حقیقتِ موت | Haqeeqat e Maut

حقیقتِ موت

تحریر: محترمہ عنبرین مغیث سروری قادری

موت زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے جس کا سامنا ہر ذی روح کو کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات کو انسان کے لیے مسخر کر دیا لیکن موت و حیات کے اسرار آج بھی اس پر منکشف نہ ہو سکے۔ اگرچہ اس عالم ِاجسام میں وارد ہونا زندگی اور اس عالم سے رخصت ہونا اصطلاحاً ’’موت‘‘ کہلاتا ہے لیکن انسانی شعور میں ہمیشہ سے یہ بات موجود رہی ہے کہ اس طبعی زندگی سے پہلے اور بعد بھی حیات کا وجود ہے اور ’’زندگی‘‘ اور ’’موت‘‘ انسان کی کامل حیات کے صرف دو مقامات ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ انسانی حیات کے اس دورانیے کو جو وہ عالم اجسام میں گزارتا ہے‘ یوں بیان کرتا ہے۔
اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا (طٰہٰ۔ 104)
ترجمہ: تم تو (دنیا میں) ایک دن کے سوا ٹھہرے ہی نہیں ہو۔
یعنی زمان و مکان میں مقید حیات‘ انسانی زندگی کا قلیل ترین حصہ ہے۔ ابتدائے حیات کے زمانے کا اندازہ لگانا تو انسانی شعور کے لیے ناممکن ہے البتہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب اور اولیا کے قلوب پر انسانی حیات کی ابتدا کے حالات ضرور القا فرمائے ہیں جو سینہ بہ سینہ ہم تک پہنچے ہیں۔
زمانہ ازل میں اللہ پاک نے جب اپنی بے عیب و جمیل ذات کو نورِ محمدی کے آئینہ میں دیکھا تو اس سراپا حسن کو مجسم صورت میں د یکھنے کی خواہش اس کائنات اور اس کی مخلوقات کی زندگی کا آغاز بنی۔ اس نورِ جمیل سے اللہ تعالیٰ نے تمام عالم کی ارواح کو ’’کن‘‘ کہہ کر تخلیق فرمایا اور عالمِ لاھوت میں انہیں اپنے سامنے آراستہ کیا۔ تمام ارواح اللہ تعالیٰ کے حسن ِبے مثال و لامحدود کو دیکھ کر دنگ رہ گئیں اور حسن ِمطلق کی تعریف و ذکر میں محو ہو گئیں۔ یہی ذکر اور دیدارِ الٰہی اُس عالم میں جملہ ارواح کا رزق بنا اور وہ اس رزق پر پلنے لگیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے پوچھا ’’اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ‘‘ ’’کیا میں تمہارا ربّ (پالنے والا) نہیں؟‘‘ (یعنی کیا تم میرے حسن و جمال کے جلوؤں‘ دیدار اور میرے ذکر پر نہیں پل رہے؟) اس وقت تمام ارواح نفس کی آلائشوں سے پاک اور نورِ الٰہی سے منور تھیں۔ سب نے یک زبان ہو کر جواب دیا ’’قَالُوْا بَلٰی‘‘ ہاں کیوں نہیں؟ (ہاں اے ہمارے رب ہم تیرے حسن و جمال کے جلوؤ ں‘ تیرے دیدار اور ذکر پر نہیں پل رہے تو اور کہاں پل رہے ہیں)۔ ارواح کو اپنے دیدار اور ذکر کی روزی سے مامون و توانا کرنے کے بعد اللہ پاک نے اپنے عشق کی بھاری امانت انہیں سونپنا چاہی۔ تمام عالم ِارواح میں سے روحِ انسانی نے اس امانت کو قبول کر لیا۔ ’’ہم نے بارِ امانت کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا۔ سب نے اس کے اٹھانے سے عاجزی ظاہر کی لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا۔ بے شک وہ اپنے نفس کے لیے ظالم اور نادان ہے۔‘‘ (الاحزاب: 72)
اس وقت تو تمام انسانی ارواح حسن ِ مطلق کے دیدار سے سرشار اور نورِ الٰہی میں غرق روحِ قدسی کے مقام پر تھیں اس لیے عشق کی امانت کو باآسانی قبول کر لیا۔ ان کے اس جذبۂ عشق کی صداقت کو پرکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے حسن کے جلوؤں کو نفس کے پردوں میں لپیٹ کر انسانی قلب میں رکھ دیا اور پھر مختلف مراحل و مقامات سے گزار کر اسے عشق اور امانت داری کے امتحان کے لیے تیار کیا۔ روحِ قدسی کو عالم ِ لاھوت سے عالم ِجبروت میں بھیجا جہاں اسے جبروتی لباس سے آراستہ کیا گیا یہاں وہ روحِ سلطانی کہلائی پھر عالم ِملکوت میں اسے ملکوتی لباس پہنایا گیا اور اس کا نام روحِ سیرانی رکھا گیا اور پھر اسے عالم ِناسوت کی طرف بھیجا گیا جہاں اس لطیف روح کے لیے عنصری جامہ تیار کیا گیا جو ہوا، مٹی، پانی اور آگ سے بنا ہوا تھا تاکہ روح اس عالم ِناسوت میں جل نہ پائے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنا سنوار کر اس درالامتحان میں اتار دیا۔
لَقَدْ  خَلَقْنَا  الْاِنْسَانَ  فِیْ ٓ اَحْسَنِ  تَقْوِیْمٍ۔ ثُمَّ رَدَدْنٰہُ  اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ  (سورۃ التین 4 – 5)
ترجمہ: تحقیق ہم نے انسان کو بہترین ترکیب سے تخلیق کیا۔ پھر اسے پست سے پست حالت کی طرف پھیر دیا۔
انسان کی طبعی زندگی کا آغاز ہوا جس کا اصل مقصد تمام بشری پردوں کو چیر کر اپنے ربّ کی پہچان حاصل کرنا بنا۔ جیسا کہ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کُنْتُ کَنْزًا مَخْفِیًا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَترجمہ: میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا پس میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں اس لیے میں نے مخلوق کو تخلیق کیا۔

اللہ پرکھنا چاہتا تھا کہ میرے عشق کی امانت جو انسان کے سینے میں ہی موجود ہے‘ کیا انسان اس کی حفاظت کر پاتا ہے یا نہیں؟ جس عشق کا دم انسان نے عالم ِلاھوت میں بھرا تھا‘ کیا وہ اب بھی اس عشق پر قائم ہے؟ جس دیدار پر وہ لامکان میں پل رہا تھا کیا اب بھی اس کی خواہش رکھتا ہے؟ اس عشق کی پرکھ کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسانی شعور سے لامکان کی تمام یادیں سلب کر لیں البتہ یاد دہانی کے لیے انبیا اور اولیا بھیجتا رہا۔ عالم ِبشریت اس عشق کی آزمائش کے لیے امتحان گاہ بنا‘ زمان و مکان کی قید اس امتحان گاہ کے اصول و ضوابط بنے، قرآن و سنت‘ نصاب‘ تقدیر اس کے سوالات اور انسان کے اعمال و نیت اس کے جواب بنے۔ اللہ کی پہچان اس آزمائش کا مقصد، نفس اور اس کی خواہشات اس مقصد کی کامیابی کی راہ میں حائل رکاوٹیں۔ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ اس تمام صورت حال کو یوں بیان فرماتے ہیں:

کن فیکون جدوں فرمایا، اساں وِی کولے ہاسے ھُو
ہکے ذات ربّ دِی آہی، ہکے جگ وِچ ڈھنڈیاسے ھُو
ہکے لامکان مکان اساڈا، ہکے آن بتاں وِچ پھاسے ھُو
نفس پلیت پلیتی کیتی باھُوؒ‘ کوئی اصل پلیت تاں ناسے ھُو

انسان اس دنیا میں آکر اور اس کی رعنائیوں میں کھو کر اپنے مقصد ِ حیات کو بھول جاتا ہے۔ اس کی روح دنیاوی کثافتوں سے آلودہ ہو جاتی ہے لیکن اپنی حقیقت کی تلاش اسے بے چین کیے رکھتی ہے۔ یہی بے چینی اس میں جستجو کا عنصر ابھارتی ہے۔ اگر اس کا نفس اس کی جستجو کا رخ دنیا کی طرف موڑ دے تو وہ دنیا کے حصول کی تگ و دو میں لگ کر حقیقت سے مزید دور ہو جاتا ہے‘ نہ ہی اس کی خواہشوں کا اختتام ہوتا ہے اور نہ ہی روح سکون پاتی ہے۔ اگر اللہ کی مہربانی سے اس کی جستجو کا رخ خالق ِ کائنات کی طرف مڑ جائے تو وہ اپنے ربّ کی رضا کے حصول اور اُسے پالینے کی جدوجہد میں مصروف ہو جاتا ہے۔ تقدیر اس پر مہربان ہو تو خدا تک پہنچنے کی خواہش انسان کو کسی مرشد ِ کامل کے در تک لے جاتی ہے جہاں ذکر و تصور اسم اللہ ذات کے ذریعے روح کو پہلے کی طرح رزق ملنے لگتا ہے۔ جب اس رزق اور مرشد کی توجہ سے وہ بیدار ہوتی ہے تو اپنے اصل وطن عالمِ لاھوت کی یادیں بھی ذہن میں ابھرنے لگتی ہیں۔ وطن واپسی‘ محبوبِ حقیقی کے دیدار اور وصال کی خواہش عشق کے روپ میں اس قدر شدت اختیار کرتی ہے کہ انسانی روح بڑی سے بڑی آزمائش سے گزر کر عروج کی منازل طے کرتے ہوئے عالم ِناسوت سے ملکوت‘ ملکوت سے جبروت اور پھر عالم ِلاھوت تک واپسی کا سفر مرشد کامل کی رہنمائی میں طے کرتی ہے۔ یہاں تک کہ انسان اور خدا کے درمیان حائل نفس کے تمام حجاب ہٹا دئیے جاتے ہیں اور وہ اپنے اندر ہی اپنے ربّ کی پہچان حاصل کرتا ہے۔ اب اس کی روح اپنے اصل مقام یعنی روحِ قدسی کے مقام تک پہنچ جاتی ہے اور وہ اس دارالامتحان سے واپس اپنے اصل وطن کامیاب لوٹتی ہے۔ اپنے ربّ تک اس کامیاب واپسی کو ہی صوفیا کرام نے حقیقتاً ’’موت‘‘ سے تعبیر کیا ہے اور ’’مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا‘‘ مرنے سے پہلے مر جاؤ کی اصطلاح کے ذریعے بیان کیا ہے۔
جسمانی موت سے قبل ہی جسم اور زمان و مکان کی قید سے آزادی حاصل کرلینے والی روحِ قدسی اپنے اس دنیا میں آمد کے مقصد کو پاچکی ہے اور ’’مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا ‘‘ کے مرتبے پر فائز ہو کر اپنے ربّ تک لوٹ چکی ہے۔ ’’اِنَّا لِلّٰہِ واِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن‘‘ بے شک سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘ یہ اللہ کی طرف لوٹنا جسم کی موت کے ذریعے نہیں بلکہ نفس کی موت کے ذریعے ممکن ہوا۔ اقبال نے اپنے اس شعر میں موت کے اسی روپ کو بیان کیا ہے۔

موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخِ دوست
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے

اس دارالامان (دنیا) کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہر انسان کو اپنے مقصد ِ حیات (اللہ کی پہچان) کو پورا کرنے کے لیے ایک مقررہ وقت (طبعی عمر) مہیا کیا جاتا ہے۔ جس کے پورا ہونے پر کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں میں آزمائش ختم ہو جاتی ہے۔ امتحان کے اختتام پر اس عالم ِخلق میں زیر استعمال رہنے والا عنصری جسم اس کی روح سے جدا کر دیا جاتا ہے۔ جسم سے روح کو علیحدہ کرنے کا یہ عمل انسان کی طبعی موت کہلاتا ہے۔ اس مقام پر بشری جسم کو اس کے اصل ماخذ یعنی ہوا، مٹی، پانی یا آگ کے سپرد کر دیا جاتا ہے جبکہ روح اپنے ماخذ یعنی اللہ کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ ہر روح خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے انسان کی ہو‘ اس پر سے تمام حجاب ہٹا دئیے جاتے ہیں۔ جسم کی موت کے ساتھ ہی روح جاگ اٹھتی ہے۔ جیسا کہ حدیث پاک میں فرمایا گیا ہے ’’تمام انسان حالت ِ خواب میں ہیں جب وہ مرتے ہیں تو بیدار ہو جاتے ہیں۔‘‘ بقول اقبال

موت تجدید ِ مذاق زندگی کا نام ہے
خواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہے

اگرچہ طبعی موت کا مطلب روح اور جسم کا ایک دوسرے سے جدا ہونا ہے تاہم اس وقت بھی حقیقی موت صرف اور صرف نفس پر ہی وارد ہوتی ہے جس کے واقع ہوتے ہی انسان تمام بشری حجاب توڑ کر اللہ کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ  (آلِ عمران۔185)
ترجمہ: ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر ’’انسان‘‘ ’’ہر جسم‘‘ یا ’’ہر روح‘‘ کا لفظ استعمال نہیں فرمایا۔ انسان‘ جسم اور روح کا مرکب ہے۔ جسم روح کے بغیر بے جان ہے اور بے جان اشیا پر موت وارد نہیں ہوتی جبکہ روح امر ِ ربی ہے جس کی موت ممکن نہیں۔ چنانچہ موت کے عمل کا اطلاق صرف نفس پر ہوتا ہے۔ جو نفس طبعی عمر کے دوران ہی موت کا ذائقہ چکھ چکا ہو‘ اس کے لیے طبعی موت بشریت سے نجات کے سوا کچھ نہیں۔ وہ اپنے ربّ سے وصال کی جانب یہ آخری قدم بھی بصد خوشی و شوق بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اسے یوں خوش آمدید کہتا ہے ’’اے نفسِ مطمئنہ! اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ۔ ایسی حالت میں کہ وہ تجھ سے راضی ہے اور تو اس سے راضی ہے۔ پس میرے بندگانِ خاص کے حلقے میں شامل اور میری جنت قرب میں داخل ہوجا۔‘‘ (الفجر 27-30)

نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمانِ غیور
موت کیا شے ہے فقط عالم معنی کا سفر
(اقبال)

اللہ کی رضا اور امانت ِعشق صحیح سلامت لوٹانے کا سکون ہی صالحین کے لیے جنت کی مثل ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی بشریت سے بھی اس قدر راضی ہوتا ہے کہ ان کے عنصری اجسام بھی ہمیشہ منوں مٹی تلے ترو تازہ رہتے ہیں۔
جو انسان طبعی عمر کے دوران مقصد ِ حیات کو بھول چکا تھا وہ اپنے ربّ کی طرف ناکام و پشیمان لوٹتا ہے۔ خدا کی ناراضگی کا خوف اس کے دامن گیر ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ اس وقت موت جسم کے ساتھ ساتھ اس کے نفس پر بھی وارد ہو چکی ہوتی ہے اس لیے بالآخر وہ بھی اپنے ربّ کے روبرو پہنچ ہی جاتا ہے۔ جلد یا بدیر حقیقت کی پہچان اسے بھی حاصل ہو ہی جاتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ مرنے والے کے حق میں فرماتا ہے:
وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْکُمْ وَلَکِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ
ترجمہ:اور ہم اس (مرنے والے)سے تمہاری نسبت زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم (ہمیں ) دیکھتے نہیں۔
مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں ریاض قادری شرح فصوص الحکم میں فرماتے ہیں ’’موت کے بعد میت کے دل سے حجاب‘ غفلت اور وہم اٹھا دیا جاتا ہے اور اس کے دل کی بصیرت تیز ہوجاتی ہے۔ پھر ایک میت کی دوسری میت سے کوئی تشخیص نہیں یعنی قرب میں سعید کو شقی پر خصوصیت نہیں دی گئی۔ میت خواہ سعید ہو یا شقی دونوں ہی رازِ حقیقت کو پالیتے ہیں۔‘‘
الغرض موت کوئی خوفناک حادثہ یا بُرا انجام نہیں بلکہ صرف انسان کی اپنے اصل وطن واپسی کا نام ہے۔
٭ موت نام ہے رازِ حقیقت کو پالینے کا
٭ موت آزمائش کا اختتام اور دارالامتحان سے گھر لوٹنے کا نام ہے۔
٭ موت محبوبِ حقیقی سے وصال کا نام ہے۔
٭ موت پھر سے اسی نورِ الٰہی سے مدہوش اور منور ہو جانے کا نام ہے جو ہمارے وجود کا باعث بنا۔
٭ اگر زندگی انسا ن کی ابتدا اور موت انتہا ہے تو انتہا ابتدا کی طرف لوٹ جانا ہے۔ یعنی موت درحقیقت حیاتِ ابدی کی طرف لوٹ جانے کا نام ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
٭ ’’مومن کے لیے موت سے بڑھ کر کوئی تحفہ نہیں۔‘‘
حضرت انس رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
٭ ’’دنیا میں بہتر زہد موت کی یاد ہے اور بہتر عبادت تفکر ہے۔‘‘
اگرچہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیماری، تنگدستی اور آزمائش کے خوف سے موت کی آرزو کرنے سے منع فرمایا ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے وصال کی خواہش میں دنیا پر موت کو ترجیح دینا بھی سنت ِرسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے۔ وصال سے پانچ یوم قبل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’خدا نے اپنے بندے کو اختیار دیا کہ وہ چاہے تو دنیا و مافیہا کو قبول کرے اور چاہے تو وہ کچھ قبول کر لے جو خدا کی بارگاہ میں ہے تو اس بندے نے وہی کچھ انتخاب کر لیا جو اس کے لیے خدا کی بارگاہ میں ہے۔‘‘ وصال سے چند لمحے قبل آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا:
اَللّٰہُ الرَّفِیْقُ الْاَعْلٰی ۔
ترجمہ: اللہ سب سے بہتر رفیق ہے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ کی طرف لوٹتے وقت اللہ تعالیٰ سے نیک گمان کی نصیحت کی ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ’’تم میں سے جب کسی کو موت آئے تو وہ اللہ سے حسن ِظن رکھتا ہو۔‘‘ (مسلم شریف)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
٭ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایمانداروں سے دریافت کرے گا کیا تم مجھ سے ملاقات چاہتے تھے؟ لوگ کہیں گے ہاں یا اللہ! ربّ کریم فرمائے گا کس لیے؟ لوگ کہیں گے خداوند! ہم تیری رحمت، مغفرت اور عفو کے طالب تھے۔ تب ربّ کریم فرمائے گا’’اب تو تمہاری مغفرت مجھ پر واجب ہوگئی۔‘‘ (شرح السنہ)
حضرت عقبہ بن مسلم سے روایت ہے ’’بندہ کی خصلتوں میں سے اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ یہ خصلت پسند ہے کہ وہ اس سے ملاقات کوپسند کرے۔‘‘ (ابن مبارک)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہٗ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جو اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے تو اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص لقائے الٰہی کو پسند نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند نہیں فرماتا۔‘‘ اس موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہٗ یا امہات المومنین میں سے کسی نے فرمایا ’’ہم تو موت کو بُرا ہی سمجھتے تھے‘‘ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا نہیں ایسا نہیں ہے جب بندئہ مومن کی موت آتی ہے اور اس کو رضائے ربّ اور اس کی طرف بندے کی عزت افزائی کی بشارت ملتی ہے تو اس بشارت سے زیادہ محبوب چیز اور کوئی نہیں ہوتی جو اس کو عنقریب ملنے والی ہوتی ہے۔ اس لیے بندہ لقائے ربّ کی تمنا کرتا ہے اور اللہ بھی بندہ کی ملاقات پسند کرتا ہے۔‘‘ (بخاری شریف)
اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرنے والے مومنین کے لیے اللہ تعالیٰ جان کنی کی کیفیت بھی سہل بنا دیتا ہے‘ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’مومن لوگوں کی روحیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ پاکیزہ اور خوش و خرم ہوں۔ (ان سے فرشتے روح قبض کرنے کے وقت ہی کہہ دیتے ہیں) تم پر سلامتی ہو تم جنت میں داخل ہو جاؤ ان (اعمالِ صالحہ) کے سبب جو تم کیا کرتے تھے۔ (النحل۔ 32)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’جب مسلمان کی موت قریب ہوتی ہے تو رحمت کے فرشتے سفید ریشمی کپڑا لے کر آتے ہیں اور کہتے ہیں اے روح! تو راضی خوشی حالت میں اور اس حالت میں کہ اللہ بھی تجھ سے راضی ہے‘ نکل۔ تو اللہ اور اس کے رزق سے اپنے پروردگار کی طرف نکل جو ناراض اور غصے نہیں ہے۔ پھر روح عمدہ خوشبو اور مشک کی طرح خارج ہوتی ہے۔ فرشتے اسے اٹھا کر آسمان کے دروازے پر لے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کتنی اچھی خوشبو ہے جو زمین سے آئی ہے۔‘‘ (نسائی شریف)
پس ایک مومن کو موت کی تیاری یوں کرنی چاہیے جیسے ایک دلہن اپنے محبوب سے وصال کی تیاری کرتی ہے۔ نہ صرف نیک اعمال کے ظاہری گہنوں سے تن کو سجانا چاہیے بلکہ محبوب کی محبت اور اس سے ملاقات کی خواہش سے قلب کو معمور کرنا چاہیے۔ اپنے دل میں جھانکیے اگر موت کا خوف اور دنیا میں لمبا عرصہ رہنے کی خواہش ہے تو ضرور کہیں اللہ کی محبت میں کمی ہے اور اگر موت کا انتظار اور اللہ سے ملاقات کی خواہش ہے تو یہ خواہش اور انتظام مبارک ہو کیونکہ یقینا پھر آپ کا ربّ بھی آپ سے ملاقات کا منتظر ہے۔

34 تبصرے “حقیقتِ موت | Haqeeqat e Maut

  1. Hello I am so glad I found your blog page, I really found you by mistake, while I was looking on Askjeeve for something else, Regardless I am here now and would just like to say kudos for a remarkable post and a all round entertaining blog (I also love the theme/design), I don’t have time to look over it all at the minute but I have saved it and also included your RSS feeds, so when I have time I will be back to read much more, Please do keep up the superb b. Look into my site … Jefferey

  2. Hi there! I know this is kinda off topic but I was wondering if you knew where I could find a captcha plugin for my comment form? I’m using the same blog platform as yours and I’m having difficulty finding one? Thanks a lot! Stop by my site … website traffic

  3. Hey there great website! Does running a blog such as this take a great deal of work? I have virtually no expertise in coding however I was hoping to start my own blog soon. Anyways, if you have any ideas or techniques for new blog owners please share. I understand this is off topic however I simply wanted to ask. Kudos! Take a look at my webpage – https://formulaswisscbd.com/

  4. This is the perfect site for everyone who really wants to find out about this topic. You know a whole lot its almost tough to argue with you (not that I actually will need to…HaHa). You definitely put a new spin on a topic that’s been discussed for a long time. Wonderful stuff, just wonderful! Also visit my webpage – Keto XR Pills

  5. Hello, I think your blog might be having browser compatibility issues. When I look at your blog in Ie, it looks fine but when opening in Internet Explorer, it has some overlapping. I just wanted to give you a quick heads up! Other then that, great blog! Here is my web page … Madonna

  6. Howdy! I just want to offer you a huge thumbs up for your great info you’ve got here on this post. I’ll be returning to your web site for more soon. My web site :: Elisa

  7. Wow that was strange. I just wrote an very long comment but after I clicked submit my comment didn’t appear. Grrrr… well I’m not writing all that over again. Anyway, just wanted to say fantastic blog! Also visit my homepage: Formula Swiss CBD Oil

  8. I’m now not certain the place you are getting your info, but great topic. I must spend a while learning much more or figuring out more. Thank you for excellent info I used to be in search of this information for my mission. my blog Lithium Battery Lab Line

  9. Thanks for another informative web site. The place else may I get that kind of information written in such a perfect method? I have a venture that I’m simply now working on, and I’ve been on the glance out for such info. Take a look at my blog post … UPS

  10. This is the perfect web site for anybody who really wants to understand this topic. You know so much its almost hard to argue with you (not that I really would want to…HaHa). You certainly put a brand new spin on a topic that’s been discussed for a long time. Great stuff, just excellent! Feel free to visit my website; Vacuum gauge

  11. I just like the helpful information you provide to your articles. I’ll bookmark your blog and take a look at once more here frequently. I am reasonably sure I will be informed a lot of new stuff right here! Good luck for the next! Feel free to surf to my web blog :: Van

  12. I’m not that much of a online reader to be honest but your blogs really nice, keep it up! I’ll go ahead and bookmark your site to come back down the road. Cheers My blog Carma

  13. Howdy! I could have sworn I’ve been to this site before but after reading through some of the post I realized it’s new to me. Nonetheless, I’m definitely glad I found it and I’ll be book-marking and checking back frequently! Also visit my site :: glovebox

  14. Magnificent beat ! I would like to apprentice while you amend your site, how could i subscribe for a blog web site? The account helped me a acceptable deal. I had been a little bit acquainted of this your broadcast offered bright clear idea Feel free to visit my blog post – Callum

  15. This is the perfect blog for everyone who wishes to understand this topic. You know a whole lot its almost hard to argue with you (not that I actually would want to…HaHa). You certainly put a fresh spin on a subject that has been discussed for many years. Wonderful stuff, just wonderful! Feel free to surf to my web-site – Tracee

  16. I’m extremely impressed along with your writing talents and also with the structure in your weblog. Is that this a paid topic or did you modify it your self? Anyway keep up the nice high quality writing, it is uncommon to see a nice weblog like this one nowadays.. Stop by my website: SF

  17. Greetings from Ohio! I’m bored to death at work so I decided to check out your website on my iphone during lunch break. I really like the information you present here and can’t wait to take a look when I get home. I’m shocked at how quick your blog loaded on my phone .. I’m not even using WIFI, just 3G .. Anyways, superb site! My web site – crm

  18. Pingback: URL

اپنا تبصرہ بھیجیں