھ دنیا کے بیشمار مال، سونا و چاندی اور نقد و جنس پر بھی تصرف حاصل ہوتا ہے۔ جس نے اس کتاب سے یہ تمام خزانے حاصل کیے نہ معرفت ِالٰہی اور وصالِ جمال سے جمعیت حاصل کی، نہ ہی اس کتاب کے مطالعہ سے اس کا بخت جاگا اور نہ ہی قسمت کھلی تو عاجزی، فقر و فاقہ کی ہلاکت، مفلسی و پریشانی، بے جمعیتی اور بدحالی کی وجہ سے در در پر سوال کرے گا، اس کے اس زوال کا وبال اس کی اپنی گردن پر ہے۔

ابیات : 

احمقانرا نیست خبرش زیں مقام

دین و دنیا طی نمودم شد تمام

ترجمہ: میں نے دین و دنیا کے تمام مقامات کو طے کر لیا ہے جبکہ احمقوں کو ان مقامات کی خبر بھی نہیں۔

ہر کہ بکشاید بود آن جانِ من

کی رسد با این مراتب لاف زن 

ترجمہ: جس کو یہ مقامات حاصل ہو جائیں وہ میرا عزیز ہے لیکن ان مراتب پر لافزن کیسے پہنچ سکتا ہے!

باھُوؒ کیمیائے گنج مفلس را نمود

ہر کرا عقل است حاصل کرد زود 

ترجمہ: باھُوؒ یہ کیمیائے گنج مفلسوں کو عطا کرتا ہے۔ جو عقلمند ہو وہ یہ خزانہ جلدی حاصل کر لیتا ہے۔

اللہ کے قرب اور حضوری سے ہدایت حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں: اوّل علم ِ دعوت جس کا عمل قبور پر کرنے سے مؤکل آواز دے کر ہدایت عطا کرتے ہیں، دوم تصور اسم ِاللہ ذات کے نور سے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

٭ نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍط  یَھدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ یَّشَآئُ (سورۃ نور۔ 35)

ترجمہ: نور پر نور ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی طرف ہدایت دیتا ہے۔

مرشد ِکامل اور طالب ِمکمل جب ذکر و فکر کی مستی، ورد وظائف اور خود سے صادر ہونے والے کشف و کرامات سے خلاصی پا لیں تو رازِ الست پا لیتے ہیں۔ جو ان مراتب پر پہنچ جائے وہ لایحتاج فقیر بن جاتا ہے۔ فقیر کو ان مراتب سے ایسی توفیق اور قوت حاصل ہوتی ہے کہ وہ ظل ِ اللہ کا مرتبہ پا لیتا ہے اور مشرق تا مغرب  ہفت اقلیم فرمانبردار غلام کی مثل اس کے زیر ِ فرمان آ جاتے ہیں۔ چونکہ وہ دنیا کو فانی سمجھتا ہے اسی لیے اس بادشاہی کو قبول نہیں کرتا۔ کامل فقیر کے لیے بادشاہی کا یہ مرتبہ پانا بالکل مشکل نہیں بلکہ توجہ و نظر سے دوسروں کو بھی یہ مرتبہ بخشنا اس کے لیے بہت آسان ہے۔

     مرشد کامل سب سے پہلے ہر طالب ِ صادق کو ستتر (۷۷) طریقوں سے باتحقیق کیمیائے اکسیر کے ہنر کا فیض عطا کر تا ہے۔ جو طالب (مرشد میں فنا ہو کر) یک وجود ہو چکا ہو وہی اس عطا کے لائق ہے ورنہ ناقص طالب کو ان طریقوں سے واقف کرنا سراسر خطا ہے۔ جن طالبوں کے نفس کو کیمیا گری کے اس ہنر سے جمعیت حاصل ہو وہ کسی بھی حال میں عاجزی کے ساتھ اللہ کی معرفت، قرب، وصال اور فقر کا سوال کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتے کیونکہ جملہ ہدایت غنایت کی طے میں ہے۔ غنایت پانچ قسم کی ہے: غنایت ِنفس، غنایت ِقلب، غنایت ِروح، غنایت ِسرّ اور غنایت ِ نور جسے جمعیت ِکل کہتے ہیں۔ اسی کی بدولت اللہ کا انتہائی قرب اور حضوری حاصل ہوتی ہے۔ جونہی طالب کو مرتبہ ٔغنایت اور اس کے ساتھ ہدایت نصیب ہوتی ہے حرص و طمع اور دیگر جتنے بھی ناشائستہ اوصافِ ذمیمہ ہیں، اس کے وجود سے نکل جاتے ہیں، ظاہری حواس بند ہو جاتے ہیں اور باطنی حواس کھل جاتے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ جسے غنایت حاصل نہ ہو وہ اللہ سے فقر کا شکوہ اور حکایت و شکایت بیان کرتا رہتا ہے جس کے باعث شرمندہ و روسیاہ ہوتا ہے اور اللہ کی معرفت و قرب سے محروم رہتا ہے۔ پہلے غنایت حاصل ہوتی ہے پھر ہدایت ملتی ہے۔ چنانچہ اگر مرشد اپنے مخلص اور خاص طالب کو اسم ِ اللہ ذات کے ذریعے اپنی توجہ و توفیق، تحقیق کے خزانوں پر تصرف اور تلقین سے نوازے تو اس طالب کا مرتبہ اپنے مرتبہ کے برابر بنا دیتا ہے اور جذبِ جمال کے سبب طالب کے وجود کے  ہفت اندام کو نور میں بدل کر ایک ہی بار میں اسے حضوری سے مشرف کر د یتا ہے۔ اگر طالب قدردان ہو تو لائق ِ احسان، باوفا، باصفا، باادب اور باحیا ہوتا ہے۔ ایسا طالب غریب (سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات کے مطابق غریب سے مراد وہ فقیر ہے جس کے وجود سے غیر اللہ نکل گیا ہو اور اس کے اندر ھُو کے سوا کچھ بھی موجود نہ ہو۔ ) ہوتا ہے کیونکہ مرشد کامل اس کے وجود سے ہر غلط شے باہر نکال دیتا ہے اور بغیر ریاضت کے اس کا ہر مقصود ایک ہی ساعت میں عطا کر دیتا ہے۔ طالب ایک لحظہ، ایک لمحہ، یا ایک شب و روز، ایک ہفتہ، ایک مہینہ یا ایک سال میں لازماً اللہ تعالیٰ کے قرب میں پہنچ جاتا ہے۔ لیکن اگر طالب صاحب ِتقلید، لالچی، باتونی اور شیخی خور ہو، ہر بات میں جھوٹ بولتا ہو یا پھر درست اعتقاد نہ رکھتا ہو تو مرشد اس طالب سے بکثرت ریاضت کرواتا ہے کیونکہ اس کا نفس چلہ کشی اور مجاہدات پر مغرور ہو چکا ہوتا ہے، وہ معرفت اور حضوری کی قدر کیسے جان سکتا ہے؟ ظاہر پرست اور اپنی انانیت و نفس میں مست طالب اس الستی عنایت سے واقف نہیں ہوتے۔ جب تم کسی شخص کو ظاہری ریاضت کی کثیر مشقت کرتا ہوا دیکھو لیکن اسے باطن میں معرفت ِ الٰہی سے بے خبر پائو تو جان لو کہ وہ کشف و کرامات کی گمراہی کے جنگل میں گھرا عوام الناس کے کاموں میں مشغول ہے اور خاصانِ خدا کے مرتبہ سے محروم اور بے خبر ہے اگرچہ ماہ تا ماہی ہر شے میں قدرتِ الٰہی کا نظارہ کرنے والا اور زیر و زبر ہر چیز کی خبر دینے والا ہو۔ تمام ظاہری و باطنی مراتب پلک جھپکنے میں طالب کو عطا کرنا مرشد کامل کے لیے آسان کام ہے بلکہ کامل کے لیے کوئی بھی کام مشکل نہیں۔ فقیر جانِ جہان ہے۔ اس کے وجود میں خاص نور ہوتا ہے اور تمام عالم کی حقیقت غیب الغیب سے اس کے سامنے عیاں ہوتی ہے۔ اس پر حیران مت ہو کیونکہ یہ اس عارف فقیر کے مراتب ہیں جو دیدار میں ہوشیار ہوتا ہے۔ جو فقر ِاختیاری کا مرتبہ حاصل کرنا اور صفت ِکریم کا حامل عارف بننا چاہتا ہو اس کے لیے شرط یہ ہے کہ اوّلاً قلب ِسلیم حاصل کر کے حق تسلیم کیا جائے، ہر ایک کیمیا کی قوت اور صراطِ مستقیم اختیار کر کے واصل ہوا جائے۔ سات کیمیائے اکسیر جو یقینا نفس کی جمعیت کے لیے کلید ہیں، یہ ہیں: اوّل ہنر عطا کرنے کا علم ِکیمیا اکسیر ہے، دوم علم ِ دعوت جو کیمیائے تکسیر ہے، سوم علم ِقرآنِ مجید جو آیات سے اسم ِ اعظم تلاش کرنے اور تفسیر کا علم ِکیمیا اکسیر ہے، چہارم روشن ضمیری کا علم ِکیمیا اکسیر ہے، پنجم توجہ اور نظر کی تاثیر کا علم ِکیمیا اکسیر ہے، ششم ایک ہفتہ کے اندر ہر ولایت اور بادشاہی پر غلبہ پانے اور مشرق تا مغرب  ہفت اقلیم کو اپنے تصرف میں لے آنے کے عالمگیر مراتب حاصل کرنے کا علم ِکیمیا اکسیر ہے، ہفتم صبر، شکر، حیا اور رضا کے مراتب حاصل کرنے کا علم ِکیمیا اکسیر ہے جس کی بدولت نفس فنا، قلب حیات اور روح بقا پا لیتی ہے اور جس وقت چاہتی ہے نورِ حضور کے سمندر میں غرق ہو کر لقا سے مشرف ہو جاتی ہے۔ جو مرشد روزِ اوّل طالب کو علم ِکیمیا کا سبق دیتے ہوئے یہ سات کیمیا عطا کرتا ہے تو مرشد کی طرف سے طالب کا حق ادا ہو جاتا ہے۔ مرشد پر فرضِ عین ہے کہ طالب پر احسان کرے بلکہ یہ مرشد اور طالب دونوں پر احسان ہے۔ ایسے ہی طریق کا حامل مرشد باتوفیق اور لائق ِ ارشاد ہے ورنہ یہ سب مایہ فساد ہے کیونکہ یہ سات کیمیا یقین کا قصاص ہیں۔ بے تصرف پیر و مرشد کا طالب مفلس، بیدین اور بے یقین ہوتا ہے جو روز و شب مردار کی طلب میں رہتا ہے اور ہر در پر خود فروشی کر کے خوار ہوتا ہے۔ ایسے مرشد کا خلیفہ بھی لعین و مردود ہوتا ہے۔ علم ِکیمیا کے عامل کی قید میں تمام فرشتے اور مؤکل ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ متوکل ہوتا ہے۔ علم ِکیمیا اکسیر کا حامل کامل فقیر خضر علیہ السلام کی مثل روشن ضمیر اور صاحب ِنظر ہوتا ہے جو اپنی نظر اور توجہ سے مٹی کے ڈھیر کو سونا و چاندی میں تبدیل کر سکتا ہے۔ ایسی نظر کو پارس کہتے ہیں۔ اس قوت کا حامل صاحب ِنظر ہوتا ہے جس کی نگاہ میں خاک اور سونا و چاندی برابر ہوتے ہیں۔ ان مراتب پر فخر نہ کرو کیونکہ یہ معرفت ِالٰہی اور توحید سے بہت دور ہیں۔ ان مراتب کو حضرت رابعہ بصریؒ اور حضرت سلطان بایزیدؒ نے بھی اختیار نہ کیا۔ مبتدی طالب کو اس طرح علم َکیمیا سکھانا کہ وہ اسے عمل میں لے آئے، عین کارِ ثواب ہے کیونکہ مفلسی اور فقر و فاقہ خطراتِ شیطانی اور وسوسہ و وہماتِ نفسانی کا باعث بنتے ہیں اور طالب کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ مگر وہ روحانی انسان جس کا دل غنی ہو اور وہ ہمیشہ مجلس ِمحمدیؐ میں حاضر رہتا ہو وہ (اپنی ذات کے لیے) کیمیا کا استعمال نہیں کرتا۔ وہ کیمیا کا استعمال طالب ِصادق کی راہنمائی، مستحقوں، یتیموں اور قیدیوں کی مدد اور علما، فقہا، اولیا، غوث و قطب اور درویشوں پر خرچ کرنے کے لیے کرتا ہے کیونکہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ یہ اللہ کی راہ میں خفیہ سخاوت ہے اور اسی میں تمام ثواب جمع ہے۔                                                             (جاری ہے)

 
 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں