سیرتِ مصطفی ؐ نورِ ازل سے انسانِ کامل تک Seerat-e-Mustafa s.a.w.w Noor-e-Azal sy Insan-e-Kamil Tak

5/5 - (21 votes)

سیرتِ مصطفیؐ۔ نورِ ازل سے انسانِ کامل تک
 Seerat-e-Mustafa s.a.w.w Noor-e-Azal sy Insan-e-Kamil Tak

تحریر: عثمان صادق سروری قادری

ربِ ذوالجلال نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نوعِ انسانی کے لیے وہ آئینۂ کمال بنایا ہے جس میں ہر دور کا انسان اپنی ذات کی اصلاح اور فلاح کا عکس دیکھ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کے اندازِ زیست کو نہ صرف فطری طرزِ حیات قرار دیا بلکہ قیامت تک کے انسانوں کے لیے اسے دائمی معیار و نمونہ بنا دیا۔

رحمتِ دو جہاں کی زندگی کے شب و روز، حرکات و سکنات، عادات و اطوار اور طرزِ گفتار سے لے کر اندازِ نشست و برخاست تک ہر پہلو ایک روشن مینار ہے۔ یہ اعجازِ نبوت ہی ہے کہ آپؐ کی حیاتِ مبارکہ کا ہر لمحہ تاریخ کے صفحات میں ثبت ہے اور آپؐ کے عشاق نے نہایت وفاداری اور دیانت کے ساتھ اسے محفوظ کیا ہے یہاں تک کہ آج بھی دنیا سیرتِ رسولؐ کو مکمل حوالوں اور دلائل کے ساتھ پڑھ سکتی ہے۔

دنیا کی کوئی بھی معروف شخصیت، خواہ وہ بادشاہ ہو یا فلسفی، مصلح ہو یا مفکر، اس کی زندگی اتنی ہمہ گیر، مفصل اور معتبر انداز میں ریکارڈ نہیں کی گئی جتنی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی۔ گویا سیرتِ مصطفیؐ ؐایک ایسا آسمانی نوشتہ ہے جس پر زمانے گزرنے کے باوجود نہ دھول چڑھی اور نہ روشنی مدھم ہوئی۔

اس فانی دنیا میں اگر کوئی دائمی رہنمائی کا سرچشمہ ہے تو وہ اسلام کا مکمل نظامِ حیات ہے اور اس نظام کی مجسم تصویر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیاتِ طیبہ ہے۔ رسولِ ہدایت کا جو قول یا عمل ہمیں میسر ہو، وہی ’’سنت‘‘ کہلاتا ہے اور وہی ہمارے لیے محبوبِ خدا کی قربت کا ذریعہ ہے۔

عالمِ اسلام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عبادات، اخلاق، معاملات اور احوالِ شب و روز پر صدیوں سے اہلِ علم قلم اٹھا رہے ہیں لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سیرتِ نبویؐ کا بیان نہ کبھی فرسودہ ہوا اور نہ اس کی تازگی ختم ہوئی۔ ہر دور میں یہ عنوان نئی معنویت کے ساتھ ابھرتا ہے اور یہی راز ہے آیتِ کریمہ’’وَ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ (سورۃ الم نشرح۔4) ترجمہ: اور ہم نے آپؐ کی خاطر آپؐ کا ذکر (اپنے ذکر کے ساتھ ملا کر دنیا و آخرت میں ہر جگہ)بلند فرمادیا۔‘‘ کا جس کی صداقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔

حضراتِ صحابہؓ کی کامیابی، بلندی اور عزت اسی پیرویِ نبویؐ میں مضمر تھی۔ وہ صرف عبادات ہی نہیں بلکہ افکار، جذبات، عزم اور طرزِ عمل میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا عملی نمونہ تھے۔ ان کی زندگیاں گویا سیرتِ محمدیؐ کی ترجمان تھیں۔جو شخص نبیؐ کے عہد ِمبارک سے محروم رہا، اُس کے لیے صحابہؓ کی حیات ہی رہنمائی کا منبع ہے کیونکہ انہی ہستیوں کو ربّ کریم نے اپنی رضا اور پسندیدگی سے سرفراز فرمایا۔

قرآنِ حکیم بارہا صحابہؓ کے خلوص و تقویٰ کی گواہی دیتا ہے:
اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ لِلتَّقْوٰی  (سورۃ الحجرات۔ 3)
ترجمہ: یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے چن کر  خالص کر لیا ہے۔ 

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
اٰمِنُوْا کَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ    (سورۃ البقرۃ۔13)
ترجمہ:(تم بھی)ایمان لاؤ جیسے (دوسرے) لوگ ایمان لائے۔ 

اور فرمایا:
اُولٰٓئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُوْنَ      (سورۃ الحجرات۔ 7)
ترجمہ: یہی ہیں ہدایت یافتہ۔

یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ صحابہؓ کا ظاہر و باطن، چال ڈھال، خلوت و جلوت، سب کچھ نورِ نبوت سے منور تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خود ارشاد فرمایا:
أصحابی کالنجوم بأیہم اقتدیتم اہتدیتم 
ترجمہ:میرے صحابہؓ ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے جس کی بھی پیروی کرو گے، ہدایت پا لو گے۔

جیسے مسافر تاریک صحرا میں ستاروں کی روشنی سے سمت پاتا ہے، ویسے ہی صحابہ کرامؓ انسانیت کے روحانی صحراؤں میں مینارۂ نور ہیں۔ ان کے کردار میں جو جمال، سادگی اور صداقت تھی وہ دراصل سیرتِ نبویؐ ہی کا عکس تھی جو ہمیں بتاتی ہے کہ اگر انسان اپنی ذات میں روشنی پیدا کرنا چاہے تو اُسے سیرتِ محمدیؐ کے آئینے میں خود کو دیکھنا ہو گا۔

سیرتِ طیبہ دراصل وہ نوری آئینہ ہے جس میں انسان اپنی حقیقت دیکھ سکتا ہے۔ نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیؐ کی ذات وہ کامل ترین مثال ہے جسے اللہ ربّ العزت نے پوری انسانیت کے لیے نمونہ قرار دیا۔ قرآن میں اعلان فرمایا گیا:
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (سورۃ الاحزاب۔ 21)
ترجمہ: یقیناتمہارے لیے رسولؐ اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔

آپؐ کی حیاتِ مبارکہ کے ظاہری پہلو ہماری اخلاقی، معاشرتی، سیاسی اور معاشی زندگی کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں تو باطنی پہلو ہماری روحانی پیاس بجھاتے ہیں۔ فقر جو سیرتِ طیبہ کا باطنی خزانہ ہے، درحقیقت وہ راستہ ہے جو بندے کو اللہ کی ذات تک لے جاتا ہے اور یہی وہ جوہر ہے جسے آج کے دور میں سلطان العاشقین  حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے نہ صرف زندہ کیا بلکہ دنیا بھر میں عام بھی فرمایا۔

حقیقتِ محمدیہؐ اور نورانیت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت صرف ایک بشر ہونے تک محدود نہیں بلکہ آپؐ نورِ الٰہی کا مظہرِاُتم ہیں۔ حدیثِ نبویؐ میں ارشاد ہوا:
اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ نُوْرِیْ 
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا۔

یہ نورِ محمدی تخلیقِ کائنات کا پہلا سبب ہے جیسا کہ شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

نورِ محمدیؐ تمام انوارِ کائنات کی اصل ہے جو بشری قالب میں جلوہ گر ہو کر کامل انسانیت، اعلیٰ اخلاق، روحانی معراج اور محبتِ الٰہی کا پیکر بن گیا۔

سیرت النبیؐ کے ظاہری پہلو

سیرت النبیؐ کا ظاہری رخ انسانی اخلاقیات کا کامل ترین مظہر ہے۔ حضورؐ کا بچپن، جوانی، نبوت سے قبل اور بعد کی زندگی، سب میں صداقت، امانت، شجاعت، رحم، عدل، تواضع، حلم اور اعلیٰ اخلاق نمایاں تھے۔ آپؐ نے غلاموں کو آزاد کیا، عورتوں کو مقام دیا، یتیموں کی پرورش کی، دشمنوں کو معاف کیا اور حتیٰ کہ اہلِ طائف کے ظلم پر بھی بددعا نہ کی۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، جہاد۔۔۔ سب اعمالِ صالحہ کی عملی تعلیم آپؐ نے دی لیکن یہ سب صرف رسم نہیں بلکہ اخلاص، عشق اور معرفت سے جڑے ہوئے تھے جو اصل میں سیرت کا باطنی رخ ہے۔

فقرِمحمدیٔ: سیرت کا باطنی جوہر

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سیرت کا دوسرا پہلو باطنی ہے جو اُس نور کی طرح ہے جو آنکھوں سے نہیں بلکہ دل کی بینائی سے نظر آتا ہے۔ یہ وہ پہلو ہے جس میں سچائی، معرفت، قربِ الٰہی اور اصل حقیقتِ محمدیہ کی جھلک ہے۔

فقرِمحمدیؐ دراصل وہی جوہر ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے سوا ہر شے سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فقر کو اپنا فخر قرار دیا۔ اس سے مراد کوئی مادی تنگی یا غربت نہیں بلکہ روحانی بے نیازی، رضائے الٰہی میں فنا اور اپنے ربّ کی قربت میں گم ہو جانے کی وہ کیفیت ہے جسے دنیا کا کوئی پیمانہ نہیں ناپ سکتا۔ فقر وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنی ذات، خواہش، انا اور دنیاوی وابستگیوں سے پاک ہو کر صرف اور صرف ’’ھو‘‘ میں گم ہو جاتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سیرتِ باطنی، آپؐ کی خاموش راتوں کی دعاؤں، غارِ حرا کے سجدوں اور میدانِ بدر میں آنکھوں سے بہتے اشکوں میں جلوہ گر تھی۔ یہ وہ راز تھا جو صرف اُنہی کو عطا ہوا جنہوں نے آپ ؐکی ظاہری صحبت سے فیض پایا اور دل کی آنکھ سے حقیقت کو پہچانا۔

فقر وہ راز ہے جو دنیا کے جھوٹے سحر سے نکال کر بندے کو اپنے حقیقی محبوب کی طرف لے جاتا ہے۔ فقر میں نہ مال و دولت کی طلب باقی رہتی ہے نہ نفس کی غلامی۔ یہ راستہ صرف قربِ الٰہی کا راستہ ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی اسی فقر کو اپنایا۔ یہی فقر بعد ازاں اولیا کاملین کے ذریعے اُمت کو منتقل ہوتا رہا۔

سیرت النبیؐ کا پرتو: سلطان العاشقین کی سیرت

نبوت کا ظاہری در بند ہے لیکن اس کا نور ولایت کی صورت میں تاقیامت جاری ہے۔ ہر ولی اللہ دراصل ولایتِ محمدیؐ کا حامل ہوتا ہے اور وہی انسانوں کو فقر کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ مرشد کامل وہ ہستی ہوتی ہے جسے فقر ِمحمدیؐ کا فیض حاصل ہوتا ہے اور جو اسمِ اللہ ذات کے ذریعے سالک کے قلب کو منور کرتا ہے۔ بغیر مرشدِکامل کے فقر ممکن نہیں اور بغیر فقر کے معرفتِ الٰہی ملنا ناممکن و محال ہے۔ 

زمانہ گزرنے کے ساتھ امت کے قلوب پر غفلت کی دھول جم گئی، سنتِ نبویؐ صرف ظاہری رسومات میں رہ گئی اور فقرِمحمدیؐ کا نور کم کم دلوںمیں دکھائی دینے لگا۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ ہر دور میں اپنے مقرب بندوں کو بھیجتا ہے جو سیرتِ مصطفیؐ کے باطنی نور کو دنیا میں پھر سے زندہ کرتے ہیں۔ یہی اولیا اللہ، صوفیائے کاملین اور اہلِ حقیقت ہوتے ہیں۔

ہمارے دور کے ایسے ہی ایک عظیم مجدد اور کامل مرشدسلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس ہیں۔ آپ کی ذات، فقرِمحمدیؐ کی کامل جھلک اور مظہرِحقیقتِ محمدیہ ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے نہ صرف تعلیماتِ مصطفیؐ کو روحانی انداز میں پیش کیا بلکہ بے شمار بھٹکے ہوئے دلوں کو سیرتِ طیبہ کے باطنی رازوں سے روشناس کرایا۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس دورِ حاضر کے مجدد، مرشدِکامل اکمل اور ولایتِ محمدیؐ کے حامل انسانِ کامل ہیں۔ آپ نے دنیا کو یاد دلایا کہ سیرتِ طیبہ صرف روایتی قصوں کا مجموعہ نہیں بلکہ زندہ حقیقت ہے جو آج بھی انسان کو قربِ الٰہی عطا کر سکتی ہے۔ آپ نے روحانیت کے خزانے کو عام کیا، آن لائن بیعت کا نظام متعارف کروایا اور دنیا بھر سے لاکھوں لوگوں کو ذکر وتصور اسمِ اللہ ذات اور فقر کے راستے پر گامزن کیا۔

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے اپنی تعلیمات میں فقر کو عبادات یا ظاہری ریاضت کا نام نہیں دیا، بلکہ فرمایا:
 فقر وہ مرتبہ ہے جہاں پر انسان ہر قسم کی حاجت سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اُس کے مدِ نظر رہتی ہے اس لیے ہر حال میں تقدیرِ الٰہی سے موافقت اختیار کیے رکھتا ہے۔ اللہ تعا لیٰ کے قرب کے سوا نہ وہ اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے غیر سے کچھ مطلب رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی منشا و رضا میں مداخلت کو گناہ سمجھتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کے قرب و حضور کے علاوہ اس کی کوئی طلب یا خواہش نہیں ہوتی۔ (شمس الفقرا)

یہی وہ حقیقی سیرتِ محمدیؐ کا نچوڑ ہے جو آپ کے توسط سے لاکھوں طالبانِ مولیٰ تک پہنچا۔ آپ کے دستِ شفقت نے دلوں کو عشقِ حقیقی کا جام پلایا اور نفس کے خول کو توڑ کر روح کو قربِ الٰہی کی خوشبو سے معطر کیا۔

جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اخلاق معجزہ نما تھا ویسے ہی سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی ذات سیرتِ نبویؐ کا عکس ہے۔ آپ کے چہرے پر نور، کلام میں حکمت اور دل سراپا محبت و شفقت ہے۔ مریدوں سے شفقت، دشمنوں سے حلم، عجزو انکسار اور راتوں کی جلوت و خلوت آپ کی سیرت کے آئینہ دار ہیں۔ آپ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ عشقِ مصطفیؐ کیسے انسان کو فنا فی اللہ کرکے بقا عطا کرتا ہے۔

تحریک دعوتِ فقر: روحانی انقلاب

تحریک دعوتِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی زیرِسرپرستی وہ روحانی انقلاب ہے جس نے فقرِمحمدیؐ کو عام کیا۔ جدید دور میں جہاں لوگ تصوف کو قصوں، وظائف اور ظاہری رسومات تک محدود کر چکے تھے، وہاں اس تحریک نے اسمِ اللہ ذات کے فیض کو زندہ کیا۔ اس کے ذریعے فقر کی تعلیمات عام ہوئیں، کتب تصنیف ہوئیں، سوشل میڈیا پر وعظ و ہدایت کا نظام قائم ہوا اور لاکھوں سالکین راہِ فقر پر گامزن ہوئے۔

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی تعلیمات میں تصورِ اسمِ اللہ ذات کو روحانیت کی اصل قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہ راز ہے جو قلب کو منور کرتا ہے، نفس کو مغلوب کرتا ہے اور بندے کو معرفتِ الٰہی تک پہنچاتا ہے۔ یہی اصل سیرت النبیؐ ہے۔۔ باطنی تزکیہ، قربِ خداوندی اور فنا فی اللہ کا راستہ۔

سیرتِ مصطفیؐ ہمیں بتاتی ہے کہ زندگی کا مقصد صرف ظاہری عبادات نہیں بلکہ ربّ کی رضا اور اسی رضا کے لیے فقر کا راستہ۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے ہمیں دکھایا کہ فقر نہ ماضی کی چیز ہے نہ فقط اولیا کا راستہ، بلکہ یہ ہر دور میں وہی نور ہے جو سیرتِ طیبہ کو قلب و عمل میں زندہ رکھتا ہے۔

اگر ہم سچے طالب ہیں تو ہمیں چاہیے کہ سیرتِ محمدیؐ کو صرف کتابوں میں نہ پڑھیں بلکہ مرشدِکامل کی صحبت میں بیٹھ کر اسے اپنی زندگی میں نافذ کریں۔ یہی نجات کا راز ہے اور یہی مقصدِبعثت۔

مرشد کامل اکمل کی حیثیت سیرتِ نبوی ؐکے تناظر میں

جو مرشد عشقِ مصطفیؐ سے سرشار ہو، اس کی اطاعت درحقیقت اطاعتِ  رسول ؐہے۔ مرشد کامل نہ صرف علم و عمل کا خزانہ ہوتا ہے بلکہ عشقِ رسولؐ کی مشعل بھی۔ جو اس سے محبت کرتا ہے وہ سیرت النبیؐ کے اسرار تک پہنچتا ہے اور جو اس کی صحبت میں بیٹھتا ہے وہ اپنی حقیقت سے واقف ہو جاتا ہے۔

جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سیرتِ محمدیؐ کا براہِ راست فیض ملا اُسی طرح آج کے دور میں مرشد کامل اکمل ہی وہ ذریعہ ہے جو ہمیں نبی پاکؐ کی باطنی سیرت سے جوڑتا ہے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نہ صرف اس فیض کے امین ہیں بلکہ اپنے وجود سے، نگاہ سے اور تعلیم سے دلوں کو پاک اور قلب کو زندہ کر دیتے ہیں۔

آپ مدظلہ الاقدس کا فیض سیرتِ مصطفیؐ کی اُس حقیقت سے مربوط ہے جو نور ہے، عشق ہے اور وصال ہے۔ آپ کے حلقۂ ارادت میں آنے والے طالبانِ مولیٰ رفتہ رفتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اسوۂ حسنہ کے نہ صرف عاشق بن جاتے ہیں بلکہ اپنی روح میں اُس نور کی جھلک بھی محسوس کرنے لگتے ہیں جسے سیرتِ باطنی کہا جاتا ہے۔

استفادہ کتب:
شمس الفقر ا:  تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ اقدس

 

10 تبصرے “سیرتِ مصطفی ؐ نورِ ازل سے انسانِ کامل تک Seerat-e-Mustafa s.a.w.w Noor-e-Azal sy Insan-e-Kamil Tak

  1. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس دورِ حاضر کے مجدد، مرشدِکامل اکمل اور ولایتِ محمدیؐ کے حامل انسانِ کامل ہیں۔

  2. ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

  3. سیرتِ مصطفیؐ ؐایک ایسا آسمانی نوشتہ ہے جس پر زمانے گزرنے کے باوجود نہ دھول چڑھی اور نہ روشنی مدھم ہوئی۔

  4. آپ مدظلہ الاقدس کا فیض سیرتِ مصطفیؐ کی اُس حقیقت سے مربوط ہے جو نور ہے، عشق ہے اور وصال ہے۔ آپ کے حلقۂ ارادت میں آنے والے طالبانِ مولیٰ رفتہ رفتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اسوۂ حسنہ کے نہ صرف عاشق بن جاتے ہیں بلکہ اپنی روح میں اُس نور کی جھلک بھی محسوس کرنے لگتے ہیں جسے سیرتِ باطنی کہا جاتا ہے

  5. لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (سورۃ الاحزاب۔ 21)
    ترجمہ: یقیناتمہارے لیے رسولؐ اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔

  6. جو مرشد عشقِ مصطفیؐ سے سرشار ہو، اس کی اطاعت درحقیقت اطاعتِ رسول ؐہے۔ مرشد کامل نہ صرف علم و عمل کا خزانہ ہوتا ہے بلکہ عشقِ رسولؐ کی مشعل بھی۔ جو اس سے محبت کرتا ہے وہ سیرت النبیؐ کے اسرار تک پہنچتا ہے اور جو اس کی صحبت میں بیٹھتا ہے وہ اپنی حقیقت سے واقف ہو جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں